کتاب سے دوری اور سوشل میڈیا کی تھکن

ہر سال 23 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ کتاب منایا جاتا ہے، مگر یہ دن محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ کتابیں انسانی فکر، تہذیب اور شعور کی بنیاد ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات کی فراوانی ہے، وہیں مطالعے کی عادت تیزی سے زوال پذیر ہے۔ اس کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے، جو بظاہر معلومات فراہم کرتا ہے، مگر درحقیقت ہماری ذہنی توانائی کو خاموشی سے نچوڑ رہا ہے۔
کتاب پڑھنا محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک گہرا فکری عمل ہے۔ یہ انسان کو سوچنے، سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ ایک اچھی کتاب قاری کو اپنے اندر جھانکنے، سوال کرنے اور نئی دنیاؤں سے متعارف ہونے کا موقع دیتی ہے۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا پر مسلسل اسکرولنگ ایک سطحی مصروفیت ہے، جہاں معلومات کے بجائے توجہ کی تقسیم اور ذہنی انتشار پیدا ہوتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا نے ہمیں "مصروف”تو بنا دیا ہے، مگر "پُرمغز”نہیں۔ ہم گھنٹوں اسکرین پر وقت گزارتے ہیں، مگر دن کے اختتام پر ہمارے پاس نہ کوئی نئی سوچ ہوتی ہے اور نہ کوئی پائیدار علم۔ اس کے برعکس، ایک گھنٹہ کتاب کے ساتھ گزارا گیا وقت ذہن کو تازگی، سکون اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ کتابیں نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ذہنی دباؤ کو کم کرتی ہیں اور توجہ کو مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ یہ ہماری توجہ کے دورانیے کو کم کر رہا ہے۔ مختصر ویڈیوز، تیز رفتار مواد اور فوری ردعمل کی عادت نے ہمیں گہرائی میں جانے سے روک دیا ہے۔ ہم لمبے مضامین پڑھنے سے گھبرانے لگے ہیں، جبکہ یہی مضامین اور کتابیں ہمیں سنجیدہ سوچ اور فکری پختگی فراہم کرتی ہیں۔
عالمی یومِ کتاب ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ کیا ہم واقعی اپنے ذہن کو وہ غذا دے رہے ہیں جس کی اسے ضرورت ہے؟ یا ہم اسے محض وقتی تفریح اور بے معنی مواد سے بھر رہے ہیں؟ اگر ہم اپنی ذہنی توانائی کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں کتابوں کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم روزانہ کچھ وقت مطالعے کے لئے مختص کریں، چاہے وہ چند صفحات ہی کیوں نہ ہوں۔ گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں مطالعے کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں میں کتاب دوستی پیدا کریں، اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو صرف نصابی نہیں بلکہ غیر نصابی کتب کی طرف بھی راغب کریں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کتابیں صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ذہن کی توانائی کا سرچشمہ ہیں۔ اگر ہم نے مطالعے سے منہ موڑ لیا، تو ہم نہ صرف علم سے بلکہ اپنی فکری گہرائی اور ذہنی سکون سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ عالمی یومِ کتاب کا اصل پیغام یہی ہے کہ کتابوں سے جڑیں، کیونکہ یہی تعلق ہمیں ایک باشعور، متوازن اور باوقار انسان بناتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

کتاب سے دوری اور سوشل میڈیا کی تھکن

ہر سال 23 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ کتاب منایا جاتا ہے، مگر یہ دن محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ کتابیں انسانی فکر، تہذیب اور شعور کی بنیاد ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات کی فراوانی ہے، وہیں مطالعے کی عادت تیزی سے زوال پذیر ہے۔ اس کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے، جو بظاہر معلومات فراہم کرتا ہے، مگر درحقیقت ہماری ذہنی توانائی کو خاموشی سے نچوڑ رہا ہے۔
کتاب پڑھنا محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک گہرا فکری عمل ہے۔ یہ انسان کو سوچنے، سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ ایک اچھی کتاب قاری کو اپنے اندر جھانکنے، سوال کرنے اور نئی دنیاؤں سے متعارف ہونے کا موقع دیتی ہے۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا پر مسلسل اسکرولنگ ایک سطحی مصروفیت ہے، جہاں معلومات کے بجائے توجہ کی تقسیم اور ذہنی انتشار پیدا ہوتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا نے ہمیں "مصروف”تو بنا دیا ہے، مگر "پُرمغز”نہیں۔ ہم گھنٹوں اسکرین پر وقت گزارتے ہیں، مگر دن کے اختتام پر ہمارے پاس نہ کوئی نئی سوچ ہوتی ہے اور نہ کوئی پائیدار علم۔ اس کے برعکس، ایک گھنٹہ کتاب کے ساتھ گزارا گیا وقت ذہن کو تازگی، سکون اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ کتابیں نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ذہنی دباؤ کو کم کرتی ہیں اور توجہ کو مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ یہ ہماری توجہ کے دورانیے کو کم کر رہا ہے۔ مختصر ویڈیوز، تیز رفتار مواد اور فوری ردعمل کی عادت نے ہمیں گہرائی میں جانے سے روک دیا ہے۔ ہم لمبے مضامین پڑھنے سے گھبرانے لگے ہیں، جبکہ یہی مضامین اور کتابیں ہمیں سنجیدہ سوچ اور فکری پختگی فراہم کرتی ہیں۔
عالمی یومِ کتاب ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ کیا ہم واقعی اپنے ذہن کو وہ غذا دے رہے ہیں جس کی اسے ضرورت ہے؟ یا ہم اسے محض وقتی تفریح اور بے معنی مواد سے بھر رہے ہیں؟ اگر ہم اپنی ذہنی توانائی کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں کتابوں کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم روزانہ کچھ وقت مطالعے کے لئے مختص کریں، چاہے وہ چند صفحات ہی کیوں نہ ہوں۔ گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں مطالعے کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں میں کتاب دوستی پیدا کریں، اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو صرف نصابی نہیں بلکہ غیر نصابی کتب کی طرف بھی راغب کریں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کتابیں صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ذہن کی توانائی کا سرچشمہ ہیں۔ اگر ہم نے مطالعے سے منہ موڑ لیا، تو ہم نہ صرف علم سے بلکہ اپنی فکری گہرائی اور ذہنی سکون سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ عالمی یومِ کتاب کا اصل پیغام یہی ہے کہ کتابوں سے جڑیں، کیونکہ یہی تعلق ہمیں ایک باشعور، متوازن اور باوقار انسان بناتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں