نیوز ڈیسک
سرینگر/وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج یہاں الوچی باغ میں 25.87 کروڑ روپے کے جدید مشینی قصاب خانے کا سنگِ بنیاد رکھا ، جو سرینگر شہر کے لئے ایک منظم ، صحت مند اور سائینسی طور پر منظم گوشت پروسیسنگ سہولت قائم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے ۔
سرینگر شہر میں جدید مشینی بھیڑ و بکری قصاب خانے کی تعمیر میں کیپیکس/ایس اے ایس سی آئی کے تحت ای پی سی موڈ پر ٹیسٹنگ اور کمیشننگ شامل ہے ۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جدید قصاب خانہ سرینگر کے گوشت پروسیسنگ انفراسٹرکچر کو عصری معیارات کے مطابق لانے کی طرف ایک اہم قدم ہو گا ۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، رُکن پارلیمنٹ ( راجیہ سبھا ) گوروندر سنگھ اوبرائے ، رُکن پارلیمنٹ لال چوک شیخ احسن احمد ، کمشنر سرینگر میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے ۔
مجوزہ ذبح خانہ کی پروسیسنگ صلاحیت تقریباً پانچ ہزار بھیڑوں اور بکریوں یومیہ ہو گی ، جو اسے ملک کے سب سے بڑے مختص میکانائزڈ بھیڑ اور بکری ذبح خانوں میں سے ایک بنائے گی ۔ اس سہولت میں جدید میکانائیزڈ نظام شامل ہوں گے جو ذبح کرنے ، لاشوں کی ہینڈلنگ ، پروسیسنگ ، چلنگ ، کولڈ سٹوریج ، صفائی ستھرائی ، ضمنی مصنوعات کے انتظام اور دیگر متعلقہ کارروائیوں کا احاطہ کریں گے ۔
کمشنر ایس ایم سی نے وزیر اعلیٰ کو بریف کیا کہ یہ منصوبہ گوشت کی صفائی اور خوراک کی حفاظت کو نمایاں طور پر بہتر بنانے ، کام کے محفوظ حالات کو یقینی بنانے ، ویٹر نری اور کوالٹی کنٹرول میکانزم کو مضبوط کرنے اور سرینگر شہر کیلئے ایک باقاعدہ ، موثر اور سائنسی طور پر منظم ذبح کا نظام قائم کرنے کیلئے ہے ۔
اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت ماحولیاتی تحفظات اور سائنسی فضلہ انتظام پر اس کا زور ہے ۔ یہ سہولت بائیو ڈائجسٹن سسٹم اور ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ ( ای ٹی پی ) کو شامل کرے گی تا کہ آپریشنز کے دوران پیدا ہونے والے نامیاتی فضلے اور گندے پانی کا سائنسی طور پر علاج کیا جا سکے ۔ یہ نظام نامیاتی آلودگی کے بوجھ کو کم کرنے ، بدبو کو کنٹرول کرنے ، وسائل کی بازیافت میں مدد دینے اور پانی کو مناسب غیر پینے کے مقاصد کیلئے دوبارہ استعمال کرنے کے قابل بنائیں گے ۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سرینگر کیلئے ایک جدید ترین مشینی قصاب خانہ اور ایک اہم شہری بنیادی ڈھانچے کا اقدام تصور کیا گیا ہے ، جو شہر کے گوشت پروسیسنگ شعبے میں صفائی ، غذائی تحفظ ، جانوروں کے ساتھ سلوک ، فضلہ کے انتظام اور ماحولیاتی تحفظ کے جدید معیارات لائے گا ۔


