امرناتھ یاترا کے لئے فول پروف حفاظتی حصار، پولیس کا ’ہاک آئی پروجیکٹ‘ شروع

 

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/ شری امرناتھ جی یاترا کے پُرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے جموں و کشمیر پولیس نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ’’ہاک آئی پروجیکٹ‘‘ شروع کر دیا ہے، جس کے تحت یاترا راستوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی سیکورٹی ایجنسیوں نے سالانہ یاترا سے قبل حفاظتی تیاریوں میں مزید تیزی لاتے ہوئے وادی اور جموں خطے کے مختلف مقامات پر فرضی مشقیں بھی انجام دیں۔

پولیس کے مطابق ضلع اننت ناگ میں شروع کیے گئے ’’ہاک آئی پروجیکٹ‘‘ کے تحت فضائی نگرانی کے لئے پانچ ڈرون یونٹ تعینات کیے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات پر 28 بلند مشاہداتی چوکیوں اور 22 سنائپر ٹیموں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یاترا راستے اور اہم مقامات پر 416 ہائی ریزولوشن سی سی ٹی وی کیمرے اور چہرہ شناسی نظام نصب کیا گیا ہے تاکہ مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور مسلسل نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔

دریں اثنا، یاترا سے قبل مختلف سیکورٹی اداروں نے اپنی تیاریوں اور ردِعمل کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لئے متعدد فرضی مشقیں انجام دیں۔ بانڈی پورہ کے شادی پورہ کیمپ میں پولیس، سی آر پی ایف، ایس ایس بی اور فوج نے مشترکہ مشق کے دوران قافلوں کے تحفظ، ہنگامی انخلا اور بحران کے وقت مربوط کارروائی کا عملی مظاہرہ کیا۔

گاندربل میں سونہ مرگ، زیڈ مورہ ٹنل اور گنڈ کے قومی شاہراہی علاقوں میں بھی پولیس، فوج، سی اے پی ایف، ایس ڈی آر ایف، محکمہ صحت اور سول انتظامیہ کی شمولیت سے وسیع پیمانے پر مشقیں کی گئیں۔ ادھم پور میں جموں۔سری نگر قومی شاہراہ پر برماہ پل کے مقام پر مختلف سیکورٹی اداروں نے ممکنہ دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے اور ہنگامی ردِعمل کی صلاحیت جانچنے کے لئے مشترکہ مشق انجام دی۔

اونتی پورہ میں پنزگام ریلوے اسٹیشن پر ریلوے پروٹیکشن فورس، گورنمنٹ ریلوے پولیس، فوج، محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور محکمہ صحت کے اشتراک سے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے معیاری طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ جموں ضلع کے آر ایس پورہ سرحدی علاقے میں پولیس نے بی ایس ایف اور سی آئی ایس ایف کی مدد سے تلاشی کارروائیاں بھی انجام دیں، تاہم کسی مشتبہ شے کی برآمدگی عمل میں نہیں آئی۔

ادھر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نلین پربھات نے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یاترا اور وادی میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں فوج، سی آر پی ایف، بی ایس ایف، ایس ایس بی، آئی ٹی بی پی اور مختلف اضلاع کے سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔

ڈی جی پی نے تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ چوبیس گھنٹے کڑی نگرانی برقرار رکھیں، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنائیں اور تمام سطحوں پر قریبی تال میل یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا کے پُرامن، محفوظ اور بلا رکاوٹ انعقاد کے لئے ہر ادارے کو مکمل مستعدی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط حفاظتی انتظامات، مؤثر انٹیلی جنس رابطہ کاری اور تمام شراکت داروں کے درمیان قریبی تعاون ہی یاترا کے تحفظ اور جموں و کشمیر میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی  ضمانت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

امرناتھ یاترا کے لئے فول پروف حفاظتی حصار، پولیس کا ’ہاک آئی پروجیکٹ‘ شروع

 

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/ شری امرناتھ جی یاترا کے پُرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے جموں و کشمیر پولیس نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ’’ہاک آئی پروجیکٹ‘‘ شروع کر دیا ہے، جس کے تحت یاترا راستوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی سیکورٹی ایجنسیوں نے سالانہ یاترا سے قبل حفاظتی تیاریوں میں مزید تیزی لاتے ہوئے وادی اور جموں خطے کے مختلف مقامات پر فرضی مشقیں بھی انجام دیں۔

پولیس کے مطابق ضلع اننت ناگ میں شروع کیے گئے ’’ہاک آئی پروجیکٹ‘‘ کے تحت فضائی نگرانی کے لئے پانچ ڈرون یونٹ تعینات کیے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات پر 28 بلند مشاہداتی چوکیوں اور 22 سنائپر ٹیموں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یاترا راستے اور اہم مقامات پر 416 ہائی ریزولوشن سی سی ٹی وی کیمرے اور چہرہ شناسی نظام نصب کیا گیا ہے تاکہ مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور مسلسل نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔

دریں اثنا، یاترا سے قبل مختلف سیکورٹی اداروں نے اپنی تیاریوں اور ردِعمل کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لئے متعدد فرضی مشقیں انجام دیں۔ بانڈی پورہ کے شادی پورہ کیمپ میں پولیس، سی آر پی ایف، ایس ایس بی اور فوج نے مشترکہ مشق کے دوران قافلوں کے تحفظ، ہنگامی انخلا اور بحران کے وقت مربوط کارروائی کا عملی مظاہرہ کیا۔

گاندربل میں سونہ مرگ، زیڈ مورہ ٹنل اور گنڈ کے قومی شاہراہی علاقوں میں بھی پولیس، فوج، سی اے پی ایف، ایس ڈی آر ایف، محکمہ صحت اور سول انتظامیہ کی شمولیت سے وسیع پیمانے پر مشقیں کی گئیں۔ ادھم پور میں جموں۔سری نگر قومی شاہراہ پر برماہ پل کے مقام پر مختلف سیکورٹی اداروں نے ممکنہ دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے اور ہنگامی ردِعمل کی صلاحیت جانچنے کے لئے مشترکہ مشق انجام دی۔

اونتی پورہ میں پنزگام ریلوے اسٹیشن پر ریلوے پروٹیکشن فورس، گورنمنٹ ریلوے پولیس، فوج، محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور محکمہ صحت کے اشتراک سے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے معیاری طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ جموں ضلع کے آر ایس پورہ سرحدی علاقے میں پولیس نے بی ایس ایف اور سی آئی ایس ایف کی مدد سے تلاشی کارروائیاں بھی انجام دیں، تاہم کسی مشتبہ شے کی برآمدگی عمل میں نہیں آئی۔

ادھر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نلین پربھات نے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یاترا اور وادی میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں فوج، سی آر پی ایف، بی ایس ایف، ایس ایس بی، آئی ٹی بی پی اور مختلف اضلاع کے سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔

ڈی جی پی نے تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ چوبیس گھنٹے کڑی نگرانی برقرار رکھیں، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنائیں اور تمام سطحوں پر قریبی تال میل یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا کے پُرامن، محفوظ اور بلا رکاوٹ انعقاد کے لئے ہر ادارے کو مکمل مستعدی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط حفاظتی انتظامات، مؤثر انٹیلی جنس رابطہ کاری اور تمام شراکت داروں کے درمیان قریبی تعاون ہی یاترا کے تحفظ اور جموں و کشمیر میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی  ضمانت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں