قوموں کی زندگی میں سالگرہیں محض تقریبات، پریڈوں اور آتش بازی کا نام نہیں ہوتیں بلکہ یہ اپنی اجتماعی کامیابیوں، ناکامیوں اور مستقبل کی سمت کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اپنی آزادی کے ڈھائی سو برس مکمل کیے ہیں۔ یہ یقیناً ایک تاریخی سنگ میل ہے، لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا آج کا امریکہ ان اصولوں پر اسی مضبوطی سے قائم ہے جن پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی؟ امریکہ کی طاقت صرف اس کی فوج، معیشت یا ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ ان نظریات میں رہی ہے جنہوں نے اسے دنیا کی قدیم ترین جمہوریتوں میں ممتاز مقام عطا کیا۔ "زندگی، آزادی اور خوشی کے حصول” کا تصور، فرد کی آزادی، آئین کی بالادستی، آزاد ادارے، قانون کی حکمرانی اور اظہارِ رائے کی آزادی وہ ستون تھے جنہوں نے امریکہ کو جدید دنیا کی قیادت تک پہنچایا۔ یہی نظریات اس کی علمی برتری، سائنسی جدت، معاشی ترقی اور ثقافتی اثرورسوخ کا سرچشمہ بنے۔
تاہم اس روشن داستان کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ مقامی باشندوں کی بے دخلی، غلامی کی تاریخ، نسلی امتیاز اور تارکینِ وطن کے ساتھ غیر مساوی رویے اس خواب کی وہ تلخ حقیقتیں ہیں جن سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ کی اصل طاقت ہمیشہ اسی صلاحیت میں رہی کہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہا۔
آج مگر امریکہ ایک نئے دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ داخلی سیاسی تقسیم، اداروں پر بڑھتے ہوئے حملے، جامعات اور آزاد ذرائع ابلاغ پر دباؤ، تجارتی تحفظ پسندی اور شدت پسند قوم پرستی نے اس جمہوری ماڈل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جسے کبھی پوری دنیا کے لئے مثال سمجھا جاتا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقدین کا خیال ہے کہ ان کی سیاست نے ان ادارہ جاتی اقدار کو کمزور کیا ہے جنہوں نے امریکہ کو عالمی قیادت بخشی، جبکہ حامی اسے عوامی بے چینی کا فطری اظہار قرار دیتے ہیں۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
اسی دوران عالمی طاقت کا توازن بھی بدل رہا ہے۔ چین معاشی اور تکنیکی میدان میں امریکہ کا مضبوط حریف بن چکا ہے، جبکہ بھارت، برازیل، آسٹریلیا اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں اپنی آزاد خارجہ اور معاشی پالیسیوں کے ساتھ عالمی نظام میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ سرد جنگ کے بعد جس یک قطبی دنیا کا تصور پیش کیا گیا تھا، وہ اب ماضی کا قصہ بنتا جا رہا ہے۔
امریکہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ دنیا بدل رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ خود کو بھی بدلنے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔ محض ماضی کی عظمت، عسکری قوت یا قومی جوش و خروش مستقبل کی قیادت کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ حقیقی طاقت اس بات میں ہے کہ ایک قوم اپنے بنیادی اصولوں، جمہوری اداروں اور آئینی اقدار کو ہر دور میں زندہ رکھ سکے۔امریکہ کی ڈھائی سو سالہ سالگرہ یقیناً جشن کا موقع ہے، لیکن اس سے بڑھ کر یہ خود احتسابی کا لمحہ ہے۔ اگر یہ قوم اپنی اصل شناخت، یعنی آزادی، انصاف، قانون کی حکمرانی اور جمہوری روایات کو ازسرِنو مضبوط بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کی عالمی اہمیت برقرار رہے گی۔ بصورت دیگر، تاریخ کا یہ عظیم باب صرف ماضی کی شان و شوکت کی یادگار بن کر رہ جائے گا، نہ کہ مستقبل کی قیادت کی علامت۔


