جنگ فیچر: گیس سلنڈر نہ سہی ، بائیو ماس گیس سہی


انجینئر محمود اقبال

لگتا ہے امریکہ،اسرائیل۔ایران جنگ اب طول پکڑنے والی ہے۔اور اس کا اثر ہمارے باورچی خانوں پر بھی پڑنے والا ہے۔پکوان گیس (LPG)کی قلّت سامنے آنے لگی ہے۔گیس سلنڈر کے آوٹ لیٹس پر لمبی لمبی قطاریں ابھی سے لگنی شروع ہوگئی ہیں۔مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران سے متعلق تنازع کے باعث عالمی ایندھن کی سپلائی کے راستے متاثر ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں بھی ایل پی جی کی قلت کے خدشات سامنے آنے لگے ہیں۔بنگلورو، ممبئی اور چنئی جیسے شہروں میں پہلے ہی ریستورانوں اور ہوٹلوں میں استعمال ہونے والے کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی میں رکاوٹوں کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔بڑے بڑے ہوٹلس یا تو بند ہورہے ہیں یا نہیں تو انہوں نے سیل میں کمی کردی ہے۔حتی کہ دم کی چائے پربھی نوبت آگئی ہے۔اس ناگہانی جنگ کی آفت سے ایک عام انسان بھی متاثر ہونے لگا ہے، اور دم دم ہونے لگا ہے۔ ایسے حالات میں ہم کیا کریں؟کچھ نہیں، جو چیز اپنے ہاتھ میں نہیں اسکی فکر نہ کریں،اوپر ولے سے دعا کریں کہ جنگ جلد ختم ہو اور سب چین کی سانس لیں۔اپنے رسوئی گھر کی فکر کریں کہ گیس نہیں تو روز روزکھانہ کیسے بنے؟گیس سپلائی اگر بند ہونے لگے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ پکوان کے لیے ایل پی جی گیس کے علاوہ کئی متبادل ذرائع موجود ہیں۔ایک اہم متبادل ذریعہ ہے، جسے کہتے ہیں،’’قابل تجدید تونائی‘‘(Renewable Energy)۔ہندوستان میںہر سال تقریباً 31.3 ملین ٹن ایل پی جی (LPG) گیس کا استعمال ہوتا ہے، اور اس میں سے تقریباً 62 فیصد درآمد کی جاتی ہے۔اس 62فیصد کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی،اگرہماری حکومتیں متبادل ذرائع پر غور اور فکر کرنا شروع کردے۔

ہندوستان کی آبادی قریب140 کروڑ ہے،اور دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔دیہاتی اور شہری۔ 70فیصدکے قریب لوگ دیہات اور گاؤں میں رہتے ہیں اور بقیہ شہروں میں۔ترقی پذیر زمانہ کی دوڑ میں ایک عام انسان دھیرے دھیرے قدرت اور فطرت سے دور ہوتا جارہا تھا۔ دیہات کی عورتوں کو تو بالکل بھی فکر مند نہیں ہونا چاہئیے۔بلکہ اوپر والے کا شکر گزار ہونا چاہئیے کہ دوبارہ سے پیچھے کی طرف لوٹنے کا موقع مل رہا ہے،قدرت سے قریب، فطرت سے قریب۔دراصل، ہمار ی سیاسی پارٹیوں نے ووٹ کے چکّر میں مفت میں گیس سلنڈرس دیکر دیہاتی عورتوں کی عادتیں خراب کردی تھیں۔اس لئے اب ہم اپنی بات دیہاتوں ہی سے شروع کرتے ہیں اور پھر شہروں پر آتے ہیں جہاں آپ اور ہم فکر مند ہیںکہ اب کیا کریں؟گیس نہیں تو چولہا بند اور کھانا پینا بند؟سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ایک اہم متبادل ڈریعہ بایو گیس ہے، (Biogas)،یہ گائے یا بیل کے گوبر، کچرے یا نامیاتی فضلے (Organic Waste)سے پیدا کی جاتی ہے۔بایو گیس پلانٹ کے ذریعے حاصل ہو کر چولہے میں استعمال ہوتی ہے۔یہ ماحول دوست اور کم خرچ ایندھن ہے۔گاؤں میں ’’ کمیونٹی بایو گیس پلانٹ‘‘

(Community Gas Plant)قائم کیا جاسکتا ہے۔یہ پلانٹ روزانہ تقریباً 2,500 کلوگرام مویشیوں کا گوبر استعمال کرکے ، جس سے پیدا ہونے والی’’ میتھین گیس ‘‘(Methane Gas)براہِ راست پائپ لائن کے ذریعہ قریب 40 گھروں تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ایک چھوٹے خاندان کے کھانا پکانے کے ایندھن پر ماہانہ صرف 200 سے 300 روپے خرچ ہوتے ہیں، جو ایک ایل پی جی سلنڈر کی قیمت سے آدھے سے بھی کم ہے۔حتیٰ کہ بچ جانے والا’’ گارا‘‘ (Slurry) بھی غذائیت سے بھرپور’’ حیاتیاتی کھاد‘‘ (Bio-Fertilizer)بن جاتا ہے، جس سے یہ نظام پائیدار اور معاشی طور پر فائدہ مند ببھی ہے۔حکومتی امداد کے ذریعہ اور گاؤں کی آبادی کے لحاظ سے ہر گاؤں میں2 سے3تک بائیو گیس پلانٹس کافی ہوسکتے ہیں۔ملک میں نہ ہی ٹکنالوجی کی کمی ہے اور نہ ہی ہنر مند افراد اورپیشہ ور کمپنیوں کی۔کم وقت میں،کم لاگت سے ماحول دوست یہ ایک بہت اچھا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔دوسرا ایک اور بہتر متبادل دیہاتی لوگوں کے لئے شمسی چولہا (Solar Cooker)ہے۔یہ سورج کی روشنی سے کھانا پکانے والا چولہا ہوتا ہے،اس میں کسی گیس یا بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔جہاںدھوپ ہو، وہاں کے علاقوں میں خاص طور پر مفید ہے۔اسکے علاوہ نئی ٹکنالوجی کی بدولت دھوپ کی روشنی کو اسٹور کرکے 24 گھنٹے بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔دیہاتی گھروں کے لئے سب سے اچھا ، سستا اور فائدہ مند وہی روایتی حل ہے جو گاؤں کے لوگ صدیوں سے استعمال کرتے چلے آرہے تھے۔جنگلات کی لکڑی کی کمی نہیں دیہاتوں میں اور لکڑی کے چولہے پر پکے کھانے کا سواد اور لذت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔لکڑی کے چولہے اور ہانڈی میں پکی کٹھی دال کے مزے ہی مزے ا ور چٹخارے ۔۔۔کہ بندہ انگلیاں چاٹنے پر مجبور ہوجائے۔سب سے اچھا ،سستا اور بہترین روایاتی متبادل ذریعہ یہی ہے۔

شہری علاقوں میںبرقی چولہا (Induction or Electric Stove) ایک بہتر متبادل ہے۔یہ بجلی سے چلتا ہے اور گیس کے بغیر کھانا پکایا جا سکتا ہے۔اس میں حرارت ،برقی مقناطیسی طریقے سے برتنوں کو دی جاتی ہے۔یہ ایک محفوظ اور صاف طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ شہری علاقوں میںمائیکرو ویو اوون (Microwave Oven)، بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ الیکٹرک پریشر ککر یا ملٹی کوکر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔یہ بھی بجلی سے چل کر کھانا پکانے یا گرم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔کچھ ممالک میں کھانا پکانے کے لیے الکحل پر مبنی ایندھن بھی استعمال ہوتا ہے۔یہ صاف جلتا ہے اور دھواں بھی کم پیدا کرتا ہے۔ ماحول دوست ایندھن ہے۔ ہم بھی اپنے ملک میں اس کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ شہروں میں، اگر مکانوں میں کچھ فاضل جگہ ہو، آمگن ہو تو ’’پورٹیبل بائیو گیس ‘‘ سلنڈرس ،بیرلس کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ایک خبر کے مطابق ،بنگالورو کی ایک خاتون ریوا ملک گزشتہ4 سال سے ’’سولار ککر‘‘ (Solar Energy)کا استعمال کر رہی ہیں۔ ابتداء میں انہوں نے صرف 18ہزار روپیئے ہی خرچ کئے تھے اور اسکے بعد ایک پیسہ بھی انکا خرچ نہیں ہوا۔

پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والے ٹرانسپورٹ سسٹم کے لئے بہتر متبادل الیکٹرک کارس، اسکوٹرس اور آٹو رکشہ ہیں۔چند سال پہلے ہی سے انکا ہندوستان میں استعمال شروع ہوچکا ہے اور مارکٹ میں انکی وافر کھپت اور مانگ ہے۔ اس ناگہانی صورتحال کے وقت یہ ایک اچھا موقع ہے کہ دھیرے دھیرے برقی توانائیٔ سے چلنے ولے ٹرانسپورٹ سسٹم پر توجہ دی جائے، اور پٹرول اور ڈیزل کی گاڑیوں سے نجات ملے جو نہ صر ف مہنگی ثابت ہورہی ہیںبلکہ ’’فضایٔ آلودگی ‘‘ کا سبب بھی بن رہی ہیں۔صحت عامہ کے لحاظ سے بھی یہ مضر ہیں اور انکا استعمال اب بالکل ہی بند ہوجانا چاہئے۔یقینا، ہماری ریاستی حکومتیں اور مرکزی حکومت، جنگی حالات میں جنگی خطوط پر کام کر رہی ہوں گی او ر اپنے عوام کے لیے بہتر سے بہتر اقدامات اور متبادل ذرائع توانایٔ پر توجہ دہنگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

جنگ فیچر: گیس سلنڈر نہ سہی ، بائیو ماس گیس سہی


انجینئر محمود اقبال

لگتا ہے امریکہ،اسرائیل۔ایران جنگ اب طول پکڑنے والی ہے۔اور اس کا اثر ہمارے باورچی خانوں پر بھی پڑنے والا ہے۔پکوان گیس (LPG)کی قلّت سامنے آنے لگی ہے۔گیس سلنڈر کے آوٹ لیٹس پر لمبی لمبی قطاریں ابھی سے لگنی شروع ہوگئی ہیں۔مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران سے متعلق تنازع کے باعث عالمی ایندھن کی سپلائی کے راستے متاثر ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں بھی ایل پی جی کی قلت کے خدشات سامنے آنے لگے ہیں۔بنگلورو، ممبئی اور چنئی جیسے شہروں میں پہلے ہی ریستورانوں اور ہوٹلوں میں استعمال ہونے والے کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی میں رکاوٹوں کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔بڑے بڑے ہوٹلس یا تو بند ہورہے ہیں یا نہیں تو انہوں نے سیل میں کمی کردی ہے۔حتی کہ دم کی چائے پربھی نوبت آگئی ہے۔اس ناگہانی جنگ کی آفت سے ایک عام انسان بھی متاثر ہونے لگا ہے، اور دم دم ہونے لگا ہے۔ ایسے حالات میں ہم کیا کریں؟کچھ نہیں، جو چیز اپنے ہاتھ میں نہیں اسکی فکر نہ کریں،اوپر ولے سے دعا کریں کہ جنگ جلد ختم ہو اور سب چین کی سانس لیں۔اپنے رسوئی گھر کی فکر کریں کہ گیس نہیں تو روز روزکھانہ کیسے بنے؟گیس سپلائی اگر بند ہونے لگے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ پکوان کے لیے ایل پی جی گیس کے علاوہ کئی متبادل ذرائع موجود ہیں۔ایک اہم متبادل ذریعہ ہے، جسے کہتے ہیں،’’قابل تجدید تونائی‘‘(Renewable Energy)۔ہندوستان میںہر سال تقریباً 31.3 ملین ٹن ایل پی جی (LPG) گیس کا استعمال ہوتا ہے، اور اس میں سے تقریباً 62 فیصد درآمد کی جاتی ہے۔اس 62فیصد کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی،اگرہماری حکومتیں متبادل ذرائع پر غور اور فکر کرنا شروع کردے۔

ہندوستان کی آبادی قریب140 کروڑ ہے،اور دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔دیہاتی اور شہری۔ 70فیصدکے قریب لوگ دیہات اور گاؤں میں رہتے ہیں اور بقیہ شہروں میں۔ترقی پذیر زمانہ کی دوڑ میں ایک عام انسان دھیرے دھیرے قدرت اور فطرت سے دور ہوتا جارہا تھا۔ دیہات کی عورتوں کو تو بالکل بھی فکر مند نہیں ہونا چاہئیے۔بلکہ اوپر والے کا شکر گزار ہونا چاہئیے کہ دوبارہ سے پیچھے کی طرف لوٹنے کا موقع مل رہا ہے،قدرت سے قریب، فطرت سے قریب۔دراصل، ہمار ی سیاسی پارٹیوں نے ووٹ کے چکّر میں مفت میں گیس سلنڈرس دیکر دیہاتی عورتوں کی عادتیں خراب کردی تھیں۔اس لئے اب ہم اپنی بات دیہاتوں ہی سے شروع کرتے ہیں اور پھر شہروں پر آتے ہیں جہاں آپ اور ہم فکر مند ہیںکہ اب کیا کریں؟گیس نہیں تو چولہا بند اور کھانا پینا بند؟سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ایک اہم متبادل ڈریعہ بایو گیس ہے، (Biogas)،یہ گائے یا بیل کے گوبر، کچرے یا نامیاتی فضلے (Organic Waste)سے پیدا کی جاتی ہے۔بایو گیس پلانٹ کے ذریعے حاصل ہو کر چولہے میں استعمال ہوتی ہے۔یہ ماحول دوست اور کم خرچ ایندھن ہے۔گاؤں میں ’’ کمیونٹی بایو گیس پلانٹ‘‘

(Community Gas Plant)قائم کیا جاسکتا ہے۔یہ پلانٹ روزانہ تقریباً 2,500 کلوگرام مویشیوں کا گوبر استعمال کرکے ، جس سے پیدا ہونے والی’’ میتھین گیس ‘‘(Methane Gas)براہِ راست پائپ لائن کے ذریعہ قریب 40 گھروں تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ایک چھوٹے خاندان کے کھانا پکانے کے ایندھن پر ماہانہ صرف 200 سے 300 روپے خرچ ہوتے ہیں، جو ایک ایل پی جی سلنڈر کی قیمت سے آدھے سے بھی کم ہے۔حتیٰ کہ بچ جانے والا’’ گارا‘‘ (Slurry) بھی غذائیت سے بھرپور’’ حیاتیاتی کھاد‘‘ (Bio-Fertilizer)بن جاتا ہے، جس سے یہ نظام پائیدار اور معاشی طور پر فائدہ مند ببھی ہے۔حکومتی امداد کے ذریعہ اور گاؤں کی آبادی کے لحاظ سے ہر گاؤں میں2 سے3تک بائیو گیس پلانٹس کافی ہوسکتے ہیں۔ملک میں نہ ہی ٹکنالوجی کی کمی ہے اور نہ ہی ہنر مند افراد اورپیشہ ور کمپنیوں کی۔کم وقت میں،کم لاگت سے ماحول دوست یہ ایک بہت اچھا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔دوسرا ایک اور بہتر متبادل دیہاتی لوگوں کے لئے شمسی چولہا (Solar Cooker)ہے۔یہ سورج کی روشنی سے کھانا پکانے والا چولہا ہوتا ہے،اس میں کسی گیس یا بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔جہاںدھوپ ہو، وہاں کے علاقوں میں خاص طور پر مفید ہے۔اسکے علاوہ نئی ٹکنالوجی کی بدولت دھوپ کی روشنی کو اسٹور کرکے 24 گھنٹے بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔دیہاتی گھروں کے لئے سب سے اچھا ، سستا اور فائدہ مند وہی روایتی حل ہے جو گاؤں کے لوگ صدیوں سے استعمال کرتے چلے آرہے تھے۔جنگلات کی لکڑی کی کمی نہیں دیہاتوں میں اور لکڑی کے چولہے پر پکے کھانے کا سواد اور لذت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔لکڑی کے چولہے اور ہانڈی میں پکی کٹھی دال کے مزے ہی مزے ا ور چٹخارے ۔۔۔کہ بندہ انگلیاں چاٹنے پر مجبور ہوجائے۔سب سے اچھا ،سستا اور بہترین روایاتی متبادل ذریعہ یہی ہے۔

شہری علاقوں میںبرقی چولہا (Induction or Electric Stove) ایک بہتر متبادل ہے۔یہ بجلی سے چلتا ہے اور گیس کے بغیر کھانا پکایا جا سکتا ہے۔اس میں حرارت ،برقی مقناطیسی طریقے سے برتنوں کو دی جاتی ہے۔یہ ایک محفوظ اور صاف طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ شہری علاقوں میںمائیکرو ویو اوون (Microwave Oven)، بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ الیکٹرک پریشر ککر یا ملٹی کوکر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔یہ بھی بجلی سے چل کر کھانا پکانے یا گرم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔کچھ ممالک میں کھانا پکانے کے لیے الکحل پر مبنی ایندھن بھی استعمال ہوتا ہے۔یہ صاف جلتا ہے اور دھواں بھی کم پیدا کرتا ہے۔ ماحول دوست ایندھن ہے۔ ہم بھی اپنے ملک میں اس کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ شہروں میں، اگر مکانوں میں کچھ فاضل جگہ ہو، آمگن ہو تو ’’پورٹیبل بائیو گیس ‘‘ سلنڈرس ،بیرلس کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ایک خبر کے مطابق ،بنگالورو کی ایک خاتون ریوا ملک گزشتہ4 سال سے ’’سولار ککر‘‘ (Solar Energy)کا استعمال کر رہی ہیں۔ ابتداء میں انہوں نے صرف 18ہزار روپیئے ہی خرچ کئے تھے اور اسکے بعد ایک پیسہ بھی انکا خرچ نہیں ہوا۔

پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والے ٹرانسپورٹ سسٹم کے لئے بہتر متبادل الیکٹرک کارس، اسکوٹرس اور آٹو رکشہ ہیں۔چند سال پہلے ہی سے انکا ہندوستان میں استعمال شروع ہوچکا ہے اور مارکٹ میں انکی وافر کھپت اور مانگ ہے۔ اس ناگہانی صورتحال کے وقت یہ ایک اچھا موقع ہے کہ دھیرے دھیرے برقی توانائیٔ سے چلنے ولے ٹرانسپورٹ سسٹم پر توجہ دی جائے، اور پٹرول اور ڈیزل کی گاڑیوں سے نجات ملے جو نہ صر ف مہنگی ثابت ہورہی ہیںبلکہ ’’فضایٔ آلودگی ‘‘ کا سبب بھی بن رہی ہیں۔صحت عامہ کے لحاظ سے بھی یہ مضر ہیں اور انکا استعمال اب بالکل ہی بند ہوجانا چاہئے۔یقینا، ہماری ریاستی حکومتیں اور مرکزی حکومت، جنگی حالات میں جنگی خطوط پر کام کر رہی ہوں گی او ر اپنے عوام کے لیے بہتر سے بہتر اقدامات اور متبادل ذرائع توانایٔ پر توجہ دہنگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں