جنگ نیوز
ایرانی ماہرین کی مجلس نے اعلان کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے طور پر ایران کے نئے سپریم لیڈر ہوں گے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اتوار کے روز اس فیصلے کی اطلاع دی۔
مجتبیٰ خامنہ ای ایک درمیانے درجے کے مذہبی عالم سمجھے جاتے ہیں اور ان کے ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ طویل عرصے سے ایران کے حکمران حلقوں کے بعض عناصر انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری مسلح کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
مجتبیٰ خامنہ ای، جنہیں طویل عرصے سے ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا، اگرچہ وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے، بالآخر دیگر امیدواروں پر سبقت لے گئے۔ ان کے مقابل امیدواروں میں مذہبی عالم علیرضا اعرافی، سخت گیر رہنما محسن اراکی اور ایران کے انقلابی بانی امام روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی شامل تھے۔
ایرانی ماہرین کی مجلس نے بالآخر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا، جو اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے


