جو مال اللہ کی راہ میں دیا، وہی باقی رہا

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
زکوٰۃ کے لغوی معنی ’’بڑھنے‘‘، ’’نشوونما پانے‘‘ اور ’’پاک ہونے‘‘ کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں زکوٰۃ اس مال کو کہتے ہیں جسے انسان اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے حق الٰہی سمجھ کر واجبی طورسے نکال کر اس کے شرعی حق داروں مثلاً فقرا، مساکین وغیرہ کو دیتا ہے۔ اسے زکوٰۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے انسان کا مال پاک ہوجاتا ہے، اس میں خیر و برکت اور اضافہ کی امید ہوتی ہے، نیز اس کے ادا کرنے سے انسان کا نفس بھی بخل کی رذالت، مال کی محبت اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً ۔ الآیۃ} ’’(اے نبیؐ!) آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجیے، اس کے ذریعہ ان (کے اموال) کو پاک کردیجیے اور ان کا تزکیہ کیجیے اور ان کے لئے دعا کیجیے۔ ‘‘ (التوبۃ: ۱۰۳)۔ گویا زکوٰۃ کا بھی تزکیۂ نفس سے گہرا تعلق ہے۔ نیز ارشاد خداوندی ہے: ’’اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ ‘‘ (البقرۃ: ۲۷۶) ۔یعنی سود خواہ کتنا بھی بڑھ جائے، انجام اس کا مال کی بربادی اور معاشی تنزلی کی شکل میں سامنے آتا ہے جب کہ صدقات کی وجہ سے اللہ پاک مال میں خیر و برکت عطا کرتا ہے۔
قرآن کریم میں زکوٰۃ کے لئے صدقہ (صَدَقَۃٌ) کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے جیسے سورۃ التوبہ کی مذکورہ بالا آیت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کی دوسری واضح مثال سورۃ التوبہ کی ہی ساٹھویں آیت ہے جس میں زکوٰۃ کے حق داروں کا بیان ہے۔ ارشاد ربانی ہے: {إِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ ۔ الآیۃ} ’’بلاشبہ صدقات (زکوٰۃ) تو فقیروں، مسکینوں، ان (صدقات) کی وصولی کرنے والے کارکنوںاور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام سے الفت پیدا کرنا مقصود ہو، نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے اور مسافروں کی امداد میں استعمال کرنے کے لئے ہیں، یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ ‘‘ (التوبۃ: ۶۰)۔ اس آیت میں بہ اتفاق مفسرین زکوٰۃ کے مصارف کا بیان ہے لیکن زکوٰۃ کی جگہ ’’صدقات‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ صدقہ کے ہی قبیل سے ہے، فرق صرف یہ ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے جو ہر صاحب نصاب پر سال میں ایک بار متعین مقدار سے فرض ہے اور مخصوص مستحقین کو جن کی نشان دہی سورۃ التوبہ کی مذکورہ بالا آیت میں کی گئی ہے اور جو کسی شرعی مانع سے متصف نہ ہو، دی جاتی ہے جب کہ صدقہ عموماً اسے کہتے ہیں جو فرض نہ ہو لیکن انسان اپنی مرضی سے محض اللہ کی خوشنودی اور ثواب حاصل کرنے لئے کسی بھی ضرورت مند شخص کو یا معاشرتی فلاح و بہبود کے کاموں کے لئے اپنے مال یا کسی نفع بخش شے سے اپنی استطاعت کے مطابق عطا کرے۔ اس کو صدقہ اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ صدقہ دینے والا اللہ کے ساتھ اپنے سچے تعلق اور ایمان کا ثبوت دیتا ہے اور صلاح و تقویٰ کا ارادہ کرتا ہے۔ صدقہ کے لغوی معنی بھی صدق، سچائی اور درستگی کے ہی ہیں۔ صدقہ کی ایک قسم صدقہ فطر بھی ہے جو رمضان کے اختتام پر عید کی نماز سے قبل فقرا، مساکین اور حاجت مندوں کو متعین مقدار سے ادا کی جاتی ہے۔ اس کو احادیث میں زکوٰۃ الفطر بھی کہا گیا ہے۔ یہ امام شعبیؒ، عطاؒ، علامہ ابن سیرینؒ، ، زہریؒ، عبداللہ بن مبارکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ابوثورؒ وغیرہ کے مطابق ہر مسلمان پر فرض ہے جب کہ امام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب کے مطابق ہر صاحب نصاب پر واجب ہے۔
جہاں تک زکوٰۃ کا معاملہ ہے، اس کی فرضیت اور اسلام کا ایک بنیادی رکن ہونا قرآن، سنت اور اجماع امت تینوں سے ثابت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی حکم فرمایا ہے، مثلاً فرمان باری ہے: ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو، اور رسول کی فرماں برداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ (النور: ۵۶)۔ نیز بہت سی آیتیں ایسی ہیں جن میں صرف زکوٰۃ سے متعلق ہدایات ہیں۔ اموال کی زکوٰۃ کے سلسلے میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۱۰۳ ؍ سطور بالا میں نقل کی جاچکی ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے: ’’اے ایمان والو! خرچ کرو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں اور ان میں سے بھی جو ہم نے تمھارے لئے زمین سے نکالی ہیں۔‘‘ (البقرۃ: ۲۶۷)۔ اس آیت سے فقہا نے سامان تجارت پر بھی زکوٰۃفرض ہونے پر استدلال کیا ہے اور زمین کی پیداوار پر بھی ۔ کھیت اور باغات کی پیداوار کے سلسلے میں دوسرے مقام پر فرمان خداوندی ہے: ’’ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے اسے کاٹنے کے دن دیا کرو۔‘‘ (الأنعام:۱۴۱)۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی آیات ہیں جو زکوٰۃ کی فرضیت پر دلیل ہیں جن کو طوالت سے بچنے کی خاطر یہاں نقل نہیں کیا جارہا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زکوٰۃ کے سلسلے میں متعدد روایات منقول ہیں۔ آپؐ کا یہ ارشاد مبارک بہت مشہور ہے: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر ۸، بروایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ)۔ نیز روایتوں میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبلؓ کو جب آپؐ نے یمن کی طرف حاکم بنا کر بھیجا تو روانگی کے وقت انھیں یہ ہدایت دی: ’’تم انھیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انھیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پردن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انھیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مال دارلوگوں سے لے کر ان ہی کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۱۳۹۵، بروایت حضرت عبداللہ بن عباسؓ)۔
اسی طرح حضرت ابوبکرؓ نے جب حضرت انسؓ کو بحرین کا حاکم بنا کر بھیجا تو انھیں جو تحریر ی فرمان سونپا، اس میں زکوٰۃ کے متعلق یہ لکھا: ’’یہ زکوٰۃ کا وہ فریضہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، اس لئے جو شخص مسلمانوں سے اس پروانہ کے مطابق زکوٰۃ مانگے تو مسلمانوں کو اسے دے دینا چاہیے۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۱۴۵۴، بروایت حضرت انسؓ)۔ حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے پر بیعت کی۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۱۴۰۱)۔
یہ سب روایات زکوٰۃ کی فرضیت پر دلیل اور حجت ہیں۔ حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کا قول اس بات کی بھی دلیل ہے کہ من جملہ دیگر باتوں کے نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر صحابہ کرامؓ سے بیعت لی جاتی تھی۔ قرآن کریم نے ان اعمال کو ایمان والوں کی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے، ارشاد ربانی ہے: ’’اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیںاور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم فرمائے گا۔ ‘‘ (التوبۃ: ۷۱)۔ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’الصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ‘‘ یعنی ’’صدقہ دعواے ایمان کی دلیل ہے۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۵۳۴)۔ اسی لئے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ قتال کرنے کا فیصلہ لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے فیصلے سے اتفاق کیا۔ علما ے اسلام بھی اس بات پر متفق ہیں کہ زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر کافر ہے۔ اس لئے ہر مال دار اور صاحب نصاب شخص کو زکوٰۃ و صدقات کا لازماً اہتمام کرنا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق ہوسکے۔
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان کے سلسلے میں قرآن کریم میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ ارشاد ربانی ہے: ـ’’اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس (مال) میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دے رکھا ہے وہ ہرگز گمان نہ کریں کہ ان کے لئے وہ بہتر ہے، بلکہ ان کے لئے وہ بہت ہی برا ہے، عنقریب وہ (مال) جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔‘‘ (آل عمران: ۱۸۰)۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ـ’’اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے۔ جس دن اس خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں، ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا (اور کہا جائے گا) یہی ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا رکھا تھا ، پس اب تم اپنی جمع کی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔ ‘ ‘ (التوبۃ: ۳۴ – ۳۵)۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زکوٰۃ کے ادا نہ کرنے پر ایسی ہی وعیدیں منقول ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا لیکن اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے کے دن اس کا مال نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرلے گا جس کی آنکھوںپر دو سیاہ نقطے ہوں گے اور وہ اس کے گلے کا ہار ہوگا، پھر وہ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑ لے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپؐ نے سورۃ آل عمران کی مذکورہ بالا آیت (۱۸۰) تلاوت فرمائی۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۱۴۰۳)۔ حضرت ابوہریرہؓ سے ہی دوسری روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’سونے یا چاندی کا کوئی بھی ایسا مالک نہیں جو ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا ہو مگر یہ کہ قیامت کے دن اس کے لئے (انھیں) آگ کی تختیاں بنادیا جائے گا، پھر دوزخ کی آگ میں ان کو گرم کیا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلوؤں، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائے گا اور جب بھی وہ ٹھنڈی پڑیں گی تو اس کے ساتھ یہی عمل دہرایا جائے گا، اس دن کے دوران جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے ، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنی راہ دیکھ لے ۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۲۲۹۰)۔
اس کے بالمقابل زکوٰۃ و صدقات ادا کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کا دنیا و آخرت میں بہترین بدلہ عنایت کرنے کا وعدہ ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’اور تم (اللہ کی راہ میں) جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو پس وہی اس کا بدلہ دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ ‘‘ (سبا: ۳۹)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دو اور جو نیکی تم اپنے لئے آگے بھیجوگے، اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں موجود پاؤگے کہ وہ بہتر اور ثواب میںبہت زیادہ بڑی ہے۔‘‘ (المزمل: ۲۰)۔ چند دوسری آیات میں یہ بشارت بھی ہے کہ زکوٰۃ دینے سے دنیا اور آخرت میں مال میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ’’اور جو کچھ تم زکوٰۃ (و خیرات) اللہ کی رضاجوئی کے لئے دیتے ہو، تو یہی لوگ ہیںجو اپنا مال کئی گنا بڑھانے والے ہیں۔ ‘‘ (الروم: ۳۹)۔ ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے: ’’جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جو سات بالیاں اگاتا ہے، اور اس کی ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے کئی گنا بڑھا دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۲۶۱)۔
یعنی یہ اللہ کے فضل کا معاملہ ہے کہ زکوٰۃ دینے پر دنیا میں بھی مال میں برکت و اضافہ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ صرف اتنے ہی کا ثواب عطا نہیں کرتا جتنا زکوٰۃ و صدقات میںخرچ کیا گیا ہے بلکہ اس کو سات سو گنا اور جس کے لئے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھا کر دیتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد ہے: ’’کوئی شخص اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ نہیں کرتا مگراللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے اور اس کی اس طرح پرورش کرتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی گھوڑی کے بچے یا اونٹنی کے بچے کی پرورش کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر یا اس سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۲۳۴۳، بروایت حضرت ابوہریرہؓ)۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے ، دراصل وہی باقی ہے اور حقیقی بچت ہے جو آخرت میں اجر عظیم کی شکل میں انسان کو ملے گا۔ اس لئے اپنے مال و دولت میں دنیوی برکت اور اخروی اجر عظیم کی خاطر زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ قارئین کے ساتھ ساتھ احقر کو بھی مذکورہ حکم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت کرے۔ آمین! یارب العالمین!
ز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

مودی کے حق میں نعرے لگانا کشمیری نوجوانفہیم نذیر شاہ کو مہنگا پڑا، BJPکی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی: دہلی کے کناٹ پلیس میں اپوزیشن...

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

مودی کے حق میں نعرے لگانا کشمیری نوجوانفہیم نذیر شاہ کو مہنگا پڑا، BJPکی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی: دہلی کے کناٹ پلیس میں اپوزیشن...

جو مال اللہ کی راہ میں دیا، وہی باقی رہا

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
زکوٰۃ کے لغوی معنی ’’بڑھنے‘‘، ’’نشوونما پانے‘‘ اور ’’پاک ہونے‘‘ کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں زکوٰۃ اس مال کو کہتے ہیں جسے انسان اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے حق الٰہی سمجھ کر واجبی طورسے نکال کر اس کے شرعی حق داروں مثلاً فقرا، مساکین وغیرہ کو دیتا ہے۔ اسے زکوٰۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے انسان کا مال پاک ہوجاتا ہے، اس میں خیر و برکت اور اضافہ کی امید ہوتی ہے، نیز اس کے ادا کرنے سے انسان کا نفس بھی بخل کی رذالت، مال کی محبت اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً ۔ الآیۃ} ’’(اے نبیؐ!) آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجیے، اس کے ذریعہ ان (کے اموال) کو پاک کردیجیے اور ان کا تزکیہ کیجیے اور ان کے لئے دعا کیجیے۔ ‘‘ (التوبۃ: ۱۰۳)۔ گویا زکوٰۃ کا بھی تزکیۂ نفس سے گہرا تعلق ہے۔ نیز ارشاد خداوندی ہے: ’’اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ ‘‘ (البقرۃ: ۲۷۶) ۔یعنی سود خواہ کتنا بھی بڑھ جائے، انجام اس کا مال کی بربادی اور معاشی تنزلی کی شکل میں سامنے آتا ہے جب کہ صدقات کی وجہ سے اللہ پاک مال میں خیر و برکت عطا کرتا ہے۔
قرآن کریم میں زکوٰۃ کے لئے صدقہ (صَدَقَۃٌ) کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے جیسے سورۃ التوبہ کی مذکورہ بالا آیت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کی دوسری واضح مثال سورۃ التوبہ کی ہی ساٹھویں آیت ہے جس میں زکوٰۃ کے حق داروں کا بیان ہے۔ ارشاد ربانی ہے: {إِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ ۔ الآیۃ} ’’بلاشبہ صدقات (زکوٰۃ) تو فقیروں، مسکینوں، ان (صدقات) کی وصولی کرنے والے کارکنوںاور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام سے الفت پیدا کرنا مقصود ہو، نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے اور مسافروں کی امداد میں استعمال کرنے کے لئے ہیں، یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ ‘‘ (التوبۃ: ۶۰)۔ اس آیت میں بہ اتفاق مفسرین زکوٰۃ کے مصارف کا بیان ہے لیکن زکوٰۃ کی جگہ ’’صدقات‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ صدقہ کے ہی قبیل سے ہے، فرق صرف یہ ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے جو ہر صاحب نصاب پر سال میں ایک بار متعین مقدار سے فرض ہے اور مخصوص مستحقین کو جن کی نشان دہی سورۃ التوبہ کی مذکورہ بالا آیت میں کی گئی ہے اور جو کسی شرعی مانع سے متصف نہ ہو، دی جاتی ہے جب کہ صدقہ عموماً اسے کہتے ہیں جو فرض نہ ہو لیکن انسان اپنی مرضی سے محض اللہ کی خوشنودی اور ثواب حاصل کرنے لئے کسی بھی ضرورت مند شخص کو یا معاشرتی فلاح و بہبود کے کاموں کے لئے اپنے مال یا کسی نفع بخش شے سے اپنی استطاعت کے مطابق عطا کرے۔ اس کو صدقہ اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ صدقہ دینے والا اللہ کے ساتھ اپنے سچے تعلق اور ایمان کا ثبوت دیتا ہے اور صلاح و تقویٰ کا ارادہ کرتا ہے۔ صدقہ کے لغوی معنی بھی صدق، سچائی اور درستگی کے ہی ہیں۔ صدقہ کی ایک قسم صدقہ فطر بھی ہے جو رمضان کے اختتام پر عید کی نماز سے قبل فقرا، مساکین اور حاجت مندوں کو متعین مقدار سے ادا کی جاتی ہے۔ اس کو احادیث میں زکوٰۃ الفطر بھی کہا گیا ہے۔ یہ امام شعبیؒ، عطاؒ، علامہ ابن سیرینؒ، ، زہریؒ، عبداللہ بن مبارکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ابوثورؒ وغیرہ کے مطابق ہر مسلمان پر فرض ہے جب کہ امام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب کے مطابق ہر صاحب نصاب پر واجب ہے۔
جہاں تک زکوٰۃ کا معاملہ ہے، اس کی فرضیت اور اسلام کا ایک بنیادی رکن ہونا قرآن، سنت اور اجماع امت تینوں سے ثابت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی حکم فرمایا ہے، مثلاً فرمان باری ہے: ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو، اور رسول کی فرماں برداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ (النور: ۵۶)۔ نیز بہت سی آیتیں ایسی ہیں جن میں صرف زکوٰۃ سے متعلق ہدایات ہیں۔ اموال کی زکوٰۃ کے سلسلے میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۱۰۳ ؍ سطور بالا میں نقل کی جاچکی ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے: ’’اے ایمان والو! خرچ کرو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں اور ان میں سے بھی جو ہم نے تمھارے لئے زمین سے نکالی ہیں۔‘‘ (البقرۃ: ۲۶۷)۔ اس آیت سے فقہا نے سامان تجارت پر بھی زکوٰۃفرض ہونے پر استدلال کیا ہے اور زمین کی پیداوار پر بھی ۔ کھیت اور باغات کی پیداوار کے سلسلے میں دوسرے مقام پر فرمان خداوندی ہے: ’’ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے اسے کاٹنے کے دن دیا کرو۔‘‘ (الأنعام:۱۴۱)۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی آیات ہیں جو زکوٰۃ کی فرضیت پر دلیل ہیں جن کو طوالت سے بچنے کی خاطر یہاں نقل نہیں کیا جارہا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زکوٰۃ کے سلسلے میں متعدد روایات منقول ہیں۔ آپؐ کا یہ ارشاد مبارک بہت مشہور ہے: ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر ۸، بروایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ)۔ نیز روایتوں میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبلؓ کو جب آپؐ نے یمن کی طرف حاکم بنا کر بھیجا تو روانگی کے وقت انھیں یہ ہدایت دی: ’’تم انھیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انھیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پردن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انھیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مال دارلوگوں سے لے کر ان ہی کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۱۳۹۵، بروایت حضرت عبداللہ بن عباسؓ)۔
اسی طرح حضرت ابوبکرؓ نے جب حضرت انسؓ کو بحرین کا حاکم بنا کر بھیجا تو انھیں جو تحریر ی فرمان سونپا، اس میں زکوٰۃ کے متعلق یہ لکھا: ’’یہ زکوٰۃ کا وہ فریضہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، اس لئے جو شخص مسلمانوں سے اس پروانہ کے مطابق زکوٰۃ مانگے تو مسلمانوں کو اسے دے دینا چاہیے۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۱۴۵۴، بروایت حضرت انسؓ)۔ حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے پر بیعت کی۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۱۴۰۱)۔
یہ سب روایات زکوٰۃ کی فرضیت پر دلیل اور حجت ہیں۔ حضرت جریر بن عبداللہ ؓ کا قول اس بات کی بھی دلیل ہے کہ من جملہ دیگر باتوں کے نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر صحابہ کرامؓ سے بیعت لی جاتی تھی۔ قرآن کریم نے ان اعمال کو ایمان والوں کی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے، ارشاد ربانی ہے: ’’اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیںاور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم فرمائے گا۔ ‘‘ (التوبۃ: ۷۱)۔ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’الصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ‘‘ یعنی ’’صدقہ دعواے ایمان کی دلیل ہے۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۵۳۴)۔ اسی لئے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ قتال کرنے کا فیصلہ لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے فیصلے سے اتفاق کیا۔ علما ے اسلام بھی اس بات پر متفق ہیں کہ زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر کافر ہے۔ اس لئے ہر مال دار اور صاحب نصاب شخص کو زکوٰۃ و صدقات کا لازماً اہتمام کرنا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق ہوسکے۔
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان کے سلسلے میں قرآن کریم میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ ارشاد ربانی ہے: ـ’’اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس (مال) میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دے رکھا ہے وہ ہرگز گمان نہ کریں کہ ان کے لئے وہ بہتر ہے، بلکہ ان کے لئے وہ بہت ہی برا ہے، عنقریب وہ (مال) جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔‘‘ (آل عمران: ۱۸۰)۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ـ’’اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے۔ جس دن اس خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں، ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا (اور کہا جائے گا) یہی ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا رکھا تھا ، پس اب تم اپنی جمع کی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔ ‘ ‘ (التوبۃ: ۳۴ – ۳۵)۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زکوٰۃ کے ادا نہ کرنے پر ایسی ہی وعیدیں منقول ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا لیکن اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے کے دن اس کا مال نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرلے گا جس کی آنکھوںپر دو سیاہ نقطے ہوں گے اور وہ اس کے گلے کا ہار ہوگا، پھر وہ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑ لے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپؐ نے سورۃ آل عمران کی مذکورہ بالا آیت (۱۸۰) تلاوت فرمائی۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۱۴۰۳)۔ حضرت ابوہریرہؓ سے ہی دوسری روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’سونے یا چاندی کا کوئی بھی ایسا مالک نہیں جو ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا ہو مگر یہ کہ قیامت کے دن اس کے لئے (انھیں) آگ کی تختیاں بنادیا جائے گا، پھر دوزخ کی آگ میں ان کو گرم کیا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلوؤں، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائے گا اور جب بھی وہ ٹھنڈی پڑیں گی تو اس کے ساتھ یہی عمل دہرایا جائے گا، اس دن کے دوران جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے ، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنی راہ دیکھ لے ۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۲۲۹۰)۔
اس کے بالمقابل زکوٰۃ و صدقات ادا کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کا دنیا و آخرت میں بہترین بدلہ عنایت کرنے کا وعدہ ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’اور تم (اللہ کی راہ میں) جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو پس وہی اس کا بدلہ دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ ‘‘ (سبا: ۳۹)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دو اور جو نیکی تم اپنے لئے آگے بھیجوگے، اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں موجود پاؤگے کہ وہ بہتر اور ثواب میںبہت زیادہ بڑی ہے۔‘‘ (المزمل: ۲۰)۔ چند دوسری آیات میں یہ بشارت بھی ہے کہ زکوٰۃ دینے سے دنیا اور آخرت میں مال میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ’’اور جو کچھ تم زکوٰۃ (و خیرات) اللہ کی رضاجوئی کے لئے دیتے ہو، تو یہی لوگ ہیںجو اپنا مال کئی گنا بڑھانے والے ہیں۔ ‘‘ (الروم: ۳۹)۔ ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے: ’’جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جو سات بالیاں اگاتا ہے، اور اس کی ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے کئی گنا بڑھا دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۲۶۱)۔
یعنی یہ اللہ کے فضل کا معاملہ ہے کہ زکوٰۃ دینے پر دنیا میں بھی مال میں برکت و اضافہ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ صرف اتنے ہی کا ثواب عطا نہیں کرتا جتنا زکوٰۃ و صدقات میںخرچ کیا گیا ہے بلکہ اس کو سات سو گنا اور جس کے لئے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھا کر دیتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد ہے: ’’کوئی شخص اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ نہیں کرتا مگراللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے اور اس کی اس طرح پرورش کرتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی گھوڑی کے بچے یا اونٹنی کے بچے کی پرورش کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر یا اس سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۲۳۴۳، بروایت حضرت ابوہریرہؓ)۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے ، دراصل وہی باقی ہے اور حقیقی بچت ہے جو آخرت میں اجر عظیم کی شکل میں انسان کو ملے گا۔ اس لئے اپنے مال و دولت میں دنیوی برکت اور اخروی اجر عظیم کی خاطر زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ قارئین کے ساتھ ساتھ احقر کو بھی مذکورہ حکم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت کرے۔ آمین! یارب العالمین!
ز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں