فصل سے آگے: کاشتکاروں کی نئی معاشی آزادی

 

شیوراج سنگھ چوہان
مرکزی وزیر

وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی قیادت میں گذشتہ 12 برسوں میں بھارتی زراعت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پہلے ہماری سب سے بڑی فکر یہ ہوتی تھی کہ ملک میں اناج کی قلت نہ پیدا ہو، کسی طرح بھوک سے بچاؤ ہو جائے۔ آج مودی جی کی دور اندیشی اور کاشتکاروں کے لئے مفید پالیسیوں نے زراعت کو صرف ’’پیداوار کا شعبہ‘‘ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے کاشتکاروں کی خوشحالی، خطرات سے تحفظ، غذائی تحفظ، ماحول دوست تکنالوجی اور دیہی ترقی کی مربوط بنیاد بنادیا گیا ہے۔ سبز انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ پالیسیوں کی توجہ صرف ’’کتنی پیداوار‘‘ پر نہیں، بلکہ ’’کاشتکار کی حقیقی آمدنی کتنی ، کھیتی کتنی پائیدار، اور دیہی معیشت کتنی مضبوط‘‘ پر مرتکز ہے۔ اسی فکر سے دَلہن- تلہن مشن، کاٹن مشن، پراکرتک کھیتی مشن، پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا ، کھیت بچاؤ ابھیان، ڈیجیٹل کرشی اور شودھ – نواچار؛ سب کو ایک ہی جامع نقطہ نظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

پیداوار سے آگے: آمدنی، تحفظ اور دیہی معیشت
آج بھارت اناج کی پیداوار میں63.3765لاکھ ٹن کی ریکارڈ سطح پر ہے، جو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ دھان، گیہوں، مکئی، دالیں اور تلہن- سبھی میں قابل ذکر اضافہ درج ہوا ہے۔ یہ محض زیادہ پیداوار نہیں، بلکہ مجموعی دیہی معیشت میں ہوئی توسیع اور مضبوطی کا ثبوت ہے۔ ساتھ ہی، مودی حکومت نے کاشتکاروں کو خطرات سے تحفظ فراہم کرنے پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم – کسان) کے تحت اب تک 22 قسطوں کے توسط سے کاشتکاروں کے کھاتوں میں راست طور پر 4.27 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی مالی امداد پہنچ چکی ہے، جس سے 9 کروڑ سے زائد کاشتکار کنبوں کو ہر سال باقاعدہ طور پر مالی تعاون حاصل ہوتا ہے۔ دوسری جانب، پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) نے ملک بھر میں کروڑوں کاشتکاروں کی درخواستوں پر احاطہ کرتے ہوئے فصل کے نقصان کی صورت میں ایک مضبوط بیمہ تحفظ فراہم کیا ہے۔ آبپاشی، دیہی سڑکوں، دیہی – بنیادی ڈھانچے، گوداموں اور کولڈ چین میں سرمایہ کاری نے پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور بازار تک رسائی- تینوں کو مضبوط کیا ہے۔ زراعت اب صرف کھیت کی مینڈھ تک محدود نہیں ہے۔ ڈیری، ماہی پروری، مرغی بانی، باغبانی، مدھو مکھی پالن، خوراک ڈبہ بندی، ذخیرہ اندوزی، دیہی صنعت، اور توانائی اور خدمات کا شعبہ، یہ سب مل کر نئی دیہی معیشت کی تعمیر کر رہے ہیں۔

دَلہن، تلہن اور کاٹن مشن: آتم نربھرتا اور قیمت کی ضمانت
طویل عرصے تک دالیں، خوردنی تیل اور کپاس- تینوں شعبے ہماری مکمل صلاحیت سے پیچھے رہے۔ ہم دالوں اور تیلوں کے لئے درآمدات پر منحصر رہے اور کپاس میں بھی کاشتکاروں کو عالمی اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مودی حکومت نے ان تینوں کو ترجیح دیتے ہوئے علیحدہ علیحدہ مشن کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ راشٹریہ دَلہن مشن کے توسط سے تور، اُڑد، مسور، چنا اور دیگر دالوں کا شعبہ اور پیداواریت میں اضافے کے لئے بیج سے لے کر بازار تک مکمل ویلیو چین پر کام ہو رہا ہے – یعنی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام، کلسٹر پر مبنی کھیتی، پروسیسنگ اکائیاں، ایم ایس پی کا مضبوط ڈھانچہ، سرکاری خرید، ذخیرہ اندوزی اور برآمدات تک۔ ہدف یہ ہے کہ بھارت دالوں میں پوری طرح آتم نربھر بنے، درآمدات کا خرچ کم ہو اور کاشتکاروں کو اعلیٰ قدرو قیمت کی حامل ان فصلوں کو پائیدار آمدنی حاصل ہو۔ اسی طرح تلہن مشن کے ذریعہ سرسوں، سویابین، سورج مکھی، تل اور پام آئل جیسی فصلوں پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔ یہ صرف پیداوار میں اضافے کا پروگرام نہیں، بلکہ خوردنی تیلوں میں خودانحصاری، کاشتکاروں کو بہتر قیمت اور ملک کے تیل تحفظ کو مضبوط بنانے کی سمت میں جامع حکمت عملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاٹن مشن کے تحت کپاس کی اعلیٰ پیداوار اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام، بہترین زرعی طور طریقوں، کیڑے مکوڑوں سے نمٹنے کا انتظام، فصلوں کے تنوع، ٹیکسٹائل ویلیو چین سے بہتر ارتباط اور کوالٹی کو بہتر بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ کپاس بھارت کے لاکھوں کاشتکاروں کے لئے نقدی فصل ہے؛ مشن کا مقصد ہے کہ کسان کو پیداوار کے ساتھ ساتھ عالمی بازار میں مسابقت کے لائق کوالٹی، بہتر قیمت اور پائیدار آمدنی بھی حاصل ہو سکے۔
پراکرتک کھیتی مشن: ایک کروڑ کاشتکار، 75 لاکھ ہیکٹیئر کی نئی راہ

کیمیاوی اشیاء پر تیزی سے بڑھتا انحصار، مٹی کی تھکان اور زیر زمین پانی پر دباؤ- یہ سب ہمیں آگاہ کر رہے ہیں کہ کھیتی کے طریقے بدلنے ہوں گے۔ اسی سمجھ کے ساتھ ہمارے دور اندیش وزیر اعظم مودی جی کی قیادت میں فطری طریقہ کاشت کو ایک قومی مشن کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ ایک کروڑ کاشتکاروں کو فطری طریقہ کاشت کے لئے سینسیٹائز کیا جائے، ان میں سے تقریباً 18 لاکھ کاشتکاروں کو فعال طور پر فطری طریقہ کاشت اپنانے کے لئے تیار کیا جائے اور مرحلہ وار طریقے سے تقریباً 75 لاکھ ہیکٹیئر رقبے کو فطری طریقہ کاشت کے دائرے میں لایا جائے۔
یہ تبدیلی دھیرے دھیرے، سائنسی شواہد اور کاشتکاروں کے اپنے تجربات کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کو ترغیب فراہم کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی کچھ اراضی پر فطری طریقہ کاشت کا ماڈل بناکر دیکھیں؛ انہیں تربیت، علاقائی وسائل پر مبنی پیکیج ، سند، برانڈنگ اور بازار سے جوڑنے میں مدد دی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مٹی کی زرخیزی میں اضافہ ہو، کیمیاوی اشیاء کے اخراجات کم ہوں، آب و ہوا کے جھٹکوں کے سامنے فصلیں زیادہ پائیدار ہوں اور صارفین کو صحت بخش، غذائیت سے مالامال خوراک مل سکے۔

پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا اور کم پیداوار والے 100 اضلاع پر مرکوز توجہ
بھارت جیسے بڑے ملک میں کچھ علاقے بہت تیزی سے آگے بڑھتے ہیں، جبکہ کچھ اضلاع مختلف وجوہات کی بنا پر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس نابرابری کو کم کرنے کے لئے پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا کا تصور کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کم پیداوار والے تقریباً 100 اضلاع کی شناخت کی گئی ہے، جہاں فی ہیکٹیئر پیداوار قومی اوسط سے کافی کم ہے اور کسان متوقع فوائد حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان اضلاع میں 11 شعبوں کی 36 اسکیموں کو مربوط کرکے ایک جامع پیکیج دیا جا رہا ہے- آبپاشی، مٹی کی صحت، بیج، کھاد، فصل کا تنوع، مویشی پروری، باغبانی، زرعی سازو سامان، ہنرمندی ترقی، بنیادی ڈھانچہ اور بازار تک رسائی؛ سب کو ایک ساتھ جوڑ کر۔ اس کے پس پشت یہ سوچ کارفرما ہے کہ اسکیمیں علیحدہ علیحدہ کام نہ کریں، بلکہ کاشتکار کے کھیت اور گاؤں کو مرکز میں رکھ کر سب مل کر کام کریں۔ اس سے پالیسی کی توجہ صرف ’’کتنی پیداوار‘‘ سے آگے بڑھ کر اس پر مرتکز ہوئی ہے کہ جہاں پیداوار کم ہے، وہاں ہدف شدہ سرمایہ کاری اور کوششوں سے پیداوار میں کیسے اضافہ کیا جائے، اور اس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں کیسے اضافہ ہو۔

’’کھیت بچاؤ مہم‘‘: مٹی، پانی اور کاشتکار کا توازن
پیداوار میں اضافے کی دوڑ میں کئی جگہوں پر مٹی اور پانی پر دباؤ بڑھا ہے۔ کھاد کے غیر متوازن استعمال، زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال اور محدود فصل کے سلسلے نے کھیت کی صحت کو متاثر کیا ہے۔ اگر وقت رہتے حالت نہیں بدلی تو آنے والی پیڑھیوں کے لئے ہم کمزور کھیت اور تھکی ہوئی مٹی چھوڑیں گے۔ اس چنوتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’کھیت بچاؤ ابھیان‘‘ شروع کیا گیا ہے۔ یہ ابھیان صرف مٹی بچانے کا نہیں، بلکہ کاشتکاروں کی آمدنی، کھانے کی کوالٹی اور مستقبل کے غذائی تحفظ کا ابھیان ہے۔ اس کے پانچ اہم پیغامات ہیں- ہر کسان مٹی کی جانچ کی بنیاد پر کھادوں کا استعمال کرے، ڈی اے پی اور یوریا پر حد سے زیادہ انحصار کم کرے اور متوازن این پی کے، قلیل غذائی اجزاء، حیاتیاتی اور نینو کھادوں کو اپنائے، سبز کھاد، حیاتیاتی کھاد اور مربوط غذائی اجزاء کے انتظام کو فروغ دے، نقلی بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات کے خلاف محتاط رہے اور انتظامیہ کو فوراً اطلاع کرے، نیز فطری طریقہ کاشت اور آب و ہوا کے موافق طریقہ کار کی جانب منظم طریقے سے بڑھے۔ ہدف یہ نہیں کہ کھاد اچانک کم کر دی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ ہر کاشتکار مناسب مقدار، مناسب وقت اور مناسب آمیزش کا استعمال کرے، تاکہ مٹی کی صحت طویل عرصے تک برقرار رہے، لاگت کم ہو اور پیداوار بھی محفوظ رہے۔

سائنس، ڈیجیٹل زراعت اور آئی سی اے آر کا کردار
ان سبھی کوششوں کی ریڑھ سائنس، تحقیق اور ڈیجیٹل تکنیک ہے۔ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) اور قومی زرعی تحقیقی نظام نے 2014-15 کے درمیان ، موسم کی نیرنگیوں کو برداشت کرنے والی فصل کی تقریباً 3000 اقسام تیار کی ہیں، جن میں خشک سالی، سیلاب، گرم ہوا، کھاراپن اور دیگر مشکلات کو جھیلنے کی صلاحیت ہے۔ مجموعی طور پر 3800 سے زیادہ اعلیٰ پیداواری اقسام اور 200 سے زائد حیاتیاتی طور پر افزودہ اقسام جاری کی گئی ہیں، جو پیداواریت کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ ڈیجیٹل کرشی مشن اور ’’ایگری اسٹیک‘‘ کے تحت کاشتکار شناختی کارڈس ، فصل پلاٹوں کو ڈیجیٹل شکل میں لانا، ڈرون پر مبنی خدمات، آفات اور امراض کی نگرانی، موسم پر مبنی اور مقام کے لحاظ سے مخصوص صلاح جیسے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے لیب سے لینڈ اور ڈیٹا سے فیصلے تک کی دوری تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ای-نام، کسان سارتھی، کے وی کے نیٹ ورک، موبائل پیغام، واٹس ایپ گروپ، کمیونٹی ریڈیو اور سوشل میڈیا- ان سب کے توسط سے سائنٹفک، توسیعی کارکن اور کسان – لیڈر راست طور پر کسانوں سے بات چیت کر پا رہے ہیں۔ زراعت اور دیہی ترقی کو بھی ایک ساتھ، مجموعی نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ سڑک، بجلی، انٹرنیٹ، سیلف ہیلپ گروپ، ایف پی او، دیہی صنعت اور ہنرمندی ترقی- یہ تمام پروگرامس جب زراعت کے ساتھ مل کر قدم آگے بڑھاتے ہیں، تبھی گاؤں میں روزگار، صنعت کاری اور سماجی تبدیلی کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔

فصل کی مقدار سے آگے، کاشتکار کے اعتماد کی جانب بڑھتے ٹھوس قدم
آئندہ برسوں میں بھارت کو دنیا کی غذا، غذائیت اور آب و ہوا کی چنوتیوں کے درمیان اپنے زرعی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی تصوریت واضح ہے- کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہو، اس کی محنت کو مناسب احترام اور قیمت ملے، دالوں، تلہنوں اور کپاس میں خودانحصاری سے غذائیت، تیل اور ملبوسات جیسے شعبے مضبوط ہوں۔ پی ایم –کسان، پی ایم ایف بی وائی، فطری طریقہ کاشت، کھیت بچاؤ ابھیان اور آب و ہوا کے موافق تکنیکات سے کھیت کی مٹی، پانی اور کاشتکاروں کا تحفظ یقینی ہو۔ پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا کے توسط سے کم پیداوار والے اضلاع میں ہدف شدہ سرمایہ کاری سے علاقائی نابرابری کم ہو اور ہر کاشتکار آگے بڑھے۔ سائنس، تحقیق اور ڈیجیٹل تکنیک سے زراعت بہتر، لچکدار ،پائیدار اور مسابقتی بنے۔
جب کھیت بچے گا، تب کاشتکار بچے گا۔ جب کاشتکار بچے گا، تب زراعت بچے گی اور جب زراعت بچے گی، تب بھارت کا مستقبل محفوظ، خوشحال اور آتم نربھر بنے گا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں یہی ہمارے زرعی سفر کا خلاصہ ہے- فصل سے آگے، کاشتکار کے اعتماد اور دیہی بھارت کی خوشحالی کی جانب۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پہلگام روڈ حادثہ میں چار سالہ بچہ شدید زخمی

اننت ناگ، 28 جون۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع...

وینزویلا میں 5.6 شدت کا تازہ زلزلہ

  5.6 کی شدت کے زلزلے نے اراگوا کے ساحل...

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

تازہ ترین خبریں

پہلگام روڈ حادثہ میں چار سالہ بچہ شدید زخمی

اننت ناگ، 28 جون۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع...

وینزویلا میں 5.6 شدت کا تازہ زلزلہ

  5.6 کی شدت کے زلزلے نے اراگوا کے ساحل...

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

فصل سے آگے: کاشتکاروں کی نئی معاشی آزادی

 

شیوراج سنگھ چوہان
مرکزی وزیر

وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی قیادت میں گذشتہ 12 برسوں میں بھارتی زراعت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پہلے ہماری سب سے بڑی فکر یہ ہوتی تھی کہ ملک میں اناج کی قلت نہ پیدا ہو، کسی طرح بھوک سے بچاؤ ہو جائے۔ آج مودی جی کی دور اندیشی اور کاشتکاروں کے لئے مفید پالیسیوں نے زراعت کو صرف ’’پیداوار کا شعبہ‘‘ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے کاشتکاروں کی خوشحالی، خطرات سے تحفظ، غذائی تحفظ، ماحول دوست تکنالوجی اور دیہی ترقی کی مربوط بنیاد بنادیا گیا ہے۔ سبز انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ پالیسیوں کی توجہ صرف ’’کتنی پیداوار‘‘ پر نہیں، بلکہ ’’کاشتکار کی حقیقی آمدنی کتنی ، کھیتی کتنی پائیدار، اور دیہی معیشت کتنی مضبوط‘‘ پر مرتکز ہے۔ اسی فکر سے دَلہن- تلہن مشن، کاٹن مشن، پراکرتک کھیتی مشن، پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا ، کھیت بچاؤ ابھیان، ڈیجیٹل کرشی اور شودھ – نواچار؛ سب کو ایک ہی جامع نقطہ نظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

پیداوار سے آگے: آمدنی، تحفظ اور دیہی معیشت
آج بھارت اناج کی پیداوار میں63.3765لاکھ ٹن کی ریکارڈ سطح پر ہے، جو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ دھان، گیہوں، مکئی، دالیں اور تلہن- سبھی میں قابل ذکر اضافہ درج ہوا ہے۔ یہ محض زیادہ پیداوار نہیں، بلکہ مجموعی دیہی معیشت میں ہوئی توسیع اور مضبوطی کا ثبوت ہے۔ ساتھ ہی، مودی حکومت نے کاشتکاروں کو خطرات سے تحفظ فراہم کرنے پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم – کسان) کے تحت اب تک 22 قسطوں کے توسط سے کاشتکاروں کے کھاتوں میں راست طور پر 4.27 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی مالی امداد پہنچ چکی ہے، جس سے 9 کروڑ سے زائد کاشتکار کنبوں کو ہر سال باقاعدہ طور پر مالی تعاون حاصل ہوتا ہے۔ دوسری جانب، پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) نے ملک بھر میں کروڑوں کاشتکاروں کی درخواستوں پر احاطہ کرتے ہوئے فصل کے نقصان کی صورت میں ایک مضبوط بیمہ تحفظ فراہم کیا ہے۔ آبپاشی، دیہی سڑکوں، دیہی – بنیادی ڈھانچے، گوداموں اور کولڈ چین میں سرمایہ کاری نے پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور بازار تک رسائی- تینوں کو مضبوط کیا ہے۔ زراعت اب صرف کھیت کی مینڈھ تک محدود نہیں ہے۔ ڈیری، ماہی پروری، مرغی بانی، باغبانی، مدھو مکھی پالن، خوراک ڈبہ بندی، ذخیرہ اندوزی، دیہی صنعت، اور توانائی اور خدمات کا شعبہ، یہ سب مل کر نئی دیہی معیشت کی تعمیر کر رہے ہیں۔

دَلہن، تلہن اور کاٹن مشن: آتم نربھرتا اور قیمت کی ضمانت
طویل عرصے تک دالیں، خوردنی تیل اور کپاس- تینوں شعبے ہماری مکمل صلاحیت سے پیچھے رہے۔ ہم دالوں اور تیلوں کے لئے درآمدات پر منحصر رہے اور کپاس میں بھی کاشتکاروں کو عالمی اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مودی حکومت نے ان تینوں کو ترجیح دیتے ہوئے علیحدہ علیحدہ مشن کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ راشٹریہ دَلہن مشن کے توسط سے تور، اُڑد، مسور، چنا اور دیگر دالوں کا شعبہ اور پیداواریت میں اضافے کے لئے بیج سے لے کر بازار تک مکمل ویلیو چین پر کام ہو رہا ہے – یعنی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام، کلسٹر پر مبنی کھیتی، پروسیسنگ اکائیاں، ایم ایس پی کا مضبوط ڈھانچہ، سرکاری خرید، ذخیرہ اندوزی اور برآمدات تک۔ ہدف یہ ہے کہ بھارت دالوں میں پوری طرح آتم نربھر بنے، درآمدات کا خرچ کم ہو اور کاشتکاروں کو اعلیٰ قدرو قیمت کی حامل ان فصلوں کو پائیدار آمدنی حاصل ہو۔ اسی طرح تلہن مشن کے ذریعہ سرسوں، سویابین، سورج مکھی، تل اور پام آئل جیسی فصلوں پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔ یہ صرف پیداوار میں اضافے کا پروگرام نہیں، بلکہ خوردنی تیلوں میں خودانحصاری، کاشتکاروں کو بہتر قیمت اور ملک کے تیل تحفظ کو مضبوط بنانے کی سمت میں جامع حکمت عملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاٹن مشن کے تحت کپاس کی اعلیٰ پیداوار اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام، بہترین زرعی طور طریقوں، کیڑے مکوڑوں سے نمٹنے کا انتظام، فصلوں کے تنوع، ٹیکسٹائل ویلیو چین سے بہتر ارتباط اور کوالٹی کو بہتر بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ کپاس بھارت کے لاکھوں کاشتکاروں کے لئے نقدی فصل ہے؛ مشن کا مقصد ہے کہ کسان کو پیداوار کے ساتھ ساتھ عالمی بازار میں مسابقت کے لائق کوالٹی، بہتر قیمت اور پائیدار آمدنی بھی حاصل ہو سکے۔
پراکرتک کھیتی مشن: ایک کروڑ کاشتکار، 75 لاکھ ہیکٹیئر کی نئی راہ

کیمیاوی اشیاء پر تیزی سے بڑھتا انحصار، مٹی کی تھکان اور زیر زمین پانی پر دباؤ- یہ سب ہمیں آگاہ کر رہے ہیں کہ کھیتی کے طریقے بدلنے ہوں گے۔ اسی سمجھ کے ساتھ ہمارے دور اندیش وزیر اعظم مودی جی کی قیادت میں فطری طریقہ کاشت کو ایک قومی مشن کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ ایک کروڑ کاشتکاروں کو فطری طریقہ کاشت کے لئے سینسیٹائز کیا جائے، ان میں سے تقریباً 18 لاکھ کاشتکاروں کو فعال طور پر فطری طریقہ کاشت اپنانے کے لئے تیار کیا جائے اور مرحلہ وار طریقے سے تقریباً 75 لاکھ ہیکٹیئر رقبے کو فطری طریقہ کاشت کے دائرے میں لایا جائے۔
یہ تبدیلی دھیرے دھیرے، سائنسی شواہد اور کاشتکاروں کے اپنے تجربات کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کو ترغیب فراہم کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی کچھ اراضی پر فطری طریقہ کاشت کا ماڈل بناکر دیکھیں؛ انہیں تربیت، علاقائی وسائل پر مبنی پیکیج ، سند، برانڈنگ اور بازار سے جوڑنے میں مدد دی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مٹی کی زرخیزی میں اضافہ ہو، کیمیاوی اشیاء کے اخراجات کم ہوں، آب و ہوا کے جھٹکوں کے سامنے فصلیں زیادہ پائیدار ہوں اور صارفین کو صحت بخش، غذائیت سے مالامال خوراک مل سکے۔

پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا اور کم پیداوار والے 100 اضلاع پر مرکوز توجہ
بھارت جیسے بڑے ملک میں کچھ علاقے بہت تیزی سے آگے بڑھتے ہیں، جبکہ کچھ اضلاع مختلف وجوہات کی بنا پر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس نابرابری کو کم کرنے کے لئے پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا کا تصور کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کم پیداوار والے تقریباً 100 اضلاع کی شناخت کی گئی ہے، جہاں فی ہیکٹیئر پیداوار قومی اوسط سے کافی کم ہے اور کسان متوقع فوائد حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان اضلاع میں 11 شعبوں کی 36 اسکیموں کو مربوط کرکے ایک جامع پیکیج دیا جا رہا ہے- آبپاشی، مٹی کی صحت، بیج، کھاد، فصل کا تنوع، مویشی پروری، باغبانی، زرعی سازو سامان، ہنرمندی ترقی، بنیادی ڈھانچہ اور بازار تک رسائی؛ سب کو ایک ساتھ جوڑ کر۔ اس کے پس پشت یہ سوچ کارفرما ہے کہ اسکیمیں علیحدہ علیحدہ کام نہ کریں، بلکہ کاشتکار کے کھیت اور گاؤں کو مرکز میں رکھ کر سب مل کر کام کریں۔ اس سے پالیسی کی توجہ صرف ’’کتنی پیداوار‘‘ سے آگے بڑھ کر اس پر مرتکز ہوئی ہے کہ جہاں پیداوار کم ہے، وہاں ہدف شدہ سرمایہ کاری اور کوششوں سے پیداوار میں کیسے اضافہ کیا جائے، اور اس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں کیسے اضافہ ہو۔

’’کھیت بچاؤ مہم‘‘: مٹی، پانی اور کاشتکار کا توازن
پیداوار میں اضافے کی دوڑ میں کئی جگہوں پر مٹی اور پانی پر دباؤ بڑھا ہے۔ کھاد کے غیر متوازن استعمال، زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال اور محدود فصل کے سلسلے نے کھیت کی صحت کو متاثر کیا ہے۔ اگر وقت رہتے حالت نہیں بدلی تو آنے والی پیڑھیوں کے لئے ہم کمزور کھیت اور تھکی ہوئی مٹی چھوڑیں گے۔ اس چنوتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’کھیت بچاؤ ابھیان‘‘ شروع کیا گیا ہے۔ یہ ابھیان صرف مٹی بچانے کا نہیں، بلکہ کاشتکاروں کی آمدنی، کھانے کی کوالٹی اور مستقبل کے غذائی تحفظ کا ابھیان ہے۔ اس کے پانچ اہم پیغامات ہیں- ہر کسان مٹی کی جانچ کی بنیاد پر کھادوں کا استعمال کرے، ڈی اے پی اور یوریا پر حد سے زیادہ انحصار کم کرے اور متوازن این پی کے، قلیل غذائی اجزاء، حیاتیاتی اور نینو کھادوں کو اپنائے، سبز کھاد، حیاتیاتی کھاد اور مربوط غذائی اجزاء کے انتظام کو فروغ دے، نقلی بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات کے خلاف محتاط رہے اور انتظامیہ کو فوراً اطلاع کرے، نیز فطری طریقہ کاشت اور آب و ہوا کے موافق طریقہ کار کی جانب منظم طریقے سے بڑھے۔ ہدف یہ نہیں کہ کھاد اچانک کم کر دی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ ہر کاشتکار مناسب مقدار، مناسب وقت اور مناسب آمیزش کا استعمال کرے، تاکہ مٹی کی صحت طویل عرصے تک برقرار رہے، لاگت کم ہو اور پیداوار بھی محفوظ رہے۔

سائنس، ڈیجیٹل زراعت اور آئی سی اے آر کا کردار
ان سبھی کوششوں کی ریڑھ سائنس، تحقیق اور ڈیجیٹل تکنیک ہے۔ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) اور قومی زرعی تحقیقی نظام نے 2014-15 کے درمیان ، موسم کی نیرنگیوں کو برداشت کرنے والی فصل کی تقریباً 3000 اقسام تیار کی ہیں، جن میں خشک سالی، سیلاب، گرم ہوا، کھاراپن اور دیگر مشکلات کو جھیلنے کی صلاحیت ہے۔ مجموعی طور پر 3800 سے زیادہ اعلیٰ پیداواری اقسام اور 200 سے زائد حیاتیاتی طور پر افزودہ اقسام جاری کی گئی ہیں، جو پیداواریت کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ ڈیجیٹل کرشی مشن اور ’’ایگری اسٹیک‘‘ کے تحت کاشتکار شناختی کارڈس ، فصل پلاٹوں کو ڈیجیٹل شکل میں لانا، ڈرون پر مبنی خدمات، آفات اور امراض کی نگرانی، موسم پر مبنی اور مقام کے لحاظ سے مخصوص صلاح جیسے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے لیب سے لینڈ اور ڈیٹا سے فیصلے تک کی دوری تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ای-نام، کسان سارتھی، کے وی کے نیٹ ورک، موبائل پیغام، واٹس ایپ گروپ، کمیونٹی ریڈیو اور سوشل میڈیا- ان سب کے توسط سے سائنٹفک، توسیعی کارکن اور کسان – لیڈر راست طور پر کسانوں سے بات چیت کر پا رہے ہیں۔ زراعت اور دیہی ترقی کو بھی ایک ساتھ، مجموعی نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ سڑک، بجلی، انٹرنیٹ، سیلف ہیلپ گروپ، ایف پی او، دیہی صنعت اور ہنرمندی ترقی- یہ تمام پروگرامس جب زراعت کے ساتھ مل کر قدم آگے بڑھاتے ہیں، تبھی گاؤں میں روزگار، صنعت کاری اور سماجی تبدیلی کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔

فصل کی مقدار سے آگے، کاشتکار کے اعتماد کی جانب بڑھتے ٹھوس قدم
آئندہ برسوں میں بھارت کو دنیا کی غذا، غذائیت اور آب و ہوا کی چنوتیوں کے درمیان اپنے زرعی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی تصوریت واضح ہے- کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہو، اس کی محنت کو مناسب احترام اور قیمت ملے، دالوں، تلہنوں اور کپاس میں خودانحصاری سے غذائیت، تیل اور ملبوسات جیسے شعبے مضبوط ہوں۔ پی ایم –کسان، پی ایم ایف بی وائی، فطری طریقہ کاشت، کھیت بچاؤ ابھیان اور آب و ہوا کے موافق تکنیکات سے کھیت کی مٹی، پانی اور کاشتکاروں کا تحفظ یقینی ہو۔ پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا کے توسط سے کم پیداوار والے اضلاع میں ہدف شدہ سرمایہ کاری سے علاقائی نابرابری کم ہو اور ہر کاشتکار آگے بڑھے۔ سائنس، تحقیق اور ڈیجیٹل تکنیک سے زراعت بہتر، لچکدار ،پائیدار اور مسابقتی بنے۔
جب کھیت بچے گا، تب کاشتکار بچے گا۔ جب کاشتکار بچے گا، تب زراعت بچے گی اور جب زراعت بچے گی، تب بھارت کا مستقبل محفوظ، خوشحال اور آتم نربھر بنے گا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں یہی ہمارے زرعی سفر کا خلاصہ ہے- فصل سے آگے، کاشتکار کے اعتماد اور دیہی بھارت کی خوشحالی کی جانب۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں