
اسلم چشتی پونے
اترپردیش کا تاریخی شہر گورکھپور کئی حوالوں سے اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے – مذہبی، تاریخی اور ثقافتی پس منظر کی وجہ سے یہ پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے اُردو کے دو عظیم شاعِر فراق گورکھپوری اور مجنوں گورکھپوری کی سرزمین بھی یہی ہے – ہندو مذہبی کتابوں کو چھاپنے والی ” گیتا پریس ” اور تاریخی امام باڑہ اسٹیٹ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں – اسی شہر سے وابستہ ہونے کی وجہ سے مشرقی تہذیب کی پروردہ نصرت عتیق گورکھپوری سے بڑی توقعات لگی ہوئی ہیں – یہ اپنی محنت، لگن، اور مسلسل کوششوں سے اَدَبی دنیا میں اپنی پہچان بنا رہی ہیں اسی لئے ان سے شہرِ گورکھپور کے نام کو مزید روشن کرنے کی اُمیّدیں وابستہ ہیں کیونکہ ان کی حمدیہ شاعری میں عقیدت کے رنگ، نعت شریف میں رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم سے مَحبّت کا جذبہ، قطعات میں مختصر پیرائے میں اپنی بات کہنے کا ہُنر، نظمیہ شاعری میں اپنے خیال کو وسیع کینوس پر پھیلانا، متفرق اشعار میں اپنے تخلیقی مزاج کو مختلف رنگوں میں جمع کرنا اور غزلیہ شاعری میں ان کا لہجہ ذاتی دُکھ کو اجتماعی تجربے کی صورت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے اس طرح ان کا شعری سرمایہ کسی ایک رنگ کا نہیں بلکہ کئی رنگوں کا مجموعہ ہے اسی لئے مُجھے ان کے شعری سرمائے میں امکانات کا ایک جہان نظر آتا ہے –
اس شاعرہ کے سُخن میں نسائی لہجہ اپنی توانائی کے ساتھ اُبھرآتاہےانہوں نے اپنی شاعری میں عورت کے جذبات، احساسات اور تجرِبات کو بہت خوبصورتی سے برتا ہے اور عورت کی داخلی دنیا کو بڑی ایمانداری سے درشایا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں ایک خاص جاذبیت آ گئی ہے ان کی نسائی شاعری عورت کے دل کی ترجمانی کرتی ہے چند اشعار پیش ہیں –
یہ مسیحا ہیں نہیں، یہ سب کےسب جرّاح ہیں
آپ کن لوگوں کو اپنے زخم دِکھلاتے رہے
زندگی تقسیم مت کر اتنے ٹکڑوں میں مُجھے
جن کو واپس جوڑنا میرے لئے آساں نہ ہو
میری صدا دبانے کو سب چیختے رہے
مَیں جب ہوئی خموش کوئی بولتا نہیں
مَیں جابجا اُسے محسوس کرتی رہتی ہوں
وہ میری نیند میں انگڑائیوں میں رہتا ہے
اب تو جاتی ہوں تیری محفل سے
بخش دینا کہا سُنا میرا
مَیں غموں کو پی رہی ہوں کیے صبر جی رہی ہوں
مری چُپ کو خیر جانو اِسے بے حسی نہ سمجھو
پھر ہوتی زُلیخا سی خریدار تری مَیں
اس دور میں تو مصر کا بازار نہیں ہے
زیرِ نظر مجموعہء کلام ” احساس کی امر بیل” کے ابتدائی 21 صفحات پر ڈاکٹر منظر حسین، ڈاکٹر کلیم قیصر اور ڈاکٹر افروز عالم کے مضامین ہیں جن میں نصرت عتیق گورکھپوری کے فن، شخصیت اور اَدَبی مقام کو مختلف زاویوں سے اپنی اپنی پسند کے مطابق پرکھا گیا ہے دیکھا گیا ہے – کسی نے ان کی شاعری میں احساسات کی شبنمی نرمی، نازکی اور لطافت کی بات کی ہے کسی نے ان کی زبان کی سادگی اور مشاعروں (کوی سمّیلنوں) میں ان کی رسائی اور خوبیوں کا ذکر کیا ہے تو کسی نے ان کی پختہ عمری میں پہنچنے کے بعد بہت تیزی کے ساتھ اَدَبی دنیا میں اپنا مقام بنانے اور مقبولیت کے اظہار کی بات کی ہے ان مضامین سے چند منتخب اقتباسات ملاحظہ فرمائیں –
” نصرت عتیق کی غزلوں میں فکر و نظر کی ایسی شمعیں فروزاں ہیں جو احساسِ نظر دیتی ہیں – ان کی غزلیہ شاعری کا سب سے بڑا اختصاص یہ ہے کہ ان کی غزلوں میں حُسن کے غمزے ، عشق کے عشوے ، جذبات کے ولولے، احساس کی چنگاریاں، تنہائی کی چیخ ، سبھی کچھ ہیں – ان کے علاوہ وہ اپنے فن کا اظہار بڑے اعتماد سے کرتی ہیں – ان کی غزلوں کا مطالعہ سے اس نکتے کا انکشاف ہوتا ہے کہ اپنا زورِ قلم سچّائی کو بیان کرنے میں صرف کرتی ہیں – انہوں نے محبوبہ بن کر عشقیہ جذبات کو منعکس نہیں کیا بلکہ سماج کا فرد بن کر زندگی کی بے رحم حقیقتوں اور سفاکیوں کو چاک کرنے کی کوشش کی ہے ”
(ص 10-11 ، کتاب ہذا، ڈاکٹر منظر حسین)
” مَیں کسی قسم کی جانب داری نہیں برت رہا ہوں بس حقیقت بیانی سے کام لے رہا ہوں ورنہ شاعرات کی شعر گوئی اور شعر فہمی کے جو حالات ہیں انہیں انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا ہے – شعر پڑھنے اور شعر کہنے میں بڑا فرق ہوتا ہے – میرے ایک عزیز جناب افروز عالم جن کی اَدَبی گرفت کم از کم نصف اُردو دنیا پر ہے، خود موصوف کی نصف درجن سے زائد کتابیں شعری اور تخلیقی نظریات پر ہیں – ان کی زبان میں کہیں تو ” لکھنؤ سے پورب کی طرف منھ کر کے کھڑے ہو جائیں اور کلکتہ تک نسائی شاعری اور شاعرات کے بارے میں غور کریں تو پڑھنے والی شاعرات خواہ وہ اُردو غزل کو کسی بھی زبان میں لکھ کر پڑھیں بہت مل جائیں گی مگر شعر کہنے والی شاعرات آپ کو خال خال ہی دکھائی دیں گی ”
( ص 23، کتاب ہذا، ڈاکٹر کلیم قیصر )
” محترمہ نصرت عتیق نے اپنے مشق شعر و ادب کے لئے چاہے جس کا بھی مطالعہ کیا ہو، جس جس سے بھی متاثر ہوئی ہوں، جس جس سے بھی کچھ نہ کچھ سیکھا ہو یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن ان کے شعری ذخیرے میں جو کچھ بھی ہے وہ ان کی اپنی فکر ہے، اپنی محنت اور اپنی کوشش ہے – حالانکہ ایسے ( Self Made) خود اعتماد لوگ اپنے مزاج کے مالک لوگ ہوتے ہیں، اور رفتہ رفتہ خشک رویہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ایسی قباحتیں محترمہ کی شخصیت میں اپنا گھر نہیں بنا سکیں، جس کی بنیاد پر آج وہ ہر محفل میں قدر کی نگاہ سے قبول کی جاتی ہیں – موصوفہ نے ایک خاتون کے طور پر اپنے اطراف سے جو کچھ بھی اخذ کیا ہے وہ اپنی شاعری کے سہارے اس پر اپنا رد عمل درج کر دیا ہے، اس کا اندازہ ان کے اشعار میں پنہاں مضامین اور الفاظ کی بنت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ”
( ص 26-27، کتاب ہذا، ڈاکٹر افروز عالم جدّہ)
” یادش بخیر….. کے تحت نصرت عتیق نے 4 صفحات پر مشتمل اپنے مضمون میں اپنے اَدَبی سَفَر کی ابتداء کا ذکر غیر معمولی فراخ دلی کے ساتھ کیا ہے – ان کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اَدَب سے ان کا تعلق شوق کی حد تک محدود نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا شوق با قاعدہ اَدَبی سَفَر میں تبدیل ہو گیا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں –
” نصرت جہاں سے نصرت عتیق گورکھپوری بن نے تک کا سَفَر بہت آسان نہیں تھا – – – – – – معاشرتی تنگ نظری نے بہت روڑے اٹکائے مگر مَیں اپنے دھن کی پکّی تھی – اپنی تخلیقات دوسروں کے نام سے بھیجتی تھی اور جب شائع ہو جاتی تو مُجھے بے پناہ خوشی ہوتی تھی – – – – مسئلہ تو اس وقت درپیش آیا جب مُجھے میرے کلام پر دہلی کی ایک معروف میگزین سے انعام ملا جسے مَیں حاصل نہ کر سکی کیونکہ نام کسی اور کا تھا اور پتہ میرے پڑوس کی سہیلی کا – – – – – خیر بعد میں جب میرے بڑے والد معروف شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور چیف ایڈیٹر اشتراک نے سُنا تو حکم دیا کہ تم اپنے نام سے بھیجا کرو – ان کی اجازت مل گئی پھر مَیں نے اپنے نام سے بھیجنا شروع کیا، برابر لکھتی رہی، مگر مشاعروں کے احوال سن کر اور شاعرات کے ساتھ غیر معیاری سامعین کا سلوک دیکھ کر کبھی اس طرف جانے کا حوصلہ نہ کر سکی – 2014.ء میں مَیں اپنے اشعار کے ساتھ اچھّے اشعار کا انتخاب بھی فیس بک پر پوسٹ کرتی تھی کہ لوگوں تک اچھّا شعر پہنچنا چاہیے – اسی اثناء میں استاد شاعر حمید گوہر صاحب سے گفتگو ہوئی انہوں نے کچھ نیک مشوروں سے نوازا، ان سے میری فونک گفتگو ہوتی رہی جس سے کافی کچھ سمجھنے کا موقع ملا – مَیں ان کی شکر گزار ہوں اور رہوں گی "(ص 31، کتاب ہذا، یادش بخیر، نصرت عتیق)
192 صفحات کے اس مجموعہء کلام کا وسیع حصّہ غزلوں پر مشتمل ہے شاعرہ نے 1 حمد، 1 نعت، 1 فریاد، 5 نظمیں، 2 دعائیہ نظمیں بعنوان بیٹی حبا کی یومِ پیدائش پر، پیاری بیٹی لائبہ کے یومِ پیدائش پر، اے نئے سال نہ آ، ہم سب کو اک آواز رہنا ہے، ماں، مَیں نے لوگوں کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے، مَحبّتوں کا صلہ، 30 قطعات اور 97 متفرق اشعار اس مجموعہء کلام میں شامل کیے ہیں – قارئین کے ذوقِ سُخن کے لئے حمد، نعت اور فریاد سے ایک ایک شعر، نظموں کی ابتدائی سطریں اور کچھ قطعات اور متفرق اشعار پیشِ خدمت ہیں ملاحظہ فرمائیں –
زمیں سے تابہ فلک حکومت تری خدائی کی ہے خدایا
عقیدتوں کی جبیں جھکائی تو تیرا جلوہ نظر میں آیا (حمد)
اے کاش بُلا لیتے سرکار مدینے میں
پا جاتے شفاء سارے بیمار مدینے میں ( نعت)
اے مرے مولا مرے پروردگار
ہے تری ہی ذات کو ہر اختیار ( فریاد)
اے میری لختِ جگر نورِ نظر گڑیا مری / خواہشیں سب نیک پوری اس جہاں میں ہوں تری / مسکرانے سے تیرے اس گھر میں مہکاس ہے / تو میرے جذبات ہے اور تو مرا احساس ہے –
(نظم بیٹی حبا کی یومِ پیدائش پر)
پیاری بیٹی اے میری لائبہ تو / میرے ہونٹوں کی سمت رنگی دعا تو / مری شاخِ مَحبّت کی تو چڑیا ہے / تو ہی سونا مری اور تو ہی گڑیا ہے /اثر تجھ پہ رہے میری دعا کا / کرم تجھ پہ ہمیشہ ہو خدا کا –
(نظم، پیاری بیٹی لائبہ کے یومِ پیدائش پر)
خیر مقدم ہے بہت تیرا نئے سال مگر / میری آنکھو میں اُتر آئے پُرانے منظر / پھر تو آیا تو عجب مجھ کو گھٹن ہونے لگی / میرے احساس پہ ماضی کی چبھن ہونے لگی –
( نظم – اے نئے سال نہ آ )
ہم سب کو اک آواز رہنا ہے / ہمیں آزاد رہنا ہے / ہماری التجا یہ ہے / ہمیں آزاد رہنے دو / کرو نہ قید مذہب کے حِصاروں میں / نہ باندھو ہم کو رنگوں اور نسلوں میں / ہمیں آزاد رہنے دو –
( نظم، ہم سب کو اک رہنے دو )
جب سے چھوڑا ہے ساتھ ماں تیرا / گُم اندھیروں میں ہو گئی ہوں مَیں / کوئی موسم ہو یا کوئی تیوہار / کچھ بھی اچھّا مُجھے نہیں لگتا / یوں تو سب کچھ ہے پر کمی سی ہے / بن تیرے زندگی ادھوری سی ہے – ( نظم، ماں )
مَیں نے لوگوں کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے / مقدّس کتابوں پر ہاتھ رکھ کر / جھوٹی قسمیں کھاتے ہوئے / ایمان فروشوں کو –
( نظم ، مَیں نے لوگوں کوبدلتے ہوئے دیکھا ہے)
مَیں ایک مُدتّ سے اپنے اندر / غموں کے ملبے ڈھو رہی ہوں / مرے ہیں کہنے کو سب ہی لیکن / کوئی نہ مجھ کو مرا ملا ہے –
( نظم ، مَحبّتوں کا صلہ )
بیٹی بھی کوئی بوجھ ہے یا مسئلہ کوئی
یہ بات تم نکال دو اپنے دماغ سے
سورج بھی ایک روز کہے گا کہ بخش دو
وہ روشنی اُٹھے گی گھریلو چراغ سے
اُتر گئے ہیں رگ و پے میں میرے سنّاٹے
وہ لوٹ آئے مَیں زندہ اسی کے نام پہ ہوں
جگہ جگہ سے چٹخنے لگی ہے تنہائی
مَیں انتظار کے اُس آخری مقام پہ ہوں
تم کو خدا نے دی ہے جو لفظوں کی سلطنت
ایسی غزل کہو کہ جسے گنگنائیں لوگ
نفرت کے تاجروں سے کہو اب بھی وقت ہے
آ کر حضورِ عشق میں حلقہ بنائیں لوگ
( قطعات )
وہ خوشبوؤں میں بسے خط تری امانت ہیں
مَیں چاہ کر بھی انہیں تو جلا نہیں سکتی
ہجر میں کون پہلے مرتا ہے
آؤ یہ تجرِبہ بھی کر دیکھیں
وہ پاس آئے مجھ سے مُخاطب ہوئے تو مَیں
کچھ پڑ گیا ہے آنکھ میں یہ کہہ کے رو پڑی
وہ جن حویلیوں پہ مکینوں کو ناز تھا
جب ٹوٹنے لگیں تو کبوتر بھی رو پڑے
پڑھ رہی ہوں وَرَق وَرَق اس کو
مَیں لکھی ہوں کہاں کہاں اس میں
آج بچھڑے ہوئے وہ لوگ بہت یاد آئے
جن کی باعث مری آنکھوں میں نمی رہتی تھی
تجھ کو پہچاننے میں چوک ہوئی
زہر کو مَیں نے کیوں دوا جانا
( متفرق اشعار )
مجموعہء کلام ” احساس کی امربیل” کے مطالعے کے بعد مَیں یہ کہنے کے موقف میں ہوں کہ نصرت عتیق کی شاعری میں نسائی لہجہ پوری شدّت کے ساتھ جلوہ گر ہے عورت کے دل کی وہ کیفیات جو اکثر خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں ان کی شاعری میں ڈھلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں مثلاً عشق محض خوشی کا نام نہیں اس میں انتظار بھی ہے اور بیقراری بھی، گھٹن بھی ہے اور بےبسی بھی ، ان کی شاعری میں چراغ کبھی تاریکی کے مقابل اُمیّد کی علامت بنتا ہے، بد دعا کا ذکر بھی ان کے ہاں جذباتی اظہار کی شدّت کو نمایاں کرتا ہے – شاخِ گُل کا ذکر ان کے کلام میں نزاکت اور حُسن کی تصویر پیش کرتا ہے، غم کا ذکر ان کی شاعری میں اندر تک اُتر جانے والی کیفیت کا نام ہے، نسائی احساس ان کی شاعری میں کمزوری کی علامت نہیں بلکہ تجرِبے اور احساسات کی مضبوط کڑی بن جاتا ہے ، بیٹیاں ، لشکر، فریبِ روشنی ، زہر کو دوا جاننا، سانپ ہوتے ہیں آستین میں کیا، آنکھو میں نمی کا رہنا، محبوب کو زمیں کا چاند کہنا جیسے پیکر ان کے شعری اظہار کو وسعت عطا کرتے ہیں یوں ان کی شاعری میں نسائی احساس اپنی منفرد شناخت کے ساتھ موجود ہے، میری دعائیں نصرت عتیق کے ساتھ ہیں اللہ کرے ان کا قلم اسی طرح رواں دواں رہے یہ سُخن کی نئی راہیں تلاش کرتی رہیں مسلسل آگے بڑھتی رہیں اور اَدَب کے گلشن میں نئے نئے پھول کھِلاتی رہیں – مَیں ان کے ایک شعر پر اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں –
شفّاف میرا ظاہر و باطن ہے اس لئے
مکر و فریب دنیا کے آتے نہیں مُجھے
زز


