نفرتوں کے دور میں محبت کے شعر سنانے والا شاعر تھا بشیر بدرؔ

سبزار احمد بٹ                                                                

عصرِ حاضر کے شعرا میں ڈاکٹر بشیر بدر اپنی ایک منفرد پینچان رکھتے تھے ۔شعروادب سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی انسان ہوگا جو بشیر بدر کے نام سے واقف نہ ہو۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ غالب کے بعد بشیر بدر ایسے واحد شاعر ہیں جو اردو دان طبقے کے ساتھ ساتھ غیر اردو دان طبقے میں بھی اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ان کے بہت سارے اشعار زبان ذد عام ہو چکے ہیں ۔ بشیر بدر کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں وہ ایک منفرد شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منفرد نقاد بھی ہیں بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر ہے لیکن شعرو ادب کی دنیا میں بشیر بدر کے نام سے مشہور ہیں۔ والد صاحب کا نام سید محمد نظیر اور والدہ کا نام عالیہ بیگم ہے۔اردو کا یہ درخشندہ ستارہ 15 فروری 1935 کو کانپور (اترپردیش )میں طلوع ہوا۔ کم عمری میں ہی والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔والدہ محترمہ نے بہترین تربیت کی ۔محض سات یا آٹھ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ حافظ صدیقی انٹر کالج کے طالب علم ہونے کے دوران ہی شاعری کا آغاز کیا ۔والد صاحب کی وفات کے بعد اگر چہ تعلیم منقطع ہوئی اور پولیس میں ملازمت کرنے لگے تاہم گھریلو اور ملازمتی مصروفیات کے باوجود پرائیوٹ طور پر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ایم۔ اے ۔ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے کیا ۔پی ایچ ڈی کی ڈگری "آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ ” کے موضوع پر پروفیسر آل احمد سرور کی سرپرستی میں کیا ۔ کچھ دیر علی گڈھ مسلم یونیورسٹی میں بطور لیکچرر تعینات رہنے کے بعد میرٹھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر مقرر ہوئے ۔بشیر بدر کو نئی غزل کا ایک منفرد شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ناصر کاظمی کے بعد بشیر بدر جدید اردو غزل گوئی کے سب سے معتبر شاعر مانے ہیں۔ مشہور شاعر ڈاکٹر ملک ذادہ منظور اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ” جدید اردو غزل گوئی کا کوئی بھی منظر نامہ بشیر بدر کے نام کے بغیر نامکمل ہے۔اس حوالے سے بشیر بدر خود لکھتے ییں کہ

” غزل کا عالمی اور جدید منظر نامہ فارسی زدہ غزل کے طریقۂ کار سے مختلف ہو چلا ہے، یہ کارنامہ میرا ہے ۔میری غزل اس سفر کا آغاز تھی” اگر چہ چند ناقدین نے بشیر بدر کے اس دعوی کو نکارا بھی ہے لیکن اکثر شعرا بشیر بدر کے رنگ و آہنگ کی تقلید کرتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ بشیر بدر کا یہ دعوی کتنا سچا ہے

بشیر بدر کے بارے میں ڈاکٹر جمیل جالبی رقمطراز ہیں کہ ” بشیر بدر کی آواز میں ایک نیا پن ہے ان کے یہاں نغمگی میں ہے اور عہد حاضر کی آواز بھی "رضیہ حامد بشیر بدر کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ” ایک محتاط اور ذمہ دار سروے کے مطابق بشیر بدر کی صرف ایک غزل جس کی ردیف” بابا” ہے اس سے متاثر ہو کر رسالے اور مشاعرے کے اہم شعرا نے ڈھائی ہزار غزلیں کہیں۔71 شاعروں نے اپنی غزلیں شائع کرتے وقت ایسی غزلوں کو بشیر بدر کے نام معنون و منسوب کیا۔

بشیر بدر کے مختلف شعری مجموعے جیسے "اکاہی”(1969) امیج”(1973) آسمان (1993)آہٹ، آس ، اللہ حافظ، اور آمد ( 1994) اور” اکاہی” شامل ہیں ۔ آس نامی شعری مجموعے کو بشیر بدر کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھا جاتا ہے اس کے علاوہ” بیسویں صدی میں اردو غزل” ” امتیاز میر” اور” تمہارے لیے” ان کی اہم تصانیف ہیں ۔ان کی شاعری کو مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے دنیا کے مختلف لوگ ان کی شاعری سے متعارف ہوئے ہیں۔1999 میں ملک کے سب سے بڑے ادبی اعزاز” پدم شری ” سے بھی نوازا جاچکا ہے جبکہ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کے ساتھ ساتھ انہی ادبی خدمات کے سلسلے میں متعدد اعزازات اور انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔1980 میں بشیر بدر کو ” پوئٹ آف دی آئر” جیسے بین الاقوامی اعزاز سے بھی نوازا جاچکا ہے ۔ان کے شاعرانہ قد کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بہت سارے انعامات اور اعزازات بشیر بدر تک پہنچنے کے لیے تڑپ رہے تھے یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان اعزازات اور انعامات کو بشیربدر تک پہنچنا نصیب نہیں ہوا ۔

شعرو شاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا. والد صاحب بھی شعر وادب سے دلچسپی رکھتے تھے ۔ جس کا اثر بشیر بدر پر بھی پڑا ۔ کہا جاتا ہے کہ بشیر بدر نے ساتھ سال کی عمر میں ہی شعر کہنے شروع کئے ۔ ہاں مگر بشیر بدر کو یہ شہرت اور یہ مقام یوں ہی نہیں ملا ہے بلکہ انہیں اللہ نے وسعت تخلیق، ذہانت اور فکری ریاضت عطا فرمائی تھی اور بشیر بدر نے اللہ کی دی ہوئی اس صلاحیت کو اپنے خون جگر سے آبیاری کی ہے لکھتے ہیں کہ

یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں

تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا

اللہ نے نواز دیا ہے تو خوش رہو

تم کیا سمجھ رہے ہو یہ شہرت غزل سے ہے

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

اس آخری شعر کو اگر بشیر بدر کی پیچان سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اپنے شعری سفر کے آغا میں اس طرح کا لافانی شعر کہنے والے اس عظیم شاعر کے قد کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے. ۔بشیر بدر کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے قدیم اور فرسودہ موضوعات کے بجائے روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے اور محسوس کئے جانے والے حالات و واقعات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے بشیر بدر کی شاعری میں سادگی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کشش ہے جو سامعین کو کھینچ کر لاتی ہے یہی وجہ ہے کی بشیر بدر طویل عرصے تک مشاعروں کی زینت بنے رہے بلکہ بشیر بدر کو اگر مشاعروں کی کامیابی کا راز کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بشیر بدر نے نہ صرف مشاعرے پڑھے بلکہ مشاعرے لوٹ لئے ۔اس حوالے سے بشیر بدر کو اگر دنیا میں اردو کا سفیر کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا

بشیر بدر نے اپنی شاعری میں مختلف موضوع پیش کئے ہیں جن میں ایک طرح کا اخلاقی درس بھی موجود ہے لکھتے ہیں

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں

دشمنی کا سفر ایک قدم، دو قدم

تم بھی تھک جاؤ گے، ہم بھی تھک جائیں گے

بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا،

جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا،

بشیر بدر نے دنیا کی بے ثبانی جیسے اہم اور حساس موضوع کا اظہار کچھ اس طرح کیا ہے

شہرت کی بلندی بھی دو پل کا تماشہ ہے

جس شاخ پر بیٹھے ہو ٹوٹ بھی سکتی ہے

بشیر بدر اپنی شاعری میں محبت کا پیغام سنایا ہے یہی وجہ ہے کہ بشیر بدر کو ” محبت کا شاعر ” بھی کہا جاتا ہے لکھتے ہیں کہ

چاند سا مصرعہ اکیلا ہے میرے کاغذ پر

چھت پہ آجاؤ میرا شعر مکمل کر دو۔

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا

یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں

عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

تم محبت کو کھیل کہتے ہو

ہم نے برباد زندگی کر لی

وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے

چاند کہتے ہیں کسے خوب سمجھتے ہوں گے

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری

لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

1987 میں جب میرٹھ فرقہ وارانہ فسادات کی ذد میں آیا۔تو متعدد آشیانےخاکستر ہو گئے جس میں بشیر بدر کا گھر بھی شامل تھا اس حادثے میں بشیر بدر کا شعری اثاثہ بھی جل کر راکھ ہوگیا۔ اس حادثے سے بشیر بدر کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی اور وہ میرٹھ چھوڑ کر بھوہال چلے گئے اور گھر جلنے کا دکھ کچھ اس طرح سے ظاہر کیا

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس کیوں نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

اس شعر کی بدولت بشیر بدر لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں

جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ بشیر بدر محبت کے شاعر ہیں اور انہیں نفرت سے سخت نفرت ہے۔ملک میں نفرت انگیز سیاست اور مذہبی تعصب کو وہ کچھ اس طرح سے ہدف تنقید بناتے ہیں کہ

بڑے شوق سے میرا گھر جلا کوئی آنچ تجھ پر نہ آئے گی

یہ زبان کسی نے خرید لی، یہ قلم کسی کا غلام ہے

روٹیاں کچی پکی، کپڑے بہت گندے دھلے

مجھ کو پاکستان کی اس میں شرارت سی لگی۔

جو لوگ اپنے حقیر مقاصد کے لیے مذہبی سیاست کرتے ہیں اور تعصب کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر کے امن و امان بگاڑنے میں ہاتھ دھو کر پیچھے پڑے ہیں ان کے لیے بشیر بدر اس طرح سے مخاطب ہیں کہ

کسی کو گرا رہے ہو کسی کو جلا رہے ہو

اے مذہبی درندو ! ہر گھر خدا کا گھر ہے

ہندوستان کا سچا وفادار میں ہی ہوں

قبروں سے پوچھ اصلی زمیندار میں ہی ہوں

دریا کے ساتھ وہ تو سمندر میں مل گیا

مٹی میں مل کے مٹی کا حق دار میں ہی ہوں

بشیر بدر نے اپنی شاعری میں ایسی تشبیہات اور استعارے استعمال کئے ہیں جو ان کی اپنی تخلیق ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں غزلوں کی فضا عام غزلوں سے مختلف ہے جیسے

وہی شہر وہی راستے وہی گھر ہے وہی لان بھی

مگر اس دریچے سے پوچھنا وہ درخت انار کا کیا ہوا

بھٹک رہی ہے پرانی دلائیاں اوڑھے

حویلوں میں مرے خاندان کی خوشبو

ہنسی معصوم سی بچوں کی کاپی میں عبارت سی

ہرن کی پیٹھ پر بیٹھے پرندے کی شرارت سی

چرواہا بھیڑوں کو لے کر گھر گھر آیا رات ہوئی

تو پنچھی دل تیرا پنجرا، پنجرے میں جا رات ہوئی۔

ان اشعار میں لان، دریچے، پرانی دلائیاں، بچوں کی کاپی، ہرن کی پیٹھ جیسی تشبیہات اور استعارے استعمال کر کے غزل کو ایک نیا ڈکشن دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بڑے سے بڑے موضوع کو عام لفظوں میں بیان کر کے عوام تک پہنچانا بشیر بدر کا خاصہ رہا ہے. اتنا ہی نہیں بشیر بدر نے شاعری میں فلسفہ پیش کرنے کے بجائے زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور محرومیوں کو بڑی سادگی کے ساتھ پیش کیا اس حوالے سے وہ خود لکھتے ہیں کہ

سنوار نوک پلک ابروؤں کو خم کر دے

گرے پڑے ہوئے لفظوں کو محترم کردے

غرور اس پہ بہت سجتا ہے مگر کہہ دو

اسی میں اس کا بھلا ہے غرور کم کردے

ان اشعار پہ اگر ایک طائرانہ نظر ہی ڈالی جائے تو یہ عیاں ہوتی ہے کہ بشیر بدر کے اشعار نہ صرف سہل پسند شائقین کی پسند بن چکے ہیں بلکہ ادب نواز ہلکے میں بھی ان کی شاعری مقبولیت حاصل کر چکی ہے

ڈاکٹر بشیر بدر ایک جرأت مند اور بے باک شاعر ہیں لکھتے ہیں کہ

مجھ سے کیا بات لکھانی ہے کہ میرے لیے

کبھی چاندی کبھی سونے کے قلم آتے ہیں

کئی میل ریت کو کاٹ کر کوئی موج پھول کھلا گئی

کوئی پیڑ پیاس سے مر رہا ہے ندی کے پاس کھڑا ہوا

بشیر بدر نے اپنی شاعری میں قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا معنی خیز پیغام دیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ

تحریر و گفتگو میں کسے ڈھونڈتے ہیں لوگ

تصویر میں بھی شکل ہماری نہ آئے گی

سر پر زمین لے کے ہواؤں کے ساتھ جا

آہستہ چلنے والوں کی باری نہ آئے گی

بشیر بدر کی شاعری سے ان کی زندگی کے گوناگوں اوصاف بڑے سلیقے سے منظر عام پر آئے ہیں

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا

اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

بہت عجیب ہے یہ قربتوں کی دوری بھی

وہ میرے ساتھ رہا اور مجھے کبھی نہ ملا

بشیر بدر کی ذات اور ان کی شاعری کے بارے میں بات کرتے ہوئے پروفیسر خلیق انجم نے کہا ‘ تھا کہ ” ہندوستان کی دوسری زبانوں میں غزل کے لئے جو محبت اور عزت پیدا ہوئی ہے اس میں بشیر بدر کا نمایاں حصہ ہے بشیر بدر کی شاعری معمولی شاعری نہیں ہے وہ زندگی کے تفکر کو غزل بناتے ہیں ان کا کمال یہ ہے کہ اچھی شاعری کر کے مقبول ہیں میرے نزدیک اس وقت ہندوستان میں اور ہندوستان سے باہر اردو غزل کی آبرو بشیر بدر ہیں’

ڈاکٹر بشیر بدر نے ظلم کرنے والوں اور ظالموں کی حمایت کرنے والوں کے لیے بھی اپنی شاعری میں پیغام رکھا ہے لکھتے ہیں کہ

ہماری بے بسی کی انتہا ہے

کہ ظالم کی حمایت کر رہے ہیں

بشیر بدر کے بارے میں مختلف شعرا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے پروفیسر گوپی چند نارنگ کا خیال ہے کہ ” ڈاکٹر بشیر بدر پیارے شاعر ہیں اور اتنے ہی پیارے انسان بھی ہیں ”

ندا فاضلی کا خیال ہے کہ ” بشیر بدر کی آواز زور سے پہچانی جاتی ہے یہی بہت ہے "اس کے علاوہ ڈاکٹر زماں فتح پوری، ڈاکٹر جمیل جالبی، پروفیسر خلیل انجم، اور حیات اللہ انصاری نے بھی بشیر بدر کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔بشیر بدر کے متعدد اشعار محفلوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ان کے اشعار کئی بار پارلمنٹ میں بھی پڑھے جاچکے ہیں یہاں تک میں ملک اور ملک سے باہر بھی بشیر بدر کے اشعار کا چرچہ ہیں اگر چہ ان سبھی اشعار کا حوالہ دینا ممکن نہیں ہے تاہم بشیر بدر کے چند مشہور بلکہ زبان ذد عام اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا

نفرت کو محبت کا شعر سناتا ہوں

میں لال پسی مرچیں پلکوں سے اٹھاتا ہوں

ان پرندوں پر بھروسہ کیجئے

آسماں چھونے کی ہمت دیجئے

پرکھنا مت پرکھنے سے کوئی اپنا نہیں رہتا

کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملے کا تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

عمر کے آخری ایام میں ڈیمنشیا نامی بیمار میں ملوث ہوئے جس وجہ سے ان کا قوت حافظہ کمزور ہو گیا تھا ۔ ان کے کچھ ایسی ویڈیو بھی سوچ میڈیا پر آ چکے ہیں جن میں ان کی شریک حیات راحت بدر انہیں ان ہی کے اشعار یاد دلاتی تھی لیکن افسوس بشیر بدر صاحب اپنا ہی کہا ہوا شعر نہیں پڑھ پاتے تھے اور یہ زندگی کی حقیقت ہے

افسوس ان لافانی اشعار کے خالق، مشاعروں کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور اردو دنیا کا یہ روشن ستارہ 28 مئی 2026 کو طویل علالت کے بعد 91 سال کی عمر میں بھوپال میں اس جہانِ فانی کو لبیک کہہ گلے ۔ بشیر بدر کے اشعار بڑی دیر تک سنائی دیں گے اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ/ وزارت خارجہ

جنگ نیوز بھارت نے پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان...

تازہ ترین خبریں

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ/ وزارت خارجہ

جنگ نیوز بھارت نے پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان...

نفرتوں کے دور میں محبت کے شعر سنانے والا شاعر تھا بشیر بدرؔ

سبزار احمد بٹ                                                                

عصرِ حاضر کے شعرا میں ڈاکٹر بشیر بدر اپنی ایک منفرد پینچان رکھتے تھے ۔شعروادب سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی انسان ہوگا جو بشیر بدر کے نام سے واقف نہ ہو۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ غالب کے بعد بشیر بدر ایسے واحد شاعر ہیں جو اردو دان طبقے کے ساتھ ساتھ غیر اردو دان طبقے میں بھی اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ان کے بہت سارے اشعار زبان ذد عام ہو چکے ہیں ۔ بشیر بدر کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں وہ ایک منفرد شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منفرد نقاد بھی ہیں بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر ہے لیکن شعرو ادب کی دنیا میں بشیر بدر کے نام سے مشہور ہیں۔ والد صاحب کا نام سید محمد نظیر اور والدہ کا نام عالیہ بیگم ہے۔اردو کا یہ درخشندہ ستارہ 15 فروری 1935 کو کانپور (اترپردیش )میں طلوع ہوا۔ کم عمری میں ہی والد صاحب کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔والدہ محترمہ نے بہترین تربیت کی ۔محض سات یا آٹھ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ حافظ صدیقی انٹر کالج کے طالب علم ہونے کے دوران ہی شاعری کا آغاز کیا ۔والد صاحب کی وفات کے بعد اگر چہ تعلیم منقطع ہوئی اور پولیس میں ملازمت کرنے لگے تاہم گھریلو اور ملازمتی مصروفیات کے باوجود پرائیوٹ طور پر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ایم۔ اے ۔ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے کیا ۔پی ایچ ڈی کی ڈگری "آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ ” کے موضوع پر پروفیسر آل احمد سرور کی سرپرستی میں کیا ۔ کچھ دیر علی گڈھ مسلم یونیورسٹی میں بطور لیکچرر تعینات رہنے کے بعد میرٹھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر مقرر ہوئے ۔بشیر بدر کو نئی غزل کا ایک منفرد شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ناصر کاظمی کے بعد بشیر بدر جدید اردو غزل گوئی کے سب سے معتبر شاعر مانے ہیں۔ مشہور شاعر ڈاکٹر ملک ذادہ منظور اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ” جدید اردو غزل گوئی کا کوئی بھی منظر نامہ بشیر بدر کے نام کے بغیر نامکمل ہے۔اس حوالے سے بشیر بدر خود لکھتے ییں کہ

” غزل کا عالمی اور جدید منظر نامہ فارسی زدہ غزل کے طریقۂ کار سے مختلف ہو چلا ہے، یہ کارنامہ میرا ہے ۔میری غزل اس سفر کا آغاز تھی” اگر چہ چند ناقدین نے بشیر بدر کے اس دعوی کو نکارا بھی ہے لیکن اکثر شعرا بشیر بدر کے رنگ و آہنگ کی تقلید کرتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ بشیر بدر کا یہ دعوی کتنا سچا ہے

بشیر بدر کے بارے میں ڈاکٹر جمیل جالبی رقمطراز ہیں کہ ” بشیر بدر کی آواز میں ایک نیا پن ہے ان کے یہاں نغمگی میں ہے اور عہد حاضر کی آواز بھی "رضیہ حامد بشیر بدر کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ” ایک محتاط اور ذمہ دار سروے کے مطابق بشیر بدر کی صرف ایک غزل جس کی ردیف” بابا” ہے اس سے متاثر ہو کر رسالے اور مشاعرے کے اہم شعرا نے ڈھائی ہزار غزلیں کہیں۔71 شاعروں نے اپنی غزلیں شائع کرتے وقت ایسی غزلوں کو بشیر بدر کے نام معنون و منسوب کیا۔

بشیر بدر کے مختلف شعری مجموعے جیسے "اکاہی”(1969) امیج”(1973) آسمان (1993)آہٹ، آس ، اللہ حافظ، اور آمد ( 1994) اور” اکاہی” شامل ہیں ۔ آس نامی شعری مجموعے کو بشیر بدر کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھا جاتا ہے اس کے علاوہ” بیسویں صدی میں اردو غزل” ” امتیاز میر” اور” تمہارے لیے” ان کی اہم تصانیف ہیں ۔ان کی شاعری کو مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے دنیا کے مختلف لوگ ان کی شاعری سے متعارف ہوئے ہیں۔1999 میں ملک کے سب سے بڑے ادبی اعزاز” پدم شری ” سے بھی نوازا جاچکا ہے جبکہ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کے ساتھ ساتھ انہی ادبی خدمات کے سلسلے میں متعدد اعزازات اور انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔1980 میں بشیر بدر کو ” پوئٹ آف دی آئر” جیسے بین الاقوامی اعزاز سے بھی نوازا جاچکا ہے ۔ان کے شاعرانہ قد کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بہت سارے انعامات اور اعزازات بشیر بدر تک پہنچنے کے لیے تڑپ رہے تھے یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان اعزازات اور انعامات کو بشیربدر تک پہنچنا نصیب نہیں ہوا ۔

شعرو شاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا. والد صاحب بھی شعر وادب سے دلچسپی رکھتے تھے ۔ جس کا اثر بشیر بدر پر بھی پڑا ۔ کہا جاتا ہے کہ بشیر بدر نے ساتھ سال کی عمر میں ہی شعر کہنے شروع کئے ۔ ہاں مگر بشیر بدر کو یہ شہرت اور یہ مقام یوں ہی نہیں ملا ہے بلکہ انہیں اللہ نے وسعت تخلیق، ذہانت اور فکری ریاضت عطا فرمائی تھی اور بشیر بدر نے اللہ کی دی ہوئی اس صلاحیت کو اپنے خون جگر سے آبیاری کی ہے لکھتے ہیں کہ

یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں

تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا

اللہ نے نواز دیا ہے تو خوش رہو

تم کیا سمجھ رہے ہو یہ شہرت غزل سے ہے

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

اس آخری شعر کو اگر بشیر بدر کی پیچان سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اپنے شعری سفر کے آغا میں اس طرح کا لافانی شعر کہنے والے اس عظیم شاعر کے قد کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے. ۔بشیر بدر کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے قدیم اور فرسودہ موضوعات کے بجائے روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے اور محسوس کئے جانے والے حالات و واقعات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے بشیر بدر کی شاعری میں سادگی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کشش ہے جو سامعین کو کھینچ کر لاتی ہے یہی وجہ ہے کی بشیر بدر طویل عرصے تک مشاعروں کی زینت بنے رہے بلکہ بشیر بدر کو اگر مشاعروں کی کامیابی کا راز کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بشیر بدر نے نہ صرف مشاعرے پڑھے بلکہ مشاعرے لوٹ لئے ۔اس حوالے سے بشیر بدر کو اگر دنیا میں اردو کا سفیر کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا

بشیر بدر نے اپنی شاعری میں مختلف موضوع پیش کئے ہیں جن میں ایک طرح کا اخلاقی درس بھی موجود ہے لکھتے ہیں

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں

دشمنی کا سفر ایک قدم، دو قدم

تم بھی تھک جاؤ گے، ہم بھی تھک جائیں گے

بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا،

جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا،

بشیر بدر نے دنیا کی بے ثبانی جیسے اہم اور حساس موضوع کا اظہار کچھ اس طرح کیا ہے

شہرت کی بلندی بھی دو پل کا تماشہ ہے

جس شاخ پر بیٹھے ہو ٹوٹ بھی سکتی ہے

بشیر بدر اپنی شاعری میں محبت کا پیغام سنایا ہے یہی وجہ ہے کہ بشیر بدر کو ” محبت کا شاعر ” بھی کہا جاتا ہے لکھتے ہیں کہ

چاند سا مصرعہ اکیلا ہے میرے کاغذ پر

چھت پہ آجاؤ میرا شعر مکمل کر دو۔

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا

یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں

عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

تم محبت کو کھیل کہتے ہو

ہم نے برباد زندگی کر لی

وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے

چاند کہتے ہیں کسے خوب سمجھتے ہوں گے

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری

لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

1987 میں جب میرٹھ فرقہ وارانہ فسادات کی ذد میں آیا۔تو متعدد آشیانےخاکستر ہو گئے جس میں بشیر بدر کا گھر بھی شامل تھا اس حادثے میں بشیر بدر کا شعری اثاثہ بھی جل کر راکھ ہوگیا۔ اس حادثے سے بشیر بدر کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی اور وہ میرٹھ چھوڑ کر بھوہال چلے گئے اور گھر جلنے کا دکھ کچھ اس طرح سے ظاہر کیا

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس کیوں نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

اس شعر کی بدولت بشیر بدر لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں

جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ بشیر بدر محبت کے شاعر ہیں اور انہیں نفرت سے سخت نفرت ہے۔ملک میں نفرت انگیز سیاست اور مذہبی تعصب کو وہ کچھ اس طرح سے ہدف تنقید بناتے ہیں کہ

بڑے شوق سے میرا گھر جلا کوئی آنچ تجھ پر نہ آئے گی

یہ زبان کسی نے خرید لی، یہ قلم کسی کا غلام ہے

روٹیاں کچی پکی، کپڑے بہت گندے دھلے

مجھ کو پاکستان کی اس میں شرارت سی لگی۔

جو لوگ اپنے حقیر مقاصد کے لیے مذہبی سیاست کرتے ہیں اور تعصب کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر کے امن و امان بگاڑنے میں ہاتھ دھو کر پیچھے پڑے ہیں ان کے لیے بشیر بدر اس طرح سے مخاطب ہیں کہ

کسی کو گرا رہے ہو کسی کو جلا رہے ہو

اے مذہبی درندو ! ہر گھر خدا کا گھر ہے

ہندوستان کا سچا وفادار میں ہی ہوں

قبروں سے پوچھ اصلی زمیندار میں ہی ہوں

دریا کے ساتھ وہ تو سمندر میں مل گیا

مٹی میں مل کے مٹی کا حق دار میں ہی ہوں

بشیر بدر نے اپنی شاعری میں ایسی تشبیہات اور استعارے استعمال کئے ہیں جو ان کی اپنی تخلیق ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں غزلوں کی فضا عام غزلوں سے مختلف ہے جیسے

وہی شہر وہی راستے وہی گھر ہے وہی لان بھی

مگر اس دریچے سے پوچھنا وہ درخت انار کا کیا ہوا

بھٹک رہی ہے پرانی دلائیاں اوڑھے

حویلوں میں مرے خاندان کی خوشبو

ہنسی معصوم سی بچوں کی کاپی میں عبارت سی

ہرن کی پیٹھ پر بیٹھے پرندے کی شرارت سی

چرواہا بھیڑوں کو لے کر گھر گھر آیا رات ہوئی

تو پنچھی دل تیرا پنجرا، پنجرے میں جا رات ہوئی۔

ان اشعار میں لان، دریچے، پرانی دلائیاں، بچوں کی کاپی، ہرن کی پیٹھ جیسی تشبیہات اور استعارے استعمال کر کے غزل کو ایک نیا ڈکشن دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بڑے سے بڑے موضوع کو عام لفظوں میں بیان کر کے عوام تک پہنچانا بشیر بدر کا خاصہ رہا ہے. اتنا ہی نہیں بشیر بدر نے شاعری میں فلسفہ پیش کرنے کے بجائے زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور محرومیوں کو بڑی سادگی کے ساتھ پیش کیا اس حوالے سے وہ خود لکھتے ہیں کہ

سنوار نوک پلک ابروؤں کو خم کر دے

گرے پڑے ہوئے لفظوں کو محترم کردے

غرور اس پہ بہت سجتا ہے مگر کہہ دو

اسی میں اس کا بھلا ہے غرور کم کردے

ان اشعار پہ اگر ایک طائرانہ نظر ہی ڈالی جائے تو یہ عیاں ہوتی ہے کہ بشیر بدر کے اشعار نہ صرف سہل پسند شائقین کی پسند بن چکے ہیں بلکہ ادب نواز ہلکے میں بھی ان کی شاعری مقبولیت حاصل کر چکی ہے

ڈاکٹر بشیر بدر ایک جرأت مند اور بے باک شاعر ہیں لکھتے ہیں کہ

مجھ سے کیا بات لکھانی ہے کہ میرے لیے

کبھی چاندی کبھی سونے کے قلم آتے ہیں

کئی میل ریت کو کاٹ کر کوئی موج پھول کھلا گئی

کوئی پیڑ پیاس سے مر رہا ہے ندی کے پاس کھڑا ہوا

بشیر بدر نے اپنی شاعری میں قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا معنی خیز پیغام دیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ

تحریر و گفتگو میں کسے ڈھونڈتے ہیں لوگ

تصویر میں بھی شکل ہماری نہ آئے گی

سر پر زمین لے کے ہواؤں کے ساتھ جا

آہستہ چلنے والوں کی باری نہ آئے گی

بشیر بدر کی شاعری سے ان کی زندگی کے گوناگوں اوصاف بڑے سلیقے سے منظر عام پر آئے ہیں

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا

اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

بہت عجیب ہے یہ قربتوں کی دوری بھی

وہ میرے ساتھ رہا اور مجھے کبھی نہ ملا

بشیر بدر کی ذات اور ان کی شاعری کے بارے میں بات کرتے ہوئے پروفیسر خلیق انجم نے کہا ‘ تھا کہ ” ہندوستان کی دوسری زبانوں میں غزل کے لئے جو محبت اور عزت پیدا ہوئی ہے اس میں بشیر بدر کا نمایاں حصہ ہے بشیر بدر کی شاعری معمولی شاعری نہیں ہے وہ زندگی کے تفکر کو غزل بناتے ہیں ان کا کمال یہ ہے کہ اچھی شاعری کر کے مقبول ہیں میرے نزدیک اس وقت ہندوستان میں اور ہندوستان سے باہر اردو غزل کی آبرو بشیر بدر ہیں’

ڈاکٹر بشیر بدر نے ظلم کرنے والوں اور ظالموں کی حمایت کرنے والوں کے لیے بھی اپنی شاعری میں پیغام رکھا ہے لکھتے ہیں کہ

ہماری بے بسی کی انتہا ہے

کہ ظالم کی حمایت کر رہے ہیں

بشیر بدر کے بارے میں مختلف شعرا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے پروفیسر گوپی چند نارنگ کا خیال ہے کہ ” ڈاکٹر بشیر بدر پیارے شاعر ہیں اور اتنے ہی پیارے انسان بھی ہیں ”

ندا فاضلی کا خیال ہے کہ ” بشیر بدر کی آواز زور سے پہچانی جاتی ہے یہی بہت ہے "اس کے علاوہ ڈاکٹر زماں فتح پوری، ڈاکٹر جمیل جالبی، پروفیسر خلیل انجم، اور حیات اللہ انصاری نے بھی بشیر بدر کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔بشیر بدر کے متعدد اشعار محفلوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ان کے اشعار کئی بار پارلمنٹ میں بھی پڑھے جاچکے ہیں یہاں تک میں ملک اور ملک سے باہر بھی بشیر بدر کے اشعار کا چرچہ ہیں اگر چہ ان سبھی اشعار کا حوالہ دینا ممکن نہیں ہے تاہم بشیر بدر کے چند مشہور بلکہ زبان ذد عام اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا

نفرت کو محبت کا شعر سناتا ہوں

میں لال پسی مرچیں پلکوں سے اٹھاتا ہوں

ان پرندوں پر بھروسہ کیجئے

آسماں چھونے کی ہمت دیجئے

پرکھنا مت پرکھنے سے کوئی اپنا نہیں رہتا

کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملے کا تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

عمر کے آخری ایام میں ڈیمنشیا نامی بیمار میں ملوث ہوئے جس وجہ سے ان کا قوت حافظہ کمزور ہو گیا تھا ۔ ان کے کچھ ایسی ویڈیو بھی سوچ میڈیا پر آ چکے ہیں جن میں ان کی شریک حیات راحت بدر انہیں ان ہی کے اشعار یاد دلاتی تھی لیکن افسوس بشیر بدر صاحب اپنا ہی کہا ہوا شعر نہیں پڑھ پاتے تھے اور یہ زندگی کی حقیقت ہے

افسوس ان لافانی اشعار کے خالق، مشاعروں کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور اردو دنیا کا یہ روشن ستارہ 28 مئی 2026 کو طویل علالت کے بعد 91 سال کی عمر میں بھوپال میں اس جہانِ فانی کو لبیک کہہ گلے ۔ بشیر بدر کے اشعار بڑی دیر تک سنائی دیں گے اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں