جنگ نیوز
وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر سمیت ہمالیائی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور برفانی تودوں کے خطرات سے نمٹنے کے لئے نگرانی اور پیشگی انتباہی نظام مزید مضبوط بنانے کی ہدایت دی ہے۔
یہ ہدایات مرکزی داخلہ سیکریٹری گووند موہن کی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں دی گئیں، جس میں جموں و کشمیر سمیت اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، سکم اور اروناچل پردیش کے اعلیٰ حکام اور مرکزی آفات و سائنسی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں خطرناک گلیشیائی جھیلوں، برفانی تودوں کے ممکنہ علاقوں اور سیلابی راستوں کی نشاندہی سمیت نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا گیا۔
وزارت نے ہدایت دی کہ سائنسی اداروں سے موصول ہونے والی وارننگ ضلعی انتظامیہ اور عوام تک فوری پہنچائی جائے اور ضرورت پڑنے پر بروقت انخلا یقینی بنایا جائے۔
حکام سے موجودہ آفات سے نمٹنے اور انخلا کے منصوبوں میں خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ مرکز کی جانب سے 2024 میں منظور کیے گئے گلیشیائی سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں پر بھی تیزی سے عمل درآمد کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی اور پگھلتے گلیشیئرز کے باعث بڑھتے خطرات کے پیش نظر پیشگی خطرے کی نشاندہی، مؤثر نگرانی اور مقامی سطح پر تیاری مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔


