وزارتِ دفاع کی رپورٹ : جموں و کشمیر کی امن کی جانب پیش قدمی

جنگ نیوز ڈیسک

وزارتِ دفاع کی سالانہ رپورٹ 2025-26 کے مطابق جموں و کشمیر کی مجموعی سلامتی کی صورتحال قابو میں ہے، جہاں تشدد، احتجاج اور پتھراؤ کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوج اور عوام کی مختلف حکومتی و فوجی اقدامات میں شرکت نے خطے کے مجموعی حالات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ آپریشن سندور کے دوران جموں و کشمیر اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی، تاہم 10 اور 12 مئی 2025 کو ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے بعد حالات بڑی حد تک مستحکم ہوئے، اگرچہ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں جموں و کشمیر میں 2 کروڑ 30 لاکھ سیاح پہنچے، جبکہ13.4لاکھ یاتریوں نے شری امرناتھ یاترا میں شرکت کی۔ پہلگام دہشت گرد حملے کے باوجود سیاحوں نے سکیورٹی فورسز پر اعتماد برقرار رکھا اور کشمیر کا رخ جاری رکھا۔
وزارتِ دفاع کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے بڑی حد تک تشدد کا راستہ ترک کردیا ہے اور حکومتی اسکیموں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس صرف ایک مقامی نوجوان نے دہشت گرد صفوں میں شمولیت اختیار کی، جسے پاکستان کے ’مقامی دہشت گردی‘ کے بیانیے کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں جموں و کشمیر کے اندرونی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران 19 دہشت گرد مارے گئے، جن میں آٹھ پاکستانی دہشت گرد شامل تھے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق یہ اعداد و شمار جموں و کشمیر میں پاکستان کی مبینہ پراکسی جنگ میں شمولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب 2025 میں ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ 2024 میں دو کے مقابلے میں 2025 میں 163 جنگ بندی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 124 خلاف ورزیاں آپریشن سندور کے دوران ہوئیں۔
شمالی محاذ کی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ 2025 میں شمالی سرحدوں کے مقابل چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی تعیناتی میں نمایاں کمی آئی۔ تاہم 10 مشترکہ جنگی بریگیڈ کے مساوی پی ایل اے فورسز لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) اور روایتی تربیتی علاقوں میں موجود رہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق ایل اے سی کے تمام شعبوں میں بھارتی فوج کی تعیناتی مضبوط، موزوں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسمبلی کے خزاں اجلاس سے قبل اسپیکر کی کل جماعتی بیٹھک طلب

جنگ نیوز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 21...

کشمیر کے اسکولوں میں ’سوچھتا انٹرن شپ‘ کا آغاز

جنگ نیوز سری نگر/کمشنر ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ من...

کشمیر تھیٹر کانفرنس اختتام پذیر، ممتاز شخصیات کی پذیرائی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر، 13 ستمبر: تین روزہ ’کشمیر...

وزیراعلیٰ کی صحت بنیادی ڈھانچے میں کمیوں کو دُور کرنے کی ہدایت

 نیوز ڈیسک سری نگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں...

تازہ ترین خبریں

اسمبلی کے خزاں اجلاس سے قبل اسپیکر کی کل جماعتی بیٹھک طلب

جنگ نیوز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 21...

کشمیر کے اسکولوں میں ’سوچھتا انٹرن شپ‘ کا آغاز

جنگ نیوز سری نگر/کمشنر ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ من...

کشمیر تھیٹر کانفرنس اختتام پذیر، ممتاز شخصیات کی پذیرائی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر، 13 ستمبر: تین روزہ ’کشمیر...

وزیراعلیٰ کی صحت بنیادی ڈھانچے میں کمیوں کو دُور کرنے کی ہدایت

 نیوز ڈیسک سری نگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں...

وزارتِ دفاع کی رپورٹ : جموں و کشمیر کی امن کی جانب پیش قدمی

جنگ نیوز ڈیسک

وزارتِ دفاع کی سالانہ رپورٹ 2025-26 کے مطابق جموں و کشمیر کی مجموعی سلامتی کی صورتحال قابو میں ہے، جہاں تشدد، احتجاج اور پتھراؤ کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوج اور عوام کی مختلف حکومتی و فوجی اقدامات میں شرکت نے خطے کے مجموعی حالات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ آپریشن سندور کے دوران جموں و کشمیر اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی، تاہم 10 اور 12 مئی 2025 کو ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے بعد حالات بڑی حد تک مستحکم ہوئے، اگرچہ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں جموں و کشمیر میں 2 کروڑ 30 لاکھ سیاح پہنچے، جبکہ13.4لاکھ یاتریوں نے شری امرناتھ یاترا میں شرکت کی۔ پہلگام دہشت گرد حملے کے باوجود سیاحوں نے سکیورٹی فورسز پر اعتماد برقرار رکھا اور کشمیر کا رخ جاری رکھا۔
وزارتِ دفاع کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے بڑی حد تک تشدد کا راستہ ترک کردیا ہے اور حکومتی اسکیموں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس صرف ایک مقامی نوجوان نے دہشت گرد صفوں میں شمولیت اختیار کی، جسے پاکستان کے ’مقامی دہشت گردی‘ کے بیانیے کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں جموں و کشمیر کے اندرونی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران 19 دہشت گرد مارے گئے، جن میں آٹھ پاکستانی دہشت گرد شامل تھے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق یہ اعداد و شمار جموں و کشمیر میں پاکستان کی مبینہ پراکسی جنگ میں شمولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب 2025 میں ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ 2024 میں دو کے مقابلے میں 2025 میں 163 جنگ بندی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 124 خلاف ورزیاں آپریشن سندور کے دوران ہوئیں۔
شمالی محاذ کی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ 2025 میں شمالی سرحدوں کے مقابل چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی تعیناتی میں نمایاں کمی آئی۔ تاہم 10 مشترکہ جنگی بریگیڈ کے مساوی پی ایل اے فورسز لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) اور روایتی تربیتی علاقوں میں موجود رہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق ایل اے سی کے تمام شعبوں میں بھارتی فوج کی تعیناتی مضبوط، موزوں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں