عدالت، مصنوعی ذہانت اور انصاف

مصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا کے ہر شعبے کی طرح عدالتی نظام کے دروازے پر بھی دستک دے دی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی معلومات تک تیز رسائی، دستاویزات کی درجہ بندی اور تحقیق میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن جب یہی نظام فرضی معلومات یا جعلی عدالتی نظائر (AI Hallucinations) پیدا کرے اور ان کی بنیاد پر انصاف کے فیصلے متاثر ہوں تو معاملہ محض تکنیکی غلطی نہیں رہتا بلکہ آئین، قانون اور انصاف کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا نے حالیہ فیصلے میں مصنوعی ذہانت کی ایسی "ہیلوسینیشنز” کو 1984 کے بھوپال گیس سانحے کی زہریلی گیس سے تشبیہ دے کر اس خطرے کی سنگینی واضح کر دی ہے۔ عدالت نے بجا طور پر کہا کہ یہ خطرہ بظاہر نظر نہیں آتا، مگر جب اس کے اثرات سامنے آتے ہیں تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (NCLT) نے ایک مقدمے میں AI سے تیار کردہ فرضی قانونی حوالوں پر انحصار کیا، جسے اپیلیٹ ٹریبونل بھی بروقت نہ پہچان سکا۔
سپریم کورٹ کا یہ مؤقف خوش آئند ہے کہ مصنوعی ذہانت عدالتی معاون تو ہو سکتی ہے، لیکن وہ کبھی بھی انسانی فہم، آزادانہ قانونی استدلال، عدالتی صوابدید اور اخلاقی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتی۔ انصاف صرف قانون کی تشریح کا نام نہیں بلکہ حالات، شواہد، انسانی رویوں اور آئینی اقدار کے متوازن جائزے کا تقاضا کرتا ہے، اور یہ صلاحیت اب بھی صرف انسان کے پاس ہے۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ AI بظاہر مستند انداز میں ایسی معلومات بھی تخلیق کر دیتی ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر جج یا وکیل ان حوالوں کی تصدیق کیے بغیر انہیں عدالت میں استعمال کریں تو بے گناہ متاثر ہو سکتے ہیں، مجرم فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور عدلیہ پر عوام کا اعتماد مجروح ہو سکتا ہے۔ اسی لیے عدالت نے واضح کیا ہے کہ AI سے تیار کردہ غیر مصدقہ مواد پیش کرنا وکلا کے لیے پیشہ ورانہ بددیانتی اور ججوں کے لیے سنگین غفلت کے مترادف ہے۔
خوش آئند امر یہ بھی ہے کہ عدالتوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق مجوزہ ضوابط 2026 میں فیصلہ سازی، سزا کے تعین، ضمانت یا گواہوں کی ساکھ جانچنے جیسے بنیادی عدالتی اختیارات AI کے سپرد کرنے پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ بار کونسل آف انڈیا کو بھی ایسے معاملات میں واضح ضابطۂ اخلاق اور تادیبی کارروائی کا نظام وضع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ٹیکنالوجی سے گریز دانشمندی نہیں، مگر اس پر اندھا اعتماد اس سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کو صرف ایک معاون آلے کی حیثیت سے استعمال کیا جانا چاہیے، جبکہ ہر قانونی حوالہ، ہر دلیل اور ہر فیصلہ انسانی ذہن، قانونی تحقیق اور عدالتی ذمہ داری کی کسوٹی پر پرکھا جانا ضروری ہے۔
انصاف کی بنیاد اعتماد ہے، اور یہ اعتماد صرف اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب عدالتوں کے فیصلے مشین کی تخلیق نہیں بلکہ انسانی بصیرت، آئینی اصولوں اور مستند شواہد پر مبنی ہوں۔ جدید ٹیکنالوجی یقیناً عدالتی نظام کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے، لیکن انصاف کا چراغ ہمیشہ انسانی عقل، دیانت اور ذمہ داری ہی سے روشن رہے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

عدالت، مصنوعی ذہانت اور انصاف

مصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا کے ہر شعبے کی طرح عدالتی نظام کے دروازے پر بھی دستک دے دی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی معلومات تک تیز رسائی، دستاویزات کی درجہ بندی اور تحقیق میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن جب یہی نظام فرضی معلومات یا جعلی عدالتی نظائر (AI Hallucinations) پیدا کرے اور ان کی بنیاد پر انصاف کے فیصلے متاثر ہوں تو معاملہ محض تکنیکی غلطی نہیں رہتا بلکہ آئین، قانون اور انصاف کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا نے حالیہ فیصلے میں مصنوعی ذہانت کی ایسی "ہیلوسینیشنز” کو 1984 کے بھوپال گیس سانحے کی زہریلی گیس سے تشبیہ دے کر اس خطرے کی سنگینی واضح کر دی ہے۔ عدالت نے بجا طور پر کہا کہ یہ خطرہ بظاہر نظر نہیں آتا، مگر جب اس کے اثرات سامنے آتے ہیں تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (NCLT) نے ایک مقدمے میں AI سے تیار کردہ فرضی قانونی حوالوں پر انحصار کیا، جسے اپیلیٹ ٹریبونل بھی بروقت نہ پہچان سکا۔
سپریم کورٹ کا یہ مؤقف خوش آئند ہے کہ مصنوعی ذہانت عدالتی معاون تو ہو سکتی ہے، لیکن وہ کبھی بھی انسانی فہم، آزادانہ قانونی استدلال، عدالتی صوابدید اور اخلاقی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتی۔ انصاف صرف قانون کی تشریح کا نام نہیں بلکہ حالات، شواہد، انسانی رویوں اور آئینی اقدار کے متوازن جائزے کا تقاضا کرتا ہے، اور یہ صلاحیت اب بھی صرف انسان کے پاس ہے۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ AI بظاہر مستند انداز میں ایسی معلومات بھی تخلیق کر دیتی ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر جج یا وکیل ان حوالوں کی تصدیق کیے بغیر انہیں عدالت میں استعمال کریں تو بے گناہ متاثر ہو سکتے ہیں، مجرم فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور عدلیہ پر عوام کا اعتماد مجروح ہو سکتا ہے۔ اسی لیے عدالت نے واضح کیا ہے کہ AI سے تیار کردہ غیر مصدقہ مواد پیش کرنا وکلا کے لیے پیشہ ورانہ بددیانتی اور ججوں کے لیے سنگین غفلت کے مترادف ہے۔
خوش آئند امر یہ بھی ہے کہ عدالتوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق مجوزہ ضوابط 2026 میں فیصلہ سازی، سزا کے تعین، ضمانت یا گواہوں کی ساکھ جانچنے جیسے بنیادی عدالتی اختیارات AI کے سپرد کرنے پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ بار کونسل آف انڈیا کو بھی ایسے معاملات میں واضح ضابطۂ اخلاق اور تادیبی کارروائی کا نظام وضع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ٹیکنالوجی سے گریز دانشمندی نہیں، مگر اس پر اندھا اعتماد اس سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کو صرف ایک معاون آلے کی حیثیت سے استعمال کیا جانا چاہیے، جبکہ ہر قانونی حوالہ، ہر دلیل اور ہر فیصلہ انسانی ذہن، قانونی تحقیق اور عدالتی ذمہ داری کی کسوٹی پر پرکھا جانا ضروری ہے۔
انصاف کی بنیاد اعتماد ہے، اور یہ اعتماد صرف اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب عدالتوں کے فیصلے مشین کی تخلیق نہیں بلکہ انسانی بصیرت، آئینی اصولوں اور مستند شواہد پر مبنی ہوں۔ جدید ٹیکنالوجی یقیناً عدالتی نظام کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے، لیکن انصاف کا چراغ ہمیشہ انسانی عقل، دیانت اور ذمہ داری ہی سے روشن رہے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں