جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق متنازع بیان کے معاملے میں کارروائی کی منظوری میں تاخیر پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو چار ہفتوں کے اندر فیصلہ لینے کی ہدایت دی ہے۔
چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا بگچی پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران کہا، “اب بہت ہو چکا، حکومت چار ہفتوں میں فیصلہ کرے۔”
سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشور مہتا نے کہا کہ وزیر کا بیان “بدقسمت” تھا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ صرف بدقسمتی نہیں بلکہ “انتہائی افسوسناک” تھا اور وزیر میں ندامت بھی نظر نہیں آئی۔
وجے شاہ نے 2025 میں “آپریشن سندور” کے بعد ایک جلسے کے دوران کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف متنازع تبصرہ کیا تھا، جس پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کرنل قریشی کا اپنی بہن سے زیادہ احترام کرتے ہیں۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے گزشتہ سال اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے بیان کو “نفرت انگیز” اور “اشتعال انگیز” قرار دیا تھا۔


