غاروں سے شعور تک

 

طفيل مگسی

انسانی تاریخ کا سب سے دلچسپ اور پیچیدہ پہلو شاید یہی ہے کہ انسان ہمیشہ سے اپنے گرد موجود کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ مگر یہ سمجھ ہمیشہ سائنسی، عقلی اور منطقی بنیادوں پر قائم نہیں رہی۔ ایک وقت تھا جب انسان محض ایک حیاتیاتی مخلوق تھا؛ فطرت کے رحم و کرم پر زندہ رہنے والا، خوفزدہ، غیر یقینی میں جیتا ہوا، جنگلوں، غاروں اور پہاڑوں میں بسیرا کرنے والا۔ اس کے پاس نہ جدید علم تھا، نہ فلکیات، نہ ارضیات، نہ موسمیات، نہ سماجیات، نہ نفسیات، اور نہ ہی وہ فکری اوزار جن کے ذریعے آج کا انسان کائنات کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
قدیم انسان جب آسمان پر بجلی چمکتی دیکھتا، طوفان آتا، بارش برستی، زلزلے آتے، آتش فشاں پھٹتے یا بیماریوں سے لوگ مرتے، تو وہ ان مظاہر کی سائنسی توجیہہ نہیں جانتا تھا۔ اس کے پاس تجرباتی علم اور مشاہداتی سائنس موجود نہیں تھی۔ چنانچہ اس کا ذہن ان سب واقعات کے پیچھے کسی پوشیدہ طاقت، کسی مافوق الفطرت ہستی یا دیوتائی ارادے کو تلاش کرتا بے۔
اسی خوف، حیرت اور لاعلمی کے امتزاج سے مختلف تہذیبوں میں دیوتاؤں، روحوں، مافوق الفطرت قوتوں اور تقدیری تصورات نے جنم لیا۔ کہیں بارش کا دیوتا تھا، کہیں سورج کا، کہیں جنگ کا، کہیں زرخیزی کا، کہیں موت اور بیماری کا۔ انسان چونکہ فطرت کو سمجھ نہیں پاتا تھا، اس لئے وہ فطرت کو شخصیت دے دیتا تھا۔ گویا کائنات کے اندھے اور بے حس قوانین کو انسانی جذبات، غصے، خوشی، ناراضی اور رضا سے تعبیر کیا جانے لگا۔
یہ صرف قدرتی مظاہر تک محدود نہیں رہا۔ سماجی ناانصافیاں، قبیلائی جبر، غلامی، قتل و غارت، عورتوں کی خرید و فروخت، طاقتور قبائل کے حملے، کمزوروں کی محکومیان سب کو بھی اکثر “تقدیر”، “آسمانی رضا” یا “دیوتاؤں کی مرضی” کے طور پر قبول کیا جاتا رہا۔ کیونکہ انسان ابھی اس سطح کے سماجی شعور تک نہیں پہنچا تھا جہاں وہ ظلم کو انسانی طاقت، معاشی مفادات، سیاسی غلبے یا طبقاتی نظام کے تناظر میں سمجھ سکتا۔
قدیم انسان کے لئے دنیا ایک پراسرار مقام تھی۔ وہ اوپر آسمان کی طرف دیکھتا اور تصور کرتا کہ کہیں وہاں کوئی طاقت بیٹھی ہے جو اس کی زندگی کے ہر موڑ کا فیصلہ کر رہی ہے۔ یہ تصور اس کے لئے ذہنی تسلی بھی تھا، خوف بھی، امید بھی اور بے بسی بھی۔ کیونکہ جب انسان کسی چیز کو سمجھ نہیں پاتا تو وہ اکثر اس کے گرد کہانیاں، اساطیر اور مفروضے تخلیق کر لیتا ہے تاکہ ذہنی خلا کو بھر سکے۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں طاقتور طبقات نے بھی انہی تصورات کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا۔ بادشاہوں کو “خدائی سایہ” کہا گیا، حکمرانوں کو مقدس قرار دیا گیا، اور عوام کو یہ باور کروایا گیا کہ ان کی غربت، غلامی یا محرومی کسی آسمانی منصوبے کا حصہ ہے۔ یوں خوف، عقیدت اور طاقت نے مل کر ایسے سماجی ڈھانچے تشکیل دیے جن میں سوال اٹھانا اکثر جرم سمجھا جاتا تھا۔
لیکن انسانی ارتقا صرف جسمانی نہیں تھا؛ شعور کا ارتقا بھی جاری رہا۔ وقت کے ساتھ انسان نے مشاہدہ کرنا سیکھا، سوال اٹھانا سیکھا، تجربہ کرنا سیکھا۔ اس نے آگ دریافت کی، زراعت سیکھی، زبانیں بنائیں، تحریر ایجاد کی، فلسفہ پیدا کیا، ریاضی اور سائنس کی بنیاد رکھی۔
پھر آہستہ آہستہ اسے معلوم ہونے لگا کہ بارش کسی دیوتا کے غصے یا خوشی سے نہیں بلکہ بخارات، بادلوں اور موسمی نظام سے وابستہ ہے۔ زلزلے زمین کی پرتوں کی حرکت سے آتے ہیں، بیماریاں جراثیم اور حیاتیاتی عوامل سے پھیلتی ہیں، اور سماجی ظلم اکثر طاقت، دولت اور سیاسی غلبے کے نظام سے جنم لیتا ہے۔
یہ سفر آسان نہیں تھا۔
انسانی تاریخ میں ہر نئے سوال نے پرانے یقینوں کو چیلنج کیا۔ ہر نئی دریافت نے خوف کے کسی نہ کسی بت کو کمزور کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کے اندر موجود نفسیاتی ضرورتیںتحفظ، امید، معنی اور سہارا تلاش کرنے کی خواہشہمیشہ باقی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں بھی انسان مکمل طور پر اساطیری یا غیر سائنسی طرزِ فکر سے آزاد نہیں ہو سکا۔
آج کا انسان ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور جینیاتی سائنس کے دور میں رہتے ہوئے بھی اکثر انہی قدیم نفسیاتی سانچوں میں سوچتا ہے جن کی جڑیں ہزاروں سال پرانی انسانی تاریخ میں پیوست ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ غاروں کی دیواریں بدل گئی ہیں، مگر خوف، امید، بے یقینی اور معنی کی تلاش اب بھی انسانی ذہن کا حصہ ہیں۔
شاید انسانی شعور کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ مسلسل ارتقا میں ہے۔ سوال ختم نہیں ہوتے، بلکہ ہر جواب نئے سوال پیدا کرتا ہے۔ کائنات اب بھی ایک معمہ ہے، مگر فرق یہ ہے کہ قدیم انسان ہر معمہ کے جواب میں دیوتا تراشتا تھا، جبکہ جدید انسان مشاہدہ، تحقیق، تجربے اور عقل کی روشنی میں حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور شاید یہی سفرغاروں کے خوف سے عقل کی روشنی تکانسانی تاریخ کی سب سے بڑی داستان ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی

جنگ نیوز امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی...

غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا

بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی...

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

تازہ ترین خبریں

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی

جنگ نیوز امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی...

غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا

بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی...

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

غاروں سے شعور تک

 

طفيل مگسی

انسانی تاریخ کا سب سے دلچسپ اور پیچیدہ پہلو شاید یہی ہے کہ انسان ہمیشہ سے اپنے گرد موجود کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ مگر یہ سمجھ ہمیشہ سائنسی، عقلی اور منطقی بنیادوں پر قائم نہیں رہی۔ ایک وقت تھا جب انسان محض ایک حیاتیاتی مخلوق تھا؛ فطرت کے رحم و کرم پر زندہ رہنے والا، خوفزدہ، غیر یقینی میں جیتا ہوا، جنگلوں، غاروں اور پہاڑوں میں بسیرا کرنے والا۔ اس کے پاس نہ جدید علم تھا، نہ فلکیات، نہ ارضیات، نہ موسمیات، نہ سماجیات، نہ نفسیات، اور نہ ہی وہ فکری اوزار جن کے ذریعے آج کا انسان کائنات کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
قدیم انسان جب آسمان پر بجلی چمکتی دیکھتا، طوفان آتا، بارش برستی، زلزلے آتے، آتش فشاں پھٹتے یا بیماریوں سے لوگ مرتے، تو وہ ان مظاہر کی سائنسی توجیہہ نہیں جانتا تھا۔ اس کے پاس تجرباتی علم اور مشاہداتی سائنس موجود نہیں تھی۔ چنانچہ اس کا ذہن ان سب واقعات کے پیچھے کسی پوشیدہ طاقت، کسی مافوق الفطرت ہستی یا دیوتائی ارادے کو تلاش کرتا بے۔
اسی خوف، حیرت اور لاعلمی کے امتزاج سے مختلف تہذیبوں میں دیوتاؤں، روحوں، مافوق الفطرت قوتوں اور تقدیری تصورات نے جنم لیا۔ کہیں بارش کا دیوتا تھا، کہیں سورج کا، کہیں جنگ کا، کہیں زرخیزی کا، کہیں موت اور بیماری کا۔ انسان چونکہ فطرت کو سمجھ نہیں پاتا تھا، اس لئے وہ فطرت کو شخصیت دے دیتا تھا۔ گویا کائنات کے اندھے اور بے حس قوانین کو انسانی جذبات، غصے، خوشی، ناراضی اور رضا سے تعبیر کیا جانے لگا۔
یہ صرف قدرتی مظاہر تک محدود نہیں رہا۔ سماجی ناانصافیاں، قبیلائی جبر، غلامی، قتل و غارت، عورتوں کی خرید و فروخت، طاقتور قبائل کے حملے، کمزوروں کی محکومیان سب کو بھی اکثر “تقدیر”، “آسمانی رضا” یا “دیوتاؤں کی مرضی” کے طور پر قبول کیا جاتا رہا۔ کیونکہ انسان ابھی اس سطح کے سماجی شعور تک نہیں پہنچا تھا جہاں وہ ظلم کو انسانی طاقت، معاشی مفادات، سیاسی غلبے یا طبقاتی نظام کے تناظر میں سمجھ سکتا۔
قدیم انسان کے لئے دنیا ایک پراسرار مقام تھی۔ وہ اوپر آسمان کی طرف دیکھتا اور تصور کرتا کہ کہیں وہاں کوئی طاقت بیٹھی ہے جو اس کی زندگی کے ہر موڑ کا فیصلہ کر رہی ہے۔ یہ تصور اس کے لئے ذہنی تسلی بھی تھا، خوف بھی، امید بھی اور بے بسی بھی۔ کیونکہ جب انسان کسی چیز کو سمجھ نہیں پاتا تو وہ اکثر اس کے گرد کہانیاں، اساطیر اور مفروضے تخلیق کر لیتا ہے تاکہ ذہنی خلا کو بھر سکے۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں طاقتور طبقات نے بھی انہی تصورات کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا۔ بادشاہوں کو “خدائی سایہ” کہا گیا، حکمرانوں کو مقدس قرار دیا گیا، اور عوام کو یہ باور کروایا گیا کہ ان کی غربت، غلامی یا محرومی کسی آسمانی منصوبے کا حصہ ہے۔ یوں خوف، عقیدت اور طاقت نے مل کر ایسے سماجی ڈھانچے تشکیل دیے جن میں سوال اٹھانا اکثر جرم سمجھا جاتا تھا۔
لیکن انسانی ارتقا صرف جسمانی نہیں تھا؛ شعور کا ارتقا بھی جاری رہا۔ وقت کے ساتھ انسان نے مشاہدہ کرنا سیکھا، سوال اٹھانا سیکھا، تجربہ کرنا سیکھا۔ اس نے آگ دریافت کی، زراعت سیکھی، زبانیں بنائیں، تحریر ایجاد کی، فلسفہ پیدا کیا، ریاضی اور سائنس کی بنیاد رکھی۔
پھر آہستہ آہستہ اسے معلوم ہونے لگا کہ بارش کسی دیوتا کے غصے یا خوشی سے نہیں بلکہ بخارات، بادلوں اور موسمی نظام سے وابستہ ہے۔ زلزلے زمین کی پرتوں کی حرکت سے آتے ہیں، بیماریاں جراثیم اور حیاتیاتی عوامل سے پھیلتی ہیں، اور سماجی ظلم اکثر طاقت، دولت اور سیاسی غلبے کے نظام سے جنم لیتا ہے۔
یہ سفر آسان نہیں تھا۔
انسانی تاریخ میں ہر نئے سوال نے پرانے یقینوں کو چیلنج کیا۔ ہر نئی دریافت نے خوف کے کسی نہ کسی بت کو کمزور کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کے اندر موجود نفسیاتی ضرورتیںتحفظ، امید، معنی اور سہارا تلاش کرنے کی خواہشہمیشہ باقی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں بھی انسان مکمل طور پر اساطیری یا غیر سائنسی طرزِ فکر سے آزاد نہیں ہو سکا۔
آج کا انسان ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور جینیاتی سائنس کے دور میں رہتے ہوئے بھی اکثر انہی قدیم نفسیاتی سانچوں میں سوچتا ہے جن کی جڑیں ہزاروں سال پرانی انسانی تاریخ میں پیوست ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ غاروں کی دیواریں بدل گئی ہیں، مگر خوف، امید، بے یقینی اور معنی کی تلاش اب بھی انسانی ذہن کا حصہ ہیں۔
شاید انسانی شعور کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ مسلسل ارتقا میں ہے۔ سوال ختم نہیں ہوتے، بلکہ ہر جواب نئے سوال پیدا کرتا ہے۔ کائنات اب بھی ایک معمہ ہے، مگر فرق یہ ہے کہ قدیم انسان ہر معمہ کے جواب میں دیوتا تراشتا تھا، جبکہ جدید انسان مشاہدہ، تحقیق، تجربے اور عقل کی روشنی میں حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور شاید یہی سفرغاروں کے خوف سے عقل کی روشنی تکانسانی تاریخ کی سب سے بڑی داستان ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں