مغربی ایشیا میں جنگ کی نئی آگ

مغربی ایشیا ایک بار پھر جنگ، تباہی اور بے یقینی کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ جس خطے کو چند ہفتے قبل سفارتی کوششوں، جنگ بندی کے اعلانات اور امن کے وعدوں کے ذریعے ایک نئے باب کی امید دلائی جا رہی تھی، آج وہی خطہ دوبارہ بارود کی بو، میزائلوں کی گھن گرج اور انسانی المیوں کی زد میں ہے۔ اس صورتِ حال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عالمی طاقتوں کی یقین دہانیاں واقعی قابلِ اعتماد ہوتی ہیں، یا وہ صرف وقتی سیاسی مفادات کا حصہ ہوتی ہیں؟
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات اور سفارتی اقدامات کے ذریعے خود کو امن کے داعی کے طور پر پیش کیا، لیکن حالیہ پیش رفت نے ان دعوؤں کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر جنگ بندی پائیدار ثابت نہ ہو اور تنازعات دوبارہ بھڑک اٹھیں تو صرف اعلانات یا سیاسی بیانات امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ بین الاقوامی سیاست میں اعتماد محض الفاظ سے نہیں بلکہ مسلسل اور غیر جانبدار عملی اقدامات سے قائم ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ ممالک جو خود کو امن کے معاہدوں اور سفارتی مفاہمت کا حصہ قرار دیتے رہے، آج اس نئی کشیدگی کے دوران مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ خاموشی، غیر مؤثر بیانات یا محض تماشائی کا کردار کسی بھی امن عمل کی روح کے منافی ہے۔ جب معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہوں، شہر ملبے کا ڈھیر بن رہے ہوں اور لاکھوں انسان نقل مکانی پر مجبور ہوں، تو غیر جانبداری بھی ایک اخلاقی امتحان بن جاتی ہے۔
مغربی ایشیا کے عوام کو طاقت کے توازن، جغرافیائی سیاست اور عالمی مفادات کی کشمکش کا ایندھن نہیں بننا چاہیے۔ دیرپا امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریق بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں، مذاکرات کو ترجیح دیں اور عالمی برادری کسی ایک فریق کے بجائے انصاف، انسانی جان کے تحفظ اور پائیدار استحکام کو اپنی ترجیح بنائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گِندُن اسٹیڈیم راجباغ میں ضلعی رول بال چیمپئن شپ اختتام پذیر

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: گِندُن اسٹیڈیم راجباغ سرینگر میں منعقدہ...

جموں و کشمیر UTفاؤنڈیشن ڈے: جموں و کشمیر امن اور ترقی کا ماڈل بن کر ابھرا

جنگ نیوز سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج جموں...

اسرائیل کے انتخابی نتائج

اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر...

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

تازہ ترین خبریں

گِندُن اسٹیڈیم راجباغ میں ضلعی رول بال چیمپئن شپ اختتام پذیر

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: گِندُن اسٹیڈیم راجباغ سرینگر میں منعقدہ...

جموں و کشمیر UTفاؤنڈیشن ڈے: جموں و کشمیر امن اور ترقی کا ماڈل بن کر ابھرا

جنگ نیوز سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج جموں...

اسرائیل کے انتخابی نتائج

اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر...

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

مغربی ایشیا میں جنگ کی نئی آگ

مغربی ایشیا ایک بار پھر جنگ، تباہی اور بے یقینی کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ جس خطے کو چند ہفتے قبل سفارتی کوششوں، جنگ بندی کے اعلانات اور امن کے وعدوں کے ذریعے ایک نئے باب کی امید دلائی جا رہی تھی، آج وہی خطہ دوبارہ بارود کی بو، میزائلوں کی گھن گرج اور انسانی المیوں کی زد میں ہے۔ اس صورتِ حال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عالمی طاقتوں کی یقین دہانیاں واقعی قابلِ اعتماد ہوتی ہیں، یا وہ صرف وقتی سیاسی مفادات کا حصہ ہوتی ہیں؟
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات اور سفارتی اقدامات کے ذریعے خود کو امن کے داعی کے طور پر پیش کیا، لیکن حالیہ پیش رفت نے ان دعوؤں کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر جنگ بندی پائیدار ثابت نہ ہو اور تنازعات دوبارہ بھڑک اٹھیں تو صرف اعلانات یا سیاسی بیانات امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ بین الاقوامی سیاست میں اعتماد محض الفاظ سے نہیں بلکہ مسلسل اور غیر جانبدار عملی اقدامات سے قائم ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ ممالک جو خود کو امن کے معاہدوں اور سفارتی مفاہمت کا حصہ قرار دیتے رہے، آج اس نئی کشیدگی کے دوران مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ خاموشی، غیر مؤثر بیانات یا محض تماشائی کا کردار کسی بھی امن عمل کی روح کے منافی ہے۔ جب معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہوں، شہر ملبے کا ڈھیر بن رہے ہوں اور لاکھوں انسان نقل مکانی پر مجبور ہوں، تو غیر جانبداری بھی ایک اخلاقی امتحان بن جاتی ہے۔
مغربی ایشیا کے عوام کو طاقت کے توازن، جغرافیائی سیاست اور عالمی مفادات کی کشمکش کا ایندھن نہیں بننا چاہیے۔ دیرپا امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریق بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں، مذاکرات کو ترجیح دیں اور عالمی برادری کسی ایک فریق کے بجائے انصاف، انسانی جان کے تحفظ اور پائیدار استحکام کو اپنی ترجیح بنائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں