عالمی سیاست میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان برکس سربراہی اجلاس نے یہ اہم پیغام دیا ہے کہ کثیر ملکی فورمز محض طاقتور ممالک کی بالادستی کا ذریعہ نہیں، بلکہ اختلافات کے باوجود مکالمے اور تعاون کی گنجائش بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ نئی دہلی اعلامیہ 2026 کی اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ اس نے دنیا کو یہ یاد دلایا کہ سفارت کاری کا دروازہ کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہونا چاہیے۔
مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کے تناظر میں ایران اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے زیادہ سے زیادہ تحمل اور کشیدگی میں اضافے سے گریز پر اتفاق سفارت کاری کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ اعلامیے نے یک طرفہ پابندیوں، ناکہ بندیوں اور تجارتی راستوں کو سیاسی ہتھیار بنانے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی، جو بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
اس تناظر میں برکس کی اہمیت صرف اقتصادی تعاون تک محدود نہیں رہتی۔ عالمی جنوب کے ممالک کے لیے یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن سکتا ہے جہاں ان کی آواز عالمی فیصلوں میں زیادہ مؤثر انداز میں سنی جائے اور عالمی تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور مالیاتی نظام میں طاقت کے عدم توازن کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ تاہم اس مقصد کے لیے رکن ممالک کو نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اور دیرپا تعاون کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
برکس کے لیے اصل چیلنج کسی متبادل عالمی کرنسی کے خواب سے زیادہ رکن ممالک کے درمیان ادائیگی کے نظام، تجارت، توانائی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل لچک کو مضبوط بنانا ہے۔ اگر برکس طاقت کے مقابلے کے بجائے مکالمے، باہمی احترام اور عملی تعاون کا پلیٹ فارم بن سکے تو اس کی افادیت محض سربراہی اجلاسوں کی تصویروں سے کہیں آگے بڑھ سکتی ہے۔
ززز


