وزیراعلیٰ کی صحت بنیادی ڈھانچے میں کمیوں کو دُور کرنے کی ہدایت

 نیوز ڈیسک
سری نگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں و کشمیر بھر میں صحت کی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کے روڈ میپ اور صحت  شعبے کی اِصلاحات کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔
میٹنگ میں وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا اور کمشنر سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ایم راجو نے شرکت کی۔اِس کے علاوہ ڈائریکٹر سکمز، جموں و کشمیر کے تمام گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے پرنسپل، پرنسپل ایس کے آئی ایم ایس میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال، مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن جموں و کشمیر، منیجنگ ڈائریکٹر جموں و کشمیر میڈیکل سپلائیز کارپوریشن لمیٹڈ، کمشنر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اور دیگر متعلقہ اَفسران نے میٹنگ میں شرکت کی جبکہ سری نگر سے باہر تعینات اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔
ایڈوائزری کمیٹی کے متعلقہ سربراہان نے صحت شعبے کے مختلف پہلوؤں بشمول صحت کے بنیادی ڈھانچے، طبی تعلیم، خصوصی صحت خدمات، ڈیجیٹل صحت، عوامی صحت اور اِنسانی وسائل کی ضروریات پر تفصیلی پرزنٹیشنز پیش کیں۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر بھر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو مستحکم کرنے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس شعبے میں مزید بہتری کے  لئے ضروریات اور ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔
اِس موقعہ پر وزیراعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے اَفرادی قوت کی کمی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے اور آلات کی کمی کو دور کرنے کے لئے گزشتہ تقریباً دو برسوں میں اُٹھائے گئے اقدامات پر محکمہ صحت کی ستائش کی۔
اُنہوں نے کہا، ’’میں ان تمام اَقدامات کی سراہتا ہوں جو محکمہ صحت نے گزشتہ تقریباً دو برسوںمیں بنیادی ڈھانچے اور آلات کی کمی کو دُور کرنے کے سلسلے میں اُٹھائے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے محکمے کو مشورہ دیا کہ وہ متوقع بجٹ مختص کرنے کے مطابق نظام میں اہم کمیوں کوپورا کرنے پر توجہ مرکوز کرے اور ایڈوائزری کمیٹی کی رپورٹ اس سمت میں روڈ میپ کے طور پر کام کرے گی۔ اُنہوں نے کہا ک اصلاحات کے وسیع اور تفصیلی منصوبے کے لئے بھاری فنڈنگ کی ضرورت ہوگی۔ اصلاحات سے متعلق رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ مثالی صورتحال میں ہمارا صحت کا نظام کیسا ہونا چاہیے لیکن اس کے لئے درکار مالی وسائل شاید ایک ہی بار میں دستیاب نہ ہوں۔ وزیراعلیٰ نے ترجیحات کا تعین کرنے اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ بنیادی اور ثانوی صحت نظام کی سہولیات کو بہتر بنانے کے علاوہ کن شعبوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ جن کے پاس محکمہ خزانہ کا قلمدان بھی ہے، نے محکمہ صحت کو اس شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لئے مسلسل تعاون کا یقین دِلایا۔
اُنہوں نے کہا، ’’چوں کہ میں اس وقت محکمہ خزانہ کی نگرانی بھی کر رہا ہوں، اس لئے میں محکمے اوربالخصوص متعلقہ وزیر کو یقین دلاتا ہوں کہ محکمہ صحت میں جاری بہتری کے عمل کو برقرار رکھنے کے لئے محکمہ خزانہ کی جانب سے جو کچھ بھی ممکن ہوا، ہم وہ ضرور کریں گے۔‘‘
میٹنگ میںگورنمنٹ میڈیکل کالجوں،سکمز اور دیگر ٹریشری اور ضلعی سطح کے صحت اداروں کے کام کاج اور ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں مریضوں کی نگہداشت، بنیادی ڈھانچے، آلات، طبی تعلیم اور خصوصی خدمات کو بہتر بنانے پرخصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسمبلی کے خزاں اجلاس سے قبل اسپیکر کی کل جماعتی بیٹھک طلب

جنگ نیوز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 21...

کشمیر کے اسکولوں میں ’سوچھتا انٹرن شپ‘ کا آغاز

جنگ نیوز سری نگر/کمشنر ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ من...

کشمیر تھیٹر کانفرنس اختتام پذیر، ممتاز شخصیات کی پذیرائی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر، 13 ستمبر: تین روزہ ’کشمیر...

راجستھان کے شہری بلدیاتی انتخابات میں BJPکی شاندار کامیابی

جنگ نیوز نئی دہلی/راجستھان کے شہری بلدیاتی انتخابات میں BJP...

تازہ ترین خبریں

اسمبلی کے خزاں اجلاس سے قبل اسپیکر کی کل جماعتی بیٹھک طلب

جنگ نیوز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 21...

کشمیر کے اسکولوں میں ’سوچھتا انٹرن شپ‘ کا آغاز

جنگ نیوز سری نگر/کمشنر ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ من...

کشمیر تھیٹر کانفرنس اختتام پذیر، ممتاز شخصیات کی پذیرائی

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر، 13 ستمبر: تین روزہ ’کشمیر...

راجستھان کے شہری بلدیاتی انتخابات میں BJPکی شاندار کامیابی

جنگ نیوز نئی دہلی/راجستھان کے شہری بلدیاتی انتخابات میں BJP...

وزیراعلیٰ کی صحت بنیادی ڈھانچے میں کمیوں کو دُور کرنے کی ہدایت

 نیوز ڈیسک
سری نگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں و کشمیر بھر میں صحت کی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کے روڈ میپ اور صحت  شعبے کی اِصلاحات کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔
میٹنگ میں وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا اور کمشنر سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ایم راجو نے شرکت کی۔اِس کے علاوہ ڈائریکٹر سکمز، جموں و کشمیر کے تمام گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے پرنسپل، پرنسپل ایس کے آئی ایم ایس میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال، مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن جموں و کشمیر، منیجنگ ڈائریکٹر جموں و کشمیر میڈیکل سپلائیز کارپوریشن لمیٹڈ، کمشنر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اور دیگر متعلقہ اَفسران نے میٹنگ میں شرکت کی جبکہ سری نگر سے باہر تعینات اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔
ایڈوائزری کمیٹی کے متعلقہ سربراہان نے صحت شعبے کے مختلف پہلوؤں بشمول صحت کے بنیادی ڈھانچے، طبی تعلیم، خصوصی صحت خدمات، ڈیجیٹل صحت، عوامی صحت اور اِنسانی وسائل کی ضروریات پر تفصیلی پرزنٹیشنز پیش کیں۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر بھر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو مستحکم کرنے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس شعبے میں مزید بہتری کے  لئے ضروریات اور ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔
اِس موقعہ پر وزیراعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے اَفرادی قوت کی کمی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے اور آلات کی کمی کو دور کرنے کے لئے گزشتہ تقریباً دو برسوں میں اُٹھائے گئے اقدامات پر محکمہ صحت کی ستائش کی۔
اُنہوں نے کہا، ’’میں ان تمام اَقدامات کی سراہتا ہوں جو محکمہ صحت نے گزشتہ تقریباً دو برسوںمیں بنیادی ڈھانچے اور آلات کی کمی کو دُور کرنے کے سلسلے میں اُٹھائے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے محکمے کو مشورہ دیا کہ وہ متوقع بجٹ مختص کرنے کے مطابق نظام میں اہم کمیوں کوپورا کرنے پر توجہ مرکوز کرے اور ایڈوائزری کمیٹی کی رپورٹ اس سمت میں روڈ میپ کے طور پر کام کرے گی۔ اُنہوں نے کہا ک اصلاحات کے وسیع اور تفصیلی منصوبے کے لئے بھاری فنڈنگ کی ضرورت ہوگی۔ اصلاحات سے متعلق رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ مثالی صورتحال میں ہمارا صحت کا نظام کیسا ہونا چاہیے لیکن اس کے لئے درکار مالی وسائل شاید ایک ہی بار میں دستیاب نہ ہوں۔ وزیراعلیٰ نے ترجیحات کا تعین کرنے اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ بنیادی اور ثانوی صحت نظام کی سہولیات کو بہتر بنانے کے علاوہ کن شعبوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ جن کے پاس محکمہ خزانہ کا قلمدان بھی ہے، نے محکمہ صحت کو اس شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لئے مسلسل تعاون کا یقین دِلایا۔
اُنہوں نے کہا، ’’چوں کہ میں اس وقت محکمہ خزانہ کی نگرانی بھی کر رہا ہوں، اس لئے میں محکمے اوربالخصوص متعلقہ وزیر کو یقین دلاتا ہوں کہ محکمہ صحت میں جاری بہتری کے عمل کو برقرار رکھنے کے لئے محکمہ خزانہ کی جانب سے جو کچھ بھی ممکن ہوا، ہم وہ ضرور کریں گے۔‘‘
میٹنگ میںگورنمنٹ میڈیکل کالجوں،سکمز اور دیگر ٹریشری اور ضلعی سطح کے صحت اداروں کے کام کاج اور ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں مریضوں کی نگہداشت، بنیادی ڈھانچے، آلات، طبی تعلیم اور خصوصی خدمات کو بہتر بنانے پرخصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں