
مومن فیاض احمد غلام مصطفیٰ
سپروائزر، تعلیمی و کیریئر کاؤنسلر، انچارج شعبۂ اشاعت، صمدیہ ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی
انسان کی زندگی میں بہت سے اساتذہ، رہنما اور مشیر آتے ہیں، مگر ایک شخصیت ایسی ہے جس کی ہر بات محبت، ایثار، تجربے اور بے لوث خیرخواہی کا حسین امتزاج ہوتی ہے۔ یہ شخصیت باپ کی ہے، جو اولاد کے لئے محض کفیل نہیں بلکہ اس کا اولین مربی، محافظ، راہنما اور کردار ساز بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات قربان کرکے اولاد کے خوابوں کو تعبیر دیتا ہے، اپنی راحتوں کو پسِ پشت ڈال کر ان کے مستقبل کو روشن بناتا ہے، اور اپنی زندگی کے نشیب و فراز سے حاصل ہونے والے تجربات کو نصیحت کی صورت میں ان تک منتقل کرتا ہے۔
بدقسمتی سے جدید دور میں ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی تو آسان بنا دی ہے، لیکن حکمت اور تجربے کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے نوجوان اکثر انٹرنیٹ کی آراء کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ اپنے والدین، خصوصاً والد، کی مخلصانہ نصیحتوں کو فرسودہ سوچ قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی نوجوان اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے والد کی رہنمائی پر عمل کرتے تو زندگی کے بہت سے مسائل اور پچھتاووں سے محفوظ رہ سکتے تھے۔
اسلام نے والدین کے مقام کو غیر معمولی عظمت عطا کی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔”
(سورۃ الإسراء: 23)
اسی طرح سورۂ لقمان میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی، آخرکار میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔”
(سورۃ لقمان: 14)
یہ آیات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ والدین کی خدمت اور ان کا احترام صرف سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی فریضہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا عظیم ذریعہ ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں بھی والد کے مقام کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"والد کی رضا میں اللہ کی رضا ہے اور والد کی ناراضی میں اللہ کی ناراضی ہے۔”
(جامع ترمذی)
ایک اور معروف حدیث میں جب ایک صحابیؓ نے دریافت کیا کہ حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے، تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ "ماں” کا ذکر فرمایا اور چوتھی مرتبہ "باپ” کا نام لیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ ماں کا مقام بے مثال ہے، لیکن باپ کے حقوق اور اس کی عظمت بھی اسلامی تعلیمات میں نہایت بلند ہے۔
والد کی نصیحت کی اصل اہمیت اس کے اخلاص میں پوشیدہ ہے۔ ایک باپ کبھی اپنی اولاد کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد حلال روزی کمائے، سچائی اور دیانت داری کو اپنا شعار بنائے، اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرے، تعلیم و کردار میں ممتاز ہو، خاندان کا سہارا بنے اور دین و دنیا دونوں میں کامیابی حاصل کرے۔ اس کی ہر نصیحت محبت، ذمہ داری اور تجربے کی آئینہ دار ہوتی ہے۔
قرآنِ مجید میں حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتیں والدین کی تربیت کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو شرک سے بچنے، نماز قائم کرنے، نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے، مصیبت پر صبر کرنے، تکبر سے اجتناب کرنے، نرم گفتگو اختیار کرنے اور میانہ روی کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ یہ اصول آج بھی ہر دور کے والدین اور نوجوانوں کے لئے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
صحابۂ کرامؓ اور اسلافِ امت نے بھی اولاد کی تربیت کو سب سے بڑی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے تھے کہ اولاد کو ادب سکھاؤ، اس سے پہلے کہ زمانہ انہیں بے ادب بنا دے۔ حضرت علیؓ نے نہایت بصیرت افروز انداز میں فرمایا کہ اپنی اولاد کو اس زمانے کے مطابق تعلیم دو جس میں وہ زندگی گزارنے والی ہے، کیونکہ وہ تمہارے زمانے کے لئے نہیں بلکہ اپنے دور کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بہترین میراث کو اچھا ادب قرار دیا، جبکہ امام غزالیؒ نے بچوں کے دلوں کو ایسی زرخیز زمین سے تشبیہ دی جس میں جو بیج بویا جائے، وہی پھلتا پھولتا ہے۔
آج کی تیز رفتار اور مسابقتی دنیا میں نوجوانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ والدین کی نصیحتوں کو محض روایتی باتیں نہ سمجھیں بلکہ انہیں عملی زندگی کا سرمایہ بنائیں۔ حلال کمائی، نماز کی پابندی، وعدے کی پاسداری، سچائی، غصے میں فیصلوں سے اجتناب، قرض سے احتیاط، اچھے کردار اور صالح صحبت جیسے اصول نہ صرف فرد کی شخصیت کو نکھارتے ہیں بلکہ معاشرے میں اعتماد، استحکام اور خوش حالی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
والدین، خصوصاً والد، کی دعائیں انسان کی زندگی کا وہ سرمایہ ہیں جن کی کوئی مادی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بے شمار افراد نے محدود وسائل کے باوجود والدین کی دعاؤں کی برکت سے وہ مقام حاصل کیا جہاں صرف دولت اور سفارش بھی انہیں نہ پہنچا سکتی تھیں۔ اس کے برعکس جو اولاد والدین کی دل آزاری کرتی ہے، وہ اکثر اندرونی بے سکونی اور محرومی کا شکار رہتی ہے۔
زندگی کا ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ اکثر انسان کو باپ کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب اس کا سایہ سر سے اٹھ چکا ہوتا ہے۔ بڑھاپے میں ایک باپ کو اولاد سے نہ دولت درکار ہوتی ہے اور نہ آسائشیں؛ اسے صرف عزت، محبت، وقت اور خلوص چاہیے۔ چند لمحے اس کے ساتھ بیٹھ جانا، اس کی بات توجہ سے سن لینا اور اس کی دعائیں حاصل کرنا وہ سرمایہ ہے جس کا نعم البدل دنیا کی کوئی دولت نہیں۔
آج جب معاشرہ خاندانی رشتوں کی کمزوری، اخلاقی زوال اور مادیت پرستی جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں والدین کی عزت، ان کی خدمت اور ان کی نصیحتوں پر عمل ہی مضبوط خاندان، باکردار نسل اور پُرامن معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جس گھر میں باپ کی عزت باقی رہتی ہے، وہاں محبت، سکون، برکت اور کامیابی کے چراغ ہمیشہ روشن رہتے ہیں، اور جس اولاد نے اپنے والد کی نصیحتوں کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنا لیا، اس کے لئے دنیا کی راہیں بھی آسان ہو جاتی ہیں اور آخرت کی کامیابی بھی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی قدر کرنے، ان کی خدمت بجا لانے، ان کی دعائیں حاصل کرنے اور ان کی نصیحتوں کو اپنی زندگی کا مستقل دستور بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


