عہدِ حاضر کے حالات اورہمارے ادبا و شعرا !

پروفیسرمشتاق احمد
ان دنوںعالمی سطح پر انسانی معاشرہ ایک اضطرابی کیفیت کا شکار ہے کہ چہار طرف انسانی زندگی اذیت ناک ہوتی جارہی ہے سربراہانِ ممالک اپنی انا کی جنگ کی آگ میں لاکھوں افراد کی زندگیاں راکھ کر چکے ہیں، معصوم بچوں اورخواتین کی چیخ وپکار سے آسمان گونج رہاہے لیکن دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے ۔اسرائیل اور امریکہ نے پوری عالمی برادری کی آواز کو صدا بہ صحرا کردیاہے اور فلسطین ، ایران اور یوکرین کی زمینیں انسانی لہو سے لال ہوتی جا رہی ہیں۔غرض کہ اکیسویں صدی کا یہ عہد غیر معمولی سیاسی، سماجی، تہذیبی اور فکری تبدیلیوں کا حامل ہے۔ اس دور میں گلوبلائزیشن، سرمایہ دارانہ نظام، ڈیجیٹل میڈیا اور شناختی بحران نے انسانی زندگی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں ادبا و شعرا کی ذمہ داریاں محض جمالیاتی تخلیق تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ سماجی شعور، فکری بیداری اور اخلاقی رہنمائی کا اہم ذریعہ بن جاتے ہیں۔ راقم الحروف نے اس مضمون  میںعہدِ حاضر کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے ادیب و شاعر کی ذمہ داریوں کو مستند حوالوں کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
ادب اور معاشرہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ کسی بھی دور کا ادب اس دور کی فکری، سماجی اور سیاسی کیفیات کا عکاس ہوتا ہے۔ ارسطواؔنے کہا تھا کہ ادب ’’زندگی کی نقل‘‘ (mimesis) ہے، لیکن جدید تنقید کے مطابق ادب نہ صرف زندگی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اسے تشکیل بھی دیتا ہے۔آج کا دور شدید تضادات کا حامل ہے۔ ایک طرف ترقی، دوسری طرف تنزلی، ایک طرف آزادی، دوسری طرف جبر۔یہی وہ حالات ہیں جو ادیب کو ایک فعال کردار ادا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔گلوبلائزیشن نے دنیا کو قریب تو کیا، مگر مقامی ثقافتوں کو کمزور بھی کیا ہے۔ایڈورڈ سعیدEdward Said (یکم نومبر 1935۔25ستمبر 2003)لکھتے ہیں:
 (1)(Said, 1993, p. 336 )No one today is purely one thing.
یہ اقتباس شناخت کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔آج میڈیا عوامی شعور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کررہاہے، مگر اکثر یہ طاقتور طبقات کے مفادات کا محافظ بن جاتا ہے۔Noam Chomsky کے مطابق:
(2)(Chomsky, 2002, p. 11)The media serve the interests of dominant elite groups.
 کارل مارکس نے طبقاتی جدوجہد کو تاریخ کا بنیادی محرک قرار دیاتھا۔
"The history of all hitherto existing society is the history of class struggles. "
 (Marx & Engels, 1848, p. 14) (3)
آج بھی اس نظریے کی معنویت برقرار ہے۔انسان کی تنہائی اور وجودی بحران نے انسانی معاشرے کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا طاقت کی بنیاد پر ہی انسان کا مقدر طے ہوگا۔Erich Fromm لکھتے ہیں:
"Modern man lives under the illusion that he knows what he wants.”
 1955, p. 145) (4) From)
اب ذرا ہم ادب کے نظریاتی کردار پر غوروفکر کریں تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ہمارے ادبا اور شعرا نے ہمیشہ اس طرح کے بحرانی دور میں انسانی معاشرے کی رہنمائی کی ہے ۔ادب کے کردار پر مختلف مفکرین نے اظہار خیال کیا ہے۔ بقول T.S. Eliot’’ ادب جذبات سے فرار نہیں بلکہ اس کی ترتیب ہے‘‘اور بقولMaxim Gorky ’’ادب سماجی تبدیلی کا آلہ ہے‘‘۔غرض کہ ادبا اور شعراکی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حق گوئی اور سچائی کے اظہار کو اپنا وطیرہ بنائے۔George Orwell نے بجا لکھا ہے کہ:
In a time of deceit, telling the truth is a revolutionary act. (5)
یعنی ادیب کو ہر حال میں سچائی کا ساتھ دینا چاہیے اورسماجی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔جیسا کہ عالمی تاریخ کے مطالعے سے حقیقت عیاں ہوتی ہے۔اردو ادب میں فیض احمد فیضؔ جیسے دیگر ترقی پسند شعرا کی شاعری اس کی زندہ مثال ہے۔بقول فیضؔ ۔ع    بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
یہ عوامی بیداری کا پیغام بھی ہے اور انسانی اقدار کو فروغ دینے کا بانگِ درا بھی۔رابندر ناتھ ٹیگور کی نظم
(6)(Tagore, 1910, p. 35)Where the mind is without fear…
یہ نظم ایک مثالی معاشرے کا تصور پیش کرتی ہے اورمزاحمت و احتجاج کا استعارہ بھی۔Bertolt Brecht کہتے ہیں:
"Art is a weapon”. (7)
ادبا اور شعرا کا ایک اہم کام تہذیب و ثقافت کا تحفظ بھی ہے۔ اردو زبان وادب کی تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہمارے ادبا اور شعرا نے ہمیشہ انسانی معاشرے میں صالح اقدار کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ زبان وتہذیب کے زوال پر نہ صرف نوحہ گری کی ہے بلکہ اس کی اصلاح کے لئے جدوجہد بھی کی ہے۔مولانا محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیراحمد،حالیؔ،سرسید اکبرؔ اور خصوصی طورپر علامہ اقبالؔ نے نئی نسل کی فکری رہنمائی کی ہے اور پورے انسانی معاشرے کو غوروفکر کے ساتھ ساتھ ہر ایک مسئلے پر تدبر کرنے کی تلقین کی ہے۔علامہ اقبال ؔنے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا    ؎
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملّت کے  مقدر  کا  ستارہ
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح وبدن  پیش تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
تقدیرِ امم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا مومن کی فراست کو تو کافی ہے اشارہ
غرض کہ اردو ادب میں دورِ آغاز سے ہی ہمارے ادبا اور شعرا نے اپنے فرائض کے تاریخی کارنامے انجام دئیے ہیں۔ سرسید نے تعلیمی اصلاح کے ذریعہ اور پریم چند نے اپنی حقیقت نگاری سے اور علامہ اقبال نے عالمی تناظر میں فکری بیداری کی ذمہ داری کا تاریخی کردار ادا کیاہے۔جہاں تک سوال عہدِ حاضر میں ادبا اور شعرا کو درپیش چیلنجزکا ہے تو یہ حقیقت مسلّم ہے کہ اب ادب بھی کمرشل ازم کا شکار ہے اور ہمارے ادبا اور شعرا بھی عالمی بازار کے تابع ہوتے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ آزادی اظہار خطرے میں ہے۔سوشل میڈیا نے چہار طرف کہرام مچا رکھا ہے ایسے بحرانی دور میں ادیب وشاعرکی ذمہ داری محض مشاہدہ کرنا نہیں بلکہ فعال مداخلت کرنا ہے۔ اگر ادیب غیر جانبدار ہو جائے تو وہ دراصل جبر کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔Jean Paul Sartre نے   commitment(ادبی وابستگی) کا نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق ادیب کو اپنے عہد کے مسائل میں مداخلت کرنی چاہیے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ عہدِ حاضر کے بحران زدہ ماحول میں ادبا و شعرا کی ذمہ داری نہایت اہم اور فیصلہ کن ہے۔ وہ معاشرے کے ضمیر کی آواز ہیں۔ ان کا کام صرف حسنِ بیان نہیں بلکہ سچائی، انصاف اور انسانیت کا فروغ ہے۔اگر ادب اپنی ذمہ داری ادا کرے تو معاشرہ بیدار ہو سکتا ہے، ورنہ فکری زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
حوالہ جات:۔
 New York):  1. Said, Edward. Culture and Imperialism.(Vintage, 1993.
 New York): 2. Chomsky, Noam. Media Control. (Seven Stories Press, 2002.
3.  3. Marx, Karl &Engels, Friedrich. The Communist Manifesto. 1848.
4. Fromm, Erich. The Sane Society. Routledge, 1955.
5. Orwell, George. Essays. Penguin Books.
6. Tagore, Rabindranath. Gitanjali. Macmillan, 1910.
7. Brecht, Bertolt. Brecht on Theatre. 1964.
ٔٔ٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

عہدِ حاضر کے حالات اورہمارے ادبا و شعرا !

پروفیسرمشتاق احمد
ان دنوںعالمی سطح پر انسانی معاشرہ ایک اضطرابی کیفیت کا شکار ہے کہ چہار طرف انسانی زندگی اذیت ناک ہوتی جارہی ہے سربراہانِ ممالک اپنی انا کی جنگ کی آگ میں لاکھوں افراد کی زندگیاں راکھ کر چکے ہیں، معصوم بچوں اورخواتین کی چیخ وپکار سے آسمان گونج رہاہے لیکن دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے ۔اسرائیل اور امریکہ نے پوری عالمی برادری کی آواز کو صدا بہ صحرا کردیاہے اور فلسطین ، ایران اور یوکرین کی زمینیں انسانی لہو سے لال ہوتی جا رہی ہیں۔غرض کہ اکیسویں صدی کا یہ عہد غیر معمولی سیاسی، سماجی، تہذیبی اور فکری تبدیلیوں کا حامل ہے۔ اس دور میں گلوبلائزیشن، سرمایہ دارانہ نظام، ڈیجیٹل میڈیا اور شناختی بحران نے انسانی زندگی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں ادبا و شعرا کی ذمہ داریاں محض جمالیاتی تخلیق تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ سماجی شعور، فکری بیداری اور اخلاقی رہنمائی کا اہم ذریعہ بن جاتے ہیں۔ راقم الحروف نے اس مضمون  میںعہدِ حاضر کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے ادیب و شاعر کی ذمہ داریوں کو مستند حوالوں کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
ادب اور معاشرہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ کسی بھی دور کا ادب اس دور کی فکری، سماجی اور سیاسی کیفیات کا عکاس ہوتا ہے۔ ارسطواؔنے کہا تھا کہ ادب ’’زندگی کی نقل‘‘ (mimesis) ہے، لیکن جدید تنقید کے مطابق ادب نہ صرف زندگی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اسے تشکیل بھی دیتا ہے۔آج کا دور شدید تضادات کا حامل ہے۔ ایک طرف ترقی، دوسری طرف تنزلی، ایک طرف آزادی، دوسری طرف جبر۔یہی وہ حالات ہیں جو ادیب کو ایک فعال کردار ادا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔گلوبلائزیشن نے دنیا کو قریب تو کیا، مگر مقامی ثقافتوں کو کمزور بھی کیا ہے۔ایڈورڈ سعیدEdward Said (یکم نومبر 1935۔25ستمبر 2003)لکھتے ہیں:
 (1)(Said, 1993, p. 336 )No one today is purely one thing.
یہ اقتباس شناخت کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔آج میڈیا عوامی شعور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کررہاہے، مگر اکثر یہ طاقتور طبقات کے مفادات کا محافظ بن جاتا ہے۔Noam Chomsky کے مطابق:
(2)(Chomsky, 2002, p. 11)The media serve the interests of dominant elite groups.
 کارل مارکس نے طبقاتی جدوجہد کو تاریخ کا بنیادی محرک قرار دیاتھا۔
"The history of all hitherto existing society is the history of class struggles. "
 (Marx & Engels, 1848, p. 14) (3)
آج بھی اس نظریے کی معنویت برقرار ہے۔انسان کی تنہائی اور وجودی بحران نے انسانی معاشرے کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا طاقت کی بنیاد پر ہی انسان کا مقدر طے ہوگا۔Erich Fromm لکھتے ہیں:
"Modern man lives under the illusion that he knows what he wants.”
 1955, p. 145) (4) From)
اب ذرا ہم ادب کے نظریاتی کردار پر غوروفکر کریں تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ہمارے ادبا اور شعرا نے ہمیشہ اس طرح کے بحرانی دور میں انسانی معاشرے کی رہنمائی کی ہے ۔ادب کے کردار پر مختلف مفکرین نے اظہار خیال کیا ہے۔ بقول T.S. Eliot’’ ادب جذبات سے فرار نہیں بلکہ اس کی ترتیب ہے‘‘اور بقولMaxim Gorky ’’ادب سماجی تبدیلی کا آلہ ہے‘‘۔غرض کہ ادبا اور شعراکی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حق گوئی اور سچائی کے اظہار کو اپنا وطیرہ بنائے۔George Orwell نے بجا لکھا ہے کہ:
In a time of deceit, telling the truth is a revolutionary act. (5)
یعنی ادیب کو ہر حال میں سچائی کا ساتھ دینا چاہیے اورسماجی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔جیسا کہ عالمی تاریخ کے مطالعے سے حقیقت عیاں ہوتی ہے۔اردو ادب میں فیض احمد فیضؔ جیسے دیگر ترقی پسند شعرا کی شاعری اس کی زندہ مثال ہے۔بقول فیضؔ ۔ع    بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
یہ عوامی بیداری کا پیغام بھی ہے اور انسانی اقدار کو فروغ دینے کا بانگِ درا بھی۔رابندر ناتھ ٹیگور کی نظم
(6)(Tagore, 1910, p. 35)Where the mind is without fear…
یہ نظم ایک مثالی معاشرے کا تصور پیش کرتی ہے اورمزاحمت و احتجاج کا استعارہ بھی۔Bertolt Brecht کہتے ہیں:
"Art is a weapon”. (7)
ادبا اور شعرا کا ایک اہم کام تہذیب و ثقافت کا تحفظ بھی ہے۔ اردو زبان وادب کی تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہمارے ادبا اور شعرا نے ہمیشہ انسانی معاشرے میں صالح اقدار کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ زبان وتہذیب کے زوال پر نہ صرف نوحہ گری کی ہے بلکہ اس کی اصلاح کے لئے جدوجہد بھی کی ہے۔مولانا محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیراحمد،حالیؔ،سرسید اکبرؔ اور خصوصی طورپر علامہ اقبالؔ نے نئی نسل کی فکری رہنمائی کی ہے اور پورے انسانی معاشرے کو غوروفکر کے ساتھ ساتھ ہر ایک مسئلے پر تدبر کرنے کی تلقین کی ہے۔علامہ اقبال ؔنے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا    ؎
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملّت کے  مقدر  کا  ستارہ
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح وبدن  پیش تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
تقدیرِ امم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا مومن کی فراست کو تو کافی ہے اشارہ
غرض کہ اردو ادب میں دورِ آغاز سے ہی ہمارے ادبا اور شعرا نے اپنے فرائض کے تاریخی کارنامے انجام دئیے ہیں۔ سرسید نے تعلیمی اصلاح کے ذریعہ اور پریم چند نے اپنی حقیقت نگاری سے اور علامہ اقبال نے عالمی تناظر میں فکری بیداری کی ذمہ داری کا تاریخی کردار ادا کیاہے۔جہاں تک سوال عہدِ حاضر میں ادبا اور شعرا کو درپیش چیلنجزکا ہے تو یہ حقیقت مسلّم ہے کہ اب ادب بھی کمرشل ازم کا شکار ہے اور ہمارے ادبا اور شعرا بھی عالمی بازار کے تابع ہوتے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ آزادی اظہار خطرے میں ہے۔سوشل میڈیا نے چہار طرف کہرام مچا رکھا ہے ایسے بحرانی دور میں ادیب وشاعرکی ذمہ داری محض مشاہدہ کرنا نہیں بلکہ فعال مداخلت کرنا ہے۔ اگر ادیب غیر جانبدار ہو جائے تو وہ دراصل جبر کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔Jean Paul Sartre نے   commitment(ادبی وابستگی) کا نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق ادیب کو اپنے عہد کے مسائل میں مداخلت کرنی چاہیے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ عہدِ حاضر کے بحران زدہ ماحول میں ادبا و شعرا کی ذمہ داری نہایت اہم اور فیصلہ کن ہے۔ وہ معاشرے کے ضمیر کی آواز ہیں۔ ان کا کام صرف حسنِ بیان نہیں بلکہ سچائی، انصاف اور انسانیت کا فروغ ہے۔اگر ادب اپنی ذمہ داری ادا کرے تو معاشرہ بیدار ہو سکتا ہے، ورنہ فکری زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
حوالہ جات:۔
 New York):  1. Said, Edward. Culture and Imperialism.(Vintage, 1993.
 New York): 2. Chomsky, Noam. Media Control. (Seven Stories Press, 2002.
3.  3. Marx, Karl &Engels, Friedrich. The Communist Manifesto. 1848.
4. Fromm, Erich. The Sane Society. Routledge, 1955.
5. Orwell, George. Essays. Penguin Books.
6. Tagore, Rabindranath. Gitanjali. Macmillan, 1910.
7. Brecht, Bertolt. Brecht on Theatre. 1964.
ٔٔ٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں