کشمیر یونیورسٹی میں ماحول ، موسمیاتی تبدیلی اور پائیداری پر قومی سیمینار 

جنگ نیوز ڈیسک 
سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ قومی سیمینار ’’ ماحول ، موسمیاتی تبدیلی اور پائیداری : سائنس پالیسی اور راستے ‘‘ کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی ۔ تین روزہ کانفرنس میں ملک بھر سے ماہرین ماحولیات ، ہائیڈرولوجسٹ ، مٹی کے ماہرین ، پالیسی ساز اور محققین نے اہم ماحولیاتی چیلنجز پر غور و خوض کیا ۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے قومی سطح کے سیمینار کی تعریف کی جو مختلف شعبوں کے درمیان مشترکہ زبان تخلیق کر کے آب و ہوا کے بحران سے اجتماعی طور پر نمٹنے کیلئے کام کر رہا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی ، حیاتیاتی تنوع کا نقصان اور آلودگی الگ الگ مظاہر نہیں بلکہ تین گنا سیاروی بحران کے باہم جڑے ہوئے پہلو ہیں ۔
انہوں نے کہا ’’ اگرچہ حکومتی مشینری میں الگ الگ محکمے ہیں ایک محکمہ پانی کی پالیسی بناتا ہے دوسرا جنگلات کی پالیسی اور تیسرا موسمیاتی پالیسی لیکن میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ ایسے سیمینار ہمیں یاد دلاتے ہیں ان سب کے درمیان گہرا تعلق ہے اور اسے تسلیم کرنا ان مسائل کے حل کی طرف پہلا قدم ہے ۔ ‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے سائنس اور پالیسی کے درمیان فاصلے کو پُر کرنے کی زور دار اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ جبکہ ڈیٹا اور ماڈلز وافر مقدار میں موجود ہیں ، سائنسی نتائج کو ضلعی ترقیاتی منصوبوں ، پانی کی تقسیم اور آفات کے انتظام میں ضم کرنے کے ادارہ جاتی طریقہ کار اب بھی ناکافی ہیں ۔ انہوں نے بروقت اور موثر کارروائی کو یقینی بنانے کیلئے سائنسدانوں اور پالیسی سازوں کے درمیان اعتماد ، تعاون اور مشترکہ زبان کی ضرورت پر زور دیا ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے محققین اور پالیسی سازوں کو یاد دلایا کہ ترقی کے ساتھ ذمہ داری ، تحفظ اور فرض بھی ہونا چاہئیے ۔ انہوں نے نوجوان ماہرین سے اپیل کی کہ وہ صرف اپنے شعبے کی حدود تک محدود نہ رہیں بلکہ وسیع ترسوچیں اور پالیسی سازوں سے کہا کہ وہ سائنس کی زبان کو سنیں ۔
اس موقع پر وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی ، سابق وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی ، سابق ڈائریکٹر نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشن ریسرچ ( این سی پی ساو آر ) ، ڈین اکیڈمک افیئرز یونیوسٹی آف کشمیر ، ماہرین پالیسی ساز اور ملک بھر سے محققین ، سینئر افران ، فیکلٹی اور طلباء نے شرکت کی ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

1987 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی قرارداد پر اسمبلی کی خاموشی پرسجاد لون برہم

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 17 ستمبر: پیپلز کانفرنس کے صدر...

مکہ مکرمہ کو کسی بھی خطرے پر پوری مسلم دنیا کو گہری تشویش /آغا سید حسن

جنگ نیوز ڈیسک جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان...

کشمیری دینی مبلغ وسیم رضا کو ایران میں ایوارڈ سے نوازا گیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر:اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس شہر قم...

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ڈاکٹر ستیش ومل کے شعری مجموعے کی رونمائی کی

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج...

تازہ ترین خبریں

1987 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی قرارداد پر اسمبلی کی خاموشی پرسجاد لون برہم

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 17 ستمبر: پیپلز کانفرنس کے صدر...

مکہ مکرمہ کو کسی بھی خطرے پر پوری مسلم دنیا کو گہری تشویش /آغا سید حسن

جنگ نیوز ڈیسک جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان...

کشمیری دینی مبلغ وسیم رضا کو ایران میں ایوارڈ سے نوازا گیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر:اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس شہر قم...

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ڈاکٹر ستیش ومل کے شعری مجموعے کی رونمائی کی

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج...

کشمیر یونیورسٹی میں ماحول ، موسمیاتی تبدیلی اور پائیداری پر قومی سیمینار 

جنگ نیوز ڈیسک 
سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ قومی سیمینار ’’ ماحول ، موسمیاتی تبدیلی اور پائیداری : سائنس پالیسی اور راستے ‘‘ کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی ۔ تین روزہ کانفرنس میں ملک بھر سے ماہرین ماحولیات ، ہائیڈرولوجسٹ ، مٹی کے ماہرین ، پالیسی ساز اور محققین نے اہم ماحولیاتی چیلنجز پر غور و خوض کیا ۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے قومی سطح کے سیمینار کی تعریف کی جو مختلف شعبوں کے درمیان مشترکہ زبان تخلیق کر کے آب و ہوا کے بحران سے اجتماعی طور پر نمٹنے کیلئے کام کر رہا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی ، حیاتیاتی تنوع کا نقصان اور آلودگی الگ الگ مظاہر نہیں بلکہ تین گنا سیاروی بحران کے باہم جڑے ہوئے پہلو ہیں ۔
انہوں نے کہا ’’ اگرچہ حکومتی مشینری میں الگ الگ محکمے ہیں ایک محکمہ پانی کی پالیسی بناتا ہے دوسرا جنگلات کی پالیسی اور تیسرا موسمیاتی پالیسی لیکن میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ ایسے سیمینار ہمیں یاد دلاتے ہیں ان سب کے درمیان گہرا تعلق ہے اور اسے تسلیم کرنا ان مسائل کے حل کی طرف پہلا قدم ہے ۔ ‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے سائنس اور پالیسی کے درمیان فاصلے کو پُر کرنے کی زور دار اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ جبکہ ڈیٹا اور ماڈلز وافر مقدار میں موجود ہیں ، سائنسی نتائج کو ضلعی ترقیاتی منصوبوں ، پانی کی تقسیم اور آفات کے انتظام میں ضم کرنے کے ادارہ جاتی طریقہ کار اب بھی ناکافی ہیں ۔ انہوں نے بروقت اور موثر کارروائی کو یقینی بنانے کیلئے سائنسدانوں اور پالیسی سازوں کے درمیان اعتماد ، تعاون اور مشترکہ زبان کی ضرورت پر زور دیا ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے محققین اور پالیسی سازوں کو یاد دلایا کہ ترقی کے ساتھ ذمہ داری ، تحفظ اور فرض بھی ہونا چاہئیے ۔ انہوں نے نوجوان ماہرین سے اپیل کی کہ وہ صرف اپنے شعبے کی حدود تک محدود نہ رہیں بلکہ وسیع ترسوچیں اور پالیسی سازوں سے کہا کہ وہ سائنس کی زبان کو سنیں ۔
اس موقع پر وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی ، سابق وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی ، سابق ڈائریکٹر نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشن ریسرچ ( این سی پی ساو آر ) ، ڈین اکیڈمک افیئرز یونیوسٹی آف کشمیر ، ماہرین پالیسی ساز اور ملک بھر سے محققین ، سینئر افران ، فیکلٹی اور طلباء نے شرکت کی ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں