یقین رکھیں، استعفیٰ آئے گا/ روح اللہ

جنگ نیوز ڈیسک

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے پارٹی کے 2024 کے منشور میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کے وعدے سے اب صرف ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے تک محدود ہونے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نام ایک خط میں روح اللہ نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو اپنی سیاسی خواہشات اس حد تک محدود نہیں کرنی چاہئیں جتنی بھارتیہ جنتا پارٹی تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو۔ ان کے بقول، ’’جے کے این سی کا موجودہ مؤقف اب بی جے پی سے مختلف نہیں رہا۔‘‘
روح اللہ نے سوال کیا کہ اگر پارٹی کو یقین تھا کہ آرٹیکل 370 بحال نہیں ہوسکتا تو اسے 2024 کے منشور میں شامل کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی اگست 2019 میں چھینے گئے دیگر آئینی حقوق کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے زمین، قدرتی وسائل، ثقافت، مذہبی حقوق، زبان اور ماحول کے تحفظ کے لئے آئینی ضمانتوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کا کام عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے استعفے کے مطالبے پر روح اللہ نے کہا کہ انہیں نیشنل کانفرنس میں شامل ہونے کی دعوت خود پارٹی صدر نے دی تھی۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا، ’’استعفیٰ آئے گا، لیکن اس سے پہلے احتساب ہونا چاہیے۔‘‘

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

یقین رکھیں، استعفیٰ آئے گا/ روح اللہ

جنگ نیوز ڈیسک

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے پارٹی کے 2024 کے منشور میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کے وعدے سے اب صرف ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے تک محدود ہونے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نام ایک خط میں روح اللہ نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو اپنی سیاسی خواہشات اس حد تک محدود نہیں کرنی چاہئیں جتنی بھارتیہ جنتا پارٹی تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو۔ ان کے بقول، ’’جے کے این سی کا موجودہ مؤقف اب بی جے پی سے مختلف نہیں رہا۔‘‘
روح اللہ نے سوال کیا کہ اگر پارٹی کو یقین تھا کہ آرٹیکل 370 بحال نہیں ہوسکتا تو اسے 2024 کے منشور میں شامل کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی اگست 2019 میں چھینے گئے دیگر آئینی حقوق کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے زمین، قدرتی وسائل، ثقافت، مذہبی حقوق، زبان اور ماحول کے تحفظ کے لئے آئینی ضمانتوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کا کام عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے استعفے کے مطالبے پر روح اللہ نے کہا کہ انہیں نیشنل کانفرنس میں شامل ہونے کی دعوت خود پارٹی صدر نے دی تھی۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا، ’’استعفیٰ آئے گا، لیکن اس سے پہلے احتساب ہونا چاہیے۔‘‘

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں