دل و دماغ کا بوجھ کیسے اتار دیں؟

 

شیخ افلاق حسین سیمانی
سیموہ ترال پلوامہ

رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔
پورا محلہ گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔ کہیں دور کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آتی اور پھر خاموشی پہلے سے زیادہ گہری محسوس ہونے لگتی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور کھڑکی کے شیشے پر کبھی کبھار بارش کی چند بوندیں آ کر ٹھہر جاتیں۔
مگر سلمان کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔
وہ اپنے بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔
اس کا جسم تھکا ہوا تھا، مگر دماغ جاگ رہا تھا۔
ایک خیال ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔
"اگر کل بھی حالات ایسے ہی رہے تو؟”
"جو فیصلہ میں نے چند ماہ پہلے کیا تھا، کیا وہ غلط تھا؟”
"لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے؟”
"اگر میں ناکام ہو گیا تو؟”
"کاش میں نے اُس دن وہ بات نہ کہی ہوتی۔”
"کاش میں وقت کو واپس لا سکتا۔”
یہ خیالات اس کے ذہن میں ایسے گردش کر رہے تھے جیسے کسی بند کمرے میں ہوا کا طوفان آ گیا ہو۔
سلمان نے کروٹ بدلی۔
پھر دوسری طرف کروٹ لی۔
پھر اٹھ کر پانی پیا۔
موبائل دیکھا۔
وقت دیکھا۔
دو بج کر سترہ منٹ۔
اس نے موبائل دوبارہ رکھ دیا۔
"آخر میں اتنا کیوں سوچتا ہوں؟”
یہ سوال اس نے خود سے کئی مرتبہ پوچھا تھا، مگر کبھی جواب نہیں ملا۔
سلمان کی زندگی بظاہر بالکل معمول کے مطابق تھی۔ گھر تھا، کام تھا، اپنے لوگ تھے۔ وہ لوگوں سے ملتا تو مسکراتا، ان کے مسائل سنتا، ان کی مدد کرتا اور ہمیشہ یہی کہتا:
"اللہ کا شکر ہے، سب ٹھیک ہے۔”
مگر حقیقت یہ تھی کہ سب ٹھیک نہیں تھا۔
اس کے دل میں کئی ایسی باتیں جمع ہو چکی تھیں جنہیں وہ کسی کے سامنے بیان نہیں کر پاتا تھا۔
کچھ پچھتاوے تھے۔
کچھ ادھورے خواب تھے۔
کچھ لوگوں کی کہی ہوئی باتیں تھیں جو برسوں بعد بھی اس کے دل میں تیر کی طرح چبھتی تھیں۔
کچھ ایسے فیصلے تھے جن کے نتائج وہ آج تک بھگت رہا تھا۔
اور سب سے بڑھ کر مستقبل کا خوف تھا۔
وہ ہر آنے والے دن کو پہلے ہی جینا چاہتا تھا، اس لئے موجودہ لمحہ بھی اس سے چھن گیا تھا۔
صبح ہوئی تو سلمان حسبِ معمول اٹھا۔ چہرہ دھویا، ناشتہ کیا اور کام کے لئے نکل گیا۔
راستے میں اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی۔
بوڑھا سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی لکڑی کی دکان کے باہر بیٹھا تھا۔ سفید داڑھی، سادہ لباس اور چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
سلمان اسے روز دیکھتا تھا، مگر کبھی بات نہیں ہوئی تھی۔
آج جانے کیوں اس کے قدم رک گئے۔
بوڑھے نے سلمان کو دیکھا اور مسکرا کر کہا:
"بیٹا، آج بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔”
سلمان نے رسمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"بس معمول کی تھکن ہے۔”
بوڑھا ہلکا سا مسکرایا۔
"جسم کی تھکن تو آرام سے اتر جاتی ہے، دل کی تھکن کہاں جاتی ہے؟”
سلمان خاموش ہو گیا۔
یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے اس کے چہرے کے پیچھے چھپی تھکن کو پہچانا تھا۔
بوڑھے نے سامنے رکھی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
"بیٹھ جاؤ۔”
سلمان بیٹھ گیا۔
بوڑھے نے پوچھا:
"نام کیا ہے؟”
"سلمان۔”
"اور بوجھ؟”
سلمان نے چونک کر دیکھا۔
"کون سا بوجھ؟”
بوڑھا مسکرایا۔
"وہی جو تمہارے کندھوں پر نہیں، دل پر ہے۔”
سلمان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر جیسے اس کے اندر بند دروازہ اچانک کھل گیا۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا:
"مجھے خود نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کوئی ایک بڑا مسئلہ بھی نہیں ہے، لیکن پھر بھی دل ہر وقت بھاری رہتا ہے۔ دماغ ہر وقت سوچتا رہتا ہے۔ کبھی ماضی پریشان کرتا ہے، کبھی مستقبل۔”
بوڑھے نے سامنے رکھا ایک گلاس اٹھایا۔
"اسے پکڑو۔”
سلمان نے گلاس پکڑ لیا۔
بوڑھے نے پوچھا:
"یہ کتنا بھاری ہے؟”
"زیادہ نہیں۔”
"اگر اسے ایک گھنٹہ پکڑے رکھو؟”
"ہاتھ تھک جائے گا۔”
"اور اگر پورا دن؟”
سلمان نے کہا:
"ہاتھ میں درد ہونے لگے گا۔”
بوڑھے نے گلاس واپس لے لیا۔
"بس یہی تمہارے دل و دماغ کے ساتھ ہو رہا ہے۔”
سلمان خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
بوڑھے نے کہا:
"پریشانی کا وزن ہمیشہ زیادہ نہیں ہوتا، مگر اسے مسلسل اٹھائے رکھنا انسان کو تھکا دیتا ہے۔”
سلمان کی آنکھیں جھک گئیں۔
بوڑھے نے کہا:
"تم ہر مسئلے کو اپنے ذہن میں اٹھائے پھرتے ہو۔ جو گزر گیا، اسے بھی ساتھ لئے پھرتے ہو۔ جو ابھی آیا نہیں، اس کا خوف بھی ساتھ لئے پھرتے ہو۔ پھر موجودہ لمحہ کہاں بچتا ہے؟”
سلمان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
بوڑھے نے کہا:
"آج شام میرے ساتھ چلنا۔ ایک جگہ دکھانی ہے۔”
شام کو سلمان دوبارہ وہاں پہنچ گیا۔
بوڑھا اسے شہر سے باہر ایک چھوٹی سی پہاڑی کی طرف لے گیا۔ دونوں خاموشی سے چلتے رہے۔
کچھ دیر بعد وہ ایک چشمے کے پاس پہنچے۔
پانی پتھروں کے درمیان سے گزرتا ہوا مسلسل آگے بڑھ رہا تھا۔
بوڑھے نے کہا:
"اس پانی کو غور سے دیکھو۔”
سلمان نے دیکھا۔
"کیا نظر آ رہا ہے؟”
"پانی بہہ رہا ہے۔”
"یہ کبھی واپس آتا ہے؟”
"نہیں۔”
"ماضی بھی ایسا ہی ہے۔”
سلمان نے بوڑھے کی طرف دیکھا۔
"جو گزر گیا، وہ واپس نہیں آتا۔ تم اپنی غلطی سے سبق لے سکتے ہو، مگر اسے دوبارہ جینے کی ضرورت نہیں۔”
سلمان نے آہستہ سے کہا:
"مگر ماضی کی کچھ باتیں بہت تکلیف دیتی ہیں۔”
بوڑھے نے جواب دیا:
"تکلیف اس لئے نہیں کہ وہ ماضی میں ہیں، بلکہ اس لئے کہ تم انہیں آج بھی اپنے اندر زندہ رکھے ہوئے ہو۔”
یہ جملہ سلمان کے دل میں اتر گیا۔
اسے اچانک کئی برس پہلے کا ایک واقعہ یاد آیا۔
اس نے ایک دوست سے غصے میں کچھ ایسا کہہ دیا تھا جس کا اسے آج تک افسوس تھا۔ دوست نے بعد میں اسے معاف بھی کر دیا تھا، مگر سلمان نے خود کو کبھی معاف نہیں کیا تھا۔
وہ ہر چند دن بعد وہی واقعہ یاد کرتا اور خود کو ملامت کرتا۔
بوڑھے نے کہا:
"اگر تم نے غلطی کی ہے تو اسے تسلیم کرو، جہاں ضروری ہو معافی مانگو، اصلاح کرو اور پھر آگے بڑھو۔”
"اور اگر دوسرا شخص معاف نہ کرے؟”
"تو اس کے اختیار کا احترام کرو۔ تم اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرو۔ ہر انسان کے دل کا فیصلہ تم نہیں کر سکتے۔”
وہ دونوں چشمے کے کنارے بیٹھ گئے۔
کچھ دیر بعد بوڑھے نے ایک خشک پتہ اٹھایا۔
"یہ دیکھو۔”
سلمان نے پتہ ہاتھ میں لے لیا۔
"یہ کبھی درخت کا حصہ تھا۔”
"جی۔”
"پھر درخت سے جدا ہو گیا۔ کیا درخت نے اسے ہمیشہ کے لئے پکڑ کر رکھا؟”
"نہیں۔”
"زندگی بھی یہی سکھاتی ہے۔ کچھ چیزیں ہمارے ساتھ رہنے کے لئے نہیں آتیں۔ کچھ لوگ، کچھ تعلقات، کچھ خواب، کچھ مواقع اور کچھ حالات وقت کے ساتھ ہم سے جدا ہو جاتے ہیں۔”
سلمان خاموشی سے پتہ دیکھتا رہا۔
بوڑھے نے کہا:
"دل کا بوجھ اتارنے کے لئے ہر چیز کو اپنے پاس رکھنا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی چھوڑ دینا بھی محبت ہوتی ہے۔”
واپسی کے راستے میں سلمان نے پوچھا:
"لیکن مستقبل کا کیا؟ میں مستقبل کے بارے میں بہت سوچتا ہوں۔”
بوڑھا ہنس دیا۔
"مستقبل کے بارے میں سوچنا اچھی بات ہے، مگر مستقبل میں رہنا اچھی بات نہیں۔”
"فرق؟”
"منصوبہ بناؤ، مگر خوف میں مت جیو۔ محنت کرو، مگر نتیجے کو اپنے سر پر سوار مت کرو۔ جو تمہارے اختیار میں ہے وہ کرو، جو اختیار میں نہیں اسے اللہ کے سپرد کرو۔”
سلمان نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید اس کی سب سے بڑی مشکل یہی تھی۔
وہ ان چیزوں کو بھی قابو کرنا چاہتا تھا جو اس کے اختیار میں نہیں تھیں۔
لوگ کیا سوچیں گے؟
کون اس کے ساتھ رہے گا؟
کون اسے چھوڑ دے گا؟
کل کیا ہوگا؟
کامیابی کب ملے گی؟
کون اسے سمجھے گا؟
وہ ہر سوال کا جواب آج ہی چاہتا تھا۔
اور اسی خواہش نے اس کے آج کا سکون چھین لیا تھا۔
اگلے دن سے سلمان نے ایک چھوٹی سی عادت شروع کی۔
ہر رات سونے سے پہلے وہ ایک کاغذ پر تین سوال لکھتا۔
آج مجھے کس بات نے پریشان کیا؟
اس میں سے کیا میرے اختیار میں ہے
اور جو میرے اختیار میں نہیں، کیا میں اسے چھوڑ سکتا ہوں؟
پہلے دن اس نے صرف دو سطریں لکھیں۔
دوسرے دن چار۔
تیسرے دن اس نے ایک لمبی فہرست بنائی۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے بہت سے دکھ ایسے تھے جن کا تعلق موجودہ زندگی سے کم اور اس کے خیالات سے زیادہ تھا۔
کچھ دن بعد اس نے ایک اور اصول اپنایا۔
وہ ہر بات کا جواب فوراً دینا چھوڑنے لگا۔
اگر کوئی ناراض ہوتا تو فوراً صفائی پیش نہیں کرتا۔
اگر کوئی تنقید کرتا تو ساری رات اس کے الفاظ نہیں دہراتا۔
اگر کوئی کام توقع کے مطابق نہ ہوتا تو خود کو ناکام انسان نہیں سمجھتا۔
اس نے سیکھا کہ ایک غلطی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں ہوتی۔
ایک ناکامی انسان کی پوری شناخت نہیں ہوتی۔
اور کسی کی رائے انسان کی اصل قدر کا پیمانہ نہیں ہوتی۔
ایک رات پھر وہ دیر تک جاگ رہا تھا۔
مگر اس رات کچھ مختلف تھا۔
اس کے ذہن میں خیالات اب بھی تھے، مگر ان کی آواز مدھم تھی۔
اس نے کھڑکی کھولی۔
باہر چاند بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔
سلمان نے گہری سانس لی۔
اسے بوڑھے کی بات یاد آئی:
"تمہیں ہر جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں۔”
اس نے آنکھیں بند کیں۔
پھر دل ہی دل میں کہا:
"جو میرے اختیار میں ہے، میں وہ پوری کوشش سے کروں گا۔
جو میرے اختیار میں نہیں، اسے چھوڑ دوں گا۔
جو گزر گیا، اسے سبق سمجھوں گا۔
جو آنے والا ہے، اسے وقت پر چھوڑ دوں گا۔
اور جو آج میرے پاس ہے، اسے ضائع نہیں کروں گا۔”
اس کی آنکھوں سے دو آنسو نکلے۔
مگر یہ آنسو غم کے نہیں تھے۔
یہ شاید کئی برسوں سے جمع بوجھ کے پگھلنے کے آنسو تھے۔
صبح جب سلمان اٹھا تو دنیا وہی تھی۔
مسائل وہی تھے۔
کام وہی تھا۔
لوگ وہی تھے۔
مستقبل اب بھی غیر یقینی تھا۔
مگر سلمان بدل چکا تھا۔
اسے سمجھ آ گئی تھی کہ سکون کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔
سکون کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ موجود ہو، مگر انسان اس کے اندر گم نہ ہو جائے۔
اس دن وہ دوبارہ بوڑھے کی دکان پر گیا۔
مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
کرسی خالی تھی۔
دکان بند تھی۔
سلمان نے آس پاس کے لوگوں سے پوچھا:
"بابا رحمت کہاں گئے؟”
ایک شخص نے حیرت سے پوچھا:
"کون بابا رحمت؟”
سلمان نے بتایا کہ وہ سفید داڑھی والے بزرگ، جو یہاں روز بیٹھتے تھے۔
وہ شخص کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا:
"بیٹا، اس دکان کے مالک کا انتقال تو کئی سال پہلے ہو چکا ہے۔ یہاں تو مدت سے کوئی نہیں بیٹھتا۔”
سلمان کے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔
اس نے دکان کی طرف دیکھا۔
کرسی اب بھی وہیں تھی۔
وہ کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔
پھر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
شاید وہ بزرگ حقیقت تھے۔
شاید خواب۔
شاید کسی دعا کا جواب۔
یا شاید سلمان کے اپنے اندر کا وہ حصہ، جو برسوں سے اسے یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ بوجھ اٹھائے رکھنا زندگی نہیں۔
وہ واپس گھر کی طرف چل پڑا۔
راستے میں نیم کے درخت سے ایک زرد پتہ ٹوٹ کر زمین پر گرا۔
سلمان رکا۔
اس نے پتے کو دیکھا اور مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔
اس دن اسے دل و دماغ کا بوجھ اتارنے کا راز سمجھ آ گیا تھا:
ہر مسئلہ حل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
کچھ باتوں کو معاف کرنا پڑتا ہے۔
کچھ لوگوں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔
کچھ ماضی کو دفن کرنا پڑتا ہے۔
کچھ مستقبل اللہ کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر—
انسان کو کبھی کبھی خود کو بھی معاف کرنا پڑتا ہے۔
کیونکہ دل کا بوجھ اس وقت نہیں اترتا جب دنیا بدل جاتی ہے۔
دل کا بوجھ اس وقت اترتا ہے جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ ہر چیز کو اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھنا ضروری نہیں۔
کچھ بوجھ راستے میں رکھ دینے ہوتے ہیں۔
کچھ آنسو بہا دینے ہوتے ہیں۔
کچھ باتیں کہہ دینی ہوتی ہیں۔
کچھ معاف کر دینی ہوتی ہیں۔
اور کچھ معاملے خاموشی سے اللہ کے سپرد کر دینے ہوتے ہیں۔
سلمان نے آسمان کی طرف دیکھا۔
بادل چھٹ رہے تھے۔
سورج کی پہلی کرن پہاڑ کے پیچھے سے نمودار ہو رہی تھی۔
اس نے گہری سانس لی۔
پھر دل میں کہا:
"آج میں اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کرتا ہوں۔”
اور اس بار وہ زندگی کو اٹھا نہیں رہا تھا۔
وہ زندگی کو جی رہا تھا۔۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری...

تازہ ترین خبریں

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

چیف جسٹس نے سری نگر میں تیسری قومی لوک عدالت کا افتتاح کردیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ضلع قانونی خدمات اتھارٹی (DLSA) سری...

دل و دماغ کا بوجھ کیسے اتار دیں؟

 

شیخ افلاق حسین سیمانی
سیموہ ترال پلوامہ

رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔
پورا محلہ گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔ کہیں دور کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آتی اور پھر خاموشی پہلے سے زیادہ گہری محسوس ہونے لگتی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور کھڑکی کے شیشے پر کبھی کبھار بارش کی چند بوندیں آ کر ٹھہر جاتیں۔
مگر سلمان کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔
وہ اپنے بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔
اس کا جسم تھکا ہوا تھا، مگر دماغ جاگ رہا تھا۔
ایک خیال ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔
"اگر کل بھی حالات ایسے ہی رہے تو؟”
"جو فیصلہ میں نے چند ماہ پہلے کیا تھا، کیا وہ غلط تھا؟”
"لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے؟”
"اگر میں ناکام ہو گیا تو؟”
"کاش میں نے اُس دن وہ بات نہ کہی ہوتی۔”
"کاش میں وقت کو واپس لا سکتا۔”
یہ خیالات اس کے ذہن میں ایسے گردش کر رہے تھے جیسے کسی بند کمرے میں ہوا کا طوفان آ گیا ہو۔
سلمان نے کروٹ بدلی۔
پھر دوسری طرف کروٹ لی۔
پھر اٹھ کر پانی پیا۔
موبائل دیکھا۔
وقت دیکھا۔
دو بج کر سترہ منٹ۔
اس نے موبائل دوبارہ رکھ دیا۔
"آخر میں اتنا کیوں سوچتا ہوں؟”
یہ سوال اس نے خود سے کئی مرتبہ پوچھا تھا، مگر کبھی جواب نہیں ملا۔
سلمان کی زندگی بظاہر بالکل معمول کے مطابق تھی۔ گھر تھا، کام تھا، اپنے لوگ تھے۔ وہ لوگوں سے ملتا تو مسکراتا، ان کے مسائل سنتا، ان کی مدد کرتا اور ہمیشہ یہی کہتا:
"اللہ کا شکر ہے، سب ٹھیک ہے۔”
مگر حقیقت یہ تھی کہ سب ٹھیک نہیں تھا۔
اس کے دل میں کئی ایسی باتیں جمع ہو چکی تھیں جنہیں وہ کسی کے سامنے بیان نہیں کر پاتا تھا۔
کچھ پچھتاوے تھے۔
کچھ ادھورے خواب تھے۔
کچھ لوگوں کی کہی ہوئی باتیں تھیں جو برسوں بعد بھی اس کے دل میں تیر کی طرح چبھتی تھیں۔
کچھ ایسے فیصلے تھے جن کے نتائج وہ آج تک بھگت رہا تھا۔
اور سب سے بڑھ کر مستقبل کا خوف تھا۔
وہ ہر آنے والے دن کو پہلے ہی جینا چاہتا تھا، اس لئے موجودہ لمحہ بھی اس سے چھن گیا تھا۔
صبح ہوئی تو سلمان حسبِ معمول اٹھا۔ چہرہ دھویا، ناشتہ کیا اور کام کے لئے نکل گیا۔
راستے میں اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی۔
بوڑھا سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی لکڑی کی دکان کے باہر بیٹھا تھا۔ سفید داڑھی، سادہ لباس اور چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
سلمان اسے روز دیکھتا تھا، مگر کبھی بات نہیں ہوئی تھی۔
آج جانے کیوں اس کے قدم رک گئے۔
بوڑھے نے سلمان کو دیکھا اور مسکرا کر کہا:
"بیٹا، آج بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔”
سلمان نے رسمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"بس معمول کی تھکن ہے۔”
بوڑھا ہلکا سا مسکرایا۔
"جسم کی تھکن تو آرام سے اتر جاتی ہے، دل کی تھکن کہاں جاتی ہے؟”
سلمان خاموش ہو گیا۔
یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے اس کے چہرے کے پیچھے چھپی تھکن کو پہچانا تھا۔
بوڑھے نے سامنے رکھی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
"بیٹھ جاؤ۔”
سلمان بیٹھ گیا۔
بوڑھے نے پوچھا:
"نام کیا ہے؟”
"سلمان۔”
"اور بوجھ؟”
سلمان نے چونک کر دیکھا۔
"کون سا بوجھ؟”
بوڑھا مسکرایا۔
"وہی جو تمہارے کندھوں پر نہیں، دل پر ہے۔”
سلمان کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر جیسے اس کے اندر بند دروازہ اچانک کھل گیا۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا:
"مجھے خود نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کوئی ایک بڑا مسئلہ بھی نہیں ہے، لیکن پھر بھی دل ہر وقت بھاری رہتا ہے۔ دماغ ہر وقت سوچتا رہتا ہے۔ کبھی ماضی پریشان کرتا ہے، کبھی مستقبل۔”
بوڑھے نے سامنے رکھا ایک گلاس اٹھایا۔
"اسے پکڑو۔”
سلمان نے گلاس پکڑ لیا۔
بوڑھے نے پوچھا:
"یہ کتنا بھاری ہے؟”
"زیادہ نہیں۔”
"اگر اسے ایک گھنٹہ پکڑے رکھو؟”
"ہاتھ تھک جائے گا۔”
"اور اگر پورا دن؟”
سلمان نے کہا:
"ہاتھ میں درد ہونے لگے گا۔”
بوڑھے نے گلاس واپس لے لیا۔
"بس یہی تمہارے دل و دماغ کے ساتھ ہو رہا ہے۔”
سلمان خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
بوڑھے نے کہا:
"پریشانی کا وزن ہمیشہ زیادہ نہیں ہوتا، مگر اسے مسلسل اٹھائے رکھنا انسان کو تھکا دیتا ہے۔”
سلمان کی آنکھیں جھک گئیں۔
بوڑھے نے کہا:
"تم ہر مسئلے کو اپنے ذہن میں اٹھائے پھرتے ہو۔ جو گزر گیا، اسے بھی ساتھ لئے پھرتے ہو۔ جو ابھی آیا نہیں، اس کا خوف بھی ساتھ لئے پھرتے ہو۔ پھر موجودہ لمحہ کہاں بچتا ہے؟”
سلمان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
بوڑھے نے کہا:
"آج شام میرے ساتھ چلنا۔ ایک جگہ دکھانی ہے۔”
شام کو سلمان دوبارہ وہاں پہنچ گیا۔
بوڑھا اسے شہر سے باہر ایک چھوٹی سی پہاڑی کی طرف لے گیا۔ دونوں خاموشی سے چلتے رہے۔
کچھ دیر بعد وہ ایک چشمے کے پاس پہنچے۔
پانی پتھروں کے درمیان سے گزرتا ہوا مسلسل آگے بڑھ رہا تھا۔
بوڑھے نے کہا:
"اس پانی کو غور سے دیکھو۔”
سلمان نے دیکھا۔
"کیا نظر آ رہا ہے؟”
"پانی بہہ رہا ہے۔”
"یہ کبھی واپس آتا ہے؟”
"نہیں۔”
"ماضی بھی ایسا ہی ہے۔”
سلمان نے بوڑھے کی طرف دیکھا۔
"جو گزر گیا، وہ واپس نہیں آتا۔ تم اپنی غلطی سے سبق لے سکتے ہو، مگر اسے دوبارہ جینے کی ضرورت نہیں۔”
سلمان نے آہستہ سے کہا:
"مگر ماضی کی کچھ باتیں بہت تکلیف دیتی ہیں۔”
بوڑھے نے جواب دیا:
"تکلیف اس لئے نہیں کہ وہ ماضی میں ہیں، بلکہ اس لئے کہ تم انہیں آج بھی اپنے اندر زندہ رکھے ہوئے ہو۔”
یہ جملہ سلمان کے دل میں اتر گیا۔
اسے اچانک کئی برس پہلے کا ایک واقعہ یاد آیا۔
اس نے ایک دوست سے غصے میں کچھ ایسا کہہ دیا تھا جس کا اسے آج تک افسوس تھا۔ دوست نے بعد میں اسے معاف بھی کر دیا تھا، مگر سلمان نے خود کو کبھی معاف نہیں کیا تھا۔
وہ ہر چند دن بعد وہی واقعہ یاد کرتا اور خود کو ملامت کرتا۔
بوڑھے نے کہا:
"اگر تم نے غلطی کی ہے تو اسے تسلیم کرو، جہاں ضروری ہو معافی مانگو، اصلاح کرو اور پھر آگے بڑھو۔”
"اور اگر دوسرا شخص معاف نہ کرے؟”
"تو اس کے اختیار کا احترام کرو۔ تم اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرو۔ ہر انسان کے دل کا فیصلہ تم نہیں کر سکتے۔”
وہ دونوں چشمے کے کنارے بیٹھ گئے۔
کچھ دیر بعد بوڑھے نے ایک خشک پتہ اٹھایا۔
"یہ دیکھو۔”
سلمان نے پتہ ہاتھ میں لے لیا۔
"یہ کبھی درخت کا حصہ تھا۔”
"جی۔”
"پھر درخت سے جدا ہو گیا۔ کیا درخت نے اسے ہمیشہ کے لئے پکڑ کر رکھا؟”
"نہیں۔”
"زندگی بھی یہی سکھاتی ہے۔ کچھ چیزیں ہمارے ساتھ رہنے کے لئے نہیں آتیں۔ کچھ لوگ، کچھ تعلقات، کچھ خواب، کچھ مواقع اور کچھ حالات وقت کے ساتھ ہم سے جدا ہو جاتے ہیں۔”
سلمان خاموشی سے پتہ دیکھتا رہا۔
بوڑھے نے کہا:
"دل کا بوجھ اتارنے کے لئے ہر چیز کو اپنے پاس رکھنا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی چھوڑ دینا بھی محبت ہوتی ہے۔”
واپسی کے راستے میں سلمان نے پوچھا:
"لیکن مستقبل کا کیا؟ میں مستقبل کے بارے میں بہت سوچتا ہوں۔”
بوڑھا ہنس دیا۔
"مستقبل کے بارے میں سوچنا اچھی بات ہے، مگر مستقبل میں رہنا اچھی بات نہیں۔”
"فرق؟”
"منصوبہ بناؤ، مگر خوف میں مت جیو۔ محنت کرو، مگر نتیجے کو اپنے سر پر سوار مت کرو۔ جو تمہارے اختیار میں ہے وہ کرو، جو اختیار میں نہیں اسے اللہ کے سپرد کرو۔”
سلمان نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید اس کی سب سے بڑی مشکل یہی تھی۔
وہ ان چیزوں کو بھی قابو کرنا چاہتا تھا جو اس کے اختیار میں نہیں تھیں۔
لوگ کیا سوچیں گے؟
کون اس کے ساتھ رہے گا؟
کون اسے چھوڑ دے گا؟
کل کیا ہوگا؟
کامیابی کب ملے گی؟
کون اسے سمجھے گا؟
وہ ہر سوال کا جواب آج ہی چاہتا تھا۔
اور اسی خواہش نے اس کے آج کا سکون چھین لیا تھا۔
اگلے دن سے سلمان نے ایک چھوٹی سی عادت شروع کی۔
ہر رات سونے سے پہلے وہ ایک کاغذ پر تین سوال لکھتا۔
آج مجھے کس بات نے پریشان کیا؟
اس میں سے کیا میرے اختیار میں ہے
اور جو میرے اختیار میں نہیں، کیا میں اسے چھوڑ سکتا ہوں؟
پہلے دن اس نے صرف دو سطریں لکھیں۔
دوسرے دن چار۔
تیسرے دن اس نے ایک لمبی فہرست بنائی۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے بہت سے دکھ ایسے تھے جن کا تعلق موجودہ زندگی سے کم اور اس کے خیالات سے زیادہ تھا۔
کچھ دن بعد اس نے ایک اور اصول اپنایا۔
وہ ہر بات کا جواب فوراً دینا چھوڑنے لگا۔
اگر کوئی ناراض ہوتا تو فوراً صفائی پیش نہیں کرتا۔
اگر کوئی تنقید کرتا تو ساری رات اس کے الفاظ نہیں دہراتا۔
اگر کوئی کام توقع کے مطابق نہ ہوتا تو خود کو ناکام انسان نہیں سمجھتا۔
اس نے سیکھا کہ ایک غلطی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں ہوتی۔
ایک ناکامی انسان کی پوری شناخت نہیں ہوتی۔
اور کسی کی رائے انسان کی اصل قدر کا پیمانہ نہیں ہوتی۔
ایک رات پھر وہ دیر تک جاگ رہا تھا۔
مگر اس رات کچھ مختلف تھا۔
اس کے ذہن میں خیالات اب بھی تھے، مگر ان کی آواز مدھم تھی۔
اس نے کھڑکی کھولی۔
باہر چاند بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔
سلمان نے گہری سانس لی۔
اسے بوڑھے کی بات یاد آئی:
"تمہیں ہر جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں۔”
اس نے آنکھیں بند کیں۔
پھر دل ہی دل میں کہا:
"جو میرے اختیار میں ہے، میں وہ پوری کوشش سے کروں گا۔
جو میرے اختیار میں نہیں، اسے چھوڑ دوں گا۔
جو گزر گیا، اسے سبق سمجھوں گا۔
جو آنے والا ہے، اسے وقت پر چھوڑ دوں گا۔
اور جو آج میرے پاس ہے، اسے ضائع نہیں کروں گا۔”
اس کی آنکھوں سے دو آنسو نکلے۔
مگر یہ آنسو غم کے نہیں تھے۔
یہ شاید کئی برسوں سے جمع بوجھ کے پگھلنے کے آنسو تھے۔
صبح جب سلمان اٹھا تو دنیا وہی تھی۔
مسائل وہی تھے۔
کام وہی تھا۔
لوگ وہی تھے۔
مستقبل اب بھی غیر یقینی تھا۔
مگر سلمان بدل چکا تھا۔
اسے سمجھ آ گئی تھی کہ سکون کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔
سکون کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ موجود ہو، مگر انسان اس کے اندر گم نہ ہو جائے۔
اس دن وہ دوبارہ بوڑھے کی دکان پر گیا۔
مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
کرسی خالی تھی۔
دکان بند تھی۔
سلمان نے آس پاس کے لوگوں سے پوچھا:
"بابا رحمت کہاں گئے؟”
ایک شخص نے حیرت سے پوچھا:
"کون بابا رحمت؟”
سلمان نے بتایا کہ وہ سفید داڑھی والے بزرگ، جو یہاں روز بیٹھتے تھے۔
وہ شخص کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا:
"بیٹا، اس دکان کے مالک کا انتقال تو کئی سال پہلے ہو چکا ہے۔ یہاں تو مدت سے کوئی نہیں بیٹھتا۔”
سلمان کے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔
اس نے دکان کی طرف دیکھا۔
کرسی اب بھی وہیں تھی۔
وہ کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔
پھر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
شاید وہ بزرگ حقیقت تھے۔
شاید خواب۔
شاید کسی دعا کا جواب۔
یا شاید سلمان کے اپنے اندر کا وہ حصہ، جو برسوں سے اسے یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ بوجھ اٹھائے رکھنا زندگی نہیں۔
وہ واپس گھر کی طرف چل پڑا۔
راستے میں نیم کے درخت سے ایک زرد پتہ ٹوٹ کر زمین پر گرا۔
سلمان رکا۔
اس نے پتے کو دیکھا اور مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔
اس دن اسے دل و دماغ کا بوجھ اتارنے کا راز سمجھ آ گیا تھا:
ہر مسئلہ حل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
کچھ باتوں کو معاف کرنا پڑتا ہے۔
کچھ لوگوں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔
کچھ ماضی کو دفن کرنا پڑتا ہے۔
کچھ مستقبل اللہ کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر—
انسان کو کبھی کبھی خود کو بھی معاف کرنا پڑتا ہے۔
کیونکہ دل کا بوجھ اس وقت نہیں اترتا جب دنیا بدل جاتی ہے۔
دل کا بوجھ اس وقت اترتا ہے جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ ہر چیز کو اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھنا ضروری نہیں۔
کچھ بوجھ راستے میں رکھ دینے ہوتے ہیں۔
کچھ آنسو بہا دینے ہوتے ہیں۔
کچھ باتیں کہہ دینی ہوتی ہیں۔
کچھ معاف کر دینی ہوتی ہیں۔
اور کچھ معاملے خاموشی سے اللہ کے سپرد کر دینے ہوتے ہیں۔
سلمان نے آسمان کی طرف دیکھا۔
بادل چھٹ رہے تھے۔
سورج کی پہلی کرن پہاڑ کے پیچھے سے نمودار ہو رہی تھی۔
اس نے گہری سانس لی۔
پھر دل میں کہا:
"آج میں اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کرتا ہوں۔”
اور اس بار وہ زندگی کو اٹھا نہیں رہا تھا۔
وہ زندگی کو جی رہا تھا۔۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں