فائبر معیشت: ہندوستان کا نیا عالمی افق

گری راج سنگھ

فائبر (ریشہ) سے ہندوستان کا تعلق محض معاشی نہیں بلکہ تہذیبی اور تمدنی نوعیت کا ہے، جس کی تاریخ پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ یہ رشتہ ہمارے دیہاتوں، ہماری روایات اور ہماری اجتماعی شناخت میں گہرائی سے پیوست ہے۔ موہن جوداڑو کے شہرۂ آفاق ململی کپڑوں ، جنہیں’’ہوا سے بُنا ہوا کپڑا‘‘ کہا جاتا تھا، اس سے لے کر اُس بے مثال دستکاری تک جو براعظموں کی سرحدوں سے بالا تر ہے، فائبر ہمیشہ دیہی معیشت کی جان اور بنیاد رہا ہے۔آج، جب دنیا پائیداری کے ایک نئے عالمی انقلاب کے دہانے پر کھڑی ہے، تو ہمارا یہی صدیوں پرانا علم و ہنر ہماری سب سے بڑی مسابقتی طاقت اور نمایاں برتری کا سامان بن کر سامنے آ رہا ہے۔
کئی دہائیوں تک کیلے کے پودوں کے تنے (سیوڈو اسٹیم) کو بے کار سمجھ کر ضائع کر دیا جاتا تھا۔ آج یہی حیاتیاتی مادہ (بایوماس) ایک قیمتی فائبر کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو برآمداتی منڈیوں کی ضروریات پوری کر رہا ہے، دیہی روزگار کو سہارا دے رہا ہے اور زراعتی باقیات کو قومی آمدنی میں تبدیل کر رہا ہے۔فضلے سے دولت کی پیداوار، مقامی وسائل کی فراوانی سے عالمی مواقع تک رسائی— یہی نئے دور کے ہندوستان کی فائبر تحریک کا جوہر ہے۔ یہ تحریک ہندوستان کو ماحول کے سازگار خام مال اور مستقبل رخی ٹیکسٹائل کی صنعت میں عالمی قیادت کی جانب گامزن کر رہی ہے اور سبز معیشت کے میدان میں ایک نئی شناخت دے رہی ہے۔
نئی نسل کے فائبرپائیدار اور نباتاتی عناصر پر مبنی ایسے قدرتی مواد ہیں جو ہندوستان کے روایتی علم و ہنر کو جدید اختراعات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ بانس، ہیمپ، کیلا، انناس کے پتوں کے ریشے (پی اے ایل ایف) ، فلیکس، ریمی، سیسل، ملک ویڈ اور کپوک جیسے ریشے صدیوں سے موجود ہیں، لیکن اب انہیں ٹیکسٹائل، دفاعی شعبے، حیاتیاتی طور پر تحلیل ہونے والے مرکبات اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات میں استعمال کے لئے نئے سرے سے دریافت کیا جا رہا ہے۔ان ریشوں سے ہندوستان کے قدرتی ریشوں کے ذخیرے کو وسعت مل رہی ہے اور ایک زیادہ ماحول کے موافق، پائیدار اور سرسبز مستقبل کی بنیاد قائم ہورہی ہے۔
آمدنی میں اضافے، عالمی سطح پر پائیداری سے متعلق ضوابط، اور خام مال کے قابلِ سراغ ذرائع کی بڑھتی ہوئی ضروریات عالمی سپلائی چین کی ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہیں اور ایک نئی فائبر معیشت پیدا کر رہی ہیں۔ صارفین اب اپنے ملبوسات میں آرام، ہوا کی بہتر گزر اور ماحولیاتی پائیداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔اسی بنیادی تبدیلی کے باعث ہندوستان میں فائبر کی کھپت، جو اس وقت 15 ملین میٹرک ٹن(ایم ایم ٹی) ہے، 2030 تک بڑھ کر 23 ملین میٹرک ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دنیا تیزی سے انہی خصوصیات کی متلاشی ہے جو صرف ہندوستان فراہم کر سکتا ہے: اخلاقی اصولوں کے مطابق تیار کردہ، پائیدار اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل قدرتی ریشے، جن کے پیچھے صدیوں کا تجربہ اور مہارت موجود ہے۔
اس وژن کے پیچھے ایک واضح ادارہ جاتی اور پالیسی فریم ورک موجود ہے۔ کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لئے قائم کیے گئے مشن فار کاٹن پروڈکٹیویٹی کے تحت، جس کے لئے 2026 سے 2031 کے دوران 5,664 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، نیو ایج فائبر کے فروغ کے لئے 300 کروڑ روپے کی مخصوص رقم کا بندوبست کیا گیا ہے۔اس کوشش کو مزید تقویت دیتے ہوئے، مرکزی بجٹ 2026-27 میں اعلان کردہ قومی فائبر مشن ایک جامع اور وسیع تر حکمتِ عملی فراہم کرتا ہے۔ یہ مشن چار بنیادی ستونوں پر استوار ہے:کرشی -سوترا کاشتکاری اور خام مال کی پیداوار کے فروغ کے لئے؛ اِنفینٹی،تحقیق، جدت اور اختراعات کے فروغ کے لئے؛گرام سیتو،بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کے لئے؛ جی ایم پی ایس،برانڈنگ، مارکیٹنگ اور منڈیوں کی توسیع کے لئے۔ یہ جامع پالیسی فریم ورک ہندوستان کو قدرتی اور پائیدار فائبر کے شعبے میں عالمی قیادت کی جانب لے جانے کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اس پالیسی فریم ورک کی اصل طاقت کئی دہائیوں پر محیط سائنسی تحقیق میں مضمر ہے، جس کے نتائج اب نمایاں طور پر سامنے آ نے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک ویڈیعنی آک/مدار، جسے روایتی طور پر بھگوان شیو کو نذر کیا جاتا ہے، ناردرن انڈیا ٹیکسٹائل ریسرچ ایسوسی ایشن(این آئی ٹی آر اے) کی 18 سالہ تحقیق کے بعد ایک انقلابی قدرتی فائبر کے طور پر ابھرا ہے۔یہ فائبر اب دفاعی شعبے میں بھی استعمال ہو رہا ہے، جہاں اس سے ایسے سلیپنگ بیگز تیار کیے جا رہے ہیں جو منفی 20 ڈگری سیلسیس درجۂ حرارت میں تعینات فوجیوں کے لئے موزوں ہیں۔ یہ سلیپنگ بیگ پالسٹر سے تیار کردہ متبادل مصنوعات کے مقابلے میں 10 فیصد ہلکے، اون سے زیادہ گرم اورسی ایل او/سی ای ایل ایل معیار کے مطابق مصدقہ ہیں۔ملک ویڈ کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ 5 کروڑ 50 لاکھ ہیکٹر بنجر زمین پر بغیر کھاد کے کاشت کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے کسان فی ایکڑ سالانہ تقریباً 1.5 لاکھ سے 2 لاکھ روپے تک آمدنی حاصل کر سکتے ہیں، جو دیہی معیشت اور پائیدار زراعت کے لئے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
کیلے کا فائبر سالانہ تقریباً 18 لاکھ ٹن پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے اور زراعتی باقیات کو کارآمد بنا کر کسانوں کے لئے اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح بانس فی ہیکٹر 60 ٹن تک بایوماس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے بالخصوص شمال مشرقی ہندوستان میں روزگار اور صنعت کے وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ہیمپ بھی عالمی منڈی میں تیزی سے ابھرتا ہوا ایک امید افزا عنصر ہے، جس کی کاشت کی اجازت پہلے ہی اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں دی جا چکی ہے۔فلیکس، سیسل، ریمی، انناس کے پتوں کے ریشے (پی اے ایل ایف) ، نیٹل اور کپوک جیسے دیگر قدرتی ریشوں کے ساتھ مل کر یہ تمام ریشے ہندوستان کے پائیدار اور ماحول کے موافق فائبر کے ذخیرے کو مسلسل وسعت دے رہے ہیں اور ملک کو قدرتی ریشوں کی عالمی معیشت میں مضبوط مقام دلانے کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔
اسی سائنسی پیش رفت اور تحقیقی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے، نیشنل سیمینار آن نیو ایج فائبر ایک ایسے مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا جہاں سائنس، پالیسی اور صنعت و تجارت کو یکجا ہونے کا موقع ملا۔ اس سیمینار میں محققین، سائنس دانوں، صنعت کاروں، کسان تنظیموں، صنعتی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا گیا، تاکہ قدرتی اور پائیدار فائبر کے مستقبل کے لئے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔اس موقع پر ترجیحی بنیاد پر منتخب کردہ تمام دس اہم فائبر سے متعلق تین ٹاسک فورس رپورٹس بھی جاری کی گئیں۔ ان رپورٹوں کے ذریعہ زمینی سطح پر ہونے والی سائنسی تحقیق اور عملی تجربات کو براہِ راست سرکاری اسکیموں کی تشکیل، پالیسی سازی اور سرمایہ کاری کی ترجیحات سے جوڑنے کا اہم کام انجام دیا گیا، جس سے اس شعبے کی ترقی کے لئے ایک مضبوط اور عملی لائحۂ عمل سامنے آیا۔
اس سیمینار میں معیار بندی، پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی مالی معاونت سے متعلق موجودہ خامیوں اور چیلنجوں کی بھی کھل کر نشاندہی کی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مشن محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی نفاذ پر مرکوز ہے۔اس موقع پر چند اہم ترجیحات سامنے آئیں، جن میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران پیداوار کو 10 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر 10 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچانا، معیاری پیمانوں کی تیاری، مشینری کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینا، درآمداتی پروسیسنگ ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا، اور کاشت سے لے کر ویلیو ایڈیشن تک کلسٹر پر مبنی فائبر ماحولیاتی نظام کی تشکیل شامل ہیں۔یہ تمام اقدامات مل کر نیو ایج فائبر کو دیہی خوشحالی، روزگار کے فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے ایک جامع قومی مشن کی حیثیت دیتے ہیں، جس میں حکومت کے مختلف شعبے باہمی اشتراک کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
شاید اس شعبے کا سب سے انقلابی اور دور رس پہلو ریشوں کا باہمی امتزاج ہے۔ ہندوستان کی حقیقی طاقت کسی ایک فائبر میں نہیں، بلکہ مختلف فائبر کو دانشمندانہ انداز میں یکجا کرنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔ مثال کے طور پر، آک/ مدار ہلکے وزن کے ساتھ حرارتی تحفظ فراہم کرتا ہے، اون گرمی برقرار رکھتی ہے، بانس ہوا کی بہتر گردش اور تازگی کا احساس دیتا ہے، جبکہ کپاس نرمی اور آرام مہیا کرتی ہے۔اس طرح تیار کیا گیا مخلوط کپڑا کسی سمجھوتے کی علامت نہیں بلکہ کارکردگی میں نمایاں بہتری ہے۔ یہ ایسے کپڑوں کی تخلیق کا ذریعہ بنتا ہے جو زیادہ مضبوط، زیادہ اسمارٹ اور زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔ ان میں آرام دہ استعمال، نمی کو مؤثر انداز میں جذب اور خارج کرنے کی صلاحیت، زیادہ پائیداری اور مختلف شعبوں میں استعمال کی وسعت جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔نتیجتاً، ایسے جدید اور مخلوط فائبر سے تیار کردہ کپڑے فیشن، طرزِ زندگی اور تکنیکی ٹیکسٹائل سمیت متعدد شعبوں کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرتے ہیں اور مستقبل کی ٹیکسٹائل صنعت کے لئے نئی راہیں ہموار کرتے ہیں۔
اس کے فوائد پوری ویلیو چین میں ہر سطح پر نمایاں ہوتے ہیں۔ صارفین کو زیادہ آرام دہ، معیاری اور بہتر کارکردگی والی مصنوعات حاصل ہوتی ہیں، صنعت کاروں کو منفرد اور بیش قیمتی حامل مصنوعات تیار کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ کسانوں کو متنوع طلب کی بدولت اپنی پیداوار کے لئے نئی منڈیاں اور زیادہ مستحکم آمدنی کے ذرائع میسر آتے ہیں۔ہندوستان کے لئے فائبر کا امتزاج محض ایک تکنیکی جدت نہیں، بلکہ خام فائبر کی فراہمی سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر مسابقتی اور قدر میں اضافے والی برانڈ کی تخلیق تک پہنچنے کا ایک مضبوط پل ہے۔ یہ ایسا راستہ ہے جو ہندوستانی شناخت، روایتی مہارت اور قدرتی وسائل کو جدید صنعتی تقاضوں سے جوڑتے ہوئے ملک کو عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں ممتاز مقام دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اپنی اصل روح میں نیو ایج فائبر تحریک زندگیوں کو بدلنے، کسانوں کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے، دیہی معیشت کو مضبوط بنانے، خواتین کو بااختیار بنانے اور مقامی وسائل کی بنیاد پر کاروباری افراد کو عالمی سطح کے ادارے قائم کرنے پر قادر بنانے کا ایک جامع منصوبہ ہے۔وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے 5ایف وژن-فارم سے فائبر، فائبر سے فیبرک، فیبرک سے فیشن اور فیشن سے فارن (عالمی منڈیوں) تک-کی بنیاد پر استوار ہندوستان کا سبز فائبر انقلاب کوئی دور کا خواب نہیں، بلکہ ایک حقیقت بنتا ہوا منظرنامہ ہے۔ اس کی حکمتِ عملی واضح ہے، ادارے متحرک ہیں، سائنسی تحقیق اپنی افادیت ثابت کر چکی ہے اور صنعت کار و کاروباری طبقہ آگے بڑھنے کے لئے تیار ہے۔ آج ہندوستان فائبر بہ فائبر، امتزاج بہ امتزاج، خطہ بہ خطہ اور کھیت بہ کھیت اپنی ٹیکسٹائل صنعت کی تاریخ کا ایک نیا اور شاندار باب رقم کر رہا ہے۔یہ صرف قدرتی ریشوں کی ترقی کی داستان نہیں، بلکہ خود انحصاری، پائیدار ترقی، دیہی خوشحالی اور عالمی قیادت کی جانب ہندوستان کے نئے سفر کی کہانی ہے، جو آنے والے برسوں میں دنیا کے ٹیکسٹائل منظرنامے کو نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
******
(مضمون نگار مرکزی وزیرِ ٹیکسٹائل ہیں، اس مضمون میں ظاہر کردہ آراء ان کی ذاتی ہیں۔)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تاریخی دورِ حکومت، انقلابی قیادت

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر ہند 10 جون 2026 کو بھارت...

تازہ ترین خبریں

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تاریخی دورِ حکومت، انقلابی قیادت

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر ہند 10 جون 2026 کو بھارت...

فائبر معیشت: ہندوستان کا نیا عالمی افق

گری راج سنگھ

فائبر (ریشہ) سے ہندوستان کا تعلق محض معاشی نہیں بلکہ تہذیبی اور تمدنی نوعیت کا ہے، جس کی تاریخ پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ یہ رشتہ ہمارے دیہاتوں، ہماری روایات اور ہماری اجتماعی شناخت میں گہرائی سے پیوست ہے۔ موہن جوداڑو کے شہرۂ آفاق ململی کپڑوں ، جنہیں’’ہوا سے بُنا ہوا کپڑا‘‘ کہا جاتا تھا، اس سے لے کر اُس بے مثال دستکاری تک جو براعظموں کی سرحدوں سے بالا تر ہے، فائبر ہمیشہ دیہی معیشت کی جان اور بنیاد رہا ہے۔آج، جب دنیا پائیداری کے ایک نئے عالمی انقلاب کے دہانے پر کھڑی ہے، تو ہمارا یہی صدیوں پرانا علم و ہنر ہماری سب سے بڑی مسابقتی طاقت اور نمایاں برتری کا سامان بن کر سامنے آ رہا ہے۔
کئی دہائیوں تک کیلے کے پودوں کے تنے (سیوڈو اسٹیم) کو بے کار سمجھ کر ضائع کر دیا جاتا تھا۔ آج یہی حیاتیاتی مادہ (بایوماس) ایک قیمتی فائبر کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو برآمداتی منڈیوں کی ضروریات پوری کر رہا ہے، دیہی روزگار کو سہارا دے رہا ہے اور زراعتی باقیات کو قومی آمدنی میں تبدیل کر رہا ہے۔فضلے سے دولت کی پیداوار، مقامی وسائل کی فراوانی سے عالمی مواقع تک رسائی— یہی نئے دور کے ہندوستان کی فائبر تحریک کا جوہر ہے۔ یہ تحریک ہندوستان کو ماحول کے سازگار خام مال اور مستقبل رخی ٹیکسٹائل کی صنعت میں عالمی قیادت کی جانب گامزن کر رہی ہے اور سبز معیشت کے میدان میں ایک نئی شناخت دے رہی ہے۔
نئی نسل کے فائبرپائیدار اور نباتاتی عناصر پر مبنی ایسے قدرتی مواد ہیں جو ہندوستان کے روایتی علم و ہنر کو جدید اختراعات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ بانس، ہیمپ، کیلا، انناس کے پتوں کے ریشے (پی اے ایل ایف) ، فلیکس، ریمی، سیسل، ملک ویڈ اور کپوک جیسے ریشے صدیوں سے موجود ہیں، لیکن اب انہیں ٹیکسٹائل، دفاعی شعبے، حیاتیاتی طور پر تحلیل ہونے والے مرکبات اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات میں استعمال کے لئے نئے سرے سے دریافت کیا جا رہا ہے۔ان ریشوں سے ہندوستان کے قدرتی ریشوں کے ذخیرے کو وسعت مل رہی ہے اور ایک زیادہ ماحول کے موافق، پائیدار اور سرسبز مستقبل کی بنیاد قائم ہورہی ہے۔
آمدنی میں اضافے، عالمی سطح پر پائیداری سے متعلق ضوابط، اور خام مال کے قابلِ سراغ ذرائع کی بڑھتی ہوئی ضروریات عالمی سپلائی چین کی ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہیں اور ایک نئی فائبر معیشت پیدا کر رہی ہیں۔ صارفین اب اپنے ملبوسات میں آرام، ہوا کی بہتر گزر اور ماحولیاتی پائیداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔اسی بنیادی تبدیلی کے باعث ہندوستان میں فائبر کی کھپت، جو اس وقت 15 ملین میٹرک ٹن(ایم ایم ٹی) ہے، 2030 تک بڑھ کر 23 ملین میٹرک ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دنیا تیزی سے انہی خصوصیات کی متلاشی ہے جو صرف ہندوستان فراہم کر سکتا ہے: اخلاقی اصولوں کے مطابق تیار کردہ، پائیدار اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل قدرتی ریشے، جن کے پیچھے صدیوں کا تجربہ اور مہارت موجود ہے۔
اس وژن کے پیچھے ایک واضح ادارہ جاتی اور پالیسی فریم ورک موجود ہے۔ کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لئے قائم کیے گئے مشن فار کاٹن پروڈکٹیویٹی کے تحت، جس کے لئے 2026 سے 2031 کے دوران 5,664 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، نیو ایج فائبر کے فروغ کے لئے 300 کروڑ روپے کی مخصوص رقم کا بندوبست کیا گیا ہے۔اس کوشش کو مزید تقویت دیتے ہوئے، مرکزی بجٹ 2026-27 میں اعلان کردہ قومی فائبر مشن ایک جامع اور وسیع تر حکمتِ عملی فراہم کرتا ہے۔ یہ مشن چار بنیادی ستونوں پر استوار ہے:کرشی -سوترا کاشتکاری اور خام مال کی پیداوار کے فروغ کے لئے؛ اِنفینٹی،تحقیق، جدت اور اختراعات کے فروغ کے لئے؛گرام سیتو،بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کے لئے؛ جی ایم پی ایس،برانڈنگ، مارکیٹنگ اور منڈیوں کی توسیع کے لئے۔ یہ جامع پالیسی فریم ورک ہندوستان کو قدرتی اور پائیدار فائبر کے شعبے میں عالمی قیادت کی جانب لے جانے کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اس پالیسی فریم ورک کی اصل طاقت کئی دہائیوں پر محیط سائنسی تحقیق میں مضمر ہے، جس کے نتائج اب نمایاں طور پر سامنے آ نے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک ویڈیعنی آک/مدار، جسے روایتی طور پر بھگوان شیو کو نذر کیا جاتا ہے، ناردرن انڈیا ٹیکسٹائل ریسرچ ایسوسی ایشن(این آئی ٹی آر اے) کی 18 سالہ تحقیق کے بعد ایک انقلابی قدرتی فائبر کے طور پر ابھرا ہے۔یہ فائبر اب دفاعی شعبے میں بھی استعمال ہو رہا ہے، جہاں اس سے ایسے سلیپنگ بیگز تیار کیے جا رہے ہیں جو منفی 20 ڈگری سیلسیس درجۂ حرارت میں تعینات فوجیوں کے لئے موزوں ہیں۔ یہ سلیپنگ بیگ پالسٹر سے تیار کردہ متبادل مصنوعات کے مقابلے میں 10 فیصد ہلکے، اون سے زیادہ گرم اورسی ایل او/سی ای ایل ایل معیار کے مطابق مصدقہ ہیں۔ملک ویڈ کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ 5 کروڑ 50 لاکھ ہیکٹر بنجر زمین پر بغیر کھاد کے کاشت کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے کسان فی ایکڑ سالانہ تقریباً 1.5 لاکھ سے 2 لاکھ روپے تک آمدنی حاصل کر سکتے ہیں، جو دیہی معیشت اور پائیدار زراعت کے لئے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
کیلے کا فائبر سالانہ تقریباً 18 لاکھ ٹن پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے اور زراعتی باقیات کو کارآمد بنا کر کسانوں کے لئے اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح بانس فی ہیکٹر 60 ٹن تک بایوماس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے بالخصوص شمال مشرقی ہندوستان میں روزگار اور صنعت کے وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ہیمپ بھی عالمی منڈی میں تیزی سے ابھرتا ہوا ایک امید افزا عنصر ہے، جس کی کاشت کی اجازت پہلے ہی اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں دی جا چکی ہے۔فلیکس، سیسل، ریمی، انناس کے پتوں کے ریشے (پی اے ایل ایف) ، نیٹل اور کپوک جیسے دیگر قدرتی ریشوں کے ساتھ مل کر یہ تمام ریشے ہندوستان کے پائیدار اور ماحول کے موافق فائبر کے ذخیرے کو مسلسل وسعت دے رہے ہیں اور ملک کو قدرتی ریشوں کی عالمی معیشت میں مضبوط مقام دلانے کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔
اسی سائنسی پیش رفت اور تحقیقی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے، نیشنل سیمینار آن نیو ایج فائبر ایک ایسے مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا جہاں سائنس، پالیسی اور صنعت و تجارت کو یکجا ہونے کا موقع ملا۔ اس سیمینار میں محققین، سائنس دانوں، صنعت کاروں، کسان تنظیموں، صنعتی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا گیا، تاکہ قدرتی اور پائیدار فائبر کے مستقبل کے لئے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔اس موقع پر ترجیحی بنیاد پر منتخب کردہ تمام دس اہم فائبر سے متعلق تین ٹاسک فورس رپورٹس بھی جاری کی گئیں۔ ان رپورٹوں کے ذریعہ زمینی سطح پر ہونے والی سائنسی تحقیق اور عملی تجربات کو براہِ راست سرکاری اسکیموں کی تشکیل، پالیسی سازی اور سرمایہ کاری کی ترجیحات سے جوڑنے کا اہم کام انجام دیا گیا، جس سے اس شعبے کی ترقی کے لئے ایک مضبوط اور عملی لائحۂ عمل سامنے آیا۔
اس سیمینار میں معیار بندی، پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی مالی معاونت سے متعلق موجودہ خامیوں اور چیلنجوں کی بھی کھل کر نشاندہی کی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مشن محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی نفاذ پر مرکوز ہے۔اس موقع پر چند اہم ترجیحات سامنے آئیں، جن میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران پیداوار کو 10 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر 10 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچانا، معیاری پیمانوں کی تیاری، مشینری کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینا، درآمداتی پروسیسنگ ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا، اور کاشت سے لے کر ویلیو ایڈیشن تک کلسٹر پر مبنی فائبر ماحولیاتی نظام کی تشکیل شامل ہیں۔یہ تمام اقدامات مل کر نیو ایج فائبر کو دیہی خوشحالی، روزگار کے فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے ایک جامع قومی مشن کی حیثیت دیتے ہیں، جس میں حکومت کے مختلف شعبے باہمی اشتراک کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
شاید اس شعبے کا سب سے انقلابی اور دور رس پہلو ریشوں کا باہمی امتزاج ہے۔ ہندوستان کی حقیقی طاقت کسی ایک فائبر میں نہیں، بلکہ مختلف فائبر کو دانشمندانہ انداز میں یکجا کرنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔ مثال کے طور پر، آک/ مدار ہلکے وزن کے ساتھ حرارتی تحفظ فراہم کرتا ہے، اون گرمی برقرار رکھتی ہے، بانس ہوا کی بہتر گردش اور تازگی کا احساس دیتا ہے، جبکہ کپاس نرمی اور آرام مہیا کرتی ہے۔اس طرح تیار کیا گیا مخلوط کپڑا کسی سمجھوتے کی علامت نہیں بلکہ کارکردگی میں نمایاں بہتری ہے۔ یہ ایسے کپڑوں کی تخلیق کا ذریعہ بنتا ہے جو زیادہ مضبوط، زیادہ اسمارٹ اور زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔ ان میں آرام دہ استعمال، نمی کو مؤثر انداز میں جذب اور خارج کرنے کی صلاحیت، زیادہ پائیداری اور مختلف شعبوں میں استعمال کی وسعت جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔نتیجتاً، ایسے جدید اور مخلوط فائبر سے تیار کردہ کپڑے فیشن، طرزِ زندگی اور تکنیکی ٹیکسٹائل سمیت متعدد شعبوں کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرتے ہیں اور مستقبل کی ٹیکسٹائل صنعت کے لئے نئی راہیں ہموار کرتے ہیں۔
اس کے فوائد پوری ویلیو چین میں ہر سطح پر نمایاں ہوتے ہیں۔ صارفین کو زیادہ آرام دہ، معیاری اور بہتر کارکردگی والی مصنوعات حاصل ہوتی ہیں، صنعت کاروں کو منفرد اور بیش قیمتی حامل مصنوعات تیار کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ کسانوں کو متنوع طلب کی بدولت اپنی پیداوار کے لئے نئی منڈیاں اور زیادہ مستحکم آمدنی کے ذرائع میسر آتے ہیں۔ہندوستان کے لئے فائبر کا امتزاج محض ایک تکنیکی جدت نہیں، بلکہ خام فائبر کی فراہمی سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر مسابقتی اور قدر میں اضافے والی برانڈ کی تخلیق تک پہنچنے کا ایک مضبوط پل ہے۔ یہ ایسا راستہ ہے جو ہندوستانی شناخت، روایتی مہارت اور قدرتی وسائل کو جدید صنعتی تقاضوں سے جوڑتے ہوئے ملک کو عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں ممتاز مقام دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اپنی اصل روح میں نیو ایج فائبر تحریک زندگیوں کو بدلنے، کسانوں کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے، دیہی معیشت کو مضبوط بنانے، خواتین کو بااختیار بنانے اور مقامی وسائل کی بنیاد پر کاروباری افراد کو عالمی سطح کے ادارے قائم کرنے پر قادر بنانے کا ایک جامع منصوبہ ہے۔وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے 5ایف وژن-فارم سے فائبر، فائبر سے فیبرک، فیبرک سے فیشن اور فیشن سے فارن (عالمی منڈیوں) تک-کی بنیاد پر استوار ہندوستان کا سبز فائبر انقلاب کوئی دور کا خواب نہیں، بلکہ ایک حقیقت بنتا ہوا منظرنامہ ہے۔ اس کی حکمتِ عملی واضح ہے، ادارے متحرک ہیں، سائنسی تحقیق اپنی افادیت ثابت کر چکی ہے اور صنعت کار و کاروباری طبقہ آگے بڑھنے کے لئے تیار ہے۔ آج ہندوستان فائبر بہ فائبر، امتزاج بہ امتزاج، خطہ بہ خطہ اور کھیت بہ کھیت اپنی ٹیکسٹائل صنعت کی تاریخ کا ایک نیا اور شاندار باب رقم کر رہا ہے۔یہ صرف قدرتی ریشوں کی ترقی کی داستان نہیں، بلکہ خود انحصاری، پائیدار ترقی، دیہی خوشحالی اور عالمی قیادت کی جانب ہندوستان کے نئے سفر کی کہانی ہے، جو آنے والے برسوں میں دنیا کے ٹیکسٹائل منظرنامے کو نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
******
(مضمون نگار مرکزی وزیرِ ٹیکسٹائل ہیں، اس مضمون میں ظاہر کردہ آراء ان کی ذاتی ہیں۔)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں