شری منوج سنہا نشہ مُکت کارواں کے علمبردار

 

خورشید ریشی

لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا جی کی جانب سے شروع کی گئی نشہ مخالف “سو روزہ بیداری مہم” آج پورے جموں و کشمیر میں ایک عظیم عوامی تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایک ایسا مشن ہے جس کا مقصد آنے والی نسلوں کو تباہی، بربادی اور اخلاقی زوال سے بچا کر ایک محفوظ، تعلیم یافتہ اور خوشحال معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ آج ہر ضلع، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں اس مہم کے ساتھ ہزاروں لوگ جڑ رہے ہیں۔ مرد، خواتین، بزرگ، نوجوان اور بچے سب دل کھول کر اس کارواں کا حصہ بن رہے ہیں اور شری منوج سنہا جی کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے عوام میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس مہم کو اپنی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔
یہی عوامی بیداری اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ اب تبدیلی چاہتا ہے۔ آج ہر گھر میں نشے کے خلاف بات ہو رہی ہے، والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے فکرمند ہیں اور نوجوان بھی اس لعنت سے دور رہنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ شری منہوج سنہا جی جس جذبے، خلوص اور انتھک محنت کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں، وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔ وہ ایک حقیقی رہنما کی طرح خود میدان میں موجود رہ کر عوام کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر قوم متحد ہو جائے تو کوئی بھی برائی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔
اس مہم سے اُن ماؤں کی امیدیں وابستہ ہیں جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے نشے کی نذر ہوتے دیکھے، اُن بہنوں کے خواب جڑے ہوئے ہیں جن کے بھائی اس لعنت کا شکار ہوئے، اور اُن والدین کی دعائیں شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے عزت، تعلیم اور اخلاق کے راستے پر چلیں۔ شری منوج سنہا جی کا خواب ہے کہ جموں و کشمیر کا ہر نوجوان اپنے ہنر اور صلاحیت کو بروئے کار لا کر ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرے، نہ کہ نشے کے اندھیروں میں اپنی زندگی برباد کرے۔
اس وقت گورنر انتظامیہ کی جانب سے ڈرگ فروشوں اور منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف جو سخت کارروائیاں جاری ہیں، اُن سے ان کے صفوں میں بے چینی اور خوف پیدا ہو چکا ہے۔ قانون کی مضبوط گرفت اور عوامی بیداری نے اُن عناصر کے لئے زمین تنگ کر دی ہے جو نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہے تھے۔ اب ہر وہ شخص جو اس دلدل میں قدم رکھنے کا سوچے گا، وہ ہزار بار سوچنے پر مجبور ہوگا کیونکہ عوام کے اندر شعور اور ذمہ داری کا احساس بیدار ہو چکا ہے۔
آج اس مہم کے مثبت اثرات نمایاں طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ امن، خوشحالی اور ترقی کی نئی امیدیں جنم لے رہی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب یہ مہم اپنے سو دن مکمل کرے گی تو جموں و کشمیر میں ایک نئی شروعات ہوگی، ایک ایسا دور شروع ہوگا جہاں نوجوان تعلیم، کھیل، ادب، ہنر اور انسانیت کے راستے پر گامزن ہوں گے اور نشے کی اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب اس کارواں کا حصہ بنیں۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہوگی، اپنے گھروں اور معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہوگا اور نوجوان نسل کو اس تباہ کن راستے سے بچانے کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ اگر عوام اور انتظامیہ اسی جذبے کے ساتھ مل کر آگے بڑھتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر پورے ملک کے لئے امن، ترقی اور خوشحالی کی ایک روشن مثال بن جائے گا۔ یقیناً شری منوج سنہا جی کی یہ جدوجہد تاریخ میں ایک انقلابی اور انسان دوست اقدام کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

شری منوج سنہا نشہ مُکت کارواں کے علمبردار

 

خورشید ریشی

لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا جی کی جانب سے شروع کی گئی نشہ مخالف “سو روزہ بیداری مہم” آج پورے جموں و کشمیر میں ایک عظیم عوامی تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایک ایسا مشن ہے جس کا مقصد آنے والی نسلوں کو تباہی، بربادی اور اخلاقی زوال سے بچا کر ایک محفوظ، تعلیم یافتہ اور خوشحال معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ آج ہر ضلع، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں اس مہم کے ساتھ ہزاروں لوگ جڑ رہے ہیں۔ مرد، خواتین، بزرگ، نوجوان اور بچے سب دل کھول کر اس کارواں کا حصہ بن رہے ہیں اور شری منوج سنہا جی کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے عوام میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس مہم کو اپنی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔
یہی عوامی بیداری اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ اب تبدیلی چاہتا ہے۔ آج ہر گھر میں نشے کے خلاف بات ہو رہی ہے، والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے فکرمند ہیں اور نوجوان بھی اس لعنت سے دور رہنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ شری منہوج سنہا جی جس جذبے، خلوص اور انتھک محنت کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں، وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔ وہ ایک حقیقی رہنما کی طرح خود میدان میں موجود رہ کر عوام کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر قوم متحد ہو جائے تو کوئی بھی برائی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔
اس مہم سے اُن ماؤں کی امیدیں وابستہ ہیں جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے نشے کی نذر ہوتے دیکھے، اُن بہنوں کے خواب جڑے ہوئے ہیں جن کے بھائی اس لعنت کا شکار ہوئے، اور اُن والدین کی دعائیں شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے عزت، تعلیم اور اخلاق کے راستے پر چلیں۔ شری منوج سنہا جی کا خواب ہے کہ جموں و کشمیر کا ہر نوجوان اپنے ہنر اور صلاحیت کو بروئے کار لا کر ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرے، نہ کہ نشے کے اندھیروں میں اپنی زندگی برباد کرے۔
اس وقت گورنر انتظامیہ کی جانب سے ڈرگ فروشوں اور منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف جو سخت کارروائیاں جاری ہیں، اُن سے ان کے صفوں میں بے چینی اور خوف پیدا ہو چکا ہے۔ قانون کی مضبوط گرفت اور عوامی بیداری نے اُن عناصر کے لئے زمین تنگ کر دی ہے جو نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہے تھے۔ اب ہر وہ شخص جو اس دلدل میں قدم رکھنے کا سوچے گا، وہ ہزار بار سوچنے پر مجبور ہوگا کیونکہ عوام کے اندر شعور اور ذمہ داری کا احساس بیدار ہو چکا ہے۔
آج اس مہم کے مثبت اثرات نمایاں طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ امن، خوشحالی اور ترقی کی نئی امیدیں جنم لے رہی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب یہ مہم اپنے سو دن مکمل کرے گی تو جموں و کشمیر میں ایک نئی شروعات ہوگی، ایک ایسا دور شروع ہوگا جہاں نوجوان تعلیم، کھیل، ادب، ہنر اور انسانیت کے راستے پر گامزن ہوں گے اور نشے کی اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب اس کارواں کا حصہ بنیں۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہوگی، اپنے گھروں اور معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہوگا اور نوجوان نسل کو اس تباہ کن راستے سے بچانے کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ اگر عوام اور انتظامیہ اسی جذبے کے ساتھ مل کر آگے بڑھتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر پورے ملک کے لئے امن، ترقی اور خوشحالی کی ایک روشن مثال بن جائے گا۔ یقیناً شری منوج سنہا جی کی یہ جدوجہد تاریخ میں ایک انقلابی اور انسان دوست اقدام کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں