
نیاز احمد سجاد
عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی داستان ملتی ہو جیسی فلسطین کے علاقے غزہ کی ہے۔ فلسطین اور بالخصوص غزہ کے عوام جان ہتھیلی پر رکھ کر دنیا کی طاقتور قوتوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ شہادت ان کے لئے نعمت مترقبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر ناجائز قبضوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پڑوسی ممالک، خواہ مصر ہو یا اردن، موقع ملنے پر اپنے مفادات حاصل کرنے سے باز نہیں آئے۔ غزہ دنیا کا واحد خطہ ہے جس نے اپنے مختصر رقبے میں ایک عظیم مہاجر آبادی کو پناہ دے رکھی ہے۔ مقبوضہ فلسطین کے تقریباً 44 شہروں کے باشندے اس علاقے میں آباد ہیں۔ یہ دنیا کے گنجان ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
فلسطین انبیاء و رسل کی سرزمین رہی ہے۔ تاریخ اسلام میں فلسطین اور بیت المقدس کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ سورۂ اسراء اس کی واضح مثال ہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول رہا۔ فلسطین وہ سرزمین ہے جہاں بنی اسرائیل میں متعدد انبیاء مبعوث ہوئے اور حق و باطل کی ایک طویل کشمکش نے جنم لیا۔
آج جب فلسطین اور خصوصاً غزہ کا تصور ذہن میں آتا ہے تو ظلم و جبر کی ایسی داستان سامنے آتی ہے جس کا تصور بھی دشوار ہے۔ کئی دہائیوں سے یہ خطہ جنگ و جدل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ عالم اسلام اور عالم عرب کی اکثریت محض مذمتی بیانات تک محدود ہے جبکہ مخالف طاقتیں اسلحے کی نوک پر عوام کی زندگی اجیرن کیے ہوئے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اپنے عالمی مفادات کے لئے سرگرم ہے تو دوسری جانب صہیونی قوتیں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
غزہ کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطین کے جنوب میں واقع یہ علاقہ، جس کی اکثریت پناہ گزینوں پر مشتمل ہے، ابتدا ہی سے مسلسل دباؤ اور محاصرے کا شکار رہا ہے۔ اسے مٹانے اور بے دخل کرنے کی مختلف تدبیریں اختیار کی جاتی رہی ہیں۔ عالم اسلام کو منتشر اور صہیونی طاقتوں کو مضبوط بنانے کے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تحریک انتفاضہ اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی حماس نے محدود وسائل کے باوجود جس عزم و استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پوری امت کے لئے غور و فکر کا پیغام ہے۔
غزہ کا محاصرہ، پابندیاں اور عوام کا استحصال ایک معمول بن چکا ہے۔ صہیونی استعماریت کی جڑیں مسلسل پھیل رہی ہیں جبکہ عالم عرب کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اگر عالم اسلام یہ سمجھتا ہے کہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا مسئلہ ہے تو یہ اس کی بڑی غلط فہمی ہے۔
طبرانی کی المعجم الاوسط میں حدیث قدسی منقول ہے:
"اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ مجھے میری عزت و جلال کی قسم! میں ظالم سے بدلہ ضرور لوں گا اور اس سے بھی جو قدرت رکھنے کے باوجود مظلوم کی مدد نہیں کرتا۔”
اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں ہزاروں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں جن میں مکانات، اسپتال، اسکول، سرکاری دفاتر اور بین الاقوامی اداروں کے مراکز شامل ہیں۔ ستر ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے باوجود اہل غزہ نے اپنے مسائل اور چیلنجز کے درمیان جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، وہ غیر معمولی ہے۔ سیاسی اور سماجی میدان میں بھی انہوں نے اپنی موجودگی منوائی ہے۔ عوام نے تعمیر و بحالی میں اہم کردار ادا کیا اور قربانیوں کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر کم ملتی ہے۔
بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر طبقے نے بے مثال حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ گزشتہ جمعہ اسرائیلی پابندیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ میں 65 ہزار نمازیوں کی حاضری اس عزم کی علامت ہے۔ دوسری طرف اسرائیل اندرونی سطح پر سیاسی و معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ اگرچہ جانی نقصان نسبتاً کم ہے، مگر مالی اور سماجی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے لئے مذاکرات کیے، لیکن جنگ بندی کے باوجود حملے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ عید الاضحیٰ کے دن بھی غزہ میں حملوں میں متعدد افراد شہید ہوئے۔ مزید یہ کہ 8 جون 2026 کو غزہ پٹی کی تمام گزرگاہیں بند کر دی گئیں، جس سے انسانی امداد کی فراہمی مزید دشوار ہو گئی ہے۔
اب وقت کا تقاضا ہے کہ حق دار کو اس کا حق دیا جائے، ظلم و جبر کا خاتمہ ہو اور انسانیت کو اس بحران سے نجات دلانے کے لئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مٹ نہیں سکتا کبھی دامنِ تاریخ سے داغ
خونِ مظلوم کبھی رائیگاں ہوتا ہی نہیں


