شارک کی شامت

محمد شاکر لبانہ

گرین لینڈ کے گہرے اور تاریک سمندر میں پہاڑوں کے درمیان ایک شارک رہتا تھا ۔جس کا نام شارکو تھا ۔شارکو شیطان صفت اور بہت ہی ظالم تھا۔دوسرے سمندری مخلوق کو تنگ کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا ۔اس کے اسی رویے کی وجہ سے اس کے اپنے شارکس بھی اس کو چھوڑ کر بہت دور تاریک سمندر میں چلے گئے تھے ۔شارکو کو بہت زیادہ بھوک لگتی تھی ۔وہ ہر وقت ہی بھوکا رہتا تھا ۔اپنی بھوک کو مٹانے کے لئے وہ اکثر اس پاس کے قریبی مچھلیوں کو پہلے انہیں تنگ کرکے مظوظ ہوتا اور اس کے بعد ان کو کھا کر اپنی بھوک مٹاتا تھا ۔چھوٹی مچھلیاں آ کثر اس کے ظلم کا شکار رہتی تھی ۔اس کے اس ظلم کی وجہ سے باقی کی مچھلیاں اس سمندری حصے کو چھوڑ کر کسی دوسرے سمندری حصے کی طرف چلی گئی تھی ۔

شارکو گہرے سمندر میں تنہا رہ گیا تھا اور اسے بھوک بھی بہت لگ رہی تھی ۔وہ اس پاس کے گہرے سمندر میں چھوٹی مچھلیوں کو ڈھونڈنے لگا لیکن وہ کہیں نہیں ملی تھی ۔اچانک شارکو کو سامنے بہت بڑی بلیوں وہیل گزرتی ہوئی نظر آئی ۔اس کا حجم اتنا بڑا تھا کہ شارکو اس کا سر اور دم نظر ہی نہیں آرہا تھا بس اس کا دھڑ ہی نظر آرہا تھا ۔شارکو بلیوں وہیل کو وہاں سے گزرتے ہوئے روزانہ دیکھتا تھا ۔پر شارکو کو اس کو تنگ کرنے سے ڈر لگتا تھا ۔

لیکن شارکو کو آج بھوک نے ستایا ہوا تھا ۔اس کے شیطانی دماغ میں ایک خرافاتی ایڈیا آیا تھا ۔اس نے بلیو وہیل کو درمیان سے اپنے نوکیلے دانتوں سے کاٹ کر وہاں سے بھاگ نکلا تھا ۔بلیو وہیل سائز میں بہت بڑی اور بہت سلو تھی اس کو واپس پلٹنے میں کافی وقت لگتا تھا۔اس لئے شارکو نے یہ ترکیب سوچی تھی۔

بلیو وہیل کو درد ہوا تو اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تب تک شارکو وہاں سے بھاگ نکلا تھا ۔بلیو وہیل کو شارکو کی شیطانیت کا پتہ تھا ۔اس نے سوچا یہ حرکت اس نے کی ہوگی۔اس کے علاؤہ اس سمندری حصے میں کوئی اور تھا بھی نہیں ۔

بلیو وہیل ،شارکو کو ڈھونڈنے لگی وہ اس کو ایسا سبق سکھائے گئی کے وہ آئندہ کبھی ایسی حرکت کرنے کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں ۔

بلیو وہیل نے شارکو کو ہر جگہ ڈھونڈا پر وہ کہیں بھی نہیں ملا تھا ۔بلیو وہیل کے سامنے سمندری پہاڑ تھے جو سمندر کے اوپر کم اور سمندر کے اندر بہت حد تک پھیلے ہوئے تھے ۔بلیو وہیل نے سوچا شارکو اسی پہاڑوں میں چھپا ہوا ہوگا۔اس لئے اس نے ان پہاڑوں کو اتنی زور سے ٹکر ماری کے پہاڑ کے اوپری حصے ٹوٹ پھوٹ کر سمندر میں گرے اور جہاں پہاڑوں کے کھلے ہوئے دہانے تھے وہ پہاڑوں کے ٹکڑوں کے گرنے سے بند ہوگئے تھے ۔بلیو وہیل وہاں سے چلی گئی تھی ۔

شارکو جو ان پہاڑوں میں موجود دہانے میں چھپ کر بیٹھا تھا اچانک پہاڑ لرزنے لگے تھے اور پہاڑوں کے ٹکڑے دہانے کے سامنے آ کر راستے کو بند کردیے تھے ۔اب شارکو پہاڑوں کے دہانوں کے بند ہو جانے سے پھنس چکا تھا اور چاہا کر بھی وہاں سے باہر نہیں نکل سکتا تھا ۔شارکو کو احساس ہوا کہ اس نے بلیو وہیل کو چھیڑ کر کتنی پڑی غلطی کردی تھی ۔اب جب اس اپنے سامنے مصیبت نظر آئی تو اس کو ان چھوٹے مخلوق کی پر اس کے کیے ہوئے ظلم کی یاد آئی تھی وہ بھی تو ایسی ہی دوسروں کو مصیبت میں پہنچا کر محظوظ ہوتا تھا ۔

اج اس کی شامت کا دن تھا ۔اس کو یہاں سے بچانے کے لئے کوئی بھی نہیں آنے والا تھا کیونکہ سب تو اس کے ظلم سے ڈر کر وہاں سے بھاگ نکلے تھے ۔اب اس کو اپنے کئیے پر پچتاو ہورہا تھا۔

کبھی کبھی آپ کی چھوٹی سی غلطی آپ کے لیئے وبال جان بن جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

شارک کی شامت

محمد شاکر لبانہ

گرین لینڈ کے گہرے اور تاریک سمندر میں پہاڑوں کے درمیان ایک شارک رہتا تھا ۔جس کا نام شارکو تھا ۔شارکو شیطان صفت اور بہت ہی ظالم تھا۔دوسرے سمندری مخلوق کو تنگ کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا ۔اس کے اسی رویے کی وجہ سے اس کے اپنے شارکس بھی اس کو چھوڑ کر بہت دور تاریک سمندر میں چلے گئے تھے ۔شارکو کو بہت زیادہ بھوک لگتی تھی ۔وہ ہر وقت ہی بھوکا رہتا تھا ۔اپنی بھوک کو مٹانے کے لئے وہ اکثر اس پاس کے قریبی مچھلیوں کو پہلے انہیں تنگ کرکے مظوظ ہوتا اور اس کے بعد ان کو کھا کر اپنی بھوک مٹاتا تھا ۔چھوٹی مچھلیاں آ کثر اس کے ظلم کا شکار رہتی تھی ۔اس کے اس ظلم کی وجہ سے باقی کی مچھلیاں اس سمندری حصے کو چھوڑ کر کسی دوسرے سمندری حصے کی طرف چلی گئی تھی ۔

شارکو گہرے سمندر میں تنہا رہ گیا تھا اور اسے بھوک بھی بہت لگ رہی تھی ۔وہ اس پاس کے گہرے سمندر میں چھوٹی مچھلیوں کو ڈھونڈنے لگا لیکن وہ کہیں نہیں ملی تھی ۔اچانک شارکو کو سامنے بہت بڑی بلیوں وہیل گزرتی ہوئی نظر آئی ۔اس کا حجم اتنا بڑا تھا کہ شارکو اس کا سر اور دم نظر ہی نہیں آرہا تھا بس اس کا دھڑ ہی نظر آرہا تھا ۔شارکو بلیوں وہیل کو وہاں سے گزرتے ہوئے روزانہ دیکھتا تھا ۔پر شارکو کو اس کو تنگ کرنے سے ڈر لگتا تھا ۔

لیکن شارکو کو آج بھوک نے ستایا ہوا تھا ۔اس کے شیطانی دماغ میں ایک خرافاتی ایڈیا آیا تھا ۔اس نے بلیو وہیل کو درمیان سے اپنے نوکیلے دانتوں سے کاٹ کر وہاں سے بھاگ نکلا تھا ۔بلیو وہیل سائز میں بہت بڑی اور بہت سلو تھی اس کو واپس پلٹنے میں کافی وقت لگتا تھا۔اس لئے شارکو نے یہ ترکیب سوچی تھی۔

بلیو وہیل کو درد ہوا تو اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تب تک شارکو وہاں سے بھاگ نکلا تھا ۔بلیو وہیل کو شارکو کی شیطانیت کا پتہ تھا ۔اس نے سوچا یہ حرکت اس نے کی ہوگی۔اس کے علاؤہ اس سمندری حصے میں کوئی اور تھا بھی نہیں ۔

بلیو وہیل ،شارکو کو ڈھونڈنے لگی وہ اس کو ایسا سبق سکھائے گئی کے وہ آئندہ کبھی ایسی حرکت کرنے کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں ۔

بلیو وہیل نے شارکو کو ہر جگہ ڈھونڈا پر وہ کہیں بھی نہیں ملا تھا ۔بلیو وہیل کے سامنے سمندری پہاڑ تھے جو سمندر کے اوپر کم اور سمندر کے اندر بہت حد تک پھیلے ہوئے تھے ۔بلیو وہیل نے سوچا شارکو اسی پہاڑوں میں چھپا ہوا ہوگا۔اس لئے اس نے ان پہاڑوں کو اتنی زور سے ٹکر ماری کے پہاڑ کے اوپری حصے ٹوٹ پھوٹ کر سمندر میں گرے اور جہاں پہاڑوں کے کھلے ہوئے دہانے تھے وہ پہاڑوں کے ٹکڑوں کے گرنے سے بند ہوگئے تھے ۔بلیو وہیل وہاں سے چلی گئی تھی ۔

شارکو جو ان پہاڑوں میں موجود دہانے میں چھپ کر بیٹھا تھا اچانک پہاڑ لرزنے لگے تھے اور پہاڑوں کے ٹکڑے دہانے کے سامنے آ کر راستے کو بند کردیے تھے ۔اب شارکو پہاڑوں کے دہانوں کے بند ہو جانے سے پھنس چکا تھا اور چاہا کر بھی وہاں سے باہر نہیں نکل سکتا تھا ۔شارکو کو احساس ہوا کہ اس نے بلیو وہیل کو چھیڑ کر کتنی پڑی غلطی کردی تھی ۔اب جب اس اپنے سامنے مصیبت نظر آئی تو اس کو ان چھوٹے مخلوق کی پر اس کے کیے ہوئے ظلم کی یاد آئی تھی وہ بھی تو ایسی ہی دوسروں کو مصیبت میں پہنچا کر محظوظ ہوتا تھا ۔

اج اس کی شامت کا دن تھا ۔اس کو یہاں سے بچانے کے لئے کوئی بھی نہیں آنے والا تھا کیونکہ سب تو اس کے ظلم سے ڈر کر وہاں سے بھاگ نکلے تھے ۔اب اس کو اپنے کئیے پر پچتاو ہورہا تھا۔

کبھی کبھی آپ کی چھوٹی سی غلطی آپ کے لیئے وبال جان بن جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون