جنگ نیوزڈیسک
سرینگر/ جموں و کشمیر حکومت نے اسکولوں، کالجوں، جامعات اور عوامی کتب خانوں میں موجود کتابوں اور دیگر تعلیمی مواد کی جانچ، منظوری اور وقتاً فوقتاً نظرثانی کے لئے ایک جامع ضابطۂ کار نافذ کر دیا ہے۔
اسکولی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے محکموں کی جانب سے جاری سرکولروں کے مطابق تمام سرکاری و تسلیم شدہ نجی تعلیمی اداروں کو اپنی لائبریریوں اور تعلیمی شعبوں میں موجود کتابوں، حوالہ جاتی مواد، جرائد، تحقیقی مقالات، مقالہ جات، ڈیجیٹل ذخائر اور دیگر تعلیمی وسائل کا جامع تعلیمی و موادی آڈٹ کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
نئے ضابطے کے تحت ایسا کوئی بھی مواد نہ خریدا جائے گا، نہ تجویز کیا جائے گا اور نہ ہی تعلیمی اداروں میں رکھا یا دستیاب کرایا جائے گا جس میں حقائق کے منافی، گمراہ کن، اشتعال انگیز یا غیرقانونی مواد موجود ہو، یا جو بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشت گردی، پرتشدد انتہا پسندی، علیحدگی پسندی یا قومی سلامتی، خودمختاری اور یکجہتی کے منافی سرگرمیوں کی حمایت یا توجیہ پیش کرتا ہو۔
حکومت نے اس مقصد کے لئے ادارہ جاتی، ضلعی، ڈائریکٹوریٹ اور جامعہ سطح پر مختلف کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے، جو تعلیمی مواد کی جانچ، معیار کی نگرانی اور وقتاً فوقتاً نظرثانی کو یقینی بنائیں گی۔
سرکولر میں وائس چانسلرز، کالج پرنسپلز، چیف ایجوکیشن آفیسرز، زونل ایجوکیشن آفیسرز، ادارہ جاتی سربراہان، لائبریرینز اور دیگر متعلقہ حکام کو مقررہ مدت کے اندر اس ضابطے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔


