غزل

ساحلؔ عرفان شفیع

میری زندگی ’ نثر ‘ کی مانند مگر ’شاعرانہ‘ مزاج رکھتا ہوں
مجھے کل پہ بھروسہ نہیں اپنی زندگی میں ’آج ‘ رکھتا ہوں
مجھے وعدوں پر اعتبار نہیں ،کرتا ہوں نہ کرنے دیتا ہوں
میں نے سیکھی ہے پابندی فقط ، اپنے قول کی لاج رکھتا ہوں
مجھے کسی سے کوئی غرض نہیں ، نہ سہاروں کی توقع ہے
دکھ جھیلنا عادت ہے میری ، ہر روگ کا علاج رکھتا ہوں
مجھے خود پہ یقین بہت کرتا ہوں ، کرتے آیا ہوں
میری بستی جنگل کی مانند ، جہاں میں شیر کا راج رکھتا ہوں
میں موجوں سے ڈرتا نہیں ساحلؔ ہوں ،اندر ساگر ہے
رکھ کے ساتھ اتنی بڑی دنیا کیا یہ معمولی کاج رکھتا ہوں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

غزل

ساحلؔ عرفان شفیع

میری زندگی ’ نثر ‘ کی مانند مگر ’شاعرانہ‘ مزاج رکھتا ہوں
مجھے کل پہ بھروسہ نہیں اپنی زندگی میں ’آج ‘ رکھتا ہوں
مجھے وعدوں پر اعتبار نہیں ،کرتا ہوں نہ کرنے دیتا ہوں
میں نے سیکھی ہے پابندی فقط ، اپنے قول کی لاج رکھتا ہوں
مجھے کسی سے کوئی غرض نہیں ، نہ سہاروں کی توقع ہے
دکھ جھیلنا عادت ہے میری ، ہر روگ کا علاج رکھتا ہوں
مجھے خود پہ یقین بہت کرتا ہوں ، کرتے آیا ہوں
میری بستی جنگل کی مانند ، جہاں میں شیر کا راج رکھتا ہوں
میں موجوں سے ڈرتا نہیں ساحلؔ ہوں ،اندر ساگر ہے
رکھ کے ساتھ اتنی بڑی دنیا کیا یہ معمولی کاج رکھتا ہوں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں