ایران پر دبائو کی کوششیں ناکام

سراج نقوی

۱۱ فروری کو ’ایران ڈے‘یعنی ایران کے اسلامی انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کے موقع پر ایران کے سپریم لیڈر اور ولی فقیہہ آیت اللہ خامنہ ای کی اپیل پر جس بڑے پیمانے پر ملک بھر میں عوامی ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا گیا، وہ اس بات کاثبوت ہے کہ ایران کے عوام کی اکثریت امریکہ و اسرائیل کی تماتر سازشوں کے باوجود اپنے سپریم لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے۔اس موقع پرآیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ’ کسی بھی قوم کی طاقت کا سرچشمہ اس کے عوام کی استقامت ،اتحاد اور ثابت قدمی ہے،نہ کہ صرف میزائل، طیارے یا اسلحہ ۔‘موجودہ حالات کے تناظر میں موصوف نے کہا کہ’ دشمن ایرانی قوم کو دبائو،پابندیوں اور نفسیاتی جنگ سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایرانی عوام ہمیشہ اپنی خودداری اور انقلاب کے اصولوںپر قائم رہے ہیں۔ ‘ سپریم لیڈر کے اس خطاب کی جھلک ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیان میں بھی نظر آئی۔ اس بیان پر غور کریں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کو دفاعی اعتبار سے کمزور کرکے، اسرائیل کے مشرق وسطیٰ کو گریٹر اسرائیل میں بدلنے کے منصوبے کو،بغیر روک ٹوک پایہ تکمیل تک پہنچانے کی امریکی کوششیں ناکام ہوتی نظر آ رہی ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ بغیر پختہ یقین دہانی کے ایران جوہری اسلحہ کے عدم حصول کی ضمانت دینے
کے لیے تیار نہیں ہے۔ایران و امریکہ کے درمیان اومان میں بالواسطہ مذاکرات میں ایران کے مذاکرات کارکے طور پر شریک وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صاف کہا ہے کہ ایران اپنے پر امن جوہری حقوق سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔واضح رہے کہ ایران نے چند روز قبل ہی کہا تھا کہ اگر اس پر سے تمام عائد پابندیاں ہٹا لی جائیں تو وہ 60فیصد تک افزودہ یورینیم کو کم کرنے کے لیے تیار ہے۔حالانکہ ایران کا یہ موقف نیا نہیں ہے۔ایرانی قیادت روزِ اوّل سے ہی عالمی برادری سے بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ ایران صرف پر امن مقاصد کے لیے ہی یورینیم افزادگی کرنے کے اپنے وعدے کا پابند ہے،لیکن اسرائیل اور امریکہ کے لیے اصل مسئلہ یورینیم افزودگی سے زیادہ ایران کی دفاعی اور سائینسی محاذ پر حصولیابیاں ہیں۔یہ حصولیابیاں اسرائیل کو اپنے شیطانی منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نظر آتی ہیں۔اسی لیے اسرائیل امریکہ کے توسط سے ایران کو مختلف بہانوں سے کمزور کرنے کی سوچی سمجھی پالیسی پر گامزن ہے۔یہ ایران ہی ہے کہ جس کے دفاعی تعاون کے سبب حماس جیسی تنظیم نے اسرائیل کو اپنی تمامتر مجبوریوں اور مسلم ممالک کی فریبی سیاست کے باوجود ناکوں چنے چبوا دیے۔یہ ایران ہی ہے کہ جس پر امریکہ اور ایران نے جارحانہ حملے کرکے اسے تباہ کرنے کی کوشش کی ،لیکن اس کے غیر متوقع نتائج نے اسرائیل کو اس طرح حواس باختہ کر دیا ہے کہ اب تک ایران سے اپنی بارہ روزہ جنگ کے تباہ کن نتائج سے ابھر نہیں سکا ہے۔ایران میں موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹ بھیج کر وہاں عوامی بغاوت کرانے میں بھی امریکہ اور اسرائیل کس طرح ناکام ہوئے اسے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔
ایران کو ڈرانے،دھمکانے اور دبائو میں لینے کی تماتر کوششوں کے بعد ہی امریکہ نے جب مذاکرات کا راستہ منتخب کیا اور ایران کو مذاکرات کی میزپر سفارتی شکست دینے کی کوشش کی تو یہاں بھی اسے ناکامی کا ہی منھ دیکھنا پڑا۔ایران نے کس طرح ترکیہ میں مذاکرات سے انکار کرکے امریکہ کو اومان میں مذاکرات کرنے کے لیے مجبور کیا،کس طرح امریکہ کے بڑے فوجی جنرل کو امریکی مذاکرات کاروں کی ٹیم سے باہر کرواکر امریکہ کی فوجی قیادت کو اس کی اوقات بتائی،کس طرح ایران کو دبانے اور اسے دفاعی اعتبار سے بے دست و پا کرنے کی سازشوں کو ناکام کرتے ہوئے مذاکرات کا دائرہ صرف ایران کے پر امن مقاصد کے ایٹمی پروگرام تک محدود رکھنے کی اپنی شرط کو منوایااس سے اب پوری دنیا واقف ہو چکی ہے ۔امریکہ اور اسرائیل ایران کے اس مضبوط موقف کے سبب پریشان اس لیے ہیں کہ ایک طرف ایران کو کمزور کرنا مشرق وسطیٰ میں ان کی موثر موجودگی اور اسرائیل کی جارحیت کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے ،تودوسری طرف ایران سے ٹکرائو کے خطرات کچھ کم نہیں ہیں۔
ایران کی اپنی غیر معمولی فوجی طاقت اور چین و روس جیسے ممالک کا ایران کے ساتھ کھڑا ہونا کسی ممکنہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ہے۔خصوصاً اسرائیل کا وجود تو کسی بھی ٹکرائو کے نتیجے میں بالکل ختم ہونے کے امکانات بہت سے امریکی اور اسرائیلی دفاعی ماہرین تک نے ظاہر کیے ہیں۔ان حالات میں ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ ایران کسی پختہ یقین دہانی پر ہی جوہری اسلحہ کے عدم حصول کی ضمانت دیگا امریکہ کے لیے بڑا جھٹکا ہے۔اس لیے کہ اب تک تو ایران اپنی طرف سے ہی عالمی برادری کے سامنے یہ کہتا رہا ہے کہ اس کا ارادہ ایٹم بم بنانے یا جوہری اسلحہ تیار کرنے کا نہیں ہے،اور صرف اپنی توانائی کی ضرورتوں کے لیے ہی ایران ایٹمی پروگرام چلا رہا ہے،لیکن عراقچی کا تازہ موقف اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اگر ایران کو بے دست و پاکرنے کی امریکہ و اسرائیل کی کوششیں جاری رہیں تو ایران اپنے ایٹمی منصوبے کا دائرہ بڑھا بھی سکتا ہے اور پہلے ظاہر کیے گئے موقف سے الگ جوہری اسلحہ تیار کرنے کے متبادل کو بھی اپنا سکتا ہے۔یعنی اب مذاکرات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام کے تعلق سے بھی ایران کی مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کے اپنے حق سے مشروط ہے،جبکہ امریکہ و اسرائیل اس کے لیے انجانے خوف کے سبب قطعی تیار نہیں ہیں۔عباس عراقچی کا امریکہ کے موجودہ رویے پر صاف کہنا ہے کہ ٹکنالوجی اور ترقی کو بمباری اور فوجی دھمکیوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عراقچی بلا جھجھک یہ بھی کہتے ہیں کہ’ ہمیں اب بھی امریکیوں پر مکمل اعتماد نہیں ہے۔‘ایرانی وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ گذشتہ برس جون میں جب ہم مذاکرات کی میز پر تھے تو امریکہ نے ہم پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔عراقچی اسے امریکہ کے تعلق سے بہت برا تجربہ قرار دیتے ہیں۔عراقچی کا یہ موقف اس بات کا شارہ ہے کہ ایران امریکہ کی طفل تسلیوں اور جھوٹے وعدوں کے جال میں پھنسنے کے لیے بھی تیا رنہیں ہے۔دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کس طرح مشرق وسطیٰ میں اپنے جھوٹ کے سہارے اسرائیلی مفادات کی حفاظت اور اپنی چودھراہٹ کا دفاع کرتا رہا ہے۔لیکن ایران امریکہ کی مکاری اور عیاری کو بخوبی سمجھتا ہے اور مذاکرات پر آمادگی کے باوجودامریکہ کے فوجی،دفاعی یا سفارتی دبائوکے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔یہی سبب ہے کہ اب اس طرح کی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ’’دونوں فریق لچک دکھانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ لیکن ظاہر ہے یہ لچک ایرانی مفادات اور پہلے سے اعلان شدہ موقف کی قیمت پر نہیں ہے۔خبر یہ بھی آ رہی ہے کہ اب امریکہ ایران کے ذریعہ یورینیم کی محدود افزودگی کی شرط کے سامنے جھکنے کے لیے تیار ہے۔حالانکہ امریکہ کی عیاریوں اور اسرائیل کے امریکہ پر دبائو کو دیکھتے ہوئے اس بات پر یقین کرنا آسان نہیں ہے۔اسی لیے تمام طرح کی خبروں کے درمیان دفاعی تجزیہ کار اب بھی یہ مانتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مکمل معاہدہ مشکل ہی ہے۔اس کا خاص سبب ان مذاکرات کے باوجود امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی سرگرمیاں اور ایران کے اس تعلق سے جاری دفاعی اقدامات ہیں۔اس صورتحال کو امریکہ کی’زیادہ سے زیادہ دبائو کی پالیسی‘ اور ایران کی ’ریڈ لائن‘پالیسی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔یہ ریڈ لائن ہی دراصل امریکہ و اسرائیل کے خوف کا سبب بنی ہوئی ہے۔دفاعی ماہرین اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ایران سے کسی بھی طرح کا فوجی ٹکرائو امریکہ و اسرائیل دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔اس لیے کہ اپنے یوم انقلاب کے موقع پر آیت اللہ کامنہ ای اور ایران کے دیگر قائدین نے جس مضبوط قوت ارادی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف جس پختہ عزم ا کاظہار کیا ہے اس میں یہ بات تو طے ہے کہ ایران کو دبائو میں لینے اور اسے اعصابی جنگ میں پھنسانے کی کوششیں اب بھی ناکام ثابت ہوئی ہیں اور مستقبل میں بھی ہونگی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تاریخی دورِ حکومت، انقلابی قیادت

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر ہند 10 جون 2026 کو بھارت...

تازہ ترین خبریں

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تاریخی دورِ حکومت، انقلابی قیادت

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر ہند 10 جون 2026 کو بھارت...

ایران پر دبائو کی کوششیں ناکام

سراج نقوی

۱۱ فروری کو ’ایران ڈے‘یعنی ایران کے اسلامی انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کے موقع پر ایران کے سپریم لیڈر اور ولی فقیہہ آیت اللہ خامنہ ای کی اپیل پر جس بڑے پیمانے پر ملک بھر میں عوامی ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا گیا، وہ اس بات کاثبوت ہے کہ ایران کے عوام کی اکثریت امریکہ و اسرائیل کی تماتر سازشوں کے باوجود اپنے سپریم لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے۔اس موقع پرآیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ’ کسی بھی قوم کی طاقت کا سرچشمہ اس کے عوام کی استقامت ،اتحاد اور ثابت قدمی ہے،نہ کہ صرف میزائل، طیارے یا اسلحہ ۔‘موجودہ حالات کے تناظر میں موصوف نے کہا کہ’ دشمن ایرانی قوم کو دبائو،پابندیوں اور نفسیاتی جنگ سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایرانی عوام ہمیشہ اپنی خودداری اور انقلاب کے اصولوںپر قائم رہے ہیں۔ ‘ سپریم لیڈر کے اس خطاب کی جھلک ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیان میں بھی نظر آئی۔ اس بیان پر غور کریں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کو دفاعی اعتبار سے کمزور کرکے، اسرائیل کے مشرق وسطیٰ کو گریٹر اسرائیل میں بدلنے کے منصوبے کو،بغیر روک ٹوک پایہ تکمیل تک پہنچانے کی امریکی کوششیں ناکام ہوتی نظر آ رہی ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ بغیر پختہ یقین دہانی کے ایران جوہری اسلحہ کے عدم حصول کی ضمانت دینے
کے لیے تیار نہیں ہے۔ایران و امریکہ کے درمیان اومان میں بالواسطہ مذاکرات میں ایران کے مذاکرات کارکے طور پر شریک وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صاف کہا ہے کہ ایران اپنے پر امن جوہری حقوق سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔واضح رہے کہ ایران نے چند روز قبل ہی کہا تھا کہ اگر اس پر سے تمام عائد پابندیاں ہٹا لی جائیں تو وہ 60فیصد تک افزودہ یورینیم کو کم کرنے کے لیے تیار ہے۔حالانکہ ایران کا یہ موقف نیا نہیں ہے۔ایرانی قیادت روزِ اوّل سے ہی عالمی برادری سے بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ ایران صرف پر امن مقاصد کے لیے ہی یورینیم افزادگی کرنے کے اپنے وعدے کا پابند ہے،لیکن اسرائیل اور امریکہ کے لیے اصل مسئلہ یورینیم افزودگی سے زیادہ ایران کی دفاعی اور سائینسی محاذ پر حصولیابیاں ہیں۔یہ حصولیابیاں اسرائیل کو اپنے شیطانی منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نظر آتی ہیں۔اسی لیے اسرائیل امریکہ کے توسط سے ایران کو مختلف بہانوں سے کمزور کرنے کی سوچی سمجھی پالیسی پر گامزن ہے۔یہ ایران ہی ہے کہ جس کے دفاعی تعاون کے سبب حماس جیسی تنظیم نے اسرائیل کو اپنی تمامتر مجبوریوں اور مسلم ممالک کی فریبی سیاست کے باوجود ناکوں چنے چبوا دیے۔یہ ایران ہی ہے کہ جس پر امریکہ اور ایران نے جارحانہ حملے کرکے اسے تباہ کرنے کی کوشش کی ،لیکن اس کے غیر متوقع نتائج نے اسرائیل کو اس طرح حواس باختہ کر دیا ہے کہ اب تک ایران سے اپنی بارہ روزہ جنگ کے تباہ کن نتائج سے ابھر نہیں سکا ہے۔ایران میں موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹ بھیج کر وہاں عوامی بغاوت کرانے میں بھی امریکہ اور اسرائیل کس طرح ناکام ہوئے اسے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔
ایران کو ڈرانے،دھمکانے اور دبائو میں لینے کی تماتر کوششوں کے بعد ہی امریکہ نے جب مذاکرات کا راستہ منتخب کیا اور ایران کو مذاکرات کی میزپر سفارتی شکست دینے کی کوشش کی تو یہاں بھی اسے ناکامی کا ہی منھ دیکھنا پڑا۔ایران نے کس طرح ترکیہ میں مذاکرات سے انکار کرکے امریکہ کو اومان میں مذاکرات کرنے کے لیے مجبور کیا،کس طرح امریکہ کے بڑے فوجی جنرل کو امریکی مذاکرات کاروں کی ٹیم سے باہر کرواکر امریکہ کی فوجی قیادت کو اس کی اوقات بتائی،کس طرح ایران کو دبانے اور اسے دفاعی اعتبار سے بے دست و پا کرنے کی سازشوں کو ناکام کرتے ہوئے مذاکرات کا دائرہ صرف ایران کے پر امن مقاصد کے ایٹمی پروگرام تک محدود رکھنے کی اپنی شرط کو منوایااس سے اب پوری دنیا واقف ہو چکی ہے ۔امریکہ اور اسرائیل ایران کے اس مضبوط موقف کے سبب پریشان اس لیے ہیں کہ ایک طرف ایران کو کمزور کرنا مشرق وسطیٰ میں ان کی موثر موجودگی اور اسرائیل کی جارحیت کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے ،تودوسری طرف ایران سے ٹکرائو کے خطرات کچھ کم نہیں ہیں۔
ایران کی اپنی غیر معمولی فوجی طاقت اور چین و روس جیسے ممالک کا ایران کے ساتھ کھڑا ہونا کسی ممکنہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ہے۔خصوصاً اسرائیل کا وجود تو کسی بھی ٹکرائو کے نتیجے میں بالکل ختم ہونے کے امکانات بہت سے امریکی اور اسرائیلی دفاعی ماہرین تک نے ظاہر کیے ہیں۔ان حالات میں ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ ایران کسی پختہ یقین دہانی پر ہی جوہری اسلحہ کے عدم حصول کی ضمانت دیگا امریکہ کے لیے بڑا جھٹکا ہے۔اس لیے کہ اب تک تو ایران اپنی طرف سے ہی عالمی برادری کے سامنے یہ کہتا رہا ہے کہ اس کا ارادہ ایٹم بم بنانے یا جوہری اسلحہ تیار کرنے کا نہیں ہے،اور صرف اپنی توانائی کی ضرورتوں کے لیے ہی ایران ایٹمی پروگرام چلا رہا ہے،لیکن عراقچی کا تازہ موقف اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اگر ایران کو بے دست و پاکرنے کی امریکہ و اسرائیل کی کوششیں جاری رہیں تو ایران اپنے ایٹمی منصوبے کا دائرہ بڑھا بھی سکتا ہے اور پہلے ظاہر کیے گئے موقف سے الگ جوہری اسلحہ تیار کرنے کے متبادل کو بھی اپنا سکتا ہے۔یعنی اب مذاکرات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام کے تعلق سے بھی ایران کی مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کے اپنے حق سے مشروط ہے،جبکہ امریکہ و اسرائیل اس کے لیے انجانے خوف کے سبب قطعی تیار نہیں ہیں۔عباس عراقچی کا امریکہ کے موجودہ رویے پر صاف کہنا ہے کہ ٹکنالوجی اور ترقی کو بمباری اور فوجی دھمکیوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عراقچی بلا جھجھک یہ بھی کہتے ہیں کہ’ ہمیں اب بھی امریکیوں پر مکمل اعتماد نہیں ہے۔‘ایرانی وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ گذشتہ برس جون میں جب ہم مذاکرات کی میز پر تھے تو امریکہ نے ہم پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔عراقچی اسے امریکہ کے تعلق سے بہت برا تجربہ قرار دیتے ہیں۔عراقچی کا یہ موقف اس بات کا شارہ ہے کہ ایران امریکہ کی طفل تسلیوں اور جھوٹے وعدوں کے جال میں پھنسنے کے لیے بھی تیا رنہیں ہے۔دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کس طرح مشرق وسطیٰ میں اپنے جھوٹ کے سہارے اسرائیلی مفادات کی حفاظت اور اپنی چودھراہٹ کا دفاع کرتا رہا ہے۔لیکن ایران امریکہ کی مکاری اور عیاری کو بخوبی سمجھتا ہے اور مذاکرات پر آمادگی کے باوجودامریکہ کے فوجی،دفاعی یا سفارتی دبائوکے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔یہی سبب ہے کہ اب اس طرح کی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ’’دونوں فریق لچک دکھانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ لیکن ظاہر ہے یہ لچک ایرانی مفادات اور پہلے سے اعلان شدہ موقف کی قیمت پر نہیں ہے۔خبر یہ بھی آ رہی ہے کہ اب امریکہ ایران کے ذریعہ یورینیم کی محدود افزودگی کی شرط کے سامنے جھکنے کے لیے تیار ہے۔حالانکہ امریکہ کی عیاریوں اور اسرائیل کے امریکہ پر دبائو کو دیکھتے ہوئے اس بات پر یقین کرنا آسان نہیں ہے۔اسی لیے تمام طرح کی خبروں کے درمیان دفاعی تجزیہ کار اب بھی یہ مانتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مکمل معاہدہ مشکل ہی ہے۔اس کا خاص سبب ان مذاکرات کے باوجود امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی سرگرمیاں اور ایران کے اس تعلق سے جاری دفاعی اقدامات ہیں۔اس صورتحال کو امریکہ کی’زیادہ سے زیادہ دبائو کی پالیسی‘ اور ایران کی ’ریڈ لائن‘پالیسی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔یہ ریڈ لائن ہی دراصل امریکہ و اسرائیل کے خوف کا سبب بنی ہوئی ہے۔دفاعی ماہرین اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ایران سے کسی بھی طرح کا فوجی ٹکرائو امریکہ و اسرائیل دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔اس لیے کہ اپنے یوم انقلاب کے موقع پر آیت اللہ کامنہ ای اور ایران کے دیگر قائدین نے جس مضبوط قوت ارادی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف جس پختہ عزم ا کاظہار کیا ہے اس میں یہ بات تو طے ہے کہ ایران کو دبائو میں لینے اور اسے اعصابی جنگ میں پھنسانے کی کوششیں اب بھی ناکام ثابت ہوئی ہیں اور مستقبل میں بھی ہونگی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں