جنگ نیوز
سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے چیف ترجمان انعام النبی نے آچن عیدگاہ کے اطراف رہنے والے لوگوں سے ملاقات کے دوران آچن لینڈفِل میں جاری کچرے کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انعام النبی نے کہا کہ نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے سامنے پیش رفت کے مطابق آچن میں اب بھی تقریباً 11 لاکھ میٹرک ٹن پرانا کچرا موجود ہے، جبکہ اب تک صرف 40 ہزار ٹن کے قریب کچرے کی بایومائننگ کی گئی ہے۔ پرانے کچرے کو صاف کرنے کی آخری تاریخ بھی مبینہ طور پر مارچ 2027 سے بڑھا کر مارچ 2028 کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محض ڈیڈ لائن میں توسیع سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ سری نگر میں روزانہ تقریباً 520 سے 550 ٹن میونسپل کچرا پیدا ہوتا ہے، جبکہ موجودہ پروسیسنگ صلاحیت صرف 150 ٹن یومیہ ہے۔
اے آئی پی ترجمان نے کہا کہ آچن اور عیدگاہ ہی نہیں بلکہ پورا شہرِ خاص برسوں سے اس بوجھ کا سامنا کر رہا ہے اور لوگوں کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے 361 کروڑ روپے کی لاگت سے 800 ٹی پی ڈی انٹیگریٹڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ کی مبینہ منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر شفاف، مقررہ مدت کے اندر اور سائنسی بنیادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
انعام النبی نے کچرے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ اور پروسیسنگ کو فوری طور پر مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ لیچیٹ، زیرِ زمین پانی اور قریبی آبی ذخائر کی آزادانہ نگرانی پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آچن کو سائنسی طریقے سے بحال کرکے بالآخر قابلِ استعمال بنایا جائے اور کچرے کا بوجھ محض کسی دوسرے علاقے میں منتقل نہ کیا جائے۔


