چیخ

محمد ایوب گنائی

ترال، پلوامہ کشمیر

وادی کے اس دور افتادہ گاؤں میں راتیں ہمیشہ جلدی اتر آتی تھیں۔ پہاڑوں کے سائے شام سے پہلے ہی زمین پر پھیل جاتے اور لوگ دروازے بند کر کے گھروں میں دبک جاتے۔ سردیوں کی ایک ایسی ہی رات تھی جب برف مسلسل تیسرے دن بھی گر رہی تھی۔ ہوا درختوں سے ٹکراتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی انجانی مخلوق چیخ رہی ہو۔

گاؤں کے کنارے ایک پرانا، نیم شکستہ بڑا مکان تھا۔ لوگ اسے “بوڑھا بڑا مکان” کہتے تھے۔ وہاں کبھی رئیس خاندان آباد تھا، مگر اب صرف ایک شخص رہتا تھا — سلیم۔

سلیم گاؤں والوں کے لیے ایک معمہ تھا۔ کم گو، تنہا، اور ہر وقت کسی انجانے خوف میں مبتلا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کی بیوی برسوں پہلے ایک رات اچانک غائب ہو گئی تھی۔ کسی نے کہا وہ دریا میں ڈوب گئی، کسی نے کہا وہ پاگل ہو کر جنگلوں میں بھٹک گئی، مگر سلیم نے کبھی کچھ نہ بتایا۔

صرف ایک بات گاؤں میں مشہور تھی۔

ہر سرد رات میں، آدھی رات کے قریب، اس بڑے مکان سے ایک خوفناک چیخ سنائی دیتی تھی۔

ایسی چیخ کہ سننے والے کے بدن میں کپکپی دوڑ جائے۔

ابتدا میں لوگوں نے سمجھا شاید جنگلی جانوروں کی آواز ہے، مگر پھر یہ چیخ ہر رات آنے لگی۔ بچے ڈر کر ماؤں سے لپٹ جاتے۔ عورتیں دعائیں پڑھتیں۔ مرد بہادری کا دعویٰ تو کرتے، مگر اندھیرا ہوتے ہی اس طرف جانے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔

ایک دن شہر سے ایک نوجوان صحافی، حارث، اس گاؤں میں آیا۔ وہ پراسرار واقعات پر مضامین لکھتا تھا۔ جب اس نے “بوڑھے بڑے مکان” اور چیخ کا قصہ سنا تو اس کی دلچسپی بڑھ گئی۔

“یہ سب وہم ہے،” اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، “ہر چیخ کے پیچھے کوئی نہ کوئی حقیقت ہوتی ہے۔”

گاؤں کے بزرگ حاجی صاحب نے دھیمی آواز میں کہا، “بیٹا، کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جاننا انسان کے حق میں بہتر نہیں ہوتا۔”

مگر حارث نہ مانا۔

اسی رات وہ اپنا کیمرہ اور نوٹ بک لے کر بڑے مکان پہنچ گیا۔ برف رک چکی تھی، مگر فضا میں عجیب سی سنسناہٹ تھی۔ بڑے مکان کے دروازے پر دستک دی تو کافی دیر بعد سلیم نمودار ہوا۔

اس کی آنکھیں سرخ تھیں، جیسے کئی راتوں سے سویا نہ ہو۔

“کیا چاہیے؟”

“میں صحافی ہوں۔ آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”

سلیم نے خاموشی سے اسے اندر آنے دیا۔

بڑا مکان اندر سے کہیں زیادہ خوفناک تھا۔ دیواروں پر نمی کے سیاہ دھبے تھے۔ پرانی تصویریں گرد میں اٹی ہوئی تھیں۔ ایک کمرے کے دروازے پر بھاری زنجیر بندھی ہوئی تھی۔

حارث نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

سلیم فوراً بولا، “اس دروازے کے قریب مت جانا۔”

“کیوں؟”

“بس مت جانا۔”

رات گہری ہونے لگی۔ حارث نے مختلف سوال کیے، مگر سلیم ہر بار مختصر جواب دیتا رہا۔ آخر حارث نے براہِ راست پوچھ لیا:

“لوگ کہتے ہیں ہر رات یہاں سے چیخ آتی ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟”

سلیم کا چہرہ زرد پڑ گیا۔

“اگر تم صبح زندہ واپس جانا چاہتے ہو تو آدھی رات سے پہلے یہاں سے چلے جاؤ۔”

“اور اگر نہ جاؤں؟”

سلیم نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“پھر تم بھی وہی سنو گے جو میں پندرہ برس سے سنتا آ رہا ہوں۔”

کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔

گھڑی نے بارہ بجائے۔

پہلے سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ پھر اچانک زنجیر والے کمرے سے دھیمی آواز آئی۔ جیسے کوئی آہستہ آہستہ دیوار کھرچ رہا ہو۔

خررر… خررر…

حارث کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔

آواز بڑھنے لگی۔

پھر ایک عورت کی سسکی سنائی دی۔

“سلیم…”

سلیم کانپ اٹھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان بند کر لیے۔

“نہیں… نہیں…”

اچانک زنجیر زور سے ہلی۔

دھڑام!

حارث اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔ اس کے جسم میں خوف سرایت کر چکا تھا، مگر تجسس اب بھی غالب تھا۔

“اس کمرے میں کون ہے؟”

سلیم کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔

“میری سزا…”

اور پھر…

ایک ایسی دل دہلا دینے والی چیخ گونجی کہ پورا بڑا مکان لرز اٹھا۔

حارث کے قدم لڑکھڑا گئے۔ وہ چیخ کسی انسان کی تھی، مگر اس میں ایسا درد تھا جیسے برسوں کی اذیت ایک لمحے میں پھٹ پڑی ہو۔

چیخ کے بعد اچانک خاموشی چھا گئی۔

حارث نے کانپتے ہاتھوں سے زنجیر کو چھوا۔

“مت کھولو!” سلیم چلایا۔

مگر دیر ہو چکی تھی۔

زنجیر کھل گئی۔

دروازہ چرچراتا ہوا آہستہ سے کھلا۔

کمرہ بالکل خالی تھا۔

صرف ایک پرانی کرسی، ٹوٹا ہوا آئینہ، اور دیوار پر ناخنوں سے لکھی ایک سطر:

“میں اب بھی یہیں ہوں۔”

حارث کی سانس رک گئی۔

اسی لمحے اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔

اس نے آہستہ سے مڑ کر دیکھا۔

ایک عورت… سفید کپڑوں میں… بکھرے بال… خون آلود آنکھیں…

اور پھر وہ چیخی۔

وہی چیخ۔

مگر اس بار وہ چیخ صرف بڑے مکان میں نہیں، حارث کے اندر گونجی۔

اگلی صبح گاؤں والوں نے بڑے مکان کا دروازہ کھلا پایا۔

اندر صرف سلیم تھا، دیوار کے ساتھ بیٹھا ہوا، پتھر کی مانند خاموش۔

“وہ شہر والا کہاں ہے؟” لوگوں نے پوچھا۔

سلیم نے لرزتے ہونٹوں سے کہا:

“اب وہ بھی چیخ سن سکتا ہے…”

“کیا مطلب؟”

سلیم نے آہستہ سے سامنے کی دیوار کی طرف اشارہ کیا۔

وہاں تازہ ناخنوں سے ایک نئی سطر لکھی تھی:

“اب ہم دو ہیں۔”

سلیم کی آنکھیں دیوار پر جمی ہوئی تھیں۔ گاؤں والے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔ کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ اس کمرے کے قریب جائے۔ ہوا میں اب بھی وہی عجیب سی نمی اور خوف گھلا ہوا تھا۔

حاجی صاحب نے کپکپاتی آواز میں کہا، “میں نے کہا تھا… اس بڑے مکان کے راز کو نہ چھیڑو۔”

مگر اس دن کے بعد گاؤں میں ایک اور بات مشہور ہو گئی۔

اب چیخ ایک نہیں، دو آوازوں میں سنائی دیتی تھی۔

ایک عورت کی… اور ایک مرد کی۔

رات ڈھلتے ہی پورا گاؤں سنسان ہو جاتا۔ لوگ جلدی دروازے بند کر لیتے۔ کتوں نے بھی اس طرف بھونکنا چھوڑ دیا تھا۔ جیسے جانور بھی اس خوف کو محسوس کرنے لگے ہوں۔

سلیم دن بہ دن خاموش ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے بال اور زیادہ سفید ہو گئے تھے۔ وہ اکثر بڑے مکان کے برآمدے میں بیٹھا دور پہاڑوں کو تکتا رہتا، جیسے کسی انجام کا انتظار کر رہا ہو۔

تین دن بعد گاؤں میں ایک اور شخص آیا۔

وہ ایک ادھیڑ عمر عورت تھی، سیاہ شال میں ملبوس، چہرہ تھکن سے بوجھل۔ اس نے خود کو زینب بتایا۔

“میں حارث کی بہن ہوں۔”

یہ سنتے ہی گاؤں میں خاموشی چھا گئی۔

زینب سیدھا بڑے مکان پہنچی۔ سلیم دروازے پر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔

“میرا بھائی کہاں ہے؟”

سلیم نے نظریں چرا لیں۔

“چلا گیا…”

“کہاں؟”

“جہاں سے لوگ واپس نہیں آتے۔”

زینب کی آنکھوں میں غصہ ابھرا۔

“یہ پہیلیاں مت بوجھو۔ مجھے سچ بتاؤ۔”

سلیم چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا، “سچ سننے کی قیمت ہوتی ہے۔”

“میں ادا کروں گی۔”

سلیم پہلی بار ہلکا سا مسکرایا۔ وہ مسکراہٹ کسی زندہ انسان کی نہیں لگتی تھی۔

“ہر شخص یہی کہتا ہے۔”

رات ہونے لگی۔ زینب نے فیصلہ کیا کہ وہ بڑے مکان سے نہیں جائے گی۔ گاؤں والوں نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔

“اگر میرا بھائی یہاں آیا تھا تو میں بھی یہیں رہوں گی۔”

اسی زنجیر والے کمرے کے سامنے بیٹھ کر اس نے رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔

آدھی رات کے قریب ہوا اچانک تیز ہو گئی۔ کھڑکیاں بجنے لگیں۔ شمع کی لو بار بار لرزتی۔

پھر وہی آواز…

خررر… خررر…

جیسے کسی کے ناخن دیوار پر رینگ رہے ہوں۔

زینب کے چہرے کا رنگ بدل گیا، مگر وہ اپنی جگہ بیٹھی رہی۔

پھر دھیمی سرگوشی سنائی دی۔

“زینب…”

وہ چونک اٹھی۔

یہ حارث کی آواز تھی۔

“حارث؟!”

آواز دوبارہ آئی، اس بار زیادہ قریب سے۔

“مجھے یہاں سے نکالو…”

زینب دوڑ کر دروازے تک پہنچی۔ سلیم اچانک سامنے آ گیا۔

“دروازہ مت کھولنا!”

“وہ اندر ہے!”

“وہ اب تمہارا بھائی نہیں رہا!”

مگر محبت خوف سے زیادہ طاقتور تھی۔ زینب نے پوری قوت سے سلیم کو دھکا دیا اور زنجیر کھول دی۔

دروازہ کھلتے ہی ٹھنڈی ہوا کا شدید جھونکا آیا۔ شمع بجھ گئی۔

کمرہ تاریکی میں ڈوب گیا۔

چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔

پھر اندھیرے میں کسی کے قدموں کی آواز گونجی۔

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

زینب کی سانسیں رکنے لگیں۔

اچانک بجلی چمکی۔

اور اس لمحے اس نے اسے دیکھا۔

حارث دیوار کے ساتھ کھڑا تھا۔

مگر وہ پہلے جیسا نہیں تھا۔

اس کا چہرہ زرد اور آنکھیں مکمل سیاہ تھیں۔ ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ تھی، جیسے چہرے پر کسی اور روح کا قبضہ ہو۔

“حارث…” زینب کی آواز لرز گئی۔

وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔

“تم مجھے لینے آئی ہو؟”

اس کی آواز میں کئی آوازیں شامل تھیں۔ مرد، عورت، بچے… جیسے بے شمار لوگ ایک ساتھ بول رہے ہوں۔

سلیم چیخ اٹھا، “پیچھے ہٹو!”

مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔

حارث نے زینب کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اس کا ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔

اور پھر…

پورا کمرہ ایک خوفناک چیخ سے گونج اٹھا۔

اس بار چیخ اتنی شدید تھی کہ بڑے مکان کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر فرش پر بکھر گئے۔ باہر پورے گاؤں میں کتّے بھونکنے لگے۔ دور پہاڑوں میں بازگشت پھیل گئی۔

پھر اچانک…

سب خاموش ہو گیا۔

ایسی خاموشی جیسے آواز کبھی موجود ہی نہ تھی۔

زینب نے کانپتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔

کمرہ خالی تھا۔

نہ حارث… نہ وہ سایہ… نہ کوئی عورت۔

صرف سلیم فرش پر گرا ہانپ رہا تھا۔

اس کے ہاتھ کانوں پر تھے اور وہ مسلسل بڑبڑا رہا تھا:

“خاموش ہو جاؤ… خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ…”

زینب نے پہلی بار غور سے سلیم کو دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں خوف کم اور اذیت زیادہ تھی۔

ایسی اذیت جو کسی بیرونی شے سے نہیں، اندر سے جنم لیتی ہے۔

اسی لمحے حاجی صاحب اور چند گاؤں والے اندر داخل ہوئے۔ سب کے چہروں پر دہشت پھیلی ہوئی تھی۔

“کیا ہوا؟” حاجی صاحب نے گھبرائی آواز میں پوچھا۔

زینب خاموش رہی۔

اس کی نظر دیوار پر گئی جہاں تازہ الفاظ ابھرے ہوئے تھے:

“وہ کبھی نہیں جائے گی…”

حاجی صاحب آگے بڑھے۔ انہوں نے دیوار کو غور سے دیکھا، پھر اچانک ان کا چہرہ بدل گیا۔

“یہ…” وہ رک گئے۔

“کیا ہوا؟” زینب نے پوچھا۔

حاجی صاحب نے دیوار کی طرف اشارہ کیا۔

“یہ تحریر ابھی لکھی گئی ہے…”

“تو؟”

“یہ مریم کی لکھائی نہیں…”

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

حاجی صاحب آہستہ سے سلیم کے قریب بیٹھ گئے۔

“سلیم…” ان کی آواز نرم تھی، “بس کر دو۔”

سلیم نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

“میں نے نہیں لکھا…”

“پندرہ سال سے تم یہی کہتے آئے ہو۔”

“وہ واقعی یہاں ہے…”

حاجی صاحب نے گہرا سانس لیا۔

“نہیں، سلیم۔ یہاں صرف تم ہو۔”

یہ سنتے ہی سلیم جیسے ٹوٹ گیا۔

وہ دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا۔

کافی دیر بعد اس نے ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا:

“مجھے… آوازیں آتی تھیں…”

کمرے میں موجود سب لوگ خاموشی سے اسے دیکھنے لگے۔

“شروع میں بہت دھیمی… پھر واضح… پھر ہر وقت…”

اس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔

“مجھے لگتا تھا لوگ میرے خلاف ہیں۔ مریم مجھے چھوڑ دے گی۔ سب میرا مذاق اڑاتے تھے…”

زینب کی آنکھوں میں حیرت ابھرنے لگی۔

سلیم مسلسل بولتا جا رہا تھا، جیسے برسوں سے بند دروازہ ٹوٹ گیا ہو۔

“میں راتوں کو جاگتا رہتا تھا۔ مجھے دیواروں سے سرگوشیاں سنائی دیتیں۔ کبھی لگتا کوئی چھت پر چل رہا ہے… کبھی کوئی میرا نام پکارتا…”

حاجی صاحب نے دھیرے سے کہا، “ڈاکٹر نے اسے شہر لے جانے کا کہا تھا… مگر یہ علاج سے بھاگتا رہا۔”

سلیم ہنس پڑا۔

ایک خالی، ٹوٹی ہوئی ہنسی۔

“مجھے لگتا تھا میں بیمار نہیں… باقی سب جھوٹ بول رہے ہیں…”

پھر اس کی آواز اچانک بھرّا گئی۔

“اس رات… میں نے مریم کو بند کر دیا…”

کمرے کی سرد ہوا جیسے رک گئی۔

“وہ پوری رات دروازہ پیٹتی رہی… چیختی رہی… کہتی رہی وہ بے گناہ ہے…”

اس نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا۔

“مگر مجھے یقین تھا وہ جھوٹ بول رہی ہے…”

زینب کے ہونٹ خشک ہو گئے۔

“اور صبح؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔

سلیم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“صبح تک وہ مر چکی تھی…”

خاموشی۔

بھاری، تکلیف دہ خاموشی۔

“پھر چیخیں شروع ہوئیں…” سلیم سرگوشی میں بولا، “پہلے صرف میرے اندر… پھر ہر طرف…”

حاجی صاحب نے صندوق کھولا جو کمرے کے کونے میں رکھا تھا۔ اس میں دواؤں کی پرانی شیشیاں، ڈاکٹر کی رپورٹیں، اور مریم کی ڈائری موجود تھی۔

زینب نے کانپتے ہاتھوں سے ایک رپورٹ اٹھائی۔

اس پر لکھا تھا:

“شدید نفسیاتی عارضہ، وہم، سماعتی فریب، شک کی بیماری…

زینب کی آنکھیں دھندلا گئیں۔

حاجی صاحب نے آہستہ سے کہا:

“یہ مکان کبھی آسیب زدہ نہیں تھا۔ ایک بیمار ذہن نے اسے خوف کی علامت بنا دیا۔”

“اور حارث؟” زینب نے فوراً پوچھا۔

اسی لمحے دروازے پر آہٹ ہوئی۔

سب مڑے۔

حارث وہاں کھڑا تھا۔

کمزور، تھکا ہوا، مگر زندہ۔

زینب دوڑ کر اس سے لپٹ گئی۔

حارث نے مدھم آواز میں کہا:

“میں اس رات بھاگ گیا تھا… مگر سلیم کی حالت میرے ذہن میں رہ گئی۔ مجھے لگنے لگا تھا واقعی یہاں کچھ ہے…”

وہ رکا۔

“پھر شہر میں ایک ماہرِ نفسیات سے ملا۔ تب سمجھ آیا… خوف بھی بیماری کی طرح پھیلتا ہے۔”

سلیم خاموشی سے فرش پر بیٹھا رہا۔

اس کی آنکھیں خالی تھیں۔

برسوں بعد پہلی بار بڑے مکان میں کوئی چیخ نہیں گونجی۔

کیونکہ اس رات سب نے جان لیا تھا کہ وہاں کوئی بھوت نہیں رہتا تھا۔

وہاں صرف ایک انسان رہتا تھا…

جو اپنے بیمار ذہن، احساسِ جرم، اور وہم کے اندھیرے میں آہستہ آہستہ ڈوب گیا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

چیخ

محمد ایوب گنائی

ترال، پلوامہ کشمیر

وادی کے اس دور افتادہ گاؤں میں راتیں ہمیشہ جلدی اتر آتی تھیں۔ پہاڑوں کے سائے شام سے پہلے ہی زمین پر پھیل جاتے اور لوگ دروازے بند کر کے گھروں میں دبک جاتے۔ سردیوں کی ایک ایسی ہی رات تھی جب برف مسلسل تیسرے دن بھی گر رہی تھی۔ ہوا درختوں سے ٹکراتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی انجانی مخلوق چیخ رہی ہو۔

گاؤں کے کنارے ایک پرانا، نیم شکستہ بڑا مکان تھا۔ لوگ اسے “بوڑھا بڑا مکان” کہتے تھے۔ وہاں کبھی رئیس خاندان آباد تھا، مگر اب صرف ایک شخص رہتا تھا — سلیم۔

سلیم گاؤں والوں کے لیے ایک معمہ تھا۔ کم گو، تنہا، اور ہر وقت کسی انجانے خوف میں مبتلا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کی بیوی برسوں پہلے ایک رات اچانک غائب ہو گئی تھی۔ کسی نے کہا وہ دریا میں ڈوب گئی، کسی نے کہا وہ پاگل ہو کر جنگلوں میں بھٹک گئی، مگر سلیم نے کبھی کچھ نہ بتایا۔

صرف ایک بات گاؤں میں مشہور تھی۔

ہر سرد رات میں، آدھی رات کے قریب، اس بڑے مکان سے ایک خوفناک چیخ سنائی دیتی تھی۔

ایسی چیخ کہ سننے والے کے بدن میں کپکپی دوڑ جائے۔

ابتدا میں لوگوں نے سمجھا شاید جنگلی جانوروں کی آواز ہے، مگر پھر یہ چیخ ہر رات آنے لگی۔ بچے ڈر کر ماؤں سے لپٹ جاتے۔ عورتیں دعائیں پڑھتیں۔ مرد بہادری کا دعویٰ تو کرتے، مگر اندھیرا ہوتے ہی اس طرف جانے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔

ایک دن شہر سے ایک نوجوان صحافی، حارث، اس گاؤں میں آیا۔ وہ پراسرار واقعات پر مضامین لکھتا تھا۔ جب اس نے “بوڑھے بڑے مکان” اور چیخ کا قصہ سنا تو اس کی دلچسپی بڑھ گئی۔

“یہ سب وہم ہے،” اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، “ہر چیخ کے پیچھے کوئی نہ کوئی حقیقت ہوتی ہے۔”

گاؤں کے بزرگ حاجی صاحب نے دھیمی آواز میں کہا، “بیٹا، کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جاننا انسان کے حق میں بہتر نہیں ہوتا۔”

مگر حارث نہ مانا۔

اسی رات وہ اپنا کیمرہ اور نوٹ بک لے کر بڑے مکان پہنچ گیا۔ برف رک چکی تھی، مگر فضا میں عجیب سی سنسناہٹ تھی۔ بڑے مکان کے دروازے پر دستک دی تو کافی دیر بعد سلیم نمودار ہوا۔

اس کی آنکھیں سرخ تھیں، جیسے کئی راتوں سے سویا نہ ہو۔

“کیا چاہیے؟”

“میں صحافی ہوں۔ آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”

سلیم نے خاموشی سے اسے اندر آنے دیا۔

بڑا مکان اندر سے کہیں زیادہ خوفناک تھا۔ دیواروں پر نمی کے سیاہ دھبے تھے۔ پرانی تصویریں گرد میں اٹی ہوئی تھیں۔ ایک کمرے کے دروازے پر بھاری زنجیر بندھی ہوئی تھی۔

حارث نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

سلیم فوراً بولا، “اس دروازے کے قریب مت جانا۔”

“کیوں؟”

“بس مت جانا۔”

رات گہری ہونے لگی۔ حارث نے مختلف سوال کیے، مگر سلیم ہر بار مختصر جواب دیتا رہا۔ آخر حارث نے براہِ راست پوچھ لیا:

“لوگ کہتے ہیں ہر رات یہاں سے چیخ آتی ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟”

سلیم کا چہرہ زرد پڑ گیا۔

“اگر تم صبح زندہ واپس جانا چاہتے ہو تو آدھی رات سے پہلے یہاں سے چلے جاؤ۔”

“اور اگر نہ جاؤں؟”

سلیم نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“پھر تم بھی وہی سنو گے جو میں پندرہ برس سے سنتا آ رہا ہوں۔”

کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔

گھڑی نے بارہ بجائے۔

پہلے سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ پھر اچانک زنجیر والے کمرے سے دھیمی آواز آئی۔ جیسے کوئی آہستہ آہستہ دیوار کھرچ رہا ہو۔

خررر… خررر…

حارث کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔

آواز بڑھنے لگی۔

پھر ایک عورت کی سسکی سنائی دی۔

“سلیم…”

سلیم کانپ اٹھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان بند کر لیے۔

“نہیں… نہیں…”

اچانک زنجیر زور سے ہلی۔

دھڑام!

حارث اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔ اس کے جسم میں خوف سرایت کر چکا تھا، مگر تجسس اب بھی غالب تھا۔

“اس کمرے میں کون ہے؟”

سلیم کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔

“میری سزا…”

اور پھر…

ایک ایسی دل دہلا دینے والی چیخ گونجی کہ پورا بڑا مکان لرز اٹھا۔

حارث کے قدم لڑکھڑا گئے۔ وہ چیخ کسی انسان کی تھی، مگر اس میں ایسا درد تھا جیسے برسوں کی اذیت ایک لمحے میں پھٹ پڑی ہو۔

چیخ کے بعد اچانک خاموشی چھا گئی۔

حارث نے کانپتے ہاتھوں سے زنجیر کو چھوا۔

“مت کھولو!” سلیم چلایا۔

مگر دیر ہو چکی تھی۔

زنجیر کھل گئی۔

دروازہ چرچراتا ہوا آہستہ سے کھلا۔

کمرہ بالکل خالی تھا۔

صرف ایک پرانی کرسی، ٹوٹا ہوا آئینہ، اور دیوار پر ناخنوں سے لکھی ایک سطر:

“میں اب بھی یہیں ہوں۔”

حارث کی سانس رک گئی۔

اسی لمحے اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔

اس نے آہستہ سے مڑ کر دیکھا۔

ایک عورت… سفید کپڑوں میں… بکھرے بال… خون آلود آنکھیں…

اور پھر وہ چیخی۔

وہی چیخ۔

مگر اس بار وہ چیخ صرف بڑے مکان میں نہیں، حارث کے اندر گونجی۔

اگلی صبح گاؤں والوں نے بڑے مکان کا دروازہ کھلا پایا۔

اندر صرف سلیم تھا، دیوار کے ساتھ بیٹھا ہوا، پتھر کی مانند خاموش۔

“وہ شہر والا کہاں ہے؟” لوگوں نے پوچھا۔

سلیم نے لرزتے ہونٹوں سے کہا:

“اب وہ بھی چیخ سن سکتا ہے…”

“کیا مطلب؟”

سلیم نے آہستہ سے سامنے کی دیوار کی طرف اشارہ کیا۔

وہاں تازہ ناخنوں سے ایک نئی سطر لکھی تھی:

“اب ہم دو ہیں۔”

سلیم کی آنکھیں دیوار پر جمی ہوئی تھیں۔ گاؤں والے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔ کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ اس کمرے کے قریب جائے۔ ہوا میں اب بھی وہی عجیب سی نمی اور خوف گھلا ہوا تھا۔

حاجی صاحب نے کپکپاتی آواز میں کہا، “میں نے کہا تھا… اس بڑے مکان کے راز کو نہ چھیڑو۔”

مگر اس دن کے بعد گاؤں میں ایک اور بات مشہور ہو گئی۔

اب چیخ ایک نہیں، دو آوازوں میں سنائی دیتی تھی۔

ایک عورت کی… اور ایک مرد کی۔

رات ڈھلتے ہی پورا گاؤں سنسان ہو جاتا۔ لوگ جلدی دروازے بند کر لیتے۔ کتوں نے بھی اس طرف بھونکنا چھوڑ دیا تھا۔ جیسے جانور بھی اس خوف کو محسوس کرنے لگے ہوں۔

سلیم دن بہ دن خاموش ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے بال اور زیادہ سفید ہو گئے تھے۔ وہ اکثر بڑے مکان کے برآمدے میں بیٹھا دور پہاڑوں کو تکتا رہتا، جیسے کسی انجام کا انتظار کر رہا ہو۔

تین دن بعد گاؤں میں ایک اور شخص آیا۔

وہ ایک ادھیڑ عمر عورت تھی، سیاہ شال میں ملبوس، چہرہ تھکن سے بوجھل۔ اس نے خود کو زینب بتایا۔

“میں حارث کی بہن ہوں۔”

یہ سنتے ہی گاؤں میں خاموشی چھا گئی۔

زینب سیدھا بڑے مکان پہنچی۔ سلیم دروازے پر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔

“میرا بھائی کہاں ہے؟”

سلیم نے نظریں چرا لیں۔

“چلا گیا…”

“کہاں؟”

“جہاں سے لوگ واپس نہیں آتے۔”

زینب کی آنکھوں میں غصہ ابھرا۔

“یہ پہیلیاں مت بوجھو۔ مجھے سچ بتاؤ۔”

سلیم چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا، “سچ سننے کی قیمت ہوتی ہے۔”

“میں ادا کروں گی۔”

سلیم پہلی بار ہلکا سا مسکرایا۔ وہ مسکراہٹ کسی زندہ انسان کی نہیں لگتی تھی۔

“ہر شخص یہی کہتا ہے۔”

رات ہونے لگی۔ زینب نے فیصلہ کیا کہ وہ بڑے مکان سے نہیں جائے گی۔ گاؤں والوں نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔

“اگر میرا بھائی یہاں آیا تھا تو میں بھی یہیں رہوں گی۔”

اسی زنجیر والے کمرے کے سامنے بیٹھ کر اس نے رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔

آدھی رات کے قریب ہوا اچانک تیز ہو گئی۔ کھڑکیاں بجنے لگیں۔ شمع کی لو بار بار لرزتی۔

پھر وہی آواز…

خررر… خررر…

جیسے کسی کے ناخن دیوار پر رینگ رہے ہوں۔

زینب کے چہرے کا رنگ بدل گیا، مگر وہ اپنی جگہ بیٹھی رہی۔

پھر دھیمی سرگوشی سنائی دی۔

“زینب…”

وہ چونک اٹھی۔

یہ حارث کی آواز تھی۔

“حارث؟!”

آواز دوبارہ آئی، اس بار زیادہ قریب سے۔

“مجھے یہاں سے نکالو…”

زینب دوڑ کر دروازے تک پہنچی۔ سلیم اچانک سامنے آ گیا۔

“دروازہ مت کھولنا!”

“وہ اندر ہے!”

“وہ اب تمہارا بھائی نہیں رہا!”

مگر محبت خوف سے زیادہ طاقتور تھی۔ زینب نے پوری قوت سے سلیم کو دھکا دیا اور زنجیر کھول دی۔

دروازہ کھلتے ہی ٹھنڈی ہوا کا شدید جھونکا آیا۔ شمع بجھ گئی۔

کمرہ تاریکی میں ڈوب گیا۔

چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔

پھر اندھیرے میں کسی کے قدموں کی آواز گونجی۔

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

زینب کی سانسیں رکنے لگیں۔

اچانک بجلی چمکی۔

اور اس لمحے اس نے اسے دیکھا۔

حارث دیوار کے ساتھ کھڑا تھا۔

مگر وہ پہلے جیسا نہیں تھا۔

اس کا چہرہ زرد اور آنکھیں مکمل سیاہ تھیں۔ ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ تھی، جیسے چہرے پر کسی اور روح کا قبضہ ہو۔

“حارث…” زینب کی آواز لرز گئی۔

وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔

“تم مجھے لینے آئی ہو؟”

اس کی آواز میں کئی آوازیں شامل تھیں۔ مرد، عورت، بچے… جیسے بے شمار لوگ ایک ساتھ بول رہے ہوں۔

سلیم چیخ اٹھا، “پیچھے ہٹو!”

مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔

حارث نے زینب کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اس کا ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔

اور پھر…

پورا کمرہ ایک خوفناک چیخ سے گونج اٹھا۔

اس بار چیخ اتنی شدید تھی کہ بڑے مکان کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر فرش پر بکھر گئے۔ باہر پورے گاؤں میں کتّے بھونکنے لگے۔ دور پہاڑوں میں بازگشت پھیل گئی۔

پھر اچانک…

سب خاموش ہو گیا۔

ایسی خاموشی جیسے آواز کبھی موجود ہی نہ تھی۔

زینب نے کانپتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔

کمرہ خالی تھا۔

نہ حارث… نہ وہ سایہ… نہ کوئی عورت۔

صرف سلیم فرش پر گرا ہانپ رہا تھا۔

اس کے ہاتھ کانوں پر تھے اور وہ مسلسل بڑبڑا رہا تھا:

“خاموش ہو جاؤ… خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ…”

زینب نے پہلی بار غور سے سلیم کو دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں خوف کم اور اذیت زیادہ تھی۔

ایسی اذیت جو کسی بیرونی شے سے نہیں، اندر سے جنم لیتی ہے۔

اسی لمحے حاجی صاحب اور چند گاؤں والے اندر داخل ہوئے۔ سب کے چہروں پر دہشت پھیلی ہوئی تھی۔

“کیا ہوا؟” حاجی صاحب نے گھبرائی آواز میں پوچھا۔

زینب خاموش رہی۔

اس کی نظر دیوار پر گئی جہاں تازہ الفاظ ابھرے ہوئے تھے:

“وہ کبھی نہیں جائے گی…”

حاجی صاحب آگے بڑھے۔ انہوں نے دیوار کو غور سے دیکھا، پھر اچانک ان کا چہرہ بدل گیا۔

“یہ…” وہ رک گئے۔

“کیا ہوا؟” زینب نے پوچھا۔

حاجی صاحب نے دیوار کی طرف اشارہ کیا۔

“یہ تحریر ابھی لکھی گئی ہے…”

“تو؟”

“یہ مریم کی لکھائی نہیں…”

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

حاجی صاحب آہستہ سے سلیم کے قریب بیٹھ گئے۔

“سلیم…” ان کی آواز نرم تھی، “بس کر دو۔”

سلیم نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

“میں نے نہیں لکھا…”

“پندرہ سال سے تم یہی کہتے آئے ہو۔”

“وہ واقعی یہاں ہے…”

حاجی صاحب نے گہرا سانس لیا۔

“نہیں، سلیم۔ یہاں صرف تم ہو۔”

یہ سنتے ہی سلیم جیسے ٹوٹ گیا۔

وہ دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا۔

کافی دیر بعد اس نے ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا:

“مجھے… آوازیں آتی تھیں…”

کمرے میں موجود سب لوگ خاموشی سے اسے دیکھنے لگے۔

“شروع میں بہت دھیمی… پھر واضح… پھر ہر وقت…”

اس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔

“مجھے لگتا تھا لوگ میرے خلاف ہیں۔ مریم مجھے چھوڑ دے گی۔ سب میرا مذاق اڑاتے تھے…”

زینب کی آنکھوں میں حیرت ابھرنے لگی۔

سلیم مسلسل بولتا جا رہا تھا، جیسے برسوں سے بند دروازہ ٹوٹ گیا ہو۔

“میں راتوں کو جاگتا رہتا تھا۔ مجھے دیواروں سے سرگوشیاں سنائی دیتیں۔ کبھی لگتا کوئی چھت پر چل رہا ہے… کبھی کوئی میرا نام پکارتا…”

حاجی صاحب نے دھیرے سے کہا، “ڈاکٹر نے اسے شہر لے جانے کا کہا تھا… مگر یہ علاج سے بھاگتا رہا۔”

سلیم ہنس پڑا۔

ایک خالی، ٹوٹی ہوئی ہنسی۔

“مجھے لگتا تھا میں بیمار نہیں… باقی سب جھوٹ بول رہے ہیں…”

پھر اس کی آواز اچانک بھرّا گئی۔

“اس رات… میں نے مریم کو بند کر دیا…”

کمرے کی سرد ہوا جیسے رک گئی۔

“وہ پوری رات دروازہ پیٹتی رہی… چیختی رہی… کہتی رہی وہ بے گناہ ہے…”

اس نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا۔

“مگر مجھے یقین تھا وہ جھوٹ بول رہی ہے…”

زینب کے ہونٹ خشک ہو گئے۔

“اور صبح؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔

سلیم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“صبح تک وہ مر چکی تھی…”

خاموشی۔

بھاری، تکلیف دہ خاموشی۔

“پھر چیخیں شروع ہوئیں…” سلیم سرگوشی میں بولا، “پہلے صرف میرے اندر… پھر ہر طرف…”

حاجی صاحب نے صندوق کھولا جو کمرے کے کونے میں رکھا تھا۔ اس میں دواؤں کی پرانی شیشیاں، ڈاکٹر کی رپورٹیں، اور مریم کی ڈائری موجود تھی۔

زینب نے کانپتے ہاتھوں سے ایک رپورٹ اٹھائی۔

اس پر لکھا تھا:

“شدید نفسیاتی عارضہ، وہم، سماعتی فریب، شک کی بیماری…

زینب کی آنکھیں دھندلا گئیں۔

حاجی صاحب نے آہستہ سے کہا:

“یہ مکان کبھی آسیب زدہ نہیں تھا۔ ایک بیمار ذہن نے اسے خوف کی علامت بنا دیا۔”

“اور حارث؟” زینب نے فوراً پوچھا۔

اسی لمحے دروازے پر آہٹ ہوئی۔

سب مڑے۔

حارث وہاں کھڑا تھا۔

کمزور، تھکا ہوا، مگر زندہ۔

زینب دوڑ کر اس سے لپٹ گئی۔

حارث نے مدھم آواز میں کہا:

“میں اس رات بھاگ گیا تھا… مگر سلیم کی حالت میرے ذہن میں رہ گئی۔ مجھے لگنے لگا تھا واقعی یہاں کچھ ہے…”

وہ رکا۔

“پھر شہر میں ایک ماہرِ نفسیات سے ملا۔ تب سمجھ آیا… خوف بھی بیماری کی طرح پھیلتا ہے۔”

سلیم خاموشی سے فرش پر بیٹھا رہا۔

اس کی آنکھیں خالی تھیں۔

برسوں بعد پہلی بار بڑے مکان میں کوئی چیخ نہیں گونجی۔

کیونکہ اس رات سب نے جان لیا تھا کہ وہاں کوئی بھوت نہیں رہتا تھا۔

وہاں صرف ایک انسان رہتا تھا…

جو اپنے بیمار ذہن، احساسِ جرم، اور وہم کے اندھیرے میں آہستہ آہستہ ڈوب گیا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون