
محمد ایوب گنائی
ترال،پلوام
کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ مدتوں سے اپنی ذمہ داری بھول چکا تھا۔ گرد کی اتنی دبیز تہہ اس پر جم گئی تھی کہ عکس اور دھند میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ارسلان نے انگلی اٹھائی اور دھول پر ایک لفظ لکھا: "بکاؤ”۔
لفظ ابھرا، چند لمحے ٹھہرا، پھر اس نے ہتھیلی پھیر کر اسے مٹا دیا۔
اسی جگہ اس نے دوبارہ لکھا: "کرائے کے لیے خالی ہے”۔
وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔
یہ کسی مکان کا اشتہار نہیں تھا۔
یہ اس پورے نظامِ تعلیم کا تعارف تھا جس نے برسوں تک اس کے ذہن کو تعمیر کیا تھا مگر زندگی کے بازار میں اس کے لیے کوئی خریدار پیدا نہ کر سکا تھا۔
چھبیس برس کا ارسلان۔
تاریخِ عالم میں گولڈ میڈلسٹ۔
درجنوں اسناد کا حامل۔
مگر روزگار سے محروم۔
کبھی کبھی اسے یوں محسوس ہوتا جیسے اس کی شخصیت ایک عظیم الشان کتب خانہ ہو، جس میں علم کی ہزاروں جلدیں موجود ہوں مگر دروازے پر کوئی قاری نہ آئے۔
کھڑکی کے باہر زندگی اپنے معمول کے سفر میں مصروف تھی۔
ایک مزدور پسینے اور اینٹوں کا بوجھ ساتھ لیے گزر رہا تھا۔
ایک سبزی فروش روزی کی تلاش میں اپنی ریڑھی دھکیل رہا تھا۔
ایک اسکول وین مستقبل کو اپنے اندر بٹھائے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔
ہر شخص کسی سمت رواں تھا۔
صرف ارسلان تھا جو وقت کے کنارے بیٹھا اپنی باری کا منتظر تھا، جیسے زندگی کی قطار میں اس کا نمبر بار بار ملتوی کر دیا گیا ہو۔
اس نے الماری سے اپنی فائل نکالی۔
سرٹیفکیٹ ایک ایک کرکے اس کے سامنے کھلتے گئے۔
میٹرک۔
بارہویں۔
گریجویشن۔
پوسٹ گریجویشن۔
گولڈ میڈل۔
یہ کاغذ نہیں تھے۔
یہ اس کی جوانی کے وہ سال تھے جو اس نے خوابوں کے نام وقف کر دیے تھے۔
اچانک اس کی نگاہوں کے سامنے ماضی کا پردہ سرک گیا۔
یونیورسٹی کا وسیع ہال۔
تالیوں کا طوفان۔
اسٹیج کی روشنیاں۔
وائس چانسلر کے ہاتھوں گولڈ میڈل وصول کرتا ہوا ارسلان۔
اور پہلی قطار میں بیٹھے غلام قادر۔
ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو نہیں تھے، بلکہ اس یقین کی چمک تھی کہ اب ان کے بیٹے کو ان محرومیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جن سے وہ خود پوری عمر گزرتے رہے تھے۔
مگر زندگی اکثر وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں امید اپنی منزل سمجھتی ہے۔
"ارسلان! چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔”
ماں کی آواز نے یادوں کا دروازہ بند کر دیا۔
میز پر غلام قادر بیٹھے تھے۔
ریٹائرڈ پٹواری۔
وقت نے ان کے چہرے پر جھریاں ضرور لکھی تھیں، مگر بصیرت ابھی تک روشن تھی۔
ان کے سامنے زمینوں کا ایک پرانا شجرہ پھیلا ہوا تھا۔
زرد کاغذ۔
مدھم روشنائی۔
اور تاریخ کے سوکھے ہوئے نقوش۔
"ابا، کل والے کالج سے جواب آ گیا۔”
غلام قادر نے سر اٹھائے بغیر پوچھا:
"کتنے پیسے مانگے ہیں؟”
ارسلان چونکا۔
"آپ کو کیسے معلوم؟”
غلام قادر کے لبوں پر ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ ابھری۔
"بیٹا، میں نے ساری عمر زمینوں کے سودے ہوتے دیکھے ہیں۔ اب انسانوں کی قابلیت کے سودے دیکھ رہا ہوں۔”
پھر کچھ توقف کے بعد بولے:
"جہاں ملازمت سے پہلے قیمت ادا کرنی پڑے، وہاں نوکری نہیں ملتی، وہاں عزت نیلام ہوتی ہے۔”
یہ جملہ کمرے میں دیر تک گونجتا رہا، جیسے کسی نے خاموشی کے سینے پر پتھر رکھ دیا ہو۔
وقت گزرتا گیا۔
انٹرویوز آتے رہے۔
امید جاگتی رہی۔
اور ٹوٹتی رہی۔
ہر مرتبہ ارسلان اپنی قابلیت لے کر جاتا اور کسی سفارش، کسی تعلق، کسی طاقتور نام کے سامنے شکست کھا کر لوٹ آتا۔
ایک دن بارش میں بھیگتے ہوئے وہ ایک اور انٹرویو سے واپس آیا۔
اس کے جوتوں میں پانی تھا۔
اور دل میں شکست۔
انٹرویو لینے والے نے اس کی اسناد دیکھ کر کہا تھا:
"آپ بہترین امیدوار ہیں۔”
یہ سن کر اس کے اندر امید کی ایک ننھی سی شمع روشن ہوئی تھی۔
مگر اگلا جملہ آیا:
"اگر کسی بااثر شخصیت کی سفارش ہو تو کام آسان ہو جائے گا۔”
اور شمع بجھ گئی۔
بعض اوقات انسان کو شکست کسی ناکامی سے نہیں، ایک جملے سے ہوتی ہے۔
اسی شام وہ جہلم کے کنارے جا بیٹھا۔
دریا خاموش تھا۔
شام کا سرخ رنگ پانی پر بکھرا ہوا تھا۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سورج اپنے زخم دریا میں دھو کر رخصت ہو رہا ہو۔
کچھ دیر بعد زویا آ کر اس کے پاس بیٹھ گئی۔
دونوں دیر تک خاموش رہے۔
بعض رشتوں میں خاموشی بھی گفتگو کا درجہ رکھتی ہے۔
پھر زویا نے دھیرے سے کہا:
"پاپا میرے رشتے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔”
یہ الفاظ نہیں تھے۔
یہ وقت کا وہ فیصلہ تھا جس کے خلاف ارسلان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔
اس نے جیب سے اپنا پسندیدہ قلم نکالا۔
وہی قلم جس سے اس نے امتحانات دیے تھے۔
وہی قلم جس سے اس نے خواب لکھے تھے۔
"یاد ہے؟”
زویا نے سر ہلایا۔
"یہی قلم تھا جس نے تمہیں گولڈ میڈل دلایا تھا۔”
ارسلان مسکرایا۔
مگر اس مسکراہٹ میں شکست کی نمی شامل تھی۔
"کبھی لگتا تھا یہ میری تقدیر لکھے گا۔”
اس نے قلم زویا کے ہاتھ میں رکھ دیا۔
"اب اسے تم سنبھالو۔”
ہوا رک گئی۔
دریا رک گیا۔
اور ان دونوں کے درمیان بیٹھا دکھ بھی جیسے پتھر ہو گیا۔
اس رات ارسلان نہیں سویا۔
اس نے اپنی تمام ڈگریاں، اسناد اور گولڈ میڈل ایک بیگ میں بھر دیے۔
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کاغذ اس کے خوابوں کی قبریں بن چکے ہیں۔
مگر رات کے سناٹے میں جب وہ گھر سے نکلنے لگا تو غلام قادر نے اس کی کلائی تھام لی۔
شاید باپ واقعی نہیں سوتے۔
وہ صرف فکر کی دوسری شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
"کہاں جا رہے ہو؟”
جواب میں خاموشی تھی۔
غلام قادر اسے گھر کے پچھواڑے لے گئے۔
وہاں خاندانی زمین برسوں سے بنجر پڑی تھی۔
چاندنی اس پر یوں بچھی ہوئی تھی جیسے فطرت نے اس کی غربت پر سفید چادر ڈال دی ہو۔
انہوں نے جھک کر مٹی کی ایک مٹھی اٹھائی اور ارسلان کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
"محسوس کرو اسے۔”
پھر دھیرے سے بولے:
"یہ زمین بھی تمہاری طرح بے روزگار ہے۔”
کچھ لمحے بعد ان کی آواز بھرا گئی۔
"بیٹا، مجھے تمہارے خالی ہاتھوں سے خوف نہیں آتا، تمہاری خالی آنکھوں سے آتا ہے۔”
یہ جملہ ارسلان کے اندر کہیں بہت گہرائی میں اتر گیا۔
غلام قادر نے مٹی کی طرف اشارہ کیا۔
"اس مٹی کو تمہارے سرٹیفکیٹ نہیں چاہئیں، تمہارا یقین چاہیے۔”
اسی لمحے ارسلان نے محسوس کیا کہ شاید مسئلہ روزگار کا نہیں، تصورِ روزگار کا ہے۔
اگلی صبح اس نے ملازمت کے اشتہارات نہیں دیکھے۔
اس نے زمین دیکھی۔
مٹی دیکھی۔
اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ قسمت صرف دفتروں میں نہیں لکھی جاتی، بعض اوقات کھیتوں میں بھی اگتی ہے۔
پھر ایک نیا سفر شروع ہوا۔
مٹی، پسینہ، تحقیق، ناکام تجربات، چھالے، دھوپ اور مسلسل جدوجہد۔
لوگ ہنستے رہے۔
"دیکھو، گولڈ میڈلسٹ کسان بن گیا!”
مگر ارسلان اب دوسروں کی ہنسی سے زیادہ اپنی خاموشی سننا سیکھ چکا تھا۔
سال گزرتے گئے۔
بنجر زمین خوشبوؤں کا جہان بن گئی۔
گلابوں کی قطاریں دور تک پھیل گئیں۔
قیمتی جڑی بوٹیاں زمین سے رزق اور امید دونوں اگانے لگیں۔
اور ایک دن وہی نوجوان جو کبھی نوکری کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا تھا، دوسروں کے لیے دروازے کھولنے لگا۔
شام کے وقت جب دو بے روزگار نوجوان اس کے پاس آئے اور پوچھا:
"ہم نے سنا ہے آپ بھی کبھی بے روزگار تھے؟”
تو ارسلان نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھائی اور مسکرا کر کہا:
"ہاں، لیکن اب جان گیا ہوں کہ بے روزگاری ہاتھوں کی حالت نہیں، ذہن کی کیفیت ہے۔”
پھر اس نے مٹی کو ہوا میں بکھیر دیا۔
"اصل بے روزگاری یہ یقین کر لینا ہے کہ تم کسی کام کے نہیں ہو۔”
شام ڈھل رہی تھی۔
فضا میں اذانِ مغرب کی آواز پھیل رہی تھی۔
ارسلان اس پتھر کے سامنے کھڑا تھا جس پر دو الفاظ کندہ تھے:
"بے روزگار زمین”
اس نے جھک کر گرد صاف کی اور دیر تک خاموش کھڑا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا:
"ابا، مسئلہ رزق کا نہیں تھا، مسئلہ نگاہ کا تھا۔”
ہوا کا ایک نرم جھونکا آیا۔
مٹی اس کی ہتھیلی سے پھسل کر زمین میں مل گئی۔
اور اسے محسوس ہوا کہ انسان کی اصل کامیابی اپنی منزل تک پہنچنا نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے راستہ بن جانا ہے۔
دور تک پھیلے باغ میں پھول خاموشی سے جھوم رہے تھے۔
اور مٹی، جو کبھی بے روزگار تھی، اب سینکڑوں خوابوں کو روزگار دے رہی تھی۔
ززز


