جنگ نیوز ڈیسک
جموں/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اتوار کے روز کہا کہ جموں میراتھن 2019 سے جموں کشمیر میں ہونے والی تبدیلی کی علامت ہے۔
اُنہوں نے کہا، ’’اَمن، خوشحالی اور سازگار حالات نے جموںوکشمیر یوٹی کو عالمی معیار کی تقریبات کے لئے ایک موزوں مقام بنا دیا ہے۔ طویل انتظار کے بعد یہ خواب پورا ہوا ہے اور جموںوکشمیر نے سات دہائیوں کے بعد عالمی سطح پر اَپنی صحیح پہچان حاصل کر لی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر جموں کے ایم اے سٹیڈیم میں منعقدہ جموں میراتھن کی اعزازی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
جموں میں پہلی بین الاقوامی ہاف میراتھن جس کا اہتمام محکمہ سیاحت جموں و کشمیر نے کیا۔ اس میں 21 کلومیٹر، 10 کلومیٹر اور 5 کلومیٹر کی دوڑ کے مقابلے شامل تھے جن میں ملک اور بیرون ملک سے 3,000 سے زیادہ رنروں نے حصہ لیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جموںمیراتھن کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموںدُنیا کے نقشے پرمضبوطی سے اُبھر چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس بڑے ایونٹ کی کامیابی سے جموں کے خوبصورت شہر میں سیاحت کو فروغ ملے گا جس سے تجارت اور کاروبار کو فائدہ ہوگا اور ہمہ جہت ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
اُنہوں نے کہا، ’’ میرے نزدیک میراتھن وہ واحد ایونٹ ہے جہاں دوڑنے والے ٹرافیوں، رینکنگ یا تمغوں کی فکر نہیں کرتے بلکہ وہ اگلے مرحلے کے بارے میں سوچتے ہیں اور یہ میراتھن کا سب سے بڑا سبق ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا ،’’ جموں کشمیر خود اس اصول کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہم نے 2019 سے ایک وقت میں ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور اس یونین ٹیریٹری کے لئے ایک نئی شناخت تشکیل دی ہے۔ ہم نے اسے امن اور خوشحالی کا مرکز بنا دیا ہے، جو اَب بین الاقوامی میراتھن، کرکٹ ٹورنامنٹ اور یہاں تک کہ بین الاقوامی تقریبات کی میزبانی کے قابل ہے۔‘‘
اُنہوں نے کہا کہ جب مرکزی حکومت نے دسمبر 2023 میں کشمیر میراتھن کا تصور پیش کیا تو مقصد صرف ایک دوڑ کا اِنعقاد نہیں تھا بلکہ ایک نئے جموں و کشمیر کو عالمی کھیلوں کے نقشے پر متعارف کرنا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر اَپنی بے پناہ سیاحتی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اُجاگر کر رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ طویل عرصے سے اِنتظار کے خواب اور اُمنگیں اب حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہاکہ جموں میراتھن کے ذریعے شرکأ نے نہ صرف اپنے اندر نئے تجربات دریافت کئے ہیں بلکہ جموں و کشمیر میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کو بھی قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ لوگوں کے مضبوط عزم کی بدولت سے ہی جموں و کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔
اُنہوں نے کہا، ’’ہمارے کھیلوں کے میدان میں ایک نیا عزم پیدا ہو رہا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ ‘فِٹ اِنڈیا’ کے ویژن کے تحت جموں و کشمیر میں ایک نئی کھیلوں کی تحریک بھی جنم لے رہی ہے۔‘‘
اِس موقعہ پر وزیر برائے اَمورِ نوجوان و کھیل کود ستیش شرما ،چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر آشیش چندر ورما، صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار، آئی جی پی جموں بھیم سین توتی اور سول و پولیس اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران موجود تھے۔
اعزازی تقریب میں فلمی اداکار ملند سومن اور گُل پناگ سمیت نامور شہریوں، کھلاڑیوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج یہاں مولانا آزاد سٹیڈیم سے جموں میراتھن کو جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا اور 21.1 کلومیٹر کی ہاف میراتھن بھی مکمل کیا۔اِس طرح فٹنس اور صحت مند طرزِ زِندگی کے فروغ میں عملی قیادت کا مظاہرہ کیا۔
بارش کے باوجود سینکڑوں شرکأجن میں وزیر برائے اَمورِ نوجوان و کھیل کودستیش شرما، اراکین اسمبلی، چیف سیکرٹری، فِٹنس آئیکون ملند سومن اور اداکارہ گُل پناگ شامل تھے، نے اِس دوڑ میں حصہ لیا جس نے اس ایونٹ کو خطے میں منشیات کے استعمال کے خلاف اتحاد اور ایک مضبوط پیغام میں تبدیل کر دیا۔
وزیر اعلیٰ نے تقریب کے آغاز میں نہ صرف میراتھن کو جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا بلکہ خود بھی شرکأکے ساتھ دوڑ میں حصہ لیا، ہاف میراتھن مکمل کی اور نوجوانوں سمیت تمام شہریوں کو متاثر کیا۔ اُنہوں نے زِندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اَفراد پر زور دیا کہ وہ صحت مند اور فعال طرزِ زندگی اپنائیںکیوں کہ جسمانی فِٹنس مجموعی فلاح و بہبود اور سماجی ترقی کے لئے لازمی ہے۔
اُنہوں نے ’ ٹیمپلز ٹوٹریلز‘ کے موضوع کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ میراتھن جموں کو فٹنس ٹوراِزم اور ثقافتی ہب کے طورپر اُبھارنے کی جانب ایک قدم ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ دوڈ کا یہ راستہ جو نمایاں بازاروں، تاریخی مقامات اور شہر کے مشہور مقامات سے گزرتا ہے، جموں کی روحانیت، تاریخ اور قدرتی خوبصورتی کے منفرد امتزاج کو ظاہر کرتا ہے۔
میراتھن کا آغاز طلوعِ آفتاب سے 22 منٹ قبل مولانا آزاد سٹیڈیم سے ہوا اور اس کا اہتمام محکمہ سیاحت نے کیاجس میں جموںوکشمیر بینک ٹائٹل سپانسر تھا۔ اِس ایونٹ میں تین اقسام کی دوڑیں ہاف میراتھن (21 کلومیٹر)، 10 کلومیٹر فٹنس رن اور 5 کلومیٹر فن رن شامل تھیںاور اس کا کل انعاماتی رقم 1.33 کروڑ روپے ہے۔ اِس پہلے ایڈیشن میں زائد اَز 4,000 رنروں نے حصہ لیا جن میں 1,000 سے زیادہ جموں و کشمیر سے باہر کے اور 90 سے زائد بین الاقوامی ایتھلیٹس شامل تھے۔
نامساعد موسمی حالات کے باوجود شرکأکا جوش و خروش برقرار رہا، جو جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی فٹنس کلچر اور کمیونٹی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے شرکأ نے بارش میں بھی دوڑ لگا کر عزم اور اجتماعی جذبے کا مظاہرہ کیا۔
اداکارہ گُل پناگ نے رنروںاور منتظمین کے جوش وجذبے کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اِفتتاحی ایڈیشن میں اتنی بڑی تعداد میں شرکت بالخصوص خراب موسم کے باوجوایک بڑی کامیابی ہے ۔
فِٹنس آئیکون ملند سومن نے اس ایونٹ کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے لئے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر میراتھن کا اِنعقاد ایک مثبت آغاز ہے اور اُمید ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات لوگوں کو دوڑنے اور فعال طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دیتے رہیں گے۔


