ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں "یومِ آزادی صحافت” منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف آزادی اظہار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ صحافت کی حرمت، سچائی اور دیانت داری کے اصولوں کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم صحافت کو ذاتی مفادات، جھوٹے پروپیگنڈے اور بے بنیاد سنسنی خیزی سے پاک رکھیں گے۔
صحافت کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے۔ ایک آزاد، ذمہ دار اور سچ پر مبنی صحافت ہی قوموں کی ترقی، عوامی شعور اور جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہے۔ لیکن اگر صحافت تعصب، ذاتی مفاد یا غیر ذمہ داری کا شکار ہو جائے تو یہی پیشہ معاشروں میں انتشار، غلط فہمی اور نفرت کو ہوا دے سکتا ہے۔
یومِ آزادی صحافت پر ہمیں خود احتسابی کرنی چاہیے۔ کیا ہم صحافت کو اس کی اصل روح کے ساتھ نبھا رہے ہیں؟ کیا ہماری تحریریں سچائی کی آواز بلند کر رہی ہیں یا کسی مخصوص ایجنڈے کا حصہ بن رہی ہیں؟ کیا ہم عوام کو صحیح معلومات فراہم کر رہے ہیں یا جذبات بھڑکا کر مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ سوالات نہایت اہم ہیں اور ان کا ایمانداری سے جواب دینا ہی اس پیشے کی عزت اور وقار کا تقاضا ہے۔
آج ہمیں تجدید عہد کرنا ہوگا کہ ہم صحافت کو محض ایک کاروبار یا ذاتی مفادات کا ذریعہ نہیں بنائیں گے بلکہ اسے ایک مقدس ذمہ داری سمجھ کر نبھائیں گے۔ ہم سچائی، غیر جانبداری اور دیانت داری کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس عظیم پیشے کی حرمت کا خیال رکھیں، عوام کی امانت داری سے خدمت کریں اور صحافت کو ہمیشہ آزادی، سچائی اور انصاف کی علامت بنائے رکھیں۔آمین۔
یومِ آزادی صحافت پر عہد کریں
یومِ آزادی صحافت پر عہد کریں
ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں "یومِ آزادی صحافت” منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف آزادی اظہار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ صحافت کی حرمت، سچائی اور دیانت داری کے اصولوں کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم صحافت کو ذاتی مفادات، جھوٹے پروپیگنڈے اور بے بنیاد سنسنی خیزی سے پاک رکھیں گے۔
صحافت کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے۔ ایک آزاد، ذمہ دار اور سچ پر مبنی صحافت ہی قوموں کی ترقی، عوامی شعور اور جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہے۔ لیکن اگر صحافت تعصب، ذاتی مفاد یا غیر ذمہ داری کا شکار ہو جائے تو یہی پیشہ معاشروں میں انتشار، غلط فہمی اور نفرت کو ہوا دے سکتا ہے۔
یومِ آزادی صحافت پر ہمیں خود احتسابی کرنی چاہیے۔ کیا ہم صحافت کو اس کی اصل روح کے ساتھ نبھا رہے ہیں؟ کیا ہماری تحریریں سچائی کی آواز بلند کر رہی ہیں یا کسی مخصوص ایجنڈے کا حصہ بن رہی ہیں؟ کیا ہم عوام کو صحیح معلومات فراہم کر رہے ہیں یا جذبات بھڑکا کر مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ سوالات نہایت اہم ہیں اور ان کا ایمانداری سے جواب دینا ہی اس پیشے کی عزت اور وقار کا تقاضا ہے۔
آج ہمیں تجدید عہد کرنا ہوگا کہ ہم صحافت کو محض ایک کاروبار یا ذاتی مفادات کا ذریعہ نہیں بنائیں گے بلکہ اسے ایک مقدس ذمہ داری سمجھ کر نبھائیں گے۔ ہم سچائی، غیر جانبداری اور دیانت داری کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس عظیم پیشے کی حرمت کا خیال رکھیں، عوام کی امانت داری سے خدمت کریں اور صحافت کو ہمیشہ آزادی، سچائی اور انصاف کی علامت بنائے رکھیں۔آمین۔


