جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر حکومت نے AAY خاندانوں کے لئے سالانہ چھ مفت LPG سلنڈر فراہم کرنے کی پالیسی کو منظوری دے دی ہے۔ یوں بجٹ میں کیا گیا وہ وعدہ اب کاغذ سے نکل کر باورچی خانے تک پہنچنے کی راہ پر ہے۔
وزیر خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما نے قانون ساز اسمبلی میں اعلان کیا کہ مجاز اتھارٹی نے AAY خاندانوں کے لئے چھ مفت گیس سلنڈروں کی پالیسی منظور کرلی ہے اور اس کے نفاذ کے لئے ضروری احکامات جلد جاری کیے جائیں گے۔ اعلان کے بعد ایوان میں ارکان نے تالیاں بجائیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سب سے زیادہ مستحق خاندانوں کو براہ راست راحت فراہم کرنا اور کمزور طبقات کو باعزت زندگی کے لئے سہارا دینا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام سماجی انصاف اور عوامی فلاح کے لئے حکومت کے عزم کو تقویت دے گا۔
یہ اعلان وزیر اعلیٰ نے رواں سال فروری میں بطور وزیر خزانہ پیش کیے گئے اپنے دوسرے بجٹ میں کیا تھا۔ اب منظوری کے بعد AAY خاندانوں کے لئے سالانہ چھ مفت سلنڈروں کا وعدہ عملی نفاذ کی جانب بڑھ گیا ہے۔
مختصر یہ کہ بجٹ کی ایک سطر اب چولہے کی ایک حقیقی ضرورت سے جڑ گئی ہے—اور اس بار بحث صرف اعداد و شمار کی نہیں، گھر کے چولہے کی بھی ہے۔
حکومت وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی: LoPنے مفت گیس، بجلی، روزگار، تعلیم اور صحت کے وعدوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت پر دو سال کے دوران عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل شرما نے AAY خاندانوں کے لئے سالانہ چھ مفت LPG سلنڈروں کی منظوری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہر گھر کو ہر ماہ ایک مفت سلنڈر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ گزشتہ دو برس کے 24 سلنڈروں کا کیا ہوا اور باقی خاندانوں کا کیا ہوگا۔
انہوں نے AAY خاندانوں کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کے وعدے پر بھی حکومت سے جواب طلب کیا اور ایک لاکھ روزگار فراہم کرنے کے وعدے کی تکمیل پر بھی سوال اٹھایا۔
TET کے معاملے پر سنیل شرما نے کہا کہ برسوں سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو دوبارہ اپنی اہلیت ثابت کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اساتذہ کے مسائل پر بامعنی بحث نہیں کی۔
صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 1,500 ڈاکٹرز کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ سرکاری میڈیکل کالجوں میں 219 وینٹی لیٹر غیر فعال ہیں۔ انہوں نے CT اسکین، ایکسرے فلموں اور دیگر ضروری طبی سہولیات کی دستیابی پر بھی سوال اٹھائے۔
سنیل شرما نے اسمبلی کی کارروائی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عوامی اہمیت کے مسائل پر مناسب بحث نہیں کی جارہی اور اجلاس محض آئینی تقاضا پورا کرنے کے لئے منعقد کیا جارہا ہے۔


