عبد الودود انصاری
حج اسلام کی ایک عظیم عبادت ہے جو مقررہ شرائط پوری ہونے کے بعد ہر صاحبِ استطاعت مسلمان، مرد ہو یا عورت، پر فرض ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت کا معیار جنس نہیں بلکہ ایمان اور عملِ صالح ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
"میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔” (آل عمران: 195)
حج محبتِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ اور نسبتِ ابراہیمی کا سفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حجاج کرام اپنے روحانی تجربات اور قلبی کیفیات کو تحریری شکل دیتے ہیں، جنہیں "حج کا سفرنامہ” کہا جاتا ہے۔ نبیلہ رفیق کے مطابق:
"عشقِ خدا، عشقِ محمد ﷺ اور محبتِ ابراہیمؑ کا تقاضا ہے کہ ان مقدس مقامات اور واقعات کو یاد بھی رکھا جائے اور قلم بند بھی کیا جائے۔”
ہر سفرنامہ نگار اپنے ذاتی مشاہدات اور تاثرات کو منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ مولانا انصار احمد معروفی کے مطابق ایک ہی منظر مختلف افراد پر مختلف اثرات مرتب کرتا ہے، اسی لیے ہر سفرنامہ اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔
حج کے سفرناموں کے دو بنیادی مقاصد ہیں: غیر عازمین کے دل میں شوقِ حج پیدا کرنا اور عازمینِ حج کی رہنمائی کرنا۔
اردو ادب میں خواتین نے بھی حج و عمرہ کے سفرناموں کی روایت کو فروغ دیا ہے۔ اگرچہ ان کی تعداد مرد سفرنامہ نگاروں سے کم ہے، تاہم ان کی تحریروں میں عشقِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کی گہری جھلک ملتی ہے۔ ان میں نواب سکندر بیگم، صادقہ ذکی، اُم ہانی، امیر النساء، صغریٰ مہدی، نبیلہ رفیق، صوفیہ کاشف، ڈاکٹر عذرا عثمانی، سیدہ شاہین اقبال اور دیگر قابل ذکر ہیں۔
چند اہم خواتین سفرنامہ نگار
1۔ نواب سکندر بیگم:ریاست بھوپال کی حکمران نواب سکندر بیگم نے 1841 میں حج کیا۔ ان کا سفرنامہ "تاریخ وقائع” خواتین کا اولین اردو حج سفرنامہ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ یہ شائع نہ ہو سکا۔ اس کا قلمی نسخہ رضا لائبریری رام پور میں محفوظ ہے۔ بعد ازاں اس کا انگریزی ترجمہ A Princess’ Pilgrimage کے نام سے شائع ہوا۔
2۔ نواب سلطان جہاں بیگمبھوپال کی نامور حکمراں اور تعلیمِ نسواں کی علمبردار تھیں۔ ان کا "سفرنامۂ حجاز” اردو کے اہم حج سفرناموں میں شمار ہوتا ہے۔
3۔ نشاط النساء بیگمیہ حسرت موہانی کی اہلیہ تھیں۔ انہوں نے اپنے سفرِ حج کی روداد خطوط کی صورت میں اپنی بیٹی کو لکھی، جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئی۔
4۔ فاطمہ بیگملاہور کے جناح اسلامیہ گرلز ہائی اسکول کی پرنسپل تھیں۔ ان کا سفرنامہ "حج بیت اللہ، زیارتِ دیارِ حبیب” 1959 میں شائع ہوا۔
5۔ امتہ الغنی نورالنساءانہوں نے 1909 میں حج کے ساتھ شام، مصر اور فلسطین کا سفر کیا۔ ان کا سفرنامہ "سفرنامہ حجاز، شام و مصر” بعد میں شائع ہوا۔
6۔ صادقہ ذکی مثالی معلمہ اور ادیبہ تھیں۔ ان کا سفرنامہ "خیموں کے شہر میں” 1998 میں شائع ہوا اور قارئین میں مقبول ہوا۔
7۔ اُم ہانی (رخسانہ نکہت لاری)عربی ادب کی اسکالر، شاعرہ اور ماہر تعلیم تھیں۔ ان کا سفرنامہ "تجلیاتِ حرمین” حج کے روحانی مشاہدات کا خوبصورت بیان ہے۔
8۔ امیر النساء مشہور افسانہ نگار تھیں۔ ان کا عمرے سے متعلق سفرنامہ "ارضِ مقدس میں چند روز” 2001 میں شائع ہوا۔
9۔ صغریٰ مہدی معروف ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں۔ ان کی کتاب "میخانوں کا پتہ” میں مکہ اور مدینہ کے سفر کے دلچسپ تاثرات شامل ہیں۔
10۔ ڈاکٹر صالحہ عابد حسین نامور ادیبہ اور پدم شری یافتہ شخصیت تھیں۔ ان کی کتاب "دیارِ حبیب” عشقِ رسول ﷺ اور روحانی جذبات سے بھرپور ہے۔
11۔ نبیلہ رفیق پاکستانی ادیبہ اور شاعرہ ہیں۔ ان کا "سفرنامۂ حج” 2020 میں شائع ہوا جس میں حج کے روحانی اور تاریخی پہلوؤں کو دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
12۔ صوفیہ کاشف ابوظہبی میں مقیم ادیبہ ہیں۔ ان کا سفرنامہ "سفر حجاز” اپنے ادبی اسلوب اور جذباتی اندازِ بیان کے لیے معروف ہے۔
13۔ راحیل شیروانیہ انہوں نے حج کے ساتھ بیت المقدس، شام اور عراق کا سفر بھی کیا۔ ان کی کتاب "زاد السبیل” معلوماتی اور تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔
14۔ ڈاکٹر عذرا رعنا عثمانی ان کا سفرنامہ "حضورؐ پھر آپ نے بلایا مجھ کو” عشقِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ سے سرشار تحریر ہے۔
15۔ سیدہ شاہین اقبال ان کی کتاب "لبیک اللہم لبیک” حج کے مختلف مراحل اور تجربات پر مشتمل ایک معلوماتی سفرنامہ ہے۔
16۔ فاطمہ عبدالوہاب انہوں نے حج کے مناسک اور مقدس مقامات کو ایک خاتون کی نظر سے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
خواتین کے چند نمایاں سفرنامے
ممتاز چھٹہ کا "جلال و جمال”، ڈاکٹر فوزیہ سلیمی کا "حاضری”، ثریا جبیں کا "میں موت ڈھونڈ رہی ہوں زمینِ حجاز میں”، مسرت جہاں کا "خوشبوؤں کے دیس میں محبتوں کا سفر”، خدیجہ ریاض کا "دیارِ حرم میں اکتالیس روز” اور صفیہ صابری کا "سفرِ لبیک” پاکستانی خواتین کے اہم حج و عمرہ سفرناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
خواتین کے یہ سفرنامے اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ عبادت، عشقِ الٰہی اور جذبۂ ایمان میں خواتین کسی طرح مردوں سے کم نہیں۔ جس طرح مرد حضرات اپنے روحانی تجربات قلم بند کرتے ہیں، اسی طرح خواتین بھی اس میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم یافتہ اور صاحبِ قلم خواتین حج یا عمرے سے واپسی پر اپنے مشاہدات اور کیفیات ضرور تحریر کریں۔ ممکن ہے ان کی کسی تحریر سے کسی دوسرے مسلمان کے دل میں حج کی تڑپ پیدا ہو جائے، جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے۔


