جنگ نیوز
سری نگر/وزیر برائے زرعی پیداوار ، دیہی ترقی و پنچایتی راج،اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے آج شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (سکاسٹ کشمیر) میں پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم ۔کے آئی ایس اے این) کی 23ویں قسط کے اجرا کا موقعہ پرمنعقدہ ورچوئل پروگرام میں شرکت کی۔
یہ قسط وزیر اعظم نریندر مودی نے جاری کی جنہوں نے ڈائریکٹ بنیفٹ ٹرانسفر (ڈِی بی ٹی) نظام کے ذریعے ملک بھر کے اہل کسانوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست مالی امداد منتقل کی۔
جموں و کشمیر میں پی ایم کسان سکیم کے آغاز سے اَب تک تقریباً 4,209.82 کروڑ روپے کی رقم کامیابی کے ساتھ 9.17 لاکھ استفادہ کنندگان میں تقسیم کی جا چکی ہے جس سے زرعی کمیونٹی کو اہم مالی مدد فراہم ہوئی ہے۔
سکاسٹ کشمیر میں منعقدہ یونین ٹیریٹری سطح کی تقریب میں وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی، سینئر سائنسدانوں، محکمہ زراعت کے افسران، ترقی پسند کسانوں، سکالروں اور دیگر شراکت داروںنے شرکت کی۔
اِس موقعہ پر جاوید احمد ڈار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم۔کسان کسانوں کو یقینی مالی تعاون فراہم کرنے اور دیہی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ایک انقلابی اقدام کے طور پر ابھری ہے۔ اُنہوںنے کہا کہ اقساط کی بروقت ادائیگی سے کسانوں کو زرعی اخراجات پورے کرنے، بہتر کاشتکاری طریقے اَپنانے اور زرعی سرگرمیاں زیادہ مؤثر طریقے سے انجام دینے میں مدد ملتی ہے۔
اُنہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی چیلنجوؓکے تناظر میں زراعت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور آبادی کے ایک بڑے حصے کے لئے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ اُنہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی زراعت، مؤثر آبی انتظام، فصلوں میں تنوع اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا تاکہ پیداواریت اوردیرپائی میں اضافہ ہو سکے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ آج زراعت صرف ذریعہ معاش نہیں بلکہ اِختراعات، کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک اُمید افزا ذریعہ ہے۔ اُنہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ تعلیم یافتہ نوجوان جن میں گریجویٹس، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی سکالرز، زراعت اور اس سے منسلک شعبوں بڑھتی ہوئی گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور کاشتکار کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے تحقیق، اختراعات اور فیلڈ سطح کی مداخلتوں کے ذریعے اپنا رول اَدا کررہے ہیں۔
اُنہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پی ایم کسان سمان ندھی یوجنا کے تحت اہل کسانوں کو سالانہ 6,000 روپے تین برابر قسطوں میں 2,000 روپے فی قسط کے حساب سے براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں ڈِی بی ٹی نظام کے ذریعے منتقل کئے جاتے ہیںجس سے سروس کی فراہمی میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
اِس موقعہ پر’’ کھیت بچائو ابھیان‘‘ اور’’ فارمرز سکیم گائیڈ‘‘ کے عنوان سے دو اشاعتیں بھی جاری کی گئیں۔ ان اشاعتوں کا مقصد کسانوں میںدیرپا زرعی طریقوں، حکومتی فلاحی سکیموں اور دستیاب معاونتی نظام کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے تاکہ زرعی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔


