جنگ نیوز
سرینگر/ سرینگر میونسپل کارپوریشن (SMC) کی ایک جونیئر بلڈنگ انسپکٹر کی مبینہ رشوت خوری کے الزام میں گرفتاری کے بعد شہری ادارے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ SMC نے تمام وارڈ افسران کو اپنے اپنے علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات اور منظور شدہ نقشوں سے انحراف کی فوری نشاندہی اور جانچ کی ہدایت دی ہے۔
یہ پیش رفت جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (ACB) کی جانب سے غزالہ اختر، جونیئر بلڈنگ انسپکٹر، SMC کو مبینہ طور پر 10 ہزار روپے رشوت طلب کرنے اور وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
ACB کے مطابق، غزالہ اختر کے خلاف شکایت موصول ہوئی تھی کہ انہوں نے دو تعمیراتی ڈھانچوں کے سلسلے میں رشوت طلب کی، حالانکہ شکایت کنندہ پہلے ہی متعلقہ حکام سے ضروری تعمیراتی اجازت حاصل کر چکا تھا۔ شکایت کی تصدیق کے بعد ایف آئی آر نمبر 11/2026 انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 7 کے تحت درج کی گئی۔
ACB نے جال بچھا کر کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو مبینہ طور پر شکایت کنندہ سے 10 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ رقم آزاد گواہوں کی موجودگی میں برآمد کر لی گئی، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دریں اثنا، SMC نے شہر کے تمام وارڈ افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں موجود غیر قانونی تعمیرات اور تعمیراتی نقشوں سے انحراف کے معاملات کی تفصیلات فوری طور پر مرتب کریں اور ان کی باریک بینی سے جانچ کریں۔
اس تازہ ہدایت کے بعد SMC کے بلڈنگ انفورسمنٹ نظام اور شہر بھر میں تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی پر سوالات اور توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔ شہری ادارے کی اس کارروائی کو زمینی سطح پر تعمیراتی خلاف ورزیوں کا ازسرنو جائزہ لینے اور نگرانی کے نظام کو مزید سخت بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


