تانترے اظہر نصیر
منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال آج کے دور کے سب سے بڑے سماجی اور اخلاقی مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ پورے ہندوستان خصوصاً جموں و کشمیر میں منشیات کی لعنت نے نوجوان نسل، خاندانوں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو شدید متاثر کیا ہے۔ اسی خطرناک صورتحال کے پیش نظر حکومت ہند نے “نشا مکت بھارت ابھیان” کا آغاز کیا تاکہ عوام میں بیداری پیدا ہو، بحالی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور ایک منشیات سے پاک معاشرہ قائم کیا جا سکے۔
جموں و کشمیر میں حال ہی میں شروع کی گئی سو روزہ “نشا مکت بھارت ابھیان” مہم نے اس تحریک کو نئی رفتار بخشی ہے۔ اسکول، کالج، صحت کے ادارے، پولیس، سماجی تنظیمیں اور سول انتظامیہ سب مل کر منشیات کے خلاف بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ اس مہم میں عوام کی بڑھتی ہوئی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی بلکہ پورے معاشرے کو متحد ہونا ہوگا۔
منشیات مخالف مہم چلانے والے اظہر نصیر نے اس مہم کو نوجوان نسل کے لیے امید کی کرن اور بہتر مستقبل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے حکومت، سول انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی کوششوں کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیداری پروگرام، کھیلوں کی سرگرمیاں، مشاورتی نشستیں اور بحالی مراکز نوجوانوں میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔
تاہم اس مہم کے دوران ایک اہم بحث بھی سامنے آئی ہے کہ بچوں کو منشیات سے متعلق آگاہی کس انداز میں دی جائے۔ اگرچہ بیداری مہمات کا مقصد نہایت اہم اور مثبت ہے، لیکن زمینی سطح پر بعض ایسے تجربات سامنے آئے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عمر کے لحاظ سے غیر محتاط انداز میں دی گئی معلومات بعض اوقات الٹا تجسس پیدا کر دیتی ہیں۔
راشٹریہ بال سواستھیا کاریہ کرم سے وابستہ ایک ہیلتھ ورکر نے ایک تشویشناک واقعہ بیان کیا۔ وہ اپنے آٹھ سالہ بچے کے اسکول کے جوتے صاف کر رہی تھیں کہ بچے نے ضد کی کہ وہ خود جوتے پالش کرے گا کیونکہ اسکول میں اسے بتایا گیا تھا کہ بوٹ پالش سے نشہ ہو سکتا ہے اور وہ اس بات کو آزمانا چاہتا تھا۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اوقات آگاہی کا پیغام بچوں کے ذہن میں غیر ضروری تجسس پیدا کر دیتا ہے۔ جو بچہ پہلے ان چیزوں سے بالکل ناواقف تھا، وہ اب انہیں آزمانے کے بارے میں سوچنے لگا۔
اسی طرح ایک استاد نے ایک اور واقعہ بیان کیا۔ کئی برسوں تک اسکول کے باہر پڑی گھاس کے ڈھیروں کو کسی بچے نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ایک دن اسمبلی میں استاد نے بچوں کو خبردار کیا کہ گھاس کے قریب ماچس نہ لائیں کیونکہ آگ لگ سکتی ہے۔ اگلے ہی دن چند بچے ماچس لے آئے اور گھاس کو آگ لگا دی۔
ماہرین نفسیات کے مطابق کم عمر بچے اکثر منع کی گئی چیزوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔ اسے “فاربڈن فروٹ ایفیکٹ” کہا جاتا ہے۔ بچے خطرات کی گہرائی کو نہیں سمجھتے بلکہ ان چیزوں کے بارے میں تجسس محسوس کرتے ہیں جن سے انہیں روکا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بیداری مہمات کو بند کر دیا جائے۔ منشیات کے خلاف شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لیکن آگاہی دینے کا طریقہ نہایت اہم ہے۔ بیداری مہمات کو عمر، ذہنی پختگی اور تعلیمی اصولوں کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔
کم عمر بچوں کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مثبت اقدار، نظم و ضبط، صحت مند عادات، تعلیم، کھیل، اخلاقیات اور خود اعتمادی کے بارے میں سکھایا جائے۔ انہیں منشیات کی تفصیلات یا نشے کے طریقوں کے بارے میں غیر ضروری معلومات دینا مناسب نہیں۔
بڑی عمر کے طلبہ کے لیے مرحلہ وار اور محتاط انداز میں منشیات، ذہنی دباؤ، بری صحبت اور بحالی سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ لیکن یہ معلومات صرف خوف پر مبنی نہ ہوں بلکہ ان میں رہنمائی، مشاورت اور مثبت مکالمہ بھی شامل ہو۔
اساتذہ کی تربیت بھی بے حد ضروری ہے۔ ایک غلط جملہ یا غیر محتاط انداز بعض اوقات الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے اسکولوں میں دی جانے والی معلومات کو نصاب کی طرح ذمہ داری اور حکمت کے ساتھ تیار کرنا ہوگا۔
والدین کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق، گفتگو اور نگرانی انہیں غلط راستوں سے بچا سکتی ہے۔ جو بچے گھر میں محبت، توجہ اور اعتماد محسوس کرتے ہیں، وہ برے اثرات سے نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔
اظہر نصیر نے کہا کہ نوجوانوں اور عوام کی بڑھتی ہوئی شرکت اس بات کا واضح پیغام ہے کہ معاشرہ منشیات کے خلاف متحد ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت، پولیس، سول انتظامیہ اور عوام کے باہمی تعاون سے یہ تحریک مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
پولیس اور سول انتظامیہ کی خدمات واقعی قابلِ تعریف ہیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں، بیداری پروگرام، بحالی مراکز، کھیلوں کے مقابلے، میراتھن اور مشاورتی پروگرام نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لے جا رہے ہیں۔
نشا مکت بھارت ابھیان کی کامیابی صرف نعروں سے ممکن نہیں بلکہ دانشمندی، احتیاط اور متوازن تعلیم سے ممکن ہے۔ شعور ایسا ہو جو رہنمائی دے مگر غیر ضروری تجسس پیدا نہ کرے۔ معلومات ایسی ہوں جو حفاظت کریں، نقصان نہ پہنچائیں۔
ایک مضبوط اور صحت مند معاشرہ تب ہی وجود میں آتا ہے جب بچوں کو علم، اخلاق، اعتماد اور مثبت سوچ کے ساتھ پروان چڑھایا جائے۔ ہر بیداری مہم کا مقصد جان بچانا، خاندان مضبوط کرنا اور ذمہ دار شہری تیار کرنا ہونا چاہیے۔
جموں و کشمیر نے برسوں سے بے شمار مشکلات دیکھی ہیں۔ منشیات کے خلاف جاری یہ تحریک ایک نئی امید اور نئی سمت فراہم کر رہی ہے۔ اگر حکومت، عوام، والدین، اساتذہ، پولیس اور نوجوان اسی جذبے کے ساتھ متحد رہے تو منشیات سے پاک مستقبل کا خواب ضرور حقیقت بن سکتا ہے۔
زززز


