شبیر احمد میر
ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں گرفتار ہو چکی تھی۔ فرشتہ دروازے پر نشان لگا گیا تھااور سب نے یہ دیکھ بھی لیا تھا۔ہر آنے والے کو جانے کا عہد نبھانا پڑتا ہے اور اس کی زندگی کی تکمیل موت کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ وہ بھی اس دنیا سے چلی گئی اور اسی وقت سے اس کے شوہر کو ظالم زندگی نے اپنے مسائل کی طرف گھسیٹنا شروع کر دیا۔ہر رات کے دوسرے پہر میں چاروں طرف چھائی خاموشی ۔تنہائی اور نیم تاریکی میں ایک اداس دل سر جھکاے چپ چاپ اپنی دھڑکنوں میں زندگی تلاش رہا تھا۔لیکن راتوں کے گہرے سناٹے میں اکثر اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور ہوتی۔ ہر روز اس کے چہرے پر ادھوری نیند تحریر ہوتی ۔ وہ ایک باپ تھا۔سب بچوں کی شادی کر کے اطمینان سے بیٹھا تھااور دونوں ہاتھ اﷲکی بارگاہ میں اٹھتے۔ میرے مالک میری اولاد ہی میری جمع پونجی ہے۔میں اس جمح پونجی سے دستبر دار نہیں ہوسکتا ۔ مجھے سکون عطا کر۔ وہ سکون جو اپنی اولاد کو دیکھ کر ہوتا ہے۔شاید ایک باپ کی دعا قبول ہوجاے ۔کوئی قبولیت کی گھڑی میرا نصیب بن جاے۔
وہ ایسی کیفیت میں تھا۔بند دیوار سے بھی بات کرنے کو تیار ہوجاتا ۔تاکہ اسکا غم ہلکا ہو جاے۔ وہ جب اس دنیا سے چلی گئی ساری رونقیں ۔ ساری دلکشی۔محبت بھری باتیں۔ ہنسی ۔قہقے سب کچھ اپنے سنگ سمٹ کر چلی گئی اور اس کے وجود پر خزاں کا زرد رنگ اتر آیا۔ ایک الگ تھلک ہونے میں۔ ایک تنہاگوشے میں ۔نم آنکھیںلیے جانے کن کن تکلیف دہ منظر کو سوچتا رہا۔ اسے دیکھ کر سب کا دل کرب کی اتھاہ گہراہیوں میں گرنے لگتا تھا۔کوئی بھی اس کے کرب کے زایقے کو چکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہیںکسی ستون کے پیچھے سے یا کسی درخت کی اوٹ سے وہ جھانک کر مسکراے گی اور کہیگی۔ میں تو یہاں ہوں۔ وہ ضبط کی دشوار گزار راہوں سے گزر رہا تھا۔ ہر وقت وہ خلا میں کچھ کھوجتا رہتا۔ اس کے لہجے میں صدیوں کی اداسی در آئی تھی۔ کوئی بھی تو نہیں ۔ کوئی دوست ۔ کوئی غم خوار۔کوئی محرم راز ۔ کوئی بھی تو نہیںہے۔ آفاقی محبت جو خون بن کر دوڑتی ہے لمحے بھر کے لیے آپ کو جنجھوڑتی ضرور ہے۔ اب تو دور دور تک اس کی زندگی میں کوئی عورت نہیں تھی۔ وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا۔بکھر رہا تھا۔ کوئی سمیٹنے والا تک نہیں تھا۔ اسے خود کو خود ہی جوڑنا تھا۔ اس کے گالوں پر بہنے والے آنسو ں اس کی بے بسی کی داستان سنا رہے تھے۔ زندگی کی دھوپ چھادن میں کوئی بھی شخص ایک احساس ۔ ایک کیفیت ۔ ایک جذبہ جسے محبت کہتے ہیں ۔اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ ایک یقین ہے۔ اعتبار ہے۔ آسمانوں کی جانب سر بلندی کا زندہ احساس ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جس کی باہوں میں لوگ روز مرتے ہیں اور روز جیتے ہیں۔اس کے علاوہ جو غم ہیں وہ محبت نہ ہونے کے سبب ہے۔ اس گھر کی چہار دیواری میں خود کو یوںمحسوس کر رہا تھاجیسے اس کی روح کو ان دیکھی زنجیروں نے بری طرح جکڑ دیا ہو۔ کوئی خیال دل میں آتا تھا۔صرف اتنا ۔بے معنی اور بے نتیجہ ساکہ وہ ان مہمل خیالات کی یلغارسے ٔبدحواس سا ہو گیا تھا اور لوگ بے بسی کو صبر کا نام دے رہے تھے۔ وہ اعلی درجے کے پراعتماد اور مظبوط سہی۔ مگر کہیں اندر کسی تہہ میں وہ کمزور تھے۔ جسے کوئی بہت باریک بین ہی پہچان سکتا تھا، نہ جانے کہا ں سے کدہر سے اس کے دل میں ایک چور دروازہ نکل آیا اور اس چور دروازے سے کوئی چپکے چپکے دبے پاوں لیکن جارحانہ انداز میں اندر گھستی چلی آرہی تھی۔ اس وقت دہ کھڑکی میں بیٹھا خلا کو گھور رہا تھا کہ شفاف آسمان پر سفید بادل کا ایک ٹکڑا تیر رہا تھا۔ ٹکڑے نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنی شکل بدلی اور کسی ایسی دوشیزہ کی طرح دکھائی دینے لگا جس کے کھلے بال تیز ہوا میں لہرا رہے ہوں ۔ وہ ٹک ٹکی لگا کر اس بادل کے ٹکڑے کو غور سے دیکھ رہا تھا اور خاموشی کا ایک طویل وقفہ ۔جس میں وہ ایک دوسرے سے بہت کچھ کہہ گیے۔ وہ باتیں جو الفاظ کی محتاج نہ تھیں اور سب سمجھ گے ۔جو ضروری تھا۔اس کے بعد اب کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب اس کے خواب نے ۔ اس کے شعور نے کی سطح کو نہ چھیڑا ہو ۔دور قلب کی گہراہیوں میں دل میں پسند یدگی کی کویی خفیف لہر ہلکورے لیتی ہو۔ مگرپھر بھی سوچ رہا تھا ۔ایک عمارت کو نیے سرے سے بنانا آسان ہے۔ کسی منہدم کھنڈر کو پھر سے مظبوط بنیادوں پر تعمیر کرنا بہت ہی مشکل ہے ۔ میں بزدل کی طرح ڈر جاتا ہوں۔سچ بولا تو سب ختم ہو جاے گا ۔ زندگی کے سارے خواب ٹوٹ کر بکھر جاییں گے۔ جیسے کوئی فانوس سنگ مر مر کے فرش پر گرے اور ختم ہو جاے۔ نہ اس کا حسن رہے ۔نہ روشنی ۔نہ وقار ۔اپنے دل کو تسلی دیتے ہوے من ہی من میں سوچا ۔آدمی الجھا ہوا ہو اپنی سوچ اپنا فیصلہ ایک جگہ نہ ہو وہ بیٹھے بٹھاے بھی ادھر سے ادھر بھٹکتا رہتا ہے ۔ ویسے عورت ہو یا مرد جینے کی ضرورت تو سب کی مجبوری ہے ۔
آج وہ اپنے بستر پر لیٹا یک ٹک چھت کو گھور رہا تھا ۔پہلی بار اسے لگا اس کی زندگی خالی ہوگئی ہے۔ہر مقصد ۔ہر خواہشں ۔ہر خواب سے خالی ۔ ایسی زندگی کا وہ کیا کرے گا۔ سوچتے سوچتے آچانک چھت میں اسے ایک چہرہ دکھائی دیا اور اس کی آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔
دیکھو ! آنکھیں بند کر لینے سے سورج کی روشنی کم نہیں ہو جاتی۔جیسا تمہارا حال ہے ۔ویسا ہی میرا بھی ہے۔میں بھی شوہر کے بغیر جی رہی ہوں ۔مگر میرے دل کے اندر بے تحاشا لفظ اٹکے ہوے ہیں۔ بہت سے جزبے ہیں جھنیں میں نے کبھی زبان نہیں دی ۔ میں ایک خاموش کہانی کی جیتی جاگتی کردار ہوں ۔ میرے لفظ بن کہے ہی معلوم ہو جاتے ہیں ۔ قدرت کی ہر شے انسان سے پیار کرتی ہے۔ بس زرا اس کے قریب جانے کی دیر ہوتی ہے۔ میرے بس میں ہوتا ۔ تو میں پل بھر میں تمہارے لبوں پر مسکراہٹ پھیلا دیتی ۔تمہاری آنکھوں میں چمک بھر دیتی اور تمہارے گالوں پر گلاب کھلا دیتی ۔محبت تو اس بہار کا نام ہے جو خزاں رسیدہ پتیوں کو بھی ہرا بھرا کر دیتی ہے۔ہم دونوں کے پاس جہاں کی نعمیتں ہیں ۔ہم دونوں اللہ کا جتنا شکر کریں کم ہے ۔مگر پھر بھی ہم دونوں میں ایک کمی ہے اور اس کمی نے ہم دونوں کی زات اور زندگی میں خلا سا بھر دیا ہے۔ہم دونوں ادھورے سے ہیں ۔ایک خالی پن سا ہے ۔جو ہم دونوں کو کسی بھی خوشی سے مکمل خوشی ہونے نہیں دیتا ۔یہ خوبصورت رشتہ انسانی زندگی کو سیراب کر کے اسے شاداب بناتا ہے۔ اس کے بغیر زندگی آب و گیاہ صحرا کے مانند ہے ۔ یہ اللہ کی طرف سے کرہ ارض پر بڑا تحفہ ہے۔ ایک عورت فطرت کی رعنائی اور لطافت ہے۔ روح کی مصور اور حسن کی پیمبر ہے۔ پھولوں سے زیادہ کومل اور جل سے کہیں زیادہ نرمل ہے۔ یہ قدرت کا زندہ لمس ہے۔ ہم دونوںکی روحیں ازل سے کسی گوشے میں ایک دوسرے سے متعارف ہے ۔ ہم اپنے دکھ میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے کی محبت کو دیکھتے ہی نہیں ۔ عشق، محبت، اپنا پن دھیرے دھیرے اس کے وجود میںکئی سر بجنے لگیں۔ بھیگی ہوئی آنکھیں ۔محبت کی احساس کی شدت سے گلابی ہونے لگیں۔ آپ ایک بار ان فضول سوچوں سے چھٹکارا پا کر تو دیکھیں ۔ زندگی کتنی آسان ہو جاے گی۔ جب آپ میری محبت پر یقین کرو گے اور اپنی ان آنکھوںکی فکریں مجھے دیدوگے ۔ محبت ڈر کے ساتھ جیتی اچھی نہیں لگتی۔ مجھے اپنی ان آنکھوں میں رہنے دو۔ اس ڈر کی جگہ میں لے سکتی ہوں۔ ہم میں ایسی کون سی کمی ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے ہونے سے روکتی ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے چور راستے سے پوری ہونے والی حواہش دل کا بوجھ اور روح کا ناسور بن جاتی ہے۔ یہ جو آپ کے من میں خواہشوں کا جنگل اگ رہا ہے۔ یہ آپ کو کبھی سکھ سے رہنے نہیں دیگا۔ ان کے پیچھے بھاگ بھاگ کر پاوں زخمی کر لیا کرے گااور ان خواہشوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر روح کو بھی زخمی کرے گا۔ پر یہ زخم آپ کو تب دکھائی دینے لگیں گے۔ تب تک بہت دیر ہوچکیی ہوگی۔ تب ان زخموں کا علاج ہم دونوں کے پاس نہیں ہوگا۔ یہ صرف ہم دونوں ہیں ۔جو ایسی زندگی کو اس گہرائی تک جانچ سکتے ہیں۔ ۔ صرف ہم ۔
بس سمجھ لیں ۔یہی آپ کا اور میرااصل ہے۔ یہ ہمارا اندر ہے اور یہ اندھرا جو ہم دونوں کے آنے سے پہلے کمرے میں پھیلا ہوا تھا ۔یہ ہم دونوں کا نصیب ہے۔ ہماری زندگی میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ وہ میرے کندھے سے لگ کر اپنے سارے دکھ آنسووں کی صورت میں بہا دینا چاہتی تھی ۔ وہ بے حس حرکت بیٹھی رہی۔ میں نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کرتے ہوے اپنے دونوں بازو آگے بڑھایے۔ تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ میرے دونوں بازو پھیلے ہوے تھے۔ خیالوں سے باہر نکل کر میرے ہونٹ نصف دایرے کی شکل میں سکڑ گیے۔ میری آنکھوں میں غم کے تاثرات تھے۔ اس دنیامیں کتنی بیوہ عورتیں ہے ۔ وہ اگر چاہتا تو اپنے ہونٹوں کی معمولی جنبش سے کسی ایک کا غم بھی دور کر دیتا۔ مرد تو عورت کا مظبوط تر سہارا ہوتا ہے۔ اس وقت تو عورت میرا سہارا بنی ہوئی ہے۔ اس عظیم نعمت سے میں منہ کیوں موڑرہا ہوں۔ وہ بھی تو سوچتی ہے ۔کب یہ حسین پیکر میرا حق بن کر میرے دل میں بیٹھ جایے۔اس کو خیالوں سے نکالنے کاخیال ۔کیوں روح کو ہلا دیتا ہے۔ واقعی تم آرام ہو۔ سکون ہو۔ میری راتوں کی نیند ہو۔ تم اس نیند میں ایک خواب ہو۔ میں سوتا ہوں اور تعبیر کے لیے تم پکارتی ہو۔ تم میری محبت ہو۔ دل کی دھڑکن ہو۔ حالات کی سچائی ہواورمیرے شانہ بہ شانہ لڑنے والی ایک قوت ہو۔ مر جانے والے کبھی نہیں واپس لوٹتے اور پیچھے رہ جانے والوں کو روند جاتے ہیں۔ ماضی کا حصہ بن جانے والے بجھی ہوئی چنگاری ہوتے ہیں۔ کریدوگے تو آگ بھڑک اٹھے گی ۔ ہم کیوں جلانا چاہتے ہیں خود کو ۔ اپنے وجود کو۔ ہم دونوں کووہ سکون چاہیے ۔جو ایک دوسرے کے وجود سے زندگی میں آتا ہے۔ بعض لمحے انسانوں کی زندگی میں تبدیلی کے لمحے ہوتے ہے۔ بڑی بڑی تبدیلیوں کے صرف ایک لمحے کی ضرورت ہوتی ہے ۔جو انسان کو بہت ساری زنجیروں سے آزاد کر دیتا ہے۔ واقعی محبت ایک بے اختیاری اور مقدس جذبہ ہے اور ہر مقدس چیز کا احترام تو لازمی ہے۔ پھر میں کیا۔ میری اوقات کیا۔ تم ا ﷲکی بنائی ہوئی وہ مخلوق ہو جس کے سامنے خود کو بے آسرا پایا۔ اداسی اور تنہائی کا گھیرا تنگ ہونے لگے تو کسی مہربان کے نرم ہاتھوں کی تمنا جاگتی ہے ۔جو اس تنگ گھیرے کو مزاحمت کر کے توڑ ڈالے۔ سینے سے لگایے۔ پیشانی کو بوسہ دیے بغیر پوچھے نادیدہ زخم پر مرہم رکھے ۔ احساس ہمدردی ۔ خیرخواہی یہ احساسات جتنے عورت میں ہے مرد میں نہیں۔ یہ ایک بے حس خودغرض زات ہے۔ عورت کائینات کی سب سے حساس اور رحم دل اور محبت کرنے والی مخلوق ہے۔ جو دوسروں کے لیے جینا اپنا مقصد زندگی سمجھتی ہے۔ جن کے دل وسیع اور حوصلے پہاڑوں کی طرح بلند ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ساری زندگی دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہوکر ان کے غموں کو بانٹ کر گزار دیتی ہے۔ جہاں زندگی ختم ہوتی ہے وہاں سے ہی دوبارہ شروع ہوتی ہے۔ یہ تقاظے اور زندگی کے اصول ہیں۔ میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے فرض تو کر سکتا ہوں کہ سب ٹھیک ہے۔ مگر ایسا کرنے سے سچائی بدلے گی نہیں ۔ مجھے عورت زات سے محبت ہے اور یہ بات دنیا اچھی طرح سے جانتی ہے۔ اگر میں عورت زات سے نہیں بھی کہوں کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے تو کیا اسے اس کی خبر نہیں ۔ وہ تو یہی کہے گی ۔کہ ابھی تک تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آیا اور یاد رکھنا ۔ اگر تم نے جھوٹ بولنا سیکھ بھی لیا تو مجھ سے نہیں بول سکو گے کیونکہ محبت کرنے والی وفاشعار عورت سب سے بڑے سکون کا باعث ہوا کرتی ہے۔
وہ اب آنکھیں کھولے نظروں سے بغیر پلکیں جھپکاے خلا کو گھورنے لگا تو دور سے ایک بادل کے ٹکڑے نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا۔تم وہ آدمی ہو جس کے پاس میرے دل کی چابی ہے ۔اجنبیوں کے ہجوم میں ایک دو شنا سا چہرے بھی دل کو تقویت پہچھاتے ہیں ۔محبت الگ الگ لمحوں میں وارد ہوتی ہے جیسے اوس ۔ بارش کی طرح نہیںبرستی ۔ نظر بھی نہیں آتی ۔ لیکن گیلا ضرور کر دیتی ہے ۔اس معاشرے میں ابھی بھی لوگوں میں کس قدر جہالت ہے ۔کسی کے دکھ۔ تکلیف کا کوئی احساس نہیں ۔اپنی عزت داری کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیںیہ لوگ ۔آج کل کسی انسان کے ساتھ حادثہ ہوتا ہے تو اپنے ہی گھر کے لوگ اسے مزید ٹارچر کر کے اسے مریض قرار دے دیتے ہیں ۔اب وہ چاہتا تھا کہ اس کی زندگی میں بھی کوئی ہو۔ جو اس کی روکھی پھیکی بے رونق زند گی میں خواب بھر کر اسے رنگین بناے۔ اسے زندگی کا نیا پیرہن عطا کرے ۔
ہر روز ۔۔۔
رات سنتی رہی میں سناتا رہا
درد کی داستان میں بتاتا رہا
اب نہیں۔ کیونکہ ۔۔۔اکیلا ہوں میں ہمسفر ڈھنڈتا ہوں
محبت کی راہ میں رہگزڈ دھنڈتا ہوں۔
اس تحریر سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز


