ماں کا دودھ: قومی غذائی تحفظ اور صحت مند مستقبل کی ضمانت

 

ڈاکٹر اسوتھی وجے کمار
محترمہ نہا گہی

ہر سال عالمی ہفتۂ رضاعت ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ ہر بچے کو زندگی کی بہترین ممکنہ شروعات دینے کے لئے سب سے سادہ اور طاقت ور ذریعہ ماں کا دودھ ہے۔ یہ ہفتہ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ پیدائش کے پہلے ہی گھنٹے میں بچے کو ماں کا دودھ پلانا شروع کیا جائے، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دیا جائے، اور دو سال یا اس سے زیادہ عمر تک مناسب اضافی غذا کے ساتھ دودھ پلانا جاری رکھا جائے۔ اس سال کا موضوع ’’زندگی کی پائیدار شروعات کے لئے رضاعت: جو مؤثر ہے اسے مضبوط بنائیں‘‘ اس ضرورت پر زور دیتا ہے کہ ماں کا دودھ پلانے کے عمل کو فروغ دیا جائے، اس کی حفاظت کی جائے اور اس کی بھرپور حمایت کی جائے، کیونکہ یہ بچوں کی بقا، ماؤں کی صحت اور پائیدار ترقی کی بنیادی اساس ہے۔

ماں کے دودھ کو اکثر فطرت کی پہلی ویکسین کہا جاتا ہے، مگر اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بچے کو مثالی غذائیت فراہم کرتا ہے، متعدی بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے، ذہنی و دماغی نشوونما میں مدد دیتا ہے، مستقبل میں موٹاپے اور غیر متعدی امراض کے خطرات کو کم کرتا ہے، اور ماؤں کی صحت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ اس سے چھاتی اور بیضہ دانی کے سرطان اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس-6) کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں رضاعت سے متعلق کئی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر بچے کو ماں کا دودھ پلانے کی شرح8.41فیصد سے بڑھ کر 1.50 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ پیدائش کا پہلا گھنٹہ ماں اور بچے کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنے، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے کی بنیاد رکھنے، اور نوزائیدہ بچے کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے کے لئے نہایت اہم ہوتا ہے۔

رضاعت کو اکثر صرف ماں کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ماؤں کو مناسب تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے فوراً بعد تربیت یافتہ ماہرین کی رہنمائی اور مشاورت ملنی چاہیے تاکہ ان کا اعتماد بڑھے اور رضاعت سے متعلق عام مشکلات کا مؤثر حل نکل سکے۔ جب مسائل پیش آئیں تو تربیت یافتہ طبی عملے اور رضاعت سے متعلق معاونت تک رسائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ خاندان کا کردار بھی نہایت اہم ہے؛ وہ ماؤں کی حوصلہ افزائی کریں، گھریلو ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹائیں اور ایسا سازگار ماحول فراہم کریں جس میں ماں اطمینان سے بچے کو دودھ پلا سکے۔
ملازمت پیشہ ماؤں کے لئے بھی معاون ادارہ جاتی پالیسیاں ناگزیر ہیں، جن میں تنخواہ سمیت زچگی کی رخصت، کام کے اوقات میں لچک، دودھ پلانے کے لئے مناسب وقفے، اور ماں کا دودھ نکالنے اور محفوظ رکھنے کے لئے محفوظ اور نجی جگہوں کی فراہمی شامل ہے۔ جب خاندان، برادری، صحت کا نظام، آجر اور حکومتیں مل کر کام کرتے ہیں تو مائیں کامیابی سے اپنے بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں، اور یوں ہر بچے کو صحت مند زندگی کی بہترین ممکنہ شروعات میسر آتی ہے۔
این ایف ایچ ایس-4 اور این ایف ایچ ایس-5 کے اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ جن ماؤں نے حمل کے دوران قبل از ولادت طبی معائنے (اینٹینٹل کیئر) کے زیادہ دورے کیے، اور جنہوں نے سرکاری صحت مراکز میں بچوں کو جنم دیا، ان میں اپنے بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلانے کا امکان زیادہ تھا۔ اس کے برعکس، بیس سال سے کم عمر ماؤں، کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں، اور ان صورتوں میں جہاں پیدائش کے ایک گھنٹے سے زیادہ دیر بعد دودھ پلانا شروع کیا گیا، صرف ماں کا دودھ پلانے کی شرح کم دیکھی گئی۔ یہ نتائج واضح کرتے ہیں کہ صحت کے نظام کی جانب سے معیاری رہنمائی، مشاورت اور معاونت ماؤں کو کامیابی کے ساتھ رضاعت جاری رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
چونکہ اس سال کا موضوع “جو مؤثر ہے اسے مضبوط بنائیں” ہے، اس لئے ضروری ہے کہ پہلے سے جاری مؤثر اقدامات کو مزید مستحکم کیا جائے۔ وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی کے تحت چلائی جانے والی پوشن ابھیان ناکافی اور غیر مناسب شیر خوار و کم سن بچوں کی غذائی عادات سے نمٹنے کے لئے رویّوں میں مثبت تبدیلی کے ابلاغ (بی سی سی) کو ایک بنیادی حکمتِ عملی قرار دیتی ہے۔ ہر سال منائے جانے والے پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑا کی مہمات کے ذریعے رضاعت اور شیر خوار و کم سن بچوں کی غذائیت کو قومی توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ ان مہمات نے عوامی بیداری میں اضافہ کیا، مشاورتی خدمات کو مضبوط کیا، اور صفِ اوّل کے کارکنوں کی شمولیت کو مؤثر بنایا۔ تاہم، ان کوششوں کو برادری کی سطح پر موجود پلیٹ فارموں کے ساتھ زیادہ مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اندازوں کے مطابق ناکافی رضاعت ہر سال اسہال اور شدید سانس کی بیماریوں کے باعث 73,417 بچوں کی اموات کا سبب بنتی ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں ملک پر سالانہ تقریباً6.16 ارب امریکی ڈالر کا معاشی بوجھ پڑتا ہے۔ 2030 تک صرف ماں کا دودھ پلانے کی شرح 70 فیصد تک پہنچانے کے عالمی ادارۂ صحت کی عالمی صحت اسمبلی کے ہدف سے ابھی کافی دور ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لئے ایسی پالیسیوں اور عملی پروگراموں کی ضرورت ہے جو ماؤں کو درپیش رکاوٹوں کو دور کریں اور ابتدائی، مکمل اور مسلسل رضاعت کے تجویز کردہ طریقوں پر عمل کے لئے انہیں مناسب سہارا فراہم کریں۔
گلوبل بریسٹ فیڈنگ کلیکٹو نے متعدد پالیسی اقدامات کی سفارش کی ہے، جن میں پیدائش کے فوراً بعد، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے، اور بعد ازاں رضاعت جاری رکھنے کی شرح میں اضافے کے لئے مالی وسائل میں اضافہ؛ انفنٹ ملک سبسٹی ٹیوٹس (آئی ایم ایس) قانون پر سختی سے عمل درآمد، خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے مزید سخت سزائیں، اور مختلف شعبوں میں اس قانون کے نفاذ کو وسعت دینا؛ تمام کارکنوں کے لئے تنخواہ سمیت رخصت اور کام کی جگہ پر رضاعت کے لئے سازگار سہولتیں؛ زچگی کی تمام صحت گاہوں میں کامیاب رضاعت کے دس اصول نافذ کرنا؛ تربیت یافتہ رضاعتی مشاورت تک رسائی بڑھانا اور صحت مراکز اور برادریوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا؛ اور رضاعت کے اہداف کی پیش رفت کا مؤثر جائزہ لینے کے لئے نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم کرنا شامل ہے۔

اس سال کا موضوع ’’جو مؤثر ہے اسے مضبوط بنائیں‘‘ درحقیقت ہندوستان میں جاری کئی اقدامات میں پہلے ہی جھلکتا ہے۔ وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی رضاعت سے متعلق پیغامات کو وسیع پیمانے پر عام کرنے کے لئے رویّوں میں تبدیلی کے ابلاغ (بی سی سی) اور اطلاعات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) کی مہمات مسلسل چلا رہی ہے، جبکہ مصنوعی دودھ کی جارحانہ تشہیر پر قابو پانے کے لئے آئی ایم ایس قانون کے مؤثر نفاذ کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔ زمینی سطح پر پوشن ٹریکر جیسی ڈیجیٹل سہولتیں نہ صرف آنگن واڑی خدمات کی مؤثر نگرانی ممکن بناتی ہیں بلکہ گھروں میں مؤثر باہمی مشاورت کے لئے عملی آلات بھی فراہم کرتی ہیں، جن کے ذریعے بچے کی پیدائش سے ہی رضاعت سے متعلق اشاریوں کا اندراج اور نگرانی کی جاتی ہے۔ حال ہی میں شروع کیا گیا ہوم وزٹ شیڈیولر، جو صحت کے کارکنوں کے ساتھ مشترکہ گھریلو دوروں کو مربوط کرتا ہے، اور مستفیدین کا ماڈیول، جس کے ذریعے مستفید افراد مربوط معلوماتی ویڈیوز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اسی نوعیت کے اقدامات کی مثالیں ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل سرینگر میں واٹر اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرے گی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل سرینگر میں...

سرینگر میں آج سیاسی طاقت آزمائی

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز سرینگر/سرینگر بدھ کو ایک بڑی سیاسی...

جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد...

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل سرینگر میں واٹر اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرے گی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل سرینگر میں...

سرینگر میں آج سیاسی طاقت آزمائی

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز سرینگر/سرینگر بدھ کو ایک بڑی سیاسی...

جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد...

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

ماں کا دودھ: قومی غذائی تحفظ اور صحت مند مستقبل کی ضمانت

 

ڈاکٹر اسوتھی وجے کمار
محترمہ نہا گہی

ہر سال عالمی ہفتۂ رضاعت ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ ہر بچے کو زندگی کی بہترین ممکنہ شروعات دینے کے لئے سب سے سادہ اور طاقت ور ذریعہ ماں کا دودھ ہے۔ یہ ہفتہ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ پیدائش کے پہلے ہی گھنٹے میں بچے کو ماں کا دودھ پلانا شروع کیا جائے، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دیا جائے، اور دو سال یا اس سے زیادہ عمر تک مناسب اضافی غذا کے ساتھ دودھ پلانا جاری رکھا جائے۔ اس سال کا موضوع ’’زندگی کی پائیدار شروعات کے لئے رضاعت: جو مؤثر ہے اسے مضبوط بنائیں‘‘ اس ضرورت پر زور دیتا ہے کہ ماں کا دودھ پلانے کے عمل کو فروغ دیا جائے، اس کی حفاظت کی جائے اور اس کی بھرپور حمایت کی جائے، کیونکہ یہ بچوں کی بقا، ماؤں کی صحت اور پائیدار ترقی کی بنیادی اساس ہے۔

ماں کے دودھ کو اکثر فطرت کی پہلی ویکسین کہا جاتا ہے، مگر اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بچے کو مثالی غذائیت فراہم کرتا ہے، متعدی بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے، ذہنی و دماغی نشوونما میں مدد دیتا ہے، مستقبل میں موٹاپے اور غیر متعدی امراض کے خطرات کو کم کرتا ہے، اور ماؤں کی صحت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ اس سے چھاتی اور بیضہ دانی کے سرطان اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس-6) کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں رضاعت سے متعلق کئی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر بچے کو ماں کا دودھ پلانے کی شرح8.41فیصد سے بڑھ کر 1.50 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ پیدائش کا پہلا گھنٹہ ماں اور بچے کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنے، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے کی بنیاد رکھنے، اور نوزائیدہ بچے کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے کے لئے نہایت اہم ہوتا ہے۔

رضاعت کو اکثر صرف ماں کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ماؤں کو مناسب تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے فوراً بعد تربیت یافتہ ماہرین کی رہنمائی اور مشاورت ملنی چاہیے تاکہ ان کا اعتماد بڑھے اور رضاعت سے متعلق عام مشکلات کا مؤثر حل نکل سکے۔ جب مسائل پیش آئیں تو تربیت یافتہ طبی عملے اور رضاعت سے متعلق معاونت تک رسائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ خاندان کا کردار بھی نہایت اہم ہے؛ وہ ماؤں کی حوصلہ افزائی کریں، گھریلو ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹائیں اور ایسا سازگار ماحول فراہم کریں جس میں ماں اطمینان سے بچے کو دودھ پلا سکے۔
ملازمت پیشہ ماؤں کے لئے بھی معاون ادارہ جاتی پالیسیاں ناگزیر ہیں، جن میں تنخواہ سمیت زچگی کی رخصت، کام کے اوقات میں لچک، دودھ پلانے کے لئے مناسب وقفے، اور ماں کا دودھ نکالنے اور محفوظ رکھنے کے لئے محفوظ اور نجی جگہوں کی فراہمی شامل ہے۔ جب خاندان، برادری، صحت کا نظام، آجر اور حکومتیں مل کر کام کرتے ہیں تو مائیں کامیابی سے اپنے بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں، اور یوں ہر بچے کو صحت مند زندگی کی بہترین ممکنہ شروعات میسر آتی ہے۔
این ایف ایچ ایس-4 اور این ایف ایچ ایس-5 کے اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ جن ماؤں نے حمل کے دوران قبل از ولادت طبی معائنے (اینٹینٹل کیئر) کے زیادہ دورے کیے، اور جنہوں نے سرکاری صحت مراکز میں بچوں کو جنم دیا، ان میں اپنے بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلانے کا امکان زیادہ تھا۔ اس کے برعکس، بیس سال سے کم عمر ماؤں، کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں، اور ان صورتوں میں جہاں پیدائش کے ایک گھنٹے سے زیادہ دیر بعد دودھ پلانا شروع کیا گیا، صرف ماں کا دودھ پلانے کی شرح کم دیکھی گئی۔ یہ نتائج واضح کرتے ہیں کہ صحت کے نظام کی جانب سے معیاری رہنمائی، مشاورت اور معاونت ماؤں کو کامیابی کے ساتھ رضاعت جاری رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
چونکہ اس سال کا موضوع “جو مؤثر ہے اسے مضبوط بنائیں” ہے، اس لئے ضروری ہے کہ پہلے سے جاری مؤثر اقدامات کو مزید مستحکم کیا جائے۔ وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی کے تحت چلائی جانے والی پوشن ابھیان ناکافی اور غیر مناسب شیر خوار و کم سن بچوں کی غذائی عادات سے نمٹنے کے لئے رویّوں میں مثبت تبدیلی کے ابلاغ (بی سی سی) کو ایک بنیادی حکمتِ عملی قرار دیتی ہے۔ ہر سال منائے جانے والے پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑا کی مہمات کے ذریعے رضاعت اور شیر خوار و کم سن بچوں کی غذائیت کو قومی توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ ان مہمات نے عوامی بیداری میں اضافہ کیا، مشاورتی خدمات کو مضبوط کیا، اور صفِ اوّل کے کارکنوں کی شمولیت کو مؤثر بنایا۔ تاہم، ان کوششوں کو برادری کی سطح پر موجود پلیٹ فارموں کے ساتھ زیادہ مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اندازوں کے مطابق ناکافی رضاعت ہر سال اسہال اور شدید سانس کی بیماریوں کے باعث 73,417 بچوں کی اموات کا سبب بنتی ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں ملک پر سالانہ تقریباً6.16 ارب امریکی ڈالر کا معاشی بوجھ پڑتا ہے۔ 2030 تک صرف ماں کا دودھ پلانے کی شرح 70 فیصد تک پہنچانے کے عالمی ادارۂ صحت کی عالمی صحت اسمبلی کے ہدف سے ابھی کافی دور ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لئے ایسی پالیسیوں اور عملی پروگراموں کی ضرورت ہے جو ماؤں کو درپیش رکاوٹوں کو دور کریں اور ابتدائی، مکمل اور مسلسل رضاعت کے تجویز کردہ طریقوں پر عمل کے لئے انہیں مناسب سہارا فراہم کریں۔
گلوبل بریسٹ فیڈنگ کلیکٹو نے متعدد پالیسی اقدامات کی سفارش کی ہے، جن میں پیدائش کے فوراً بعد، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے، اور بعد ازاں رضاعت جاری رکھنے کی شرح میں اضافے کے لئے مالی وسائل میں اضافہ؛ انفنٹ ملک سبسٹی ٹیوٹس (آئی ایم ایس) قانون پر سختی سے عمل درآمد، خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے مزید سخت سزائیں، اور مختلف شعبوں میں اس قانون کے نفاذ کو وسعت دینا؛ تمام کارکنوں کے لئے تنخواہ سمیت رخصت اور کام کی جگہ پر رضاعت کے لئے سازگار سہولتیں؛ زچگی کی تمام صحت گاہوں میں کامیاب رضاعت کے دس اصول نافذ کرنا؛ تربیت یافتہ رضاعتی مشاورت تک رسائی بڑھانا اور صحت مراکز اور برادریوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا؛ اور رضاعت کے اہداف کی پیش رفت کا مؤثر جائزہ لینے کے لئے نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم کرنا شامل ہے۔

اس سال کا موضوع ’’جو مؤثر ہے اسے مضبوط بنائیں‘‘ درحقیقت ہندوستان میں جاری کئی اقدامات میں پہلے ہی جھلکتا ہے۔ وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی رضاعت سے متعلق پیغامات کو وسیع پیمانے پر عام کرنے کے لئے رویّوں میں تبدیلی کے ابلاغ (بی سی سی) اور اطلاعات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) کی مہمات مسلسل چلا رہی ہے، جبکہ مصنوعی دودھ کی جارحانہ تشہیر پر قابو پانے کے لئے آئی ایم ایس قانون کے مؤثر نفاذ کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔ زمینی سطح پر پوشن ٹریکر جیسی ڈیجیٹل سہولتیں نہ صرف آنگن واڑی خدمات کی مؤثر نگرانی ممکن بناتی ہیں بلکہ گھروں میں مؤثر باہمی مشاورت کے لئے عملی آلات بھی فراہم کرتی ہیں، جن کے ذریعے بچے کی پیدائش سے ہی رضاعت سے متعلق اشاریوں کا اندراج اور نگرانی کی جاتی ہے۔ حال ہی میں شروع کیا گیا ہوم وزٹ شیڈیولر، جو صحت کے کارکنوں کے ساتھ مشترکہ گھریلو دوروں کو مربوط کرتا ہے، اور مستفیدین کا ماڈیول، جس کے ذریعے مستفید افراد مربوط معلوماتی ویڈیوز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اسی نوعیت کے اقدامات کی مثالیں ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں