عالمی یوم تحفظ فطرت: ہماری بقا، ہماری ذمہ داری

 

مہناز
سرینگر کشمیر

28 جولائی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ تحفظِ فطرت (World Nature Conservation Day) اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ قدرتی وسائل، جنگلات، دریاؤں، پہاڑوں، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ بنا کر آئندہ نسلوں کے لئے ایک صحت مند اور متوازن ماحول چھوڑا جائے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر فطرت محفوظ رہے گی تو انسان بھی محفوظ رہے گا، لیکن اگر قدرتی نظام تباہ ہو گیا تو ترقی، خوشحالی اور انسانی بقا سب خطرے میں پڑ جائیں گے۔
آج دنیا موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ، فضائی و آبی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور حیاتیاتی تنوع میں مسلسل کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر قدرتی وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال جاری رہا تو آنے والے برسوں میں خوراک، پانی اور صاف ہوا کی قلت مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس لئے فطرت کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی، سماجی اور انسانی بقا کا بھی سوال ہے۔

قدرت نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ درخت ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں، دریا زندگی کی روانی برقرار رکھتے ہیں، جنگلات بارشوں کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں، پہاڑ آبی ذخائر کی حفاظت کرتے ہیں اور جنگلی حیات ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جب ان وسائل کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست انسانی زندگی، صحت، زراعت اور معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔
کشمیر، جسے دنیا بھر میں اپنی دلکش وادیوں، برف پوش پہاڑوں، جھیلوں، چشموں، جنگلات اور سرسبز میدانوں کی وجہ سے جنتِ ارضی کہا جاتا ہے، آج ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی، آبی ذخائر کی آلودگی، پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال، بے ہنگم تعمیرات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے وادی کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو متاثر کیا ہے۔ ڈل جھیل، ولر جھیل اور دیگر آبی ذخائر کو صاف اور محفوظ رکھنا، جنگلات کی حفاظت کرنا اور مقامی حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

قدرت کے تحفظ میں حکومتوں کے ساتھ ساتھ ہر فرد کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر ہر شہری سال میں کم از کم ایک درخت لگائے، پانی اور بجلی کا ضیاع روکے، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائے، کوڑا کرکٹ مناسب جگہ پر تلف کرے، جنگلات اور آبی ذخائر کو آلودہ ہونے سے بچائے اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائے تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ اسکولوں، کالجوں، مذہبی اداروں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کو بھی ماحولیات کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

عالمی یومِ تحفظِ فطرت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زمین ہمارے آباؤ اجداد کی وراثت نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کی امانت ہے۔ اگر ہم آج قدرت کی حفاظت کریں گے تو آنے والی نسلیں صاف فضا، شفاف پانی، سرسبز جنگلات اور صحت مند ماحول سے لطف اندوز ہوں گی۔ لیکن اگر ہم نے غفلت کا مظاہرہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

آئیے، اس عالمی دن کے موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزاریں گے، قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال کریں گے، درختوں کی حفاظت کریں گے، ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک سرسبز، محفوظ اور خوشحال زمین تحفے میں دینے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ فطرت کا تحفظ ہی انسانیت کی بقا، ترقی اور خوشحالی کی اصل ضمانت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

عالمی یوم تحفظ فطرت: ہماری بقا، ہماری ذمہ داری

 

مہناز
سرینگر کشمیر

28 جولائی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ تحفظِ فطرت (World Nature Conservation Day) اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ قدرتی وسائل، جنگلات، دریاؤں، پہاڑوں، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ بنا کر آئندہ نسلوں کے لئے ایک صحت مند اور متوازن ماحول چھوڑا جائے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر فطرت محفوظ رہے گی تو انسان بھی محفوظ رہے گا، لیکن اگر قدرتی نظام تباہ ہو گیا تو ترقی، خوشحالی اور انسانی بقا سب خطرے میں پڑ جائیں گے۔
آج دنیا موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ، فضائی و آبی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور حیاتیاتی تنوع میں مسلسل کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر قدرتی وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال جاری رہا تو آنے والے برسوں میں خوراک، پانی اور صاف ہوا کی قلت مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس لئے فطرت کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی، سماجی اور انسانی بقا کا بھی سوال ہے۔

قدرت نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ درخت ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں، دریا زندگی کی روانی برقرار رکھتے ہیں، جنگلات بارشوں کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں، پہاڑ آبی ذخائر کی حفاظت کرتے ہیں اور جنگلی حیات ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جب ان وسائل کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست انسانی زندگی، صحت، زراعت اور معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔
کشمیر، جسے دنیا بھر میں اپنی دلکش وادیوں، برف پوش پہاڑوں، جھیلوں، چشموں، جنگلات اور سرسبز میدانوں کی وجہ سے جنتِ ارضی کہا جاتا ہے، آج ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی، آبی ذخائر کی آلودگی، پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال، بے ہنگم تعمیرات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے وادی کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو متاثر کیا ہے۔ ڈل جھیل، ولر جھیل اور دیگر آبی ذخائر کو صاف اور محفوظ رکھنا، جنگلات کی حفاظت کرنا اور مقامی حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

قدرت کے تحفظ میں حکومتوں کے ساتھ ساتھ ہر فرد کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر ہر شہری سال میں کم از کم ایک درخت لگائے، پانی اور بجلی کا ضیاع روکے، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائے، کوڑا کرکٹ مناسب جگہ پر تلف کرے، جنگلات اور آبی ذخائر کو آلودہ ہونے سے بچائے اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائے تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ اسکولوں، کالجوں، مذہبی اداروں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کو بھی ماحولیات کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

عالمی یومِ تحفظِ فطرت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زمین ہمارے آباؤ اجداد کی وراثت نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کی امانت ہے۔ اگر ہم آج قدرت کی حفاظت کریں گے تو آنے والی نسلیں صاف فضا، شفاف پانی، سرسبز جنگلات اور صحت مند ماحول سے لطف اندوز ہوں گی۔ لیکن اگر ہم نے غفلت کا مظاہرہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

آئیے، اس عالمی دن کے موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزاریں گے، قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال کریں گے، درختوں کی حفاظت کریں گے، ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک سرسبز، محفوظ اور خوشحال زمین تحفے میں دینے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ فطرت کا تحفظ ہی انسانیت کی بقا، ترقی اور خوشحالی کی اصل ضمانت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں