نئی دہلی کے خدشات، واشنگٹن کی خاموشی

ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں جس تیزی سے مستحکم ہوئے تھے، حالیہ مہینوں میں اسی رفتار سے ان میں دراڑیں بھی نمایاں ہوئی ہیں۔ ایسے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا چار روزہ دورۂ ہند محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی بداعتمادی کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھا جا رہا تھا۔جنوری 2025 میں منصب سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورۂ ہند تھا۔ اس دوران نئی دہلی کو امید تھی کہ تجارت، ویزا پالیسی، امیگریشن، توانائی کے معاملات، علاقائی سلامتی اور جغرافیائی سیاست سے متعلق اختلافات پر کھل کر بات ہوگی اور تعلقات میں پیدا ہونے والی تلخی کو کم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم دورے کے اختتام پر یہ تاثر ابھرا کہ سفارتی گرم جوشی کے باوجود بنیادی مسائل اپنی جگہ برقرار ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے تجارتی محصولات، ویزا پابندیوں میں سختی، آؤٹ سورسنگ سے متعلق تحفظات اور ہندوستان کی توانائی ضروریات پر اثر انداز ہونے والی امریکی پالیسیوں نے نئی دہلی میں تشویش پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ چین، پاکستان اور مغربی ایشیا سے متعلق بعض امریکی اقدامات اور بیانات نے بھی فاصلوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی کارروائی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ہندوستان کی توانائی سلامتی اور اقتصادی مفادات کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ان حالات میں نئی دہلی نے مارکو روبیو کے استقبال میں غیرمعمولی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پروٹوکول سے ہٹ کر ان کا خیرمقدم کیا جبکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے متعدد طویل ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کے تقریباً تمام اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ دفاعی تعاون، جوہری ٹیکنالوجی، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف موضوعات ایجنڈے میں شامل رہے۔
تاہم عملی نتائج کے اعتبار سے یہ دورہ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کے ایک معاہدے کے علاوہ کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ رہی کہ امریکی وزیر خارجہ نے تعلقات میں موجود مشکلات کو تسلیم کرنے کے بجائے مسلسل یہ موقف اختیار کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں۔سفارت کاری میں مثبت بیانات اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، لیکن پائیدار شراکت داری کا تقاضا یہ ہے کہ اختلافات اور تحفظات کو بھی سنجیدگی سے تسلیم کیا جائے۔ اگر ایک فریق اپنے خدشات کا اظہار کر رہا ہو اور دوسرا فریق ان مسائل کے وجود ہی سے انکار کرے تو اعتماد کی فضا قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اور امریکہ آج بھی ایک دوسرے کے اہم ترین تزویراتی شراکت داروں میں شمار ہوتے ہیں۔ جمہوری اقدار، اقتصادی مفادات، ٹیکنالوجی، دفاعی تعاون اور بحرِ ہند و بحرالکاہل کے خطے میں استحکام دونوں ممالک کو قریب لانے والے عوامل ہیں۔ لیکن مضبوط تعلقات صرف مشترکہ مفادات سے نہیں بلکہ باہمی احترام اور ایک دوسرے کے خدشات کے ادراک سے بھی قائم رہتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

نئی دہلی کے خدشات، واشنگٹن کی خاموشی

ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں جس تیزی سے مستحکم ہوئے تھے، حالیہ مہینوں میں اسی رفتار سے ان میں دراڑیں بھی نمایاں ہوئی ہیں۔ ایسے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا چار روزہ دورۂ ہند محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی بداعتمادی کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھا جا رہا تھا۔جنوری 2025 میں منصب سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورۂ ہند تھا۔ اس دوران نئی دہلی کو امید تھی کہ تجارت، ویزا پالیسی، امیگریشن، توانائی کے معاملات، علاقائی سلامتی اور جغرافیائی سیاست سے متعلق اختلافات پر کھل کر بات ہوگی اور تعلقات میں پیدا ہونے والی تلخی کو کم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم دورے کے اختتام پر یہ تاثر ابھرا کہ سفارتی گرم جوشی کے باوجود بنیادی مسائل اپنی جگہ برقرار ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے تجارتی محصولات، ویزا پابندیوں میں سختی، آؤٹ سورسنگ سے متعلق تحفظات اور ہندوستان کی توانائی ضروریات پر اثر انداز ہونے والی امریکی پالیسیوں نے نئی دہلی میں تشویش پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ چین، پاکستان اور مغربی ایشیا سے متعلق بعض امریکی اقدامات اور بیانات نے بھی فاصلوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی کارروائی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ہندوستان کی توانائی سلامتی اور اقتصادی مفادات کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ان حالات میں نئی دہلی نے مارکو روبیو کے استقبال میں غیرمعمولی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پروٹوکول سے ہٹ کر ان کا خیرمقدم کیا جبکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے متعدد طویل ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کے تقریباً تمام اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ دفاعی تعاون، جوہری ٹیکنالوجی، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف موضوعات ایجنڈے میں شامل رہے۔
تاہم عملی نتائج کے اعتبار سے یہ دورہ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کے ایک معاہدے کے علاوہ کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ رہی کہ امریکی وزیر خارجہ نے تعلقات میں موجود مشکلات کو تسلیم کرنے کے بجائے مسلسل یہ موقف اختیار کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں۔سفارت کاری میں مثبت بیانات اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، لیکن پائیدار شراکت داری کا تقاضا یہ ہے کہ اختلافات اور تحفظات کو بھی سنجیدگی سے تسلیم کیا جائے۔ اگر ایک فریق اپنے خدشات کا اظہار کر رہا ہو اور دوسرا فریق ان مسائل کے وجود ہی سے انکار کرے تو اعتماد کی فضا قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اور امریکہ آج بھی ایک دوسرے کے اہم ترین تزویراتی شراکت داروں میں شمار ہوتے ہیں۔ جمہوری اقدار، اقتصادی مفادات، ٹیکنالوجی، دفاعی تعاون اور بحرِ ہند و بحرالکاہل کے خطے میں استحکام دونوں ممالک کو قریب لانے والے عوامل ہیں۔ لیکن مضبوط تعلقات صرف مشترکہ مفادات سے نہیں بلکہ باہمی احترام اور ایک دوسرے کے خدشات کے ادراک سے بھی قائم رہتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں