
سید الرحمٰن شمس
زبان پہ بار خدا یا یہ کس کا نام آیا
کہ نطق نے بوسے میری زبان کیلئے
یہ اپنی حرماں نصیبی ہے کہ کم عمری اور زمانی و مکانی فاصلوں کے سبب اپنے گنہگار آنکھوں سے مفسر قرآن ، میرواعظ کشمیر علامہ محمد یوسف شاہ صاحبؒ کو دیکھنے کو موقعہ نہیں ملا۔ تاہم مادر علم ازہر الہند دارالعلوم دیوبند میںزمانہ طالب علمی سے مشاہیر عالم علماء، مسلم دانشوروں اور مفکرین اسلام کی عظیم اور معتبر شخصیات کی فہرست کانوں میں گونجتی رہی ۔ ان میں ایک مبارک اور مشہور نام میرواعظ کشمیر مولانا محمد یوسف شاہ صاحبؒ کا بھی تھا جن کا مفصل تذکرہ دارالعلوم دیوبند کے جشن صد سالہ کے موقعہ پر دارالعلوم کی جانب سے مکمل تاریخ اورمختلف کتابچوں کی اشاعت کے علاوہ میرواعظ مرحوم کے جانشین ہمارے مربی شہید ملت میرواعظ کشمیر مولوی محمد فاروق صاحب جنہوں نے صد سالہ جشن کے موقعہ پرپچیس لاکھ سے زائد کے جم غفیر نے فرزندان اسلام کے سامنے اپنی ولولہ انگیز تقریر دلپذیر میں جنت نظیر کشمیر اور مرکزی علم و فن دیوبند کے مابین گہرے علمی تعلقات اور روابط کے پس منظر میں علامہ محمد یوسف شاہ صاحبؒ کا تذکرہ فرمایا تھا۔
جلیل القدر خاندان: میرواعظ مرحوم نے جیسا کہ معلوم ہے کہ وادی کشمیر کے ایک انتہائی معتبر، باوقار اور جلیل القدر خاندان کے فرد فرید تھے ۔ آپ کے نامور والد گرامی سرسید کشمیر علامہ میرواعظ غلام رسول شاہ صاحب ؒ کو ہی اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق اور سعادت عطا فرمائی کہ آج سے تقریبا سوا سو سال پہلے برصغیر میں مسلمانوں کو شکست و ریخت کے بعد دارالعلوم دیوبند ، مسلم یونیورسٹی علی گڈھ ، انجمن حمایت الاسلام لاہور کے طرز پر امت مسلمہ کی عمومی زبوں حالی کے پیش نظر جدید و قدیم تعلیم کے ایک سنگم کے طور پر1899ءمیں انجمن نصرۃ الاسلام کے تحت اسلامیہ اسکول کی داغ بیل ڈالی۔ اس تاریخی اور ملی ادارہ کے شاندار ماضی اور زریں خدمات کے تذکرہ پر یہاں موقعہ نہیںہے ۔
میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ صاحب کی ابتدائی تعلیم و تربیت خود خدارسیدہ اور بزرگ عالم دین یعنی والد گرامی علامہ رسول شاہ صاحبؒ کی نگرانی میں ہوئی ۔ اور بعد میں آپ کا خصوصی مکتوب امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری کا نام لیکر یوسف شاہ کی دارالعلوم دیوبند میں حاضری ہوئی۔
دیوبند میں بحیثیت ایک ہونہار طالب علم ، اساطین علم و عمل بالخصوص علامہ کشمیری ؒ کی صحبت میں9سال گذارے اور 1925ءمیں بحیثیت ایک ممتاز فاضل دارالعلوم اپنے وطن مالوف کشمیر لوٹ آئے۔
دراصل یہی سے آپ کی عالمانہ ،داعیانہ اور مجاہدانہ زندگی کاحسن آغاز ہوتا ہے ۔ قیام کشمیر کے دوران دعوت و تبلیغ ، رشد و ہدایت اور بھر پور سیاسی سرگرمیوںاور عوامی بیداری پیدا کرنے میں گرانقدر رول اسی دوران مہاجرت ، غریب الوطنی، کشمیر کے آزاد خطے میں آپ کی ہمہ جہت ، دینی ، ملی اور سیاسی خدمات کی تفصیل اور قرآن حکیم کی شاہکارکشمیری تفسیر کی روداد اور تفصیلات کیلئے راقم کی کتاب” تحریک حریت کشمیر کے تین کردار “ ملاحظہ کریں۔
اہل کشمیر کا عالم اسلام کیلئے تحفہ
1985ءمیں برصغیر کے ایک اہم علمی شخصیت دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فاضل علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے تلمیذ خاص اور مسلم یونیورسٹی علی گڈھ کے شعبہ دینیات کے سربراہ اور ماہنامہ برہان دہلی کے سابق مدیر پروفیسر سید احمد اکبر آبادی مرحوم جب کشمیر یونیورسٹی کی خصوصی دعوت پر توسیعی خطابات کیلئے سرینگر تشریف لائے تو موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جس کا ایک خصوصی ذوق اور مزاج قدرت نے شہید ملت میرواعظ کشمیر مولوی محمد فاروق صاحب ؒ کے اندرپیدا فرمایا تھا اور چنانچہ جب بھی برصغیر سمیت عالم اسلام کی علمی، دینی اور سیاسی مقتدر شخصیات وارد کشمیر ہوتی تو ان سے شہید رہنما نہ صرف خود بلکہ اہل کشمیر کو ان سے فائدہ پہنچانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔
کشمیر کی عظیم اور مرکزی عبادت گاہ جامع مسجد کے مقدس منبر کے علاوہ قدیم تعلیمی انجمن نصرۃ الاسلام کا علمی پلیٹ فارم تو مہیا تھا ہی آپ نے حسب معمول جناب اکبر آبادی مرحوم کو دعوت دی تو انہوں نے نصرۃ الاسلام کے آڈیٹوریم میں اپنی بصیرت افروز خطاب میں واضح الفاظ میں دلائل اور شواہد کی روشنی میں فرمایا کہ کشمیر نے دو لعل پیدا کئے ہیں ایک علامہ انور شاہ کشمیری اور دوسرے مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ اور یہ دونوں لعل اہل کشمیر کی طرف سے عالم اسلام کیلئے تحفہ ہیں۔
راقم صرف اس میں اتنا اضافہ کرنا چاہتا ہے کہ دو نہیں بلکہ تین لعل پیدا کئے اور تیسرا لعل محمد یوسف شاہ کی شخصیت ہے اور اسکے ثبوت میں اس قدر دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں جس کا یہ مختصر سا مقالہ حامل نہیں ہوسکتا۔
تفسیر قرآن کریم
میرواعظ کشمیر کی علمی بصیرت، قرآن دانی، قرآن فہمی اور تفسیر قرآن پر عبور و مہارت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ آپ نے سرزمین کشمیر میں ورود اسلام کے بعد ساڑھے چھ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار یہ ازلی سعادت اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ کو حاصل ہوئی اور آپ نے مقامی ، معیاری اور سلیس زبان میں غریب الوطنی اور مہاجرت کی زندگی میں مرادات ربانی کو سمجھانے کیلئے اپنی مادری کشمیری زبان میں قرآن مجید کی تفسیر”بیان الفرقان کے نام سے تحریر فرمائی“ سبحان اللہ۔
یہ تفسیر جسے اللہ تعالیٰ نے حامل وہی اپنے حبیب لبیب جناب محمد مصطفی ﷺ کے صدقے اور طفیل و مقبولیت، محبوبیت اور قبولیت عامہ عطا فرمائی ہے کہ کشمیر میں اس کے پبلشر خواجہ علی محمد اینڈ سنز سرینگر نے اب تک درجنوں ایڈیشن پہلے تین جلدوں میں اور اب دو جلدوں میں مسلسل شائع کرکے شایقین کی علمی اور تفسیری پیاس بجھا رہے ہیں جبکہ شہید رہنما نے اپنے آخری ایام میں بھی انجمن نصرۃ السلام کے زیر اہتمام باضابطہ غلطیوں کی اصلاح کراکر ایک خصوصی ایڈیشن وسیع پیمانے پر چھاپ کر راقم کی نگرانی میں کشمیر کے دارالعلوموں، دینی درسگاہوں اور مقتدر شخصیات کے درمیان مفت تقسیم کرایا اور گزشتہ سال موجودہ صدر انجمن ڈاکٹر میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق صاحب کی سرپرستی میں قرآن حکیم کی تفسیر کی سی ڈی اور ڈی وی ڈی کے ذریعے ہزاروں کاپیاں تیار کرواکر کشمیر کے طول و ارض میں پھیلا دیا ہے اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ سبحان اللہ ما اعظم شان
حرم پاک میں امامت غالباً1965کی بات ہے اور اس چشم دید واقعہ کے گواہ کشمیر کے ہمارے دیدور مورخ اور سرکردہ اسکالر جناب شیخ محمد اقبال سابق پرنسپل اسلامیہ کالج ہیں۔
کہتے ہیں اس سال مجھے بھی حرمین شریفین کی زیارت کی سعادت ملی ۔ مغرب کی نماز کیلئے حرم میں حاضر ہوا تو امام کی قرات سو فیصد وہی تھی جو مرحوم میرواعظ کی آواز تھی ۔ ماضی میں انکے ساتھ ملاقات ، شفقت اور مہاجرت کے بعد پاکستان ریڈیو سے میرواعظ مرحوم کے خطابات ، تفسیر بیان فرمانا مجھے شبہ ہوا کہ کہیں میرواعظ مرحوم بذات خود امامت تو نہیں کررہے ہیں تاہم نماز مکمل ہو گئی بعد میں نماز عشاءکیلئے پھر حاضری ہوئی تو وہی مانوس آواز پھر صبح فجر کی نماز شرکت کی سعادت حاصل ہوئی تو وہی سریلی آواز اب تو تجسس بڑھا۔ مجمہ چیر کر امام کی جگہ کی طرح بڑھا تو واقعی میرواعظ مرحوم امامت فرما رہے تھے ۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
سبحان اللہ یہ اعزاز و اکرم حرم پاک میں سری نمازوں کی نہیں بلکہ جہری نمازوں کی مسلسل تین اوقات کی امامت ایک کشمیری عالم کے حصے میں آئی۔ یہاں اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری ہے کہ جامعہ ازہر مصر جو قدیم ترین عالمی سطح کی اسلامک یونیورسٹی ہے اور جہاں اپنے وقت میں حضرت امام شافعیؒ نے بھی زانوئے تلمذ طے کیا تھا وہاں کے بڑے بڑے مشائخ اور علمائے کبار نے کئی بار سعودی حکام سے حرم پاک میں امامت کی خواہش کا اظہار کیا لیکن اجازت نہیںملی، انہیں صرف اذان دینے کی اجازت دی گئی اور کہا گیا کہ حرم پاک میں امامت صرف اور صرف عربی عالم و فاضل کیلئے ہی مخصوص ہے۔
—


