کشمیر کی ضرورت ہےشمسی توانائی

وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ملک بھر میں تیس لاکھ گھرانوں کو روف ٹاپ سولر نظام سے بااختیار بنایا جا چکا ہے اور اسے بھارت کے صاف توانائی سفر کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ بلاشبہ یہ پیش رفت قابلِ تحسین ہے۔ یہ صرف ایک سرکاری کامیابی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ توانائی کے میدان میں خود کفالت اور ماحولیاتی ذمہ داری اب قومی ترجیح بنتی جا رہی ہے۔
روف ٹاپ سولر نظام گھریلو سطح پر بجلی کی پیداوار کو ممکن بناتا ہے، بجلی کے بلوں میں کمی لاتا ہے اور قومی گرڈ پر دباؤ کم کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دور میں یہ ماڈل معاشی اور ماحولیاتی دونوں اعتبار سے سودمند ہے۔ صاف توانائی کی طرف یہ پیش قدمی مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک محفوظ ماحول کی ضمانت بھی ہے۔
تاہم قومی سطح کی اس کامیابی کے باوجود کشمیر آج بھی بجلی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ سردیوں میں طویل لوڈ شیڈنگ، ترسیلی نظام کی کمزوریاں اور بڑھتی ہوئی کھپت عام شہری کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ تعلیمی ادارے، اسپتال، کاروبار اور گھریلو نظام سب اس بحران کی زد میں آتے ہیں۔ ایسے حالات میں شمسی توانائی کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔
کشمیر میں گرمیوں کے مہینوں میں وافر دھوپ دستیاب ہوتی ہے جو شمسی توانائی کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتی ہے۔ اس کے باوجود زیادہ تر گھرانے ابتدائی لاگت، محدود آگاہی اور پیچیدہ سرکاری عمل کی وجہ سے اس نظام کو اختیار نہیں کر پاتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
ریاستی حکومت کو چاہیے کہ وہ خصوصی سبسڈی پیکجز متعارف کرائے تاکہ زیادہ سے زیادہ گھرانے سولر بجلی سے مستفید ہو سکیں۔ کم آمدنی والے طبقات کے لئے اضافی مالی معاونت، آسان قرضہ اسکیمیں، سادہ رجسٹریشن عمل اور دیہی علاقوں میں آگاہی مہمات اس تبدیلی کو تیز کر سکتی ہیں۔ اگر مالی رکاوٹ کم کر دی جائے تو عوام خود اس سمت میں قدم بڑھانے کے لیے تیار ہوں گے۔
شمسی توانائی کے فروغ سے مقامی گرڈ پر دباؤ کم ہوگا اور بیرونی ریاستوں سے بجلی خریدنے کی ضرورت میں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے کیونکہ تنصیب اور دیکھ بھال کے لیے ہنر مند افرادی قوت درکار ہوگی۔ یہ اقدام معیشت اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
کشمیر کا ماحول پہلے ہی ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ صاف توانائی کی طرف پیش رفت نہ صرف کاربن اخراج کم کرے گی بلکہ وادی کے نازک ماحولیاتی توازن کے تحفظ میں بھی مددگار ہوگی۔ ماحولیاتی تحفظ کسی عالمی نعرے سے زیادہ ایک مقامی ضرورت ہے۔
ملک کے تیس لاکھ گھرانوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب پالیسی وژن اور مالی سہولت یکجا ہوں تو عوام بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر میں بھی اسی عزم کے ساتھ شمسی توانائی کو عام کیا جائے۔ توانائی میں خود کفالت ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، اور یہی راستہ کشمیر کو بجلی بحران سے نجات دلانے اور ماحول کو محفوظ بنانے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

کشمیر کی ضرورت ہےشمسی توانائی

وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ملک بھر میں تیس لاکھ گھرانوں کو روف ٹاپ سولر نظام سے بااختیار بنایا جا چکا ہے اور اسے بھارت کے صاف توانائی سفر کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ بلاشبہ یہ پیش رفت قابلِ تحسین ہے۔ یہ صرف ایک سرکاری کامیابی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ توانائی کے میدان میں خود کفالت اور ماحولیاتی ذمہ داری اب قومی ترجیح بنتی جا رہی ہے۔
روف ٹاپ سولر نظام گھریلو سطح پر بجلی کی پیداوار کو ممکن بناتا ہے، بجلی کے بلوں میں کمی لاتا ہے اور قومی گرڈ پر دباؤ کم کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دور میں یہ ماڈل معاشی اور ماحولیاتی دونوں اعتبار سے سودمند ہے۔ صاف توانائی کی طرف یہ پیش قدمی مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک محفوظ ماحول کی ضمانت بھی ہے۔
تاہم قومی سطح کی اس کامیابی کے باوجود کشمیر آج بھی بجلی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ سردیوں میں طویل لوڈ شیڈنگ، ترسیلی نظام کی کمزوریاں اور بڑھتی ہوئی کھپت عام شہری کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ تعلیمی ادارے، اسپتال، کاروبار اور گھریلو نظام سب اس بحران کی زد میں آتے ہیں۔ ایسے حالات میں شمسی توانائی کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔
کشمیر میں گرمیوں کے مہینوں میں وافر دھوپ دستیاب ہوتی ہے جو شمسی توانائی کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتی ہے۔ اس کے باوجود زیادہ تر گھرانے ابتدائی لاگت، محدود آگاہی اور پیچیدہ سرکاری عمل کی وجہ سے اس نظام کو اختیار نہیں کر پاتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
ریاستی حکومت کو چاہیے کہ وہ خصوصی سبسڈی پیکجز متعارف کرائے تاکہ زیادہ سے زیادہ گھرانے سولر بجلی سے مستفید ہو سکیں۔ کم آمدنی والے طبقات کے لئے اضافی مالی معاونت، آسان قرضہ اسکیمیں، سادہ رجسٹریشن عمل اور دیہی علاقوں میں آگاہی مہمات اس تبدیلی کو تیز کر سکتی ہیں۔ اگر مالی رکاوٹ کم کر دی جائے تو عوام خود اس سمت میں قدم بڑھانے کے لیے تیار ہوں گے۔
شمسی توانائی کے فروغ سے مقامی گرڈ پر دباؤ کم ہوگا اور بیرونی ریاستوں سے بجلی خریدنے کی ضرورت میں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے کیونکہ تنصیب اور دیکھ بھال کے لیے ہنر مند افرادی قوت درکار ہوگی۔ یہ اقدام معیشت اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
کشمیر کا ماحول پہلے ہی ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ صاف توانائی کی طرف پیش رفت نہ صرف کاربن اخراج کم کرے گی بلکہ وادی کے نازک ماحولیاتی توازن کے تحفظ میں بھی مددگار ہوگی۔ ماحولیاتی تحفظ کسی عالمی نعرے سے زیادہ ایک مقامی ضرورت ہے۔
ملک کے تیس لاکھ گھرانوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب پالیسی وژن اور مالی سہولت یکجا ہوں تو عوام بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر میں بھی اسی عزم کے ساتھ شمسی توانائی کو عام کیا جائے۔ توانائی میں خود کفالت ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، اور یہی راستہ کشمیر کو بجلی بحران سے نجات دلانے اور ماحول کو محفوظ بنانے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں