جنگ نیوز ڈیسک
وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان منگل کے روز 40 منٹ سے زائد ایک خوشگوار اور دوستانہ گفتگو ہوئی۔ بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کے مطابق، ٹرمپ نے مودی سے کہا، “میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سب آپ سے محبت کرتے ہیں”، جسے مودی کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم مودی نے اس گفتگو کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس میں دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور توانائی جیسے شعبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے مغربی ایشیا اور اس سے آگے کے علاقائی امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
مودی نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے یہ نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ یہ گفتگو علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔
حالیہ عالمی حالات میں مغربی ایشیا کی کشیدگی نے توانائی کی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی بندش عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
دوسری جانب، امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی تعاون میں تیزی آئی ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ فوجی مشقیں شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے سیمی کنڈکٹر، مصنوعی ذہانت (AI) اور خلائی تحقیق جیسے شعبوں میں بھی اشتراک بڑھایا ہے۔


