جنگ نیوز ڈیسک
کولکاتا: ایک تاریخی سیاسی تبدیلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے مغربی بنگال میں پہلی مرتبہ حکومت قائم کر لی، جب شوبھندو ادھیکاری نے ایک شاندار تقریب میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزراء اور بی جے پی کے سینئر قائدین نے شرکت کی۔
کولکاتا میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری میں عوام کی بڑی تعداد موجود رہی۔ بی جے پی رہنماؤں نے اسے ریاست میں “ڈبل انجن حکومت” کے آغاز سے تعبیر کیا۔ شوبھندو ادھیکاری نے روایتی بنگالی لباس میں بنگلہ زبان میں حلف لیا اور ترقی، روزگار، خواتین کو بااختیار بنانے اور بہتر نظم و نسق کا وعدہ کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے نئے وزیر اعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بنگال کے عوام نے تبدیلی، ترقی اور بدعنوانی سے پاک حکمرانی کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی کامیابی کو "تاریخی مینڈیٹ””قرار دیتے ہوئے مرکز کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
تقریب میں کئی بی جے پی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، مرکزی وزراء اور قومی سطح کے قائدین شریک ہوئے۔ ثقافتی پروگراموں، مذہبی رسومات اور نعروں نے تقریب کو جشن کا رنگ دے دیا۔
وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا کہ ان کی حکومت بنیادی ڈھانچے، صنعتی سرمایہ کاری، کسانوں کی فلاح اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دے گی۔ انہوں نے سابق حکومت پر بدعنوانی اور سیاسی تشدد کے الزامات عائد کرتے ہوئے شفاف حکمرانی کا وعدہ کیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پارٹی سماج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ تاہم بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ مینڈیٹ عوام کی ترقی، استحکام اور بہتر حکمرانی کی خواہش کا اظہار ہے۔
تقریب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی کے 98 سالہ سینئر کارکن مہاملال سرکار کے پیر چھو کر ان کا احترام کیا، جس پر حاضرین نے زبردست تالیاں بجائیں۔ مہاملال سرکار کئی دہائیوں سے جن سنگھ اور بی جے پی سے وابستہ رہے ہیں۔


