جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر:اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس شہر قم میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کی مناسبت سے عالمی شہرت یافتہ بین الاقوامی جامعۃ المصطفیٰ)ص( العالمیہ میں علمی، ثقافتی اور دینی خدمات کے میدان میں بہترین اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد طلبہ کو جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے سربراہ اور مجلس خبرگان رہبری کے رکن آیت اللہ ڈاکٹر علی عباسی نے دیگر حوزات علمیہ کے بزرگ اساتذہ، علماء، ذمہ داران اور طلبہ کی موجودگی میں اسناد اور انعامات سے نوازا۔
اس موقع پر نوجوان کشمیری دینی مبلغ وسیم رضا قمی کو بھی ایوارڈ اور اسناد سے نوازا گیا۔ ان کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے۔ وہ اس وقت جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ٹیلی ویژن چینلز پر دینی، ثقافتی اور سیاسی امور کے حوالے سے تجزیہ کار اور مبصر کی حیثیت سے بھی شرکت کرتے ہیں۔ وہ کشمیر سے شائع ہونے والے معروف ہفت روزہ ’’ولایت ٹائمز‘‘ کے بانی اور مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔
یہ اعزاز طلبہ کی گراں قدر علمی اور دینی خدمات کے اعتراف اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کا بھی ذریعہ ہے۔
آیت اللہ عباسی نے اساتذہ اور طلبہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی علمی مرکز جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کی کارکردگی اور کامیابیوں کی جانب اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران-امریکہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں تشویش اور مشکلات کے باوجود جامعۃ المصطفیٰ میں علم و تعلیم کا چراغ روشن رہا اور اس علمی مرکز نے عزم و استقامت کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔ اس مرکز سے وابستہ اساتذہ، ذمہ داران اور طلبہ نے اپنی دینی اور تبلیغی ذمہ داریاں بخوبی نبھانے کے لئے انتھک کوششیں جاری رکھیں اور دنیا بھر میں اہم کردار ادا کیا۔
اس موقع پر شعبۂ تاریخ کے مرکز آموزش عالی مدرسہ تاریخ و سیرت و تمدن کے چانسلر اور ایران کے معروف خطیب حجۃ الاسلام ڈاکٹر محمد ناصر رفیعی، رئیس مدرسہ و استاد حوزہ حجۃ الاسلام والمسلمین حاج شیخ حسین عبدالمحمدی سمیت کئی اہم شخصیات نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ مقررین نے علم و تحقیق کے فروغ، دینی و علمی تعلیم کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیوں میں طلبہ کی فعال شرکت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور نئے تعلیمی سال کے لئے طلبہ و اساتذہ کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
انعامات اور اسناد حاصل کرنے والوں میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے متعدد طلبہ شامل تھے، جن میں مولانا فیاض محسن، مولانا وسیم رضا کشمیری اور مولانا سید محمود حسن رضوی وغیرہ شامل ہیں۔


