جنگ نیوز ڈیسک
وزیر اعظم جناب نریندر مودی آج سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچے۔ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر پہنچنے پر اسرائیل کے وزیر اعظم عزت مآب بینجمن نیتن یاہو اور ان کی شریک حیات محترمہ سارہ نیتن یاہو نے ان کا رسمی استقبال کیا۔
آمد کی تقریب کے بعد دونوں وزرائے اعظم نےہوٹل میں مختصر ملاقات کی۔ وزیر اعظم کا بھارتیہ کمیونٹی کے ارکان اور تارکین وطن یہودیوں کے نمائندوں نے پرتپاک اور پرجوش استقبال کیا۔ اس استقبالیہ میں بھارتیہور اسرائیلی فنکاروں کی جانب سے شاندار ثقافتی پرفارمنس پیش کی گئی، جو دونوں ممالک کے درمیان پائیدار دوستی کی علامت ہے۔
اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسپیکر امیر اوحانا نے وزیر اعظم نریندر مودی کا مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ استقبال کیا۔

اس موقع پر اسرائیلی اراکینِ پارلیمنٹ نے تالیاں بجا کر، کھڑے ہو کر خیرمقدم کیا اور "مودی، مودی” کے نعرے لگائے۔
اسپیکر اوحانا نے وزیر اعظم مودی کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا قائد قرار دیا۔ انہوں نے خیرسگالی کے طور پر "نمستے” کہا اور پرجوش انداز میں "جے ہند” کا نعرہ بلند کیا، جو ایوان میں گونج اٹھا اور بھارت و اسرائیل کے درمیان گہرے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز کنیسٹ میں خطاب کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو "اسپیکر آف دی کنیسٹ میڈل” سے نوازا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ یہ میڈل عطا کیا گیا، جس کے ساتھ وہ کنیسٹ کے اعلیٰ ترین اعزاز کے اولین وصول کنندہ بن گئے۔ یہ اعزاز بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی قیادت اور ذاتی کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔
وزیر اعظم مودی ان چند عالمی رہنماؤں میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں اسرائیل اور فلسطین دونوں کی جانب سے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں 2018 میں فلسطین کی جانب سے "گرینڈ کالر آف دی اسٹیٹ آف فلسطین” سے بھی سرفراز کیا گیا تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے بھارت اور اسرائیل کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے 1.4 ارب بھارتی عوام کی جانب سے دوستی، احترام اور شراکت کا پیغام دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نو برس قبل وہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے اور انہیں دوبارہ یہاں آکر بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ انہوں نے دلچسپ انداز میں بتایا کہ ان کی پیدائش 17 ستمبر 1950 کو ہوئی، جو وہی دن ہے جب بھارت نے باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔
مودی نے 7 اکتوبر کے حملے میں جانوں کے ضیاع پر اسرائیل سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے دہشت گردی کی سخت مذمت کی اور کہا کہ کسی بھی مقصد کے لیے شہریوں کا قتل جائز نہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون پر زور دیا اور غزہ امن اقدام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے دو ہزار سالہ تاریخی روابط، بھارت میں یہودی برادری کے کردار اور مختلف مواقع پر مشترکہ تاریخ کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل قدیم تہذیبیں ہونے کے ساتھ جدید جمہوریتیں بھی ہیں اور دونوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری تجارت، دفاع، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کی دوستی غیر یقینی عالمی حالات میں استحکام اور خوشحالی کا ذریعہ بنے گی۔


